روحانیت کا سفر 22
روحانیت کا سفر 22
کالم از: سر جاوید بشیر
الحمدللہ… اللہ عزوجل کے بے شمار فضل، کرم اور احسان کے ساتھ آج روحانیت کے سفر کا 22 کالم ہے۔ یہ تحریر صرف پڑھنے کے لیے نہیں، یہ محسوس کرنے کے لیے ہے۔
کیا آپ نے کبھی کسی ریلوے اسٹیشن کی انتظار گاہ میں رات گزاری ہے؟
اگر گزاری ہو تو آپ جانتے ہوں گے کہ وہ رات کیسے کاٹتی ہے۔ لکڑی کی سخت بنچ، جن پر لیٹنے سے جسم دکھتا ہے۔ بار بار آتی جاتی ٹرینوں کی آوازیں۔ مسافروں کی سرگوشیاں، بچوں کے رونے کی آوازیں، چائے والوں کی پکار۔
ہر طرف ایک بےچینی، ایک انتظار، ایک انجانا سا خوف کہ کہیں ٹرین نکل نہ جائے۔ وہاں کوئی پرسکون نہیں ہوتا۔ کوئی بھی نہیں سوتا۔ کیونکہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹھہرنے کی جگہ نہیں، یہ بس گزرنے کی جگہ ہے۔
آج یہ تحریر اسی حقیقت کے نام ہے۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم سب اسی طرح کی ایک بہت بڑی انتظار گاہ میں کھڑے ہیں۔
یہ دنیا، یہ زندگی، یہ سب ایک عظیم اسٹیشن ہے اور ہم سب مسافر ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کب اعلان ہوگا، کس وقت روانگی ہوگی، اور کون سی ٹرین ہمیں لے جائے گی۔ اصل دکھ یہ نہیں کہ ہم مسافر ہیں۔
اصل دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس مسافر خانے کو ہی گھر سمجھ لیا ہے۔ ہم نے یہاں دل لگا لیا ہے۔
ہم نے یہاں بنیادیں کھود لی ہیں۔ ہم نے یہاں ایسے خواب بُن لیے ہیں جیسے کبھی جانا ہی نہیں۔
ہم بھول گئے ہیں کہ اصل گھر کہیں اور ہے۔
وہاں جہاں نہ بنچ سخت ہیں، نہ شور ہے، نہ انتظار کی اذیت۔ وہاں جہاں دل کو قرار ہے، روح کو سکون ہے، اور رب کی قربت ہے۔
ہم یہاں رہنے نہیں آئے۔ ہم یہاں گزرنے آئے ہیں۔
روحانیت کا سب سے گہرا سبق یہی ہے کہ خود کو اس دنیا میں ایک اجنبی سمجھا جائے۔
ایسا اجنبی جو راستے سے دل نہیں لگاتا۔
ایسا مسافر جو منزل کو یاد رکھتا ہے۔
ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔
ہمارے معاشرے میں لوگ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے دشمن بن جاتے ہیں۔ کرسی کے لیے سچ کو قربان کر دیتے ہیں۔ پیسے کی دوڑ میں ماں باپ کو وقت دینا بھول جاتے ہیں۔ اولاد کو وقت نہیں دیتے، مگر جائیداد کے کاغذ بنا لیتے ہیں۔
یہ سب اس لیے کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہی سب کچھ ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین، جس پر ہم اکڑ کر چلتے ہیں، ایک دن ہمیں اپنے اندر سلا دے گی۔ یہ دولت، جسے ہم سینے سے لگا کر رکھتے ہیں، یہیں پڑی رہ جائے گی۔
اور ہم خالی ہاتھ، خالی آنکھوں اور خالی دل کے ساتھ اگلے سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔
کبھی شام کے وقت ڈوبتے سورج کو غور سے دیکھیے۔
کتنا حسین منظر ہوتا ہے۔
سنہری روشنی، لمبے سائے، خاموشی۔
مگر وہ سورج ڈوب ہی جاتا ہے۔
یہ دنیا بھی ایسی ہی ایک شام ہے۔
یہاں ہر خوشی ادھوری ہے۔
یہاں ہر ہنسی کے پیچھے ایک آنسو چھپا ہے۔
یہاں ہر ملن کے اندر جدائی لکھی ہے۔
جب انسان یہ بات دل سے مان لیتا ہے کہ وہ یہاں عارضی ہے، تو دل دنیا سے آہستہ آہستہ الگ ہونے لگتا ہے۔
اور یاد رکھیے،
دل جب دنیا سے الگ ہوتا ہے، تب ہی اللہ سے جڑتا ہے۔
اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں۔
ہم نے جس پر بھروسا کیا، اس نے ہمیں توڑ دیا۔
ہم نے جس گھر کو سب کچھ سمجھا، وہ چھن گیا۔
ہم نے جن خوابوں کو سینے سے لگایا، وہ بکھر گئے۔
ایسے لوگوں سے بس اتنا کہنا ہے۔
مبارک ہو۔
یہ نقصان نہیں، یہ پیغام ہے۔
اللہ آپ کو بتا رہا ہے کہ یہ جگہ آپ کی اصل جگہ نہیں۔ وہ آپ کو جھٹکے اس لیے دے رہا ہے تاکہ آپ جاگ جائیں۔ وہ بستر میں کانٹے اس لیے رکھ رہا ہے تاکہ آپ کو اس انتظار گاہ سے وحشت ہو اور اصل گھر یاد آئے۔
مسافر کا سب سے قیمتی ہنر اس کا ہلکا سامان ہوتا ہے۔ جتنا کم سامان، اتنا آسان سفر۔ ہم نے خواہشات کی اتنی گٹھڑیاں اپنے دل پر لاد لی ہیں کہ اب سجدے میں جھکنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ روحانیت ان گٹھڑیوں کو آہستہ آہستہ اتارنے کا نام ہے۔ روحانیت دراصل ایک ہجرت ہے۔
اپنے نفس سے نکل کر رب کی طرف جانے کی ہجرت۔
اپنی انا سے نکل کر عاجزی کی طرف جانے کی ہجرت۔
دل میں ایک مسافر کی سی بےچینی زندہ رکھیے۔
ایسی بےچینی جو رات کو جاگنے پر مجبور کرے۔
ایسی بےچینی جو سجدے میں آنسو بن کر بہے۔
ایسی بےچینی جو دل سے یہ صدا نکالے
یا اللہ، یہاں کوئی میرا نہیں، تو ہی میرا ہے۔
جب دنیا میں خود کو اکیلا محسوس ہونے لگے،
تب اللہ کا ساتھ محسوس ہونے لگتا ہے۔
ذرا وہ لمحہ سوچئے
جب یہ جسم مٹی کو لوٹایا جائے گا۔
جب روح پرواز کے لیے تیار ہوگی۔
اس وقت نہ بنگلہ یاد آئے گا، نہ بینک بیلنس۔
نہ عہدہ ساتھ جائے گا، نہ نام۔
صرف وہ آنسو کام آئیں گے جو اندھیرے میں گرے ہوں گے۔
صرف وہ دعا ساتھ ہوگی جو ٹوٹے دل سے نکلی ہوگی۔
صرف وہ نیکی وزن رکھے گی جو کسی تھکے مسافر کے لیے کی گئی ہوگی۔
ہم یہاں مٹی جمع کرنے نہیں آئے۔ ہم یہاں اپنی روح کو نور دینے آئے ہیں۔ اس لیے سامان ہلکا رکھیے۔خواہشیں کم کیجیے۔ لالچ سے فاصلے پر رہیے۔ رشتوں میں رہیں، محبت کریں، مگر دل کا تخت صرف اللہ کے لیے خالی رکھیں۔
جو بچھڑنے والا ہے، اسے دل کا مالک نہ بنائیں۔
ہر رات سونے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ شاید یہ آخری رات ہو۔ توبہ کے ساتھ سوئیں۔ دل صاف کر کے سوئیں۔اور کسی کا دل نہ توڑیے۔کسی مسافر کا بوجھ ہلکا کر دیجیے۔ کسی کی آنکھوں میں امید رکھ دیجیے۔ کیونکہ آخر میں
ہم سب مسافر ہیں۔ کچھ لوگ بستر جما کر بیٹھ گئے ہیں اور کچھ خاموشی سے اپنے اصل گھر کی تیاری کر رہے ہیں۔
Sir g i left the Salah but Now even from today's I start it again and really our heart is filled by wishes Embitions lots of things and there we properly forgot that here is not our Destination
جواب دیںحذف کریںThank uh soo muchh you gave me the right path and from today's In sha Allah I'll start my Namaz In Sha Allah
Allah pak gives you happinesss and stay far your soroows and fill your life with blessings Ameennnn 💕💕💕💕💕💕😍😍😍❤❤❤❤❤💘💘💘💘💘
جو بچھڑنے والا ہے، اسے دل کا مالک نہ بنائیں۔ best lines ... marvelous colomn ...Mai Kon hn insan ko ye bt maloom honi chye insan puri zndgi yhi talash krta hai or Mai yeh hai k hum n akhir m Mr jana h
جواب دیںحذف کریںA person always runs behind the money and forgets that one day it has to go in an other world
جواب دیںحذف کریںMay Allah almighty give us right path for living here and for the day of judgment 💗