کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟
کیا ہم تقدیر کے غلام ہیں؟
کالم از: سر جاوید بشیر
آج میرا 100 واں کالم ہے، اور میں شکر گزار ہوں اس رب کا جس نے مجھے اتنی ہمت دی، اتنا شعور دیا کہ میں آپ کے دل کی بات کر سکوں، آپ کے ذہن کے سوالوں کا جواب دے سکوں۔
کتنے ہی طالب علم، کتنے ہی دوست، کتنے ہی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں، وہ سوال جو اکثر رات کی تنہائی میں، یا دن کے ہجوم میں بھی دماغ پر دستک دیتا ہے: "کیا ہم واقعی تقدیر کے غلام ہیں؟ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے؟ کیا ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں؟"
یہ سوال صرف فلسفیوں کا نہیں، یہ ہر اس انسان کا سوال ہے جو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرا ہو، جس نے ناکامی کے آنسو دیکھے ہوں، جس نے کامیابی کی چمک محسوس کی ہو۔ میں جب بھی اس سوال کا سامنا کرتا ہوں، تو مجھے اپنے اردگرد کی دنیا نظر آتی ہے۔ مجھے وہ رکشہ والا نظر آتا ہے جس کا رکشہ بارش میں بہہ گیا، مجھے وہ ماں نظر آتی ہے جس کا شوہر جوان موت کا لقمہ بن گیا، مجھے وہ طالب علم نظر آتا ہے جو دن رات محنت کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ملتی، اور مجھے وہ شخص بھی نظر آتا ہے جو کچھ بھی نہیں کرتا مگر پھر بھی خوش نظر آتا ہے۔
یہ سب کیا ہے؟ یہ تقدیر ہے، یا ہمارے اپنے فیصلے ہیں؟
تقدیر کا مطلب کیا ہے؟ سادہ لفظوں میں، تقدیر کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا ازلی اور ابدی علم۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، اور کیا ہونے والا ہے۔ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ حکیم ہے، وہ علیم ہے، وہ سب جانتا ہے۔ لیکن کیا اس کا جاننا ہمارے اختیار کو ختم کر دیتا ہے؟
یہیں سے بات گڑبڑ ہوتی ہے۔ ہم اللہ کے جاننے کو انسان کی مجبوری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اللہ جانتا ہے کہ میں فلاں کام کروں گا، تو پھر میرا وہ کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ تو پہلے ہی لکھا تھا۔
مگر، اللہ کا جاننا اور آپ کا عمل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ آپ کل صبح ناشتے میں کیا کھائیں گے، مگر اس جاننے سے آپ کی بھوک یا آپ کے ناشتے کا فیصلہ بدل نہیں جاتا۔ آپ کو پھر بھی وہ فیصلہ خود کرنا ہے۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، شعور دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر، ہمیں اختیار دیا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: "تقدیر ایک راز ہے، اس میں زیادہ نہ الجھو۔ لیکن یاد رکھو کہ انسان اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔"
یہ بات دل میں اتار لیں تو آدھی زندگی آسان ہو جائے گی۔ اللہ کا علم، اس کا منصوبہ، وہ سب کچھ اس کی ذات میں ہے۔ مگر ہمیں جو زندگی ملی ہے، جو وقت ملا ہے، جو لمحے ملے ہیں، وہ ہمارے امتحان کے لیے ہیں۔ اور اس امتحان میں ہمیں اپنے عمل سے، اپنی نیت سے، اپنی کوشش سے حصہ لینا ہے۔
کبھی آپ نے کسی کو یہ کہتے سنا ہو گا: "بس جی! یہ میری تقدیر تھی۔" یہ جملہ اکثر آنسوؤں کے ساتھ، بے بسی کے ساتھ، یا پھر سستی کے بہانے کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔
کوئی ناکام ہو جائے تو کہہ دیتا ہے، "قسمت ہی خراب تھی۔" کوئی غلط فیصلہ کر لے تو کہتا ہے، "یہ تو لکھا ہوا تھا۔" میں نے زندگی میں ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو تقدیر کو اپنی ناکامیوں کا پردہ بنا لیتے ہیں۔ وہ محنت نہیں کرتے، وہ کوشش نہیں کرتے، وہ بدلنے کی چاہت نہیں رکھتے، اور پھر کہتے ہیں، "ہم کیا کر سکتے ہیں، سب تو تقدیر کا لکھا ہے۔"
یہ سوچ، یہ رویہ، ہماری زندگیوں کو بے رنگ کر دیتا ہے۔ یہ ہمیں کمزور بنا دیتا ہے۔ یہ ہمیں بے بس کر دیتا ہے۔ اگر ہم مجبور ہوتے، اگر ہمارے پاس اختیار ہی نہ ہوتا، تو پھر اللہ نے ہمیں نیکی کا حکم کیوں دیا؟ برائی سے کیوں روکا؟ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، یہ سب عبادات کیا معنی رکھتی ہیں اگر سب کچھ پہلے سے طے ہے؟ جنت اور جہنم کا تصور کیا رہ جاتا ہے اگر انسان اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہ سکے؟
اگر میں ایک طالب علم ہوں اور میری کتابیں بند پڑی ہیں، میں امتحان کے لیے تیاری نہیں کر رہا، اور پھر میں کہہ دوں کہ "میری تقدیر میں فیل ہونا لکھا ہے"، تو کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ اس رب کے ساتھ انصاف ہے جس نے مجھے سوچنے کی صلاحیت دی، جو مجھے سیکھنے کا حکم دیتا ہے؟
ہم مجبور نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اختیار ہے۔
ہمارے اختیار میں کیا ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں دل کو تسلی ملتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو ہمیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی دکھاتا ہے۔ ہمارے پاس بہت سی چیزیں ہیں جو ہمارے اختیار میں ہیں، جن پر ہم کام کر سکتے ہیں، جنہیں ہم بدل سکتے ہیں۔
آپ کے دل میں کیا چل رہا ہے، آپ کی نیت کیا ہے، یہ مکمل طور پر آپ کے کنٹرول میں ہے۔ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، آپ کی نیت نیک ہو سکتی ہے۔
اللہ نے ہمیں کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہم اپنا کام پوری ایمانداری، پوری لگن اور پوری محنت سے کریں۔ نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
دعا تو سب سے بڑی طاقت ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔ جب آپ دعا کرتے ہیں، تو آپ اس رب سے بات کرتے ہیں جو سب کچھ کر سکتا ہے۔ دعا آپ کے دل میں امید جگاتی ہے، آپ کو حوصلہ دیتی ہے، اور آپ کو نئی توانائی بخشتی ہے۔
آپ کا رویہ کیسا ہے؟ آپ دوسروں سے کیسے پیش آتے ہیں؟ کیا آپ میں ہمدردی ہے؟ کیا آپ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں؟ یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
چاہے کام چھوٹا ہو یا بڑا، آپ نے سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا۔ یہ آپ کا اخلاقی فریضہ بھی ہے اور آپ کی شخصیت کا حصہ بھی۔ کسی کی مدد کرنا، کسی کے کام آنا، کسی کے دکھ میں شریک ہونا۔ یہ سب وہ اعمال ہیں جو آپ کے حق میں بہترین ثابت ہوتے ہیں۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کے ذریعے آپ اپنی تقدیر کو سنوار سکتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی، ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ کچھ چیزیں واقعی ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں۔
موت کا وقت، کب موت آئے گی، کس حالت میں آئے گی، یہ کسی انسان کو معلوم نہیں۔
پیدائش کہاں ہوگی، آپ کس گھر میں پیدا ہوں گے، کس ملک میں ہوں گے، یہ آپ کا انتخاب نہیں۔
قدرتی آفات، زلزلے، سیلاب، طوفان۔ یہ سب قدرت کے کام ہیں، اور انسان ان کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔
کچھ حالات جو ہمارے قابو سے باہر ہیں، جیسے کسی عزیز کی وفات، یا وہ واقعات جو اچانک رونما ہوتے ہیں اور ہماری زندگیوں کو بدل دیتے ہیں۔
مگر ان چیزوں کے باوجود بھی، ہمارا ردعمل، ہمارا رویہ، ہماری ہمت، یہ سب ہمارے ہاتھ میں ہے۔
آپ پوچھیں گے، "کیا دعا واقعی تقدیر بدل دیتی ہے؟" میرا جواب ہے، جی ہاں! حدیث شریف میں آتا ہے کہ دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے۔ دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ آپ کی روح کی آواز ہے، اللہ سے آپ کا تعلق ہے۔
جب آپ دعا کرتے ہیں، تو آپ اللہ سے جڑ جاتے ہیں۔ وہ ذات جو کائنات کی مالک ہے، وہ آپ کی فریاد سنتی ہے۔ دعا آپ کے دل میں امید پیدا کرتی ہے۔ یہ امید آپ کو مایوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ امید آپ کو مزید محنت کرنے پر اکساتی ہے۔ یہ امید آپ کو ناامیدی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔
سوچیں، جب آپ کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں، تو کیا کرتے ہیں؟ آپ اللہ کو یاد کرتے ہیں، آپ ہاتھ اٹھاتے ہیں، آپ دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا آپ کو تنہا محسوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ آپ کو احساس دلاتی ہے کہ کوئی ہے جو آپ کی سن رہا ہے، جو آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ اور جب آپ کو یہ احساس ہو جاتا ہے، تو آپ میں ایک نئی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ آپ نئی توانائی کے ساتھ اس مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
کوئی کاروبار میں نقصان کرے تو کہہ دے گا، "تقدیر ہی خراب تھی۔" جبکہ اصل وجہ شاید منصوبہ بندی کی کمی، یا غلط فیصلہ ہو۔ کوئی امتحان میں ناکام ہو جائے تو کہے گا، "میرے مقدر میں نہیں تھا۔" مگر اس نے خود کتنی محنت کی، کیا اس نے اپنا حق ادا کیا؟
ہم بعض اوقات تقدیر کے نام پر ظلم کو، نا انصافی کو، یا کسی کی غلطی کو بھی درست قرار دے دیتے ہیں۔ "وہ یوں ہی کرتا ہے، اس کی تقدیر ہی ایسی ہے۔" یہ سوچ غلط ہے۔ ہمیں برائی کو برائی کہنا چاہیے، اور نیکی کو سراہنا چاہیے۔
ہم اکثر تقدیر کے مطلب کو اللہ کا علم سمجھتے ہیں، اور اس علم کو انسان کے عمل کا خاتمہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے: "اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
یہ آیت ہمارے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ ہمیں کوشش کرنی ہے۔ ہمیں محنت کرنی ہے۔ ہمیں اپنا کام بہترین طریقے سے کرنا ہے۔ نتائج اللہ پر چھوڑ دینے ہیں۔
تقدیر کا مطلب ہے اللہ کا علم اور اس کی حکمت۔ وہ جانتا ہے، وہ دیکھ رہا ہے، وہ سب کچھ پر قادر ہے۔
اختیار کا مطلب ہے ہماری نیت، ہماری کوشش، ہمارے فیصلے، اور ان کے نتائج۔ ہم ان چیزوں کے ذمہ دار ہیں۔
اور یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ کوئی تضاد نہیں، یہ زندگی کی حقیقت ہے۔
ایک اور سوال، کیا علم، اختیار کو ختم کر دیتا ہے؟
یہ فلسفے کا ایک بڑا سوال ہے، مگر میں اسے بالکل سادہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ فرض کریں، میں جانتا ہوں کہ میرا ایک دوست، جو اسلام آباد سے لاہور آ رہا ہے، راستے میں ایک جگہ سست روی سے گاڑی چلائے گا۔ کیا میرے جاننے سے اس کی گاڑی کی رفتار بدل جائے گی؟ نہیں۔ وہ پھر بھی اپنی مرضی سے، اپنے وقت کے حساب سے، اپنی گاڑی چلائے گا۔ میرا جاننا اس کے اختیار کو ختم نہیں کرتا۔
اسی طرح، اللہ کا جاننا ہمارے اختیار کو ختم نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کیا کریں گے، مگر اس جاننے کی وجہ سے ہم وہ کر رہے ہوں، یہ ضروری نہیں۔ ہم آج بھی آزاد ہیں، اپنے فیصلے کرنے میں، اپنے عمل کرنے میں۔
تقدیر، اختیار، اور ہماری زندگی کا مقصد، میرے خیال میں، زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ ہم ان حقیقتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
جب دکھ آئے، تو ہم صبر کریں، اور اپنی حد تک جو کر سکتے ہیں، وہ کریں۔
جب کامیابی ملے، تو ہم شکر ادا کریں، اور جان لیں کہ "یہ اللہ کا فضل تھا۔" اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ ہماری محنت بیکار تھی، بلکہ یہ کہ اللہ نے ہماری محنت کو قبول کیا، ہم پر رحم فرمایا۔
اور ہم ہمیشہ محنت کرتے رہیں، دعا کرتے رہیں، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہیں۔
یقین جانیے، یہی سوچ انسان کو سکون دیتی ہے۔ یہی سوچ ہمیں مضبوط بناتی ہے۔ یہی سوچ ہمیں بے بسی کے اندھیروں سے نکال کر عزت کی زندگی جینے کا ہنر دیتی ہے۔ جب ہم اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اختیار دیا ہے، اور اس اختیار کا صحیح استعمال ہی ہماری ذمہ داری ہے، تو ہماری زندگی میں ایک نئی امید پیدا ہو جاتی ہے۔
پھر ہم حالات کے ہاتھوں بے بس نہیں رہتے، بلکہ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ پھر ہم قسمت کو کوستے نہیں، بلکہ اپنی تقدیر خود بناتے ہیں۔ ہم اللہ کی مدد کے ساتھ، اور اپنے اختیار کے استعمال سے، ایک پرسکون، بامقصد اور بامعنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
یاد رکھیے!
اللہ عزوجل آپ سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔
بس ایک لمحے کے لیے رک کر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے۔ ایک ماں، جس کا دل ممتا سے بھرا سمندر ہوتا ہے، کیا وہ کبھی اپنے بچے کے لیے بُرا سوچ سکتی ہے؟ کیا وہ کبھی چاہے گی کہ اس کا بچہ ٹھوکریں کھائے، ذلیل ہو، ٹوٹ جائے، ہار مان لے؟ کبھی نہیں۔ ماں تو اپنے بچے کے کانٹوں بھرے راستے پر بھی خود ننگے پاؤں چلنے کو تیار ہو جاتی ہے۔
تو پھر وہ رب، جس نے ماں کے دل میں یہ ممتا رکھی، جس نے محبت کو جنم دیا، وہ آپ کے لیے کیسا سوچے گا؟ وہ آپ کی تقدیر میں اندھیرا کیوں لکھے گا؟ وہ تو رحمٰن ہے، وہ تو وہ ذات ہے جو بندے کے ایک قدم پر دس قدم آگے بڑھتی ہے، جو بندے کے ایک آنسو پر اپنی رحمت نچھاور کر دیتی ہے۔
اصل سچ یہ ہے کہ اکثر ہماری زندگی کی تلخی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی، بلکہ ہماری اپنی طرف سے ہوتی ہے۔ ہم اپنی سستی، اپنی نا امیدی، اپنی ہمت ہار جانے کی عادت کو تقدیر کہہ کر رب پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں میری قسمت ہی خراب ہے، میرے نصیب میں یہی لکھا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہمارے سامنے زندگی کا ایک صاف سفید صفحہ رکھا اور قلم ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔
اگر ہم خود اپنی زندگی نہیں لکھیں گے تو پھر حالات لکھیں گے۔ لوگ لکھیں گے۔ وقت لکھے گا۔ اور جب کوئی اور ہماری کہانی لکھے گا تو اس میں ہماری مرضی نہیں، ہماری مجبوری بولے گی۔ پھر شکوہ کرنے کا حق بھی ہم خود کھو دیتے ہیں۔
ایک بات ہمیشہ دل میں بٹھا لیجیے۔
آپ کے الفاظ بہت طاقت رکھتے ہیں۔
آپ کی زبان صرف بولتی نہیں، وہ بناتی بھی ہے۔
جب آپ بار بار کہتے ہیں کہ میں نہیں کر سکتا، میرے نصیب میں کچھ نہیں، میرا کوئی نہیں، تو یہ الفاظ صرف ہوا میں تحلیل نہیں ہوتے، یہ آپ کے لا شعور میں اتر جاتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ آپ کی حقیقت بن جاتے ہیں۔
کائنات اللہ کے حکم سے آپ کی زبان کے پیچھے چلتی ہے۔ آپ جیسے لفظ بولتے ہیں، ویسی ہی راہیں بنتی ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اچھی بات بولو، خیر کی بات بولو، امید کی بات بولو۔ حالات چاہے جتنے مشکل ہوں، زبان پر شکوہ نہیں، شکر رکھو۔ دل میں اندھیرا ہو تو بھی لفظوں میں روشنی رکھو۔
یقین رکھیے، جب آپ اچھا بولتے ہیں، اللہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں اور صحیح سمت میں تھوڑی تھوڑی کوشش کرتے رہتے ہیں، تو یہ تینوں مل کر ایسی طاقت بن جاتے ہیں جو بند دروازے کھول دیتی ہے۔ اللہ محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ کسی آنسو کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ وہ ہر سجدے، ہر دعا، ہر کوشش کو گن رہا ہوتا ہے، چاہے دنیا کو کچھ نظر نہ آئے۔
اکثر کامیابی شور مچاتے ہوئے نہیں آتی، وہ خاموشی سے دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ دروازہ کھلا رکھیں۔ نا امیدی کی زنجیر مت لگائیں۔
آج اس کالم پر، اس لمحے پر، اپنے دل سے ایک وعدہ کر لیجیے۔
وعدہ کیجیے کہ آپ اپنی تقدیر کو کوسنا چھوڑ دیں گے۔
وعدہ کیجیے کہ آپ اپنی زبان سے اپنے خلاف فیصلہ نہیں سنائیں گے۔
وعدہ کیجیے کہ آپ دعا، عمل اور اچھے الفاظ سے اپنی زندگی کا نیا صفحہ لکھیں گے۔
یاد رکھیے، آپ اکیلے نہیں ہیں۔
اللہ آپ کے ساتھ ہے۔
وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، سنبھال رہا ہے۔
یہ کالم میرا 100 واں کالم ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ آپ کے دل کی بات کر سکوں، آپ کے ذہن کے سوال کا جواب دے سکوں۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ میرے تجربات ہیں، میرے مشاہدات ہیں، اور وہ گہرائی ہے جو میں نے انسانی زندگی کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر حاصل کی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے، صحیح راستہ دکھائے، اور ہمیں ان تمام مشکل حالات میں صبر اور ہمت عطا فرمائے جن کا سامنا ہمیں اپنی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔ آمین۔
Sir g really learn new thing
جواب دیںحذف کریںI really appreciate you a lot
May Allah almighty give you more courage to do
You wrote a good column 🤗✨
Excellent. You exactly capture our thoughts. In our life we easily disappoint. Allah grant us the power to think positive.
جواب دیںحذف کریںJazak Allah
جواب دیںحذف کریں