روحانیت کا سفر 20

 

روحانیت کا سفر 20


کالم از: سر جاوید بشیر



پچھلے کالم میں ہم نے شب کی تنہائی میں رب سے ملاقات کے انمول لمحات کا ذکر کیا تھا، وہ لمحات جب دنیا کی شور شرابا تھم جاتا ہے اور دل صرف اپنے رب کی آواز سننے لگتا ہے۔ آج میں آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کروانا چاہتا ہوں جہاں ہم اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت گزارتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہماری ہنسی، ہمارے آنسو، ہمارے خواب اور ہماری تھکن سب کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ یہ جگہ ہمارا "گھر" ہے۔


لیکن ذرا سوچیے، ہمارے پاکستان کے ان عالیشان بنگلوں کے بارے میں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں۔ جہاں فرش پر شاندار ماربل بچھا ہے، جہاں دنیا کا بہترین فرنیچر سجا ہے، اور جہاں اے سی کی ٹھنڈک دنیا کی گرمی سے بچاتی ہے۔ ان سب کے باوجود، کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ وہاں اکثر دل "دم گھٹنے" لگتا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے وہ دیواریں نگلنے کو دوڑ رہی ہیں، وہ روشنی چبُھ رہی ہے۔ اور پھر اس کے برعکس، کسی کچی بستی کے ایک چھوٹے سے کمرے کا تصور کیجیے، جہاں زمین پر بس ایک چٹائی بچھی ہو اور ایک پرانا سا پنکھا چل رہا ہو۔ وہاں بیٹھ کر جو سکون ملتا ہے، وہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی ساری خوشیاں، ساری نعمتیں وہیں سمٹ آئی ہوں۔


یہ فرق کیوں ہے؟ یہ دل کو چھو لینے والا احساس، یہ سکون اور یہ بے چینی، یہ کہاں سے آتی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں، کیونکہ مکان تو اینٹوں، گارے اور سیمنٹ سے بنتا ہے، مگر "گھر" تو ان روحوں سے بنتا ہے جو ان دیواروں کے اندر سانس لیتی ہیں۔ یہ صرف چار دیواری نہیں، یہ ان کیفیات کا مجموعہ ہے، ان جذبات کا سمندر ہے جو ان دیواروں کے اندر ہر لمحہ موجزن رہتے ہیں۔ آج میں آپ سے بیان کروں گا کہ کیسے ہم اپنے گھر کو ایک ایسی پناہ گاہ بنا سکتے ہیں، جہاں فرشتے اتریں، جہاں داخل ہوتے ہی دنیا کے سارے دکھ، سارے غم باہر کے باہر رہ جائیں۔


روحانیت کا ایک انمول اصول ہے، جو شاید ہم روزمرہ کی زندگی میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ یہ کہ آپ کے گھر کی دیواریں، آپ کے کمرے میں پڑا سامان، یہ سب بے جان نہیں ہوتے۔ یہ تو وہ خاموش گواہ ہیں جو آپ کے لہجوں میں پوشیدہ سختی، آپ کی سوچ کی گہرائی، اور آپ کے اعمال کی لہروں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔


جس گھر میں ہر وقت چیخ و پکار کا شور ہو، جہاں طنز کے تیر ایک دوسرے کے دلوں پر چلائے جاتے ہوں، جہاں بدگمانی اور شک کی دھول ہر کونے میں اڑی ہو، وہاں کی دیواروں سے دراصل نحوست ہی ٹپکنے لگتی ہے۔ ایسے گھر میں آپ لاکھ مہنگی سے مہنگی خوشبوئیں چھڑک لیجیے، وہاں سے "بے سکونی کی بدبو" کبھی نہیں جائے گی۔ وہ بدبو آپ کی اپنی باتوں، اپنے رویوں سے پیدا ہونے والی ہوتی ہے۔


اور پھر، وہ گھر جن کا آغاز ہر صبح تلاوتِ قرآن کی پر نور آواز سے ہوتا ہو، جہاں ایک دوسرے کو دیکھ کر صرف مسکراہٹیں ملتی ہوں، جہاں غصے کو صبر سے پیا جاتا ہو، اور جہاں معمولی باتوں پر تکرار کے بجائے ایثار اور قربانی کا جذبہ ہو، وہاں کی دیواریں دراصل "نور" بکھیرتی ہیں۔ ایسے گھر میں قدم رکھتے ہی ماتھا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، دل کو سکون مل جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے ہم سب "گھر کا سکون" کہتے ہیں۔



اپنے گھر میں ایک ایسی جگہ ضرور بنائیے جو صرف اور صرف اللہ کے نام پر ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ کوئی بڑا کمرہ ہو، کوئی خاص سجاوٹ ہو، یا کوئی الگ عبادت خانہ بنایا جائے۔ نہیں۔ اگر گھر چھوٹا ہے تو ایک کونہ ہی کافی ہے۔ 

اس جگہ کو صاف رکھیے۔ صفائی صرف فرش کی نہیں ہوتی، صفائی نیت کی بھی ہوتی ہے۔ وہاں ایک جائے نماز بچھا دیجیے، چاہے سادہ سی ہو، پر وہ روز آپ کو بلاتی ہو۔ ہلکی سی خوشبو رکھ دیجیے، کوئی ایسی خوشبو جو آپ کے دل کو اللہ کی یاد سے جوڑ دے۔ وہاں موبائل نہ ہو، وہاں شور نہ ہو، وہاں دنیا کے قصے نہ ہوں۔ وہاں بس آپ ہوں اور آپ کا رب ہو۔


اس کونے کو اپنے گھر کا روحانی دل بنا لیجیے۔ جیسے دل پورے جسم کو طاقت دیتا ہے، ویسے ہی یہ کونہ پورے گھر کو سکون دے گا۔ جب گھر میں کسی کا دل بوجھل ہو، جب کسی بات پر آنکھیں بھر آئیں، جب کسی کو لگے کہ اب برداشت ختم ہو رہی ہے، تو اس کونے کا راستہ معلوم ہونا چاہیے۔ وہاں جا کر کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں، بس جائے نماز پر کھڑے ہو جائیے۔ دو رکعتیں پڑھ لیجیے۔ آہستہ، ٹھہر ٹھہر کر، ایسے جیسے آپ کسی بہت اپنے سے بات کر رہے ہوں۔


یہ دو رکعتیں صرف نماز نہیں ہوں گی، یہ دل کا بوجھ اتارنے کا ذریعہ ہوں گی۔ یہ وہ لمحے ہوں گے جہاں انسان مضبوط بننے کا ڈرامہ چھوڑ کر کمزور بن سکتا ہے۔ جہاں آنسو بہانا کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن جاتا ہے۔ جہاں دل کھول کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یا اللہ اب مجھ سے نہیں ہو رہا۔


آہستہ آہستہ آپ محسوس کریں گے کہ اس کونے میں بیٹھتے ہی دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔ جو باتیں دن بھر اندر دبی رہتی تھیں وہ سجدے میں نکل آتی ہیں۔ جو خوف زبان پر نہیں آتے وہ آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔ اور پھر ایک عجیب سا سکون اترنے لگتا ہے۔ ایسا سکون جو سمجھایا نہیں جا سکتا، بس محسوس کیا جا سکتا ہے۔


یہ کونہ آپ کو یہ یاد دلائے گا کہ اصل پناہ کہاں ہے۔ یہ آپ کو یہ سکھائے گا کہ جب دنیا کے دروازے بند لگیں تو رب کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر آپ کو احساس ہوگا کہ اللہ صرف مسجد میں نہیں، وہ اس چھوٹے سے کونے میں بھی موجود ہے، بس شرط یہ ہے کہ دل حاضر ہو۔


وقت کے ساتھ یہ جگہ آپ کی عادت بن جائے گی۔ خوشی میں بھی قدم خود بخود ادھر مڑیں گے اور غم میں بھی۔ یہاں آپ شکر بھی ادا کریں گے اور صبر بھی مانگیں گے۔ یہاں آپ فیصلے بھی کریں گے اور ہمت بھی پائیں گے۔ یہاں بیٹھ کر آپ کو بار بار یہ یقین ملے گا کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔


یہ چھوٹا سا کونہ آپ کے گھر میں برکت لائے گا۔ اس کی خاموشی بچوں کے دلوں میں نرمی پیدا کرے گی۔ اس کی فضا گھر کے جھگڑوں کو تھام لے گی۔ اس کی روشنی دلوں کو جوڑ دے گی۔ کیونکہ جہاں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، وہاں سکون خود چل کر آتا ہے۔



ہمارے معاشرے میں، ہم میں سے بہت سے لوگ گھر میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے کوئی دشمن ملک پر حملہ آور ہو رہا ہو۔ خاموشی سے، یا اکثر بغیر سلام کہیے، یوں کمرے میں گھس جانا برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ انداز گھر کی فضا کو بوجھل بنا دیتا ہے۔


جب آپ گھر میں داخل ہوں، تو دل کھول کر، اونچی آواز میں سلام کریں۔ اگر گھر میں کوئی نہ بھی ہو، تب بھی سلام کریں، گھر میں فرشتے موجود ہوتے ہیں، اور آپ کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ گھر کی دہلیز پار کرتے وقت، دل میں یہ نیت کیجیے: "یا اللہ! میں اس گھر میں سکون اور محبت لے کر داخل ہو رہا ہوں۔ تو اپنی رحمت سے اس گھر کو امن اور چین عطا فرما۔" یہ چھوٹی سی نیت آپ کے گھر کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق لا سکتی ہے۔



آج کل کے گھروں میں اکثر ٹی وی کی آوازیں، یا پھر موبائل فونز کی دنیاوی گونج ہر وقت سنائی دیتی ہے۔ روحانیت کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ کم از کم صبح کے وقت، یا شام کے کسی پہر، گھر میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی روح پرور آواز گونجے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت ہوتی ہے، وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ جب قرآن کی پاکیزہ لہریں دیواروں سے ٹکراتی ہیں، تو وہ گھر میں موجود ہر قسم کی "منفی توانائی" کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ یہ گھر کو ایک روحانی ڈھال فراہم کرتا ہے۔



کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہ تو دراصل اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے، جو ہمیں اس کی عطا پر شکر گزار بناتا ہے۔ جب پورا خاندان، بچے، بڑے، سب ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، اور سب مل کر بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرتے ہیں، تو اس وقت گھر میں رحمتوں کا ایسا نزول ہوتا ہے کہ فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔


دسترخوان پر بیٹھ کر کبھی کسی کی برائی نہ کریں، کبھی جھگڑا نہ چھیڑیں۔ اس جگہ کو بدگمانی اور تلخ باتوں سے پاک رکھیں۔ دسترخوان کو شکر گزاری کا مقام بنائیے۔ جب آپ کھانے کے بعد مل کر دل سے "الحمدللہ" کہتے ہیں، تو اس گھر کی چھت تلے برکت کے فرشتے آپ پر سایہ بن کر اتر آتے ہیں۔ وہ فرشتے آپ کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں۔


ہمارا گھر تب حقیقی معنوں میں "مصلّٰی" بنتا ہے، جب اس کے اندر رہنے والے لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے مصلّٰی بن جائیں۔ جب دلوں میں خلوص ہو، جب دلوں میں ایک دوسرے کے لیے جگہ ہو، تب ہی گھر امن کا گہوارہ بنتا ہے۔


جس گھر میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں، وہاں اللہ کی رحمت ہر لمحہ برستی ہے۔ اگر میاں بیوی میں کسی بات پر ناراضگی ہو بھی جائے، تو اسے اپنے کمرے کی چار دیواری سے باہر نہ نکلنے دیں۔ اپنی تلخی، اپنی ناراضگی سے گھر کے دیگر حصوں کو، اپنے بچوں کی معصوم روحوں کو آلودہ نہ کریں۔


بچوں کو نصیحتیں کرنے سے زیادہ، انہیں "محبت" کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے والدین کو سجدے میں روتے دیکھتے ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بابا، غصہ آنے پر بھی مسکرا دیتے ہیں، یا خاموش ہو جاتے ہیں، تو ان کی ننھی روحیں خود بخود روحانیت کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔ وہ والدین کی تقلید میں اچھے بننے کی کوشش کرتے ہیں۔


اور وہ گھر جہاں بزرگ ہوتے ہیں، وہ گھر تو گویا قدرت کی خاص پناہ گاہ ہوتا ہے۔ ان کی دعائیں وہ مضبوط ڈھال ہیں جو آنے والی بڑی سے بڑی مصیبت، بلائے ناگہانی کو ٹال دیتی ہیں۔ بزرگوں کی خدمت کو کبھی "ڈیوٹی" یا "فرض" مت سمجھیے، بلکہ اسے "برکت سمیٹنے کا سب سے بڑا ذریعہ" سمجھیے۔ ان کی شفقت، ان کی دعائیں ہی آپ کے گھر کی اصل دولت ہیں۔



آپ کو شاید یہ سن کر حیرت ہو، مگر روحانیت کا سفر کسی جنگل، کسی پہاڑ پر نہیں، بلکہ آپ کے اپنے ڈرائنگ روم اور آپ کے اپنے باورچی خانے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ باورچی خانے میں، تسبیح پڑھتے ہوئے، اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کھانا پکا رہی ہیں، اور آپ کے شوہر یا بچے باہر بیٹھ کر ذکرِ الٰہی کر رہے ہیں، تو یقین مانیے، فرشتے اس گھر کا طواف کرتے ہیں۔ وہ فرشتے آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔


آپ کا گھر تب واقعی امن کا گہوارہ بنتا ہے جب وہاں "انا" (Ego) مر جاتی ہے اور "رضا" جنم لیتی ہے۔ جب آپ سب مل کر یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس گھر میں کسی کی غیبت نہیں ہوگی، کسی پر بے وجہ تہمت نہیں لگے گی، اور یہاں صرف سچ اور پیار بولا جائے گا، تو اس گھر کی مٹی سے بھی خوشبو آنے لگتی ہے۔ دلوں کی پاکیزگی ہی گھر کو مہکاتی ہے۔



یاد رکھیے! ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ جو بڑے بڑے "محلوں" میں رہتے ہیں، وہ دراصل صرف "مکین" ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی ہوتے ہیں، ان کے گھروں میں وہ سکون، وہ اپنائیت نہیں ہوتی۔ مگر جو لوگ چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی، اپنے دلوں کو اللہ کی محبت سے، ایک دوسرے کے لیے پیار سے آباد رکھتے ہیں، وہ اصل میں "مکیں" ہوتے ہیں۔ جن کے دل آباد ہوں، ان کے گھر بھی ہمیشہ آباد رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھر میں زندگی کی حقیقی خوشیاں بھر دیتے ہیں۔


آج، ذرا ٹھہر کر، اپنے گھر کی دیواروں پر پیار سے ہاتھ پھیریں۔ ان دیواروں سے دل کی گہرائی سے بات کریں۔ اور دل میں یہ پختہ ارادہ کیجیے کہ آج سے اس گھر میں صرف محبت، صرف سکون، صرف پیار رہے گا۔ کوئی تلخ بات نہیں، کوئی ناراضگی نہیں۔ دیکھیے گا، کیسے وہ بے جان اینٹیں، وہ بے جان دیواریں آپ کے اس پیار کو محسوس کریں گی، آپ کو جواب دیں گی۔ اور کیسے آپ کا گھر، آپ کے لیے زمین پر جنت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بن جائے گا۔ وہ گھر جس میں آپ کے دل آباد ہوں، وہ گھر دراصل آپ کی پہچان بن جاتا ہے۔ وہ آپ کی روح کا عکس بن جاتا ہے۔


آج سے، اپنے گھر کو صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی اکائی سمجھیے۔ جہاں ہر فرد کی اپنی اہمیت ہو، جہاں ہر کسی کے جذبات کا احترام ہو، اور جہاں ہر لمحہ اللہ کی رحمتوں کا سایہ ہو۔ جب آپ یہ کرتے ہیں، تو آپ صرف اپنے گھر کو نہیں سنوارتے، بلکہ آپ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محبت، سکون اور روحانیت کا ایک لازوال ورثہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ ورثہ ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔ یہ وہ دولت ہے جو قبر اور حشر تک آپ کے ساتھ جائے گی۔


یاد رکھیے، یہ کالم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ وہ سچ ہے جو شاید ہم سب جانتے ہیں، مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ آج، اس لمحے، یہ فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنے گھر کو کیسے بنانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اسے صرف ایک عمارت رکھنا چاہتے ہیں، یا ایک ایسا "گھر" بنانا چاہتے ہیں جہاں آپ کی روح کو سکون ملے، جہاں آپ کے بچے پیار اور احترام سیکھیں، اور جہاں آپ کے بزرگوں کی دعائیں آپ کے لیے سرمایہ بنیں۔ انتخاب آپ کا ہے۔ اور میں یقین سے کہتا ہوں، جب آپ محبت، سکون اور دعاؤں کو اپنے گھر کا حصہ بنا لیں گے، تو آپ کا گھر واقعی جنت کا نمونہ بن جائے گا۔

تبصرے

  1. Home is the name of peace where we forget every sorrow but regret today homes have become just living places because everyone is trying to taunt one an other
    We should not do this we should try to make our house a beautiful and peaceful place 😊
    Where we can take a peaceful breathe

    جواب دیںحذف کریں
  2. Thank you for your motivational Column ❤️

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes.sir we didn't realize this truth that home is our paradise. We make it beautiful or ugly. We should make our home peaceful and a land of joy.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein