اشاعتیں

جنوری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روحانیت کا سفر 21

 روحانیت کا سفر 21 کالم از: سر جاوید بشیر الحمدللہ، اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے روحانیت کے اس سفر کا یہ اکیسواں کالم ہے۔ آج میں آپ سے اس موضوع پر بات کروں گا جو ہر انسان کی ضرورت ہے، جو ہر ٹوٹے ہوئے دِل کی آخری پناہ گاہ ہے، اور جو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا سب سے مضبوط پل ہے۔ آج ہم بات کریں گے "دُعا" پر۔ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، "ہم دُعا مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتی۔ کیا اللہ ہماری نہیں سنتا؟ کیا ہماری قسمت میں ہی محرومی لکھی ہے؟ دُعا کا اصل طریقہ کیا ہے؟" آج اس 21 ویں کالم میں، میں آپ کو دُعا کی اس دہلیز پر لے جاؤں گا جہاں لفظ ختم ہو جاتے ہیں، جہاں سوچ دم توڑ دیتی ہے، اور جہاں صرف روح بولتی ہے۔  دُعا صرف مانگنے کا نام نہیں، دُعا تو لوٹ آنے کا نام ہے۔ اپنے رب کی طرف، اپنی اصل کی طرف۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی ساری خودداری، ساری انا، ساری مضبوطی ایک طرف رکھ کر کہتا ہے، یا اللہ، اب بس تُو ہی ہے۔ دنیا کے شور میں دُعا اکثر دب جاتی ہے، مگر روحانیت سکھاتی ہے کہ دُعا وہ آواز ہے جو خاموشی میں سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ اکثر ایک سوال ہوتا ہے، ہم مانگتے ہی...

کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟

  کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟ کالم از: سر جاوید بشیر  آج میرا 100 واں کالم ہے، اور میں شکر گزار ہوں اس رب کا جس نے مجھے اتنی ہمت دی، اتنا شعور دیا کہ میں آپ کے دل کی بات کر سکوں، آپ کے ذہن کے سوالوں کا جواب دے سکوں۔ کتنے ہی طالب علم، کتنے ہی دوست، کتنے ہی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں، وہ سوال جو اکثر رات کی تنہائی میں، یا دن کے ہجوم میں بھی دماغ پر دستک دیتا ہے: "کیا ہم واقعی تقدیر کے غلام ہیں؟ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے؟ کیا ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں؟" یہ سوال صرف فلسفیوں کا نہیں، یہ ہر اس انسان کا سوال ہے جو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرا ہو، جس نے ناکامی کے آنسو دیکھے ہوں، جس نے کامیابی کی چمک محسوس کی ہو۔ میں جب بھی اس سوال کا سامنا کرتا ہوں، تو مجھے اپنے اردگرد کی دنیا نظر آتی ہے۔ مجھے وہ رکشہ والا نظر آتا ہے جس کا رکشہ بارش میں بہہ گیا، مجھے وہ ماں نظر آتی ہے جس کا شوہر جوان موت کا لقمہ بن گیا، مجھے وہ طالب علم نظر آتا ہے جو دن رات محنت کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ملتی، اور مجھے وہ شخص بھی نظر آتا ہے جو کچھ بھی نہیں کرتا مگر پھر بھی خوش نظر آتا ہے۔ یہ سب کیا ہے...

روحانیت کا سفر 20

  روحانیت کا سفر 20 کالم از: سر جاوید بشیر پچھلے کالم میں ہم نے شب کی تنہائی میں رب سے ملاقات کے انمول لمحات کا ذکر کیا تھا، وہ لمحات جب دنیا کی شور شرابا تھم جاتا ہے اور دل صرف اپنے رب کی آواز سننے لگتا ہے۔ آج میں آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کروانا چاہتا ہوں جہاں ہم اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت گزارتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہماری ہنسی، ہمارے آنسو، ہمارے خواب اور ہماری تھکن سب کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ یہ جگہ ہمارا "گھر" ہے۔ لیکن ذرا سوچیے، ہمارے پاکستان کے ان عالیشان بنگلوں کے بارے میں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں۔ جہاں فرش پر شاندار ماربل بچھا ہے، جہاں دنیا کا بہترین فرنیچر سجا ہے، اور جہاں اے سی کی ٹھنڈک دنیا کی گرمی سے بچاتی ہے۔ ان سب کے باوجود، کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ وہاں اکثر دل "دم گھٹنے" لگتا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے وہ دیواریں نگلنے کو دوڑ رہی ہیں، وہ روشنی چبُھ رہی ہے۔ اور پھر اس کے برعکس، کسی کچی بستی کے ایک چھوٹے سے کمرے کا تصور کیجیے، جہاں زمین پر بس ایک چٹائی بچھی ہو اور ایک پرانا سا پنکھا چل رہا ہو۔ وہاں بیٹھ کر جو سکون ملتا ہے، وہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کائن...