کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟
کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟ کالم از: سر جاوید بشیر آج میرا 100 واں کالم ہے، اور میں شکر گزار ہوں اس رب کا جس نے مجھے اتنی ہمت دی، اتنا شعور دیا کہ میں آپ کے دل کی بات کر سکوں، آپ کے ذہن کے سوالوں کا جواب دے سکوں۔ کتنے ہی طالب علم، کتنے ہی دوست، کتنے ہی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں، وہ سوال جو اکثر رات کی تنہائی میں، یا دن کے ہجوم میں بھی دماغ پر دستک دیتا ہے: "کیا ہم واقعی تقدیر کے غلام ہیں؟ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے؟ کیا ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں؟" یہ سوال صرف فلسفیوں کا نہیں، یہ ہر اس انسان کا سوال ہے جو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرا ہو، جس نے ناکامی کے آنسو دیکھے ہوں، جس نے کامیابی کی چمک محسوس کی ہو۔ میں جب بھی اس سوال کا سامنا کرتا ہوں، تو مجھے اپنے اردگرد کی دنیا نظر آتی ہے۔ مجھے وہ رکشہ والا نظر آتا ہے جس کا رکشہ بارش میں بہہ گیا، مجھے وہ ماں نظر آتی ہے جس کا شوہر جوان موت کا لقمہ بن گیا، مجھے وہ طالب علم نظر آتا ہے جو دن رات محنت کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ملتی، اور مجھے وہ شخص بھی نظر آتا ہے جو کچھ بھی نہیں کرتا مگر پھر بھی خوش نظر آتا ہے۔ یہ سب کیا ہے...