روحانیت کا سفر 21

 روحانیت کا سفر 21


کالم از: سر جاوید بشیر


الحمدللہ، اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے روحانیت کے اس سفر کا یہ اکیسواں کالم ہے۔

آج میں آپ سے اس موضوع پر بات کروں گا جو ہر انسان کی ضرورت ہے، جو ہر ٹوٹے ہوئے دِل کی آخری پناہ گاہ ہے، اور جو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا سب سے مضبوط پل ہے۔ آج ہم بات کریں گے "دُعا" پر۔

بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، "ہم دُعا مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتی۔ کیا اللہ ہماری نہیں سنتا؟ کیا ہماری قسمت میں ہی محرومی لکھی ہے؟ دُعا کا اصل طریقہ کیا ہے؟" آج اس 21 ویں کالم میں، میں آپ کو دُعا کی اس دہلیز پر لے جاؤں گا جہاں لفظ ختم ہو جاتے ہیں، جہاں سوچ دم توڑ دیتی ہے، اور جہاں صرف روح بولتی ہے۔ 

دُعا صرف مانگنے کا نام نہیں، دُعا تو لوٹ آنے کا نام ہے۔ اپنے رب کی طرف، اپنی اصل کی طرف۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی ساری خودداری، ساری انا، ساری مضبوطی ایک طرف رکھ کر کہتا ہے، یا اللہ، اب بس تُو ہی ہے۔ دنیا کے شور میں دُعا اکثر دب جاتی ہے، مگر روحانیت سکھاتی ہے کہ دُعا وہ آواز ہے جو خاموشی میں سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔

اکثر ایک سوال ہوتا ہے، ہم مانگتے ہیں، پھر بھی حالات کیوں نہیں بدلتے؟ کیا اللہ نہیں سنتا؟ کیا قسمت میں محرومی لکھی ہے؟

روحانیت اس سوال کو الٹا کر دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دُعا قبول کیوں نہیں ہو رہی، اصل سوال یہ ہے کہ دل کہاں کھڑا ہو کر مانگ رہا ہے۔ دُعا صرف ہونٹوں کی حرکت نہیں، یہ دل کا جھک جانا ہے۔ یہ اپنی محتاجی کا اقرار ہے۔ ہاتھ اٹھتے نہیں، دراصل دل جھک جاتا ہے۔

دُعا وہ راستہ نہیں جو مجبوری میں اختیار کیا جائے، دُعا وہ راستہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ 

روحانیت کا ایک نہایت نازک اور گہرا راز یہ ہے کہ دُعا اُس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے جب لفظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جب رات کے آخری پہر آنکھ کھل جائے، دنیا سو رہی ہو، اور سجدے میں سر رکھتے ہی بس “یا اللہ” نکلے اور اس کے بعد آنسو بہنے لگیں۔ وہ آنسو جن کا کوئی گواہ نہ ہو، جن میں دکھ بھی ہو، امید بھی ہو، اور محبت بھی۔

یاد رکھیے، اللہ کو وہ آنسو بہت عزیز ہوتے ہیں جو بندگی کے اعتراف میں گرتے ہیں۔ آنسو دراصل روح کی زبان ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جسے دنیا نہیں سمجھتی، مگر رب فوراً پہچان لیتا ہے۔

روحانیت یہ بھی سکھاتی ہے کہ اپنی دُعا کی قبولیت چاہتے ہو تو دوسروں کے لیے مانگنا سیکھ لو۔ کسی پریشان دل کے لیے، کسی اکیلی ماں کے لیے، کسی خاموش یتیم کے لیے۔ جب کسی اور کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں تو آسمان پر فرشتے آمین کہتے ہیں، اور رب فرماتا ہے کہ پہلے اس بندے کی سنو جس نے اپنے لیے نہیں، میرے بندے کے لیے مانگا۔

دوسروں کے لیے مانگی گئی دُعا، اپنے لیے مانگی گئی دُعا سے کہیں زیادہ جلد اثر دکھاتی ہے۔

دُعا مانگتے وقت دل میں “اگر” اور “مگر” نہ رکھیں۔ اللہ سے ایسے مانگیں جیسے یقین ہو کہ وہ سن رہا ہے، بلکہ جیسے یقین ہو کہ وہ دے چکا ہے۔ دُعا سے پہلے شکر کی خوشبو دل میں بھر لیجیے۔ جتنا شکر گہرا ہوگا، اتنی ہی دُعا میں وزن ہوگا۔ بے یقینی دُعا کی روح کو کمزور کر دیتی ہے، اور یقین دُعا کو پر لگا دیتا ہے۔

بعض لوگ تھک کر کہہ دیتے ہیں کہ برسوں مانگا، کچھ نہ بدلا۔

روحانیت کہتی ہے، اللہ کی طرف سے دُعا کا جواب کبھی انکار میں نہیں ہوتا۔ یا تو فوراً عطا، یا تاخیر کے ساتھ تربیت، یا پھر اس سے کہیں بہتر عطیہ جسے دل ابھی سمجھ نہیں پا رہا۔ کبھی کبھی اللہ نعمت اس لیے روک لیتا ہے کہ بندہ اُس کے قریب آ جائے۔ اور رب کے قریب آ جانا، خود سب سے بڑی نعمت ہے۔

ہم نے دُعا کو رسم بنا لیا ہے۔ ہاتھ اٹھتے ہیں مگر دل مصروف رہتے ہیں۔ روحانیت کہتی ہے کہ دُعا میں دل کا حاضر ہونا شرط ہے۔ آج جب مصلّے پر بیٹھیں تو صرف اپنی ضرورت نہ مانگیں، رب کی رضا مانگیں۔ اپنے گھر کے سکون کے لیے، نورِ ایمان کے لیے، اور اس ملکِ پاکستان کے امن کے لیے اس تڑپ سے مانگیں جیسے ایک بچہ اپنی ماں کو پکارے۔

یہ کالم یاد دہانی ہے کہ کمال لفظوں میں نہیں، کمال اُس ذات میں ہے جو دلوں کو ہلا دیتی ہے۔ اگر دل کسی صدمے سے ٹوٹ چکا ہو، اگر بیماری نے اندر سے کمزور کر دیا ہو، اگر کسی پیارے کی جدائی نے سانس بھاری کر دی ہو، تو دُعا کی دہلیز پر آ جائیے۔

یہ وہ در ہے جہاں کوئی خالی نہیں لوٹتا۔ یہ وہ ہسپتال ہے جہاں کوئی مرض لاعلاج نہیں۔ یہ وہ آغوش ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دل بھی سکون پا لیتے ہیں۔

بس ایک شرط ہے، دل کو ساتھ لے آئیے۔

باقی سب رب سنبھال لیتا ہے۔

تبصرے

  1. Your spirituality journey is going towards super success
    May Allah almighty give you courage to give us knowledge
    A great column
    It's true that pray has a strong strength because we are asking from the greatest blesser
    May Allah almighty give us right path always ameen✨

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein