بےحسی کی لذت

بےحسی کی لذت

کالم از: سر جاوید بشیر


میرے محترم بھائی کی فرمائش پر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ وہ بھائی، جو خود ایک درد مند دل کے مالک ہیں، آج کی تحریر بھی اسی درد، اسی کرب اور اسی سچائی کا عکس ہے جو ہمارے معاشرے کے ہر ذرے میں بکھری ہوئی ہے، مگر ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔


کچھ لمحے کے لیے آپ کو پچھلی صدی کی طرف لے چلتا ہوں۔ یہ 1964 کا سال تھا، نیویارک کی ایک رات، جب "کیٹی جینوویس" نامی ایک لڑکی پر حملہ ہوا۔ وہ مدد کے لیے چیختی رہی، آوازیں دیتی رہی، قریب کی عمارتوں میں درجنوں لوگ بیدار تھے، کھڑکیوں سے سب کچھ دیکھ بھی رہے تھے، مگر کسی نے دروازہ نہیں کھولا، کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ وہ لڑکی تڑپ تڑپ کر مر گئی، اور لوگ صبح تک سکون کی نیند سوتے رہے۔ دنیا نے پہلی بار اس رویے کو ایک نام دیا: Bystander Effect۔ یعنی وہ کیفیت جب لوگ سب کچھ دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں۔


آج ساٹھ برس بعد پاکستان کی گلیاں اور کوچے اسی کہانی کا ایک بدتر عکس ہیں۔ چند دن پہلے ہی دو بھائیوں کو سرِعام قتل کیا گیا، ہجوم موجود تھا، کیمرے آن تھے، موبائل فونز کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں، مگر انسانوں کی آنکھیں بند تھیں۔ جو رک سکتا تھا، وہ ویڈیو بناتا رہا، جو بچا سکتا تھا، وہ "لائکس" کے خواب دیکھتا رہا۔ وہ لمحہ ایک سوالیہ نشان بن کر ہماری اجتماعی پیشانی پر لکھ دیا گیا کہ ہم کس نسل کے وارث ہیں؟


یہ وہی کیفیت ہے جسے ماہرین "Inattentional Blindness" کہتے ہیں۔ یعنی اردگرد سب کچھ ہوتا ہے، مگر انسان کا ذہن اور دل اندھے ہو جاتے ہیں۔ آپ اسے آسان زبان میں "بے حسی" کہہ لیجیے۔ لیکن یہ وہ بے حسی ہے جس میں اب لذت شامل ہو گئی ہے۔ ہاں، ہم لذت لینے لگے ہیں دوسروں کے کرب سے، دوسروں کے خون سے، دوسروں کی چیخوں سے۔


 کوئی ڈوب رہا ہو تو پہلے موبائل نکالا جاتا ہے۔ کوئی آگ میں جل رہا ہو تو شور مچانے کے بجائے ریکارڈنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ کسی کی سانس بند ہو رہی ہو تو دوڑ کر مدد نہیں کی جاتی، بلکہ کہا جاتا ہے "یہ تو وائرل ہو گا"۔ یہ صرف بے حسی نہیں، یہ تو ایک نشہ ہے، وہ نشہ جو انسان کو انسانیت سے محروم کر دیتا ہے۔


آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم جنازے پر بھی فوٹو کھینچتے ہیں؟ قبر پر بھی سیلفی بناتے ہیں؟ یہ کون سا کلچر ہے؟ یہ کون سی روش ہے؟ کبھی سوچا کہ جب ہم دوسروں کے غم کو بھی "کنٹینٹ" بنا دیتے ہیں، تو ہم اپنی روح کو کہاں بیچ دیتے ہیں؟


پرانے وقتوں کو یاد کیجیے۔جب کوئی گھر جلتا تھا تو محلہ بھر کے مرد بالٹیوں میں پانی بھرتے بھاگتے تھے۔ جب کسی پر ظلم ہوتا تھا تو لوگ جانیں خطرے میں ڈال کر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ آج وہ محلے مر گئے، وہ جذبے دفن ہو گئے، اور ان کی جگہ ایک چمکتی اسکرین نے لے لی۔


ہم ایک ایسی نسل بنا چکے ہیں جو یہ سمجھتی ہے کہ اگر کوئی لمحہ موبائل میں محفوظ نہ ہو تو وہ لمحہ بیکار ہے۔ ہم نے اپنے احساسات، اپنی ہمدردی، اپنا خوفِ خدا سب کچھ "گیگا بائٹس" کے فولڈرز میں قید کر دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کل ہماری اپنی باری آئی تو کیا ہوگا؟ جب کل کوئی ہمارا بیٹا، بھائی، بیٹی یا ماں سڑک پر چیخ رہی ہو گی تو کیا ہجوم پھر ویڈیو بنائے گا؟ کیا ہم پھر "ہیش ٹیگ" کا انتظار کریں گے؟


یہی اصل خطرہ ہے۔ یہ بےحسی اگر آج نہ رکی تو کل ہماری کہانیاں بھی صرف موبائل کی سکرین پر فائلز بن کر رہ جائیں گی۔ ہم کتابوں میں نہیں، ہم تصویروں میں نہیں، ہم دعاوں میں نہیں، صرف "وائرل کلپس" میں یاد رکھے جائیں گے۔ اور وہ بھی چند سیکنڈ کے لیے، پھر کسی نئے حادثے کی ویڈیو ہمیں Replace کر دے گی۔


آپ سوچتے ہوں گے، اس کا حل کیا ہے؟ حل بڑا سادہ ہے، مگر عمل مشکل۔ آپ کو اپنے دل کی کھڑکیاں دوبارہ کھولنی ہوں گی۔ آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موبائل ایک آلہ ہے۔ آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جب کوئی مدد مانگے تو ہاتھ بڑھائیں، نہ کہ لینز کھولیں۔ آپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ جب کوئی خون میں نہا رہا ہو تو آپ کا فرض ہے کہ خون روکیں، نہ کہ تصویر بنائیں۔


یاد رکھیے، قومیں تبھی زندہ رہتی ہیں جب ان کے لوگ دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ اگر آپ اپنے بھائی کے قتل پر خاموش رہیں، اگر آپ اپنی بہن کی بے عزتی پر ویڈیو بناتے رہیں، اگر آپ اپنی ماں کی چیخ پر تماشائی بنے رہیں تو پھر یقین مانیے آپ خود اپنی قبر کھود رہے ہیں۔


میری گزارش ہے کہ آپ ایک بار اپنے دل سے سوال کریں: اگر یہ ظلم آپ کے ساتھ ہوتا تو آپ چاہتے کہ لوگ ویڈیو بنائیں یا مدد کریں؟ 


خدارا، بےحسی کو عادت نہ بنائیے۔ خدارا، اس لذت کو زہر نہ بننے دیجیے۔ یاد رکھیے، موت ایک دن سب کو آنی ہے، لیکن سوال یہ ہوگا کہ آپ نے زندگی کس طرح گزاری؟ دوسروں کو بچا کر یا دوسروں کی ویڈیوز بنا کر؟


آج بھی وقت ہے۔ دل کی کھڑکیاں کھولیے۔ اپنے اردگرد دیکھنا شروع کیجیے۔ دوسروں کے درد کو محسوس کیجیے۔ کیونکہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہم وہ قوم بن جائیں گے جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان زخموں کو "کلپ" بنا کر دنیا کو دکھاتی تھی۔کاش! ہم جاگ جائیں، کاش ہم انسان بن سکیں، بس یہی ایک

 دعا ہے، یہی ایک پکار ہے۔





تبصرے

  1. جی سر جاوید صاحب آپ نے ایسے تحریر کی ھے کہ سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو کاش ہم یہ ظلم روک سکتے کاش ویڈیو بنانے والوں کو ہی کہتے خدارا انسان کو بچالو پھر اللہ تمہیں عزت پیسہ دونوں دے گا جاوید بھائی دل خون کے آنسو رو رہا ھے خالق کائنات کہتا ھے کہ جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا لیکن یہاں تو خدا کی پنا اللہ اکبر اللہ تعالی کا کانون قدرت ھے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے مطلب آپ خوب سمجھتے ہیں اس انجام کے خوف سے ہی سمجھ جاؤ ورنہ ایسا ہی ہوگا مت بناؤ کسی کے تزپنے کی ویڈیو مت بناؤ کسی کو بے عزت کرنے کی وڈیو جانور مت بنو اللہ رب العزت نی تمہیں انسان پیدا کیا ھے انسان بنو جاوید صاحب جب بے حسی بڑھتی ھے تو ظلم کا راج ہوتا ھے آج ہمارے اسی اعمال کا نتیجا ہے اللہ ہمارے حل پر رحم کرے اور درد مند دل عطا کرے آمین یا رب العلمین سر جاوید صاحب آپ نے میری فرمائش پر بی حد دکھی کالم لکھا اگر کسی ایک کے دل میں ھماری بات اتر گئی تو بارگا الہی میں قبول ہوگیا اپنے تئں کوشش کی ھے مالک قبول کرے آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. Really sir g today people make fun
    Even they help someone for likes
    of other problems
    Today we need to learn the importance of others help not likes and comments

    جواب دیںحذف کریں
  3. Really sir g same like that its happening our surrounding
    Every human has a heart in his or her chest but Every one has not humanity Every person should to feel others pain how they are bearing.
    May Allah gives us humanity Sense And make us helping hands for others who's need it the most Ameenn

    جواب دیںحذف کریں
  4. Really This behavior reflects a disturbing trend where people prioritize capturing content for social media over providing aid or empathy.
    We need to recognize the value of human life and dignity.

    جواب دیںحذف کریں
  5. Yes.we are Muslims.being a Muslim we have some duties. We should help other in their difficult time.Because if we show mercy then Allah Almighty helps us in difficult. Excellent you shiw us a very important prospective. Allah Almighty helps you to carry on .

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein