میں ہی درست ہوں

 میں ہی درست ہوں

کالم از: سر جاوید بشیر


 اگر آج آپ تھکے ہوئے ہیں… اگر آپ کا دِل بوجھل ہے… اگر آپ کے اندر ایک انجانی بے چینی بیٹھ گئی ہے… تو براہِ کرم چند لمحے رک جائیں، اور یہ باتیں، اپنے دِل کی آواز سمجھ کر سنیں۔

 یہ کہانی ایک بوڑھے آدمی کی کہانی ہے، جسے لوگ "بابا" کہتے تھے۔


بابا، ایک مسجد کے باہر، اپنی ایک ٹوٹی چارپائی پر بیٹھے رہتے تھے۔ وہ سادہ لباس پہنتے تھے، مگر اُن کا چہرہ نورانی تھا۔ اُن کی آنکھوں میں اِتنا گہرا سکون تھا، جو آج کی بھاگم دوڑ میں کہیں نہیں ملتا۔ 

بابا کی سب سے بڑی کرامت اُن کی خاموشی تھی۔

اگر کوئی نادانی میں اُن کے بارے میں کوئی بری بات کہہ جاتا، اگر کوئی حسد میں اُن پر کوئی طنز کر جاتا، مگر کمال دیکھیں! بابا کا چہرہ کبھی غصے میں سرخ نہیں ہوتا تھا۔ وہ نہ گالی کا جواب دیتے، نہ غصہ کرتے۔ وہ صرف ایک ہلکا سا مسکرا دیتے اور سر ہلا کر آگے بڑھ جاتے، جیسے اُنہوں نے یہ بُرائی سنی ہی نہیں۔

لوگ اُن کی اس خاموشی سے حیران رہتے تھے۔ ہم سب اپنی چھوٹی سی بات پر دُکھ مناتے ہیں اور بدلہ لیے بغیر ہمیں سکون نہیں آتا۔


ایک دن ایک نوجوان، جو زندگی سے بہت تھکا ہوا تھا، بابا کے پاس گیا۔ اُس نے اُن کی آنکھوں میں دیکھا اور ہاتھ جوڑ کر پوچھا،

"بابا جی! یہ سارا شہر غصے، حسد اور لڑائی کی دوڑ میں بھاگ رہا ہے۔ مگر آپ ایک ایسے ہیں جہاں سکون ہی سکون ہے۔ آپ کے سکون کا راز کیا ہے؟"

بابا نے اپنا سر اوپر اٹھایا، اُن کی آنکھوں میں محبت تھی۔ اُنہوں نے بہت آہستہ سے، پیار سے کہا، "بیٹا! سکون کا راز یہ ہے کہ میں نے اپنے اندر کی حفاظت کر لی ہے۔ میں نے یہ جان لیا کہ اگر کوئی میرے لیے بُری بات کہے، تو میں کبھی بھی اُس کے جواب میں اپنا منہ بُرا نہیں کروں گا۔ میں کبھی بھی ایک بُرے لفظ کا جواب بُرے لفظ سے نہیں دیتا، بلکہ چپ ہو جاتا ہوں۔ کیونکہ، بیٹا، بُری بات اُس کا بوجھ ہے، اور میری خاموشی میرا ہتھیار۔ جب میں خاموش رہتا ہوں، تو اُس کی لڑائی میرے سکون سے خود ہی ہار جاتی ہے۔"


بابا کی اس بات میں ہماری پوری زندگی کا سکون چھپا ہوا ہے۔ ہم کیوں اتنے پریشان ہیں؟

کیونکہ ہم ہر بات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔

کیونکہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہی صحیح ہیں۔

کیونکہ ہم اپنی چھوٹی سی انا کی خاطر بڑا سکون کھو دیتے ہیں۔

بابا نے سکھایا کہ جب کوئی آپ پر غصہ کرے، یا طعنہ دے، تو فوراً جواب مت دو! خاموش ہو جاؤ۔ جب آپ جواب نہیں دیتے، تو سامنے والے کا غصہ خالی ہو جاتا ہے۔ وہ لڑائی آپ کی نہیں رہتی، بلکہ وہ ہوا میں ہی مر جاتی ہے۔


ہم اپنی توانائیاں، اپنے وقت، اپنے دِل کا سکون… غلط جگہوں پر خرچ کرتے ہیں۔


ہم ہر بات کا جواب دیتے ہیں، ہر غلط فہمی کو پکڑتے ہیں، ہر طنز پر ناراض ہوتے ہیں، ہر الزام کا دفاع کرتے ہیں، ہر بحث میں کود جاتے ہیں۔

اور پھر رات کو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں:

“پتہ نہیں کیوں دِل بھاری ہے…”


دِل اس لیے بھاری ہوتا ہے کہ ہم نے اسے فضول لڑائیوں میں زخمی کیا ہوتا ہے۔


کیونکہ ہم ہر اس بات کو اپنا مسئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں جو دراصل ہمارا مسئلہ ہوتا ہی نہیں۔


کوئی محفل میں آپ کی مخالفت کرے، آپ فوراً جواب دینے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

کوئی آپ پر الزام لگائے، آپ منٹوں میں ثبوتوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔

کوئی آپ کو غلط سمجھے، آپ گھنٹوں خود کو صحیح ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔


اور پھر تھک جاتے ہیں…

ایسے جیسے روح میں سے سارے رنگ نکال لیے گئے ہوں۔

یہ بیماری ہر پاکستانی گھر میں پھیلی ہوئی ہے۔

شوہر چاہتا ہے وہ جیتے۔

بیوی چاہتی ہے وہ جیتے۔

بھائی بہن چاہتے ہیں کہ آخری بات ان کی ہو۔

دفتر میں ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی بات ہی حرفِ آخر ہو۔


اسی ضد، اسی بحث، اسی “میں درست ہوں” نے ہمارے سکون کو ختم کر دیا ہے۔


اور سب سے کڑوی سچائی یہ ہے کہ، آپ بحث جیت جاتے ہیں مگر رشتہ ہار جاتے ہیں۔


آپ کبھی کسی ایسے شخص کو سمجھانے میں لگے ہیں جو سمجھنا ہی نہیں چاہتا؟

یہ سب سے تھکا دینے والی لڑائی ہے۔


جو شخص آپ کی نیت پر بھی شک کرتا ہو

جو آپ کی عزت کی بھی قدر نہ کرے جو آپ کے خلوص کو بھی مذاق سمجھے، اسے سمجھانے کی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے بجھے ہوئے دیئے میں روشنی بھرنا۔


ہم پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بار اپنے دل کی روشنی ایسے لوگوں پر خرچ کرتے ہیں جو اس کے قابل ہی نہیں ہوتے۔


خاموشی کب اختیار کرنی چاہیے؟

یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے، خاموشی کمزوری نہیں، ایک طاقت ہے۔

جب آپ جواب نہیں دیتے، تو دوسرا شخص خود ہی اپنی بات کے وزن میں گر جاتا ہے۔ اس کے لفظ خود ہی بے معنی ہو جاتے ہیں۔


 اگر لوگوں نے آپ کو غلط سمجھا، تو وقت ایک دن دنیا کو بتائے گا کہ آپ کون تھے۔ آپ کو ہر بات پر صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں۔


میں نے اپنی زندگی میں ایک اصول سیکھا ہے، 

جس لڑائی میں آپ کی عزت کم ہو جائے، وہ لڑائی چھوڑ دینا ہی اصل جیت ہے۔


آپ جب خاموش ہو کر ایک قدم پیچھے ہٹتے ہیں آسمان سے رحمت اترتی ہے، دل نرم ہوتا ہے

بوجھ ہلکا ہوتا ہے، روح میں سکون بھر جاتا ہے اور اللہ آپ کو وہ مقام دیتا ہے جو بحثوں سے کبھی نہیں مل سکتا۔


 یاد رکھیں، آپ کا دِل کوئی میدانِ جنگ نہیں

آپ کی عزت ہر بات کا جواب دینے کی محتاج نہیں، آپ کا سکون ہر شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے، آج فیصلہ کریں، آپ غیر ضروری شور کا حصہ نہیں بنیں گے۔ آپ اپنی توانائیاں بچائیں گے۔ 

جس لمحے آپ کسی فضول لڑائی کو چھوڑ دیں گے، آپ وہ شخص نہیں رہیں گے جو دنیا کے شور میں کھو جائے، آپ وہ انسان بن جائیں گے جس کے چہرے پر سکون ہوگا۔

آپ کی سب سے بڑی جیت وہ لڑائی ہے جو آپ نے خاموشی سے چھوڑ دی کیونکہ جو شخص اپنی خاموشی کو قابو کر لیتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے دل کا سکون نہیں چھین سکتی۔

آپ کی خاموشی آپ کی طاقت ہے۔

اسے کبھی کمزوری نہ سمجھیں۔

تبصرے

  1. Really sir g same happening with me today I'll don't talk about others I'll talk about only me
    If anyone say bad word or bad thing to me my face instantly go red
    My mind start whyyy he or she said this to me whyyyyyyyy and my mind think what to do whats my next step will
    But now I'll change myself I'll ignore people and their bad words
    I'll stay silent In sha Allah
    But sometimes i can't control myself that's I'm don't this with anyone then why people do this with me
    But now I'll change myself

    جواب دیںحذف کریں
  2. My Apex sir really you're a greatst Man You're a Real (Man)
    Without any ego without any bad thing
    You're my Father ✨✨♥️♥️😍😍
    May Allah bless uh more and moreeeee Ameennn🤲🤲🤲🤲✨✨✨✨✨

    جواب دیںحذف کریں
  3. Sir g if we are write then we don't need to give prof to others because they don't believe in us
    We need to be silent always and enjoy our life
    Always remain silent and spend good life
    When we ignore fights actually we give prefer to ours relations which is necessary to live a happy life 💗
    Yor are teaching very good lessons of life thank you sir g 🤗

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein