جہالت کا علم: رَٹا سسٹم

 

امتحان پاس، زندگی فیل  حصہ دوم

کالم از: سر جاوید بشیر


کل میں نے رٹا کی لعنت پر ایک کالم لکھا تھا۔ آپ سب نے پڑھا، دل کی گہرائیوں سے پسند کیا۔ آپ نے کہا کہ سر، یہ وہی درد ہے جو ہمارے دلوں میں بھی ہے۔ آج میں پھر اسی دکھ کی گہرائی میں اترنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ ایسا زخم ہے جو ہماری قوم کے جسم پر لگا ہوا ہے اور جس سے خون مسلسل رس رہا ہے۔


آپ دیکھئے، ایک بچہ جو نرسری میں جاتا ہے، وہ سوالوں کا طوفان لے کر پیدا ہوتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے، یہ آسمان نیلا کیوں ہے؟ یہ پرندہ کیوں اڑتا ہے؟ یہ مچھر ہمیں کاٹتا کیوں ہے؟ یہ پانی بہتا کیوں ہے؟ یہ زمین گول کیوں ہے؟ یہ سب سوال ایک زندہ دماغ کے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ بچہ دسویں جماعت میں پہنچتا ہے، اس کے سوال مر جاتے ہیں۔ وہ کتاب کو رٹتا ہے، کاپی پر گھسے پٹے جملے لکھتا ہے اور امتحان میں نمبر لینے کے لئے جیتا ہے۔ یہ ہے اصل تباہی۔


یہ ظلم ہے۔ یہ بربادی ہے۔ یہ نسل کشی ہے، مگر ہتھیاروں سے نہیں، یہ نسل کشی "رٹے" کے ذریعے ہو رہی ہے۔ بچے کے تخلیقی ذہن کو قتل کیا جا رہا ہے۔ آپ کے سامنے دو تصویریں رکھتا ہوں۔ ایک وہ کلاس جہاں نرسری کے بچے بیٹھے ہیں، ان کی آنکھیں چمک رہی ہیں، ان کے ذہن میں ہزاروں سوال ہیں۔ دوسری تصویر وہ ہے جہاں دسویں, بارہویں کے طالب علم بیٹھے ہیں۔ سب تھکے ہوئے، سب چپ، سب بے ذوق، سب بے جان۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے سوال قتل ہو چکے ہیں۔


قصور وار کون ہے؟ صرف نظام نہیں، صرف حکومت نہیں، اصل قصور وار "استاد" ہے۔ وہ استاد جو خود کتاب کو صرف امتحان کے لئے پڑھتا ہے۔ وہ استاد جس نے کبھی لائبریری کا دروازہ نہیں کھولا۔ وہ استاد جسے صرف تنخواہ عزیز ہے۔ وہ استاد جس نے علم کو اپنی روح کا حصہ نہیں بنایا۔ استاد اگر زندہ ہو، استاد اگر شوقین ہو، استاد اگر علم کا پیاسا ہو تو کوئی رٹا بچے پر حاوی نہیں ہو سکتا۔


آپ ذرا مغرب کا نظام دیکھئے۔ انگلینڈ کے اسکولوں میں بچے کو سوال کرنے کی اجازت ہے۔ امریکہ میں استاد کہتا ہے، "تمہارا سوال غلط نہیں، جواب تلاش کرنا سیکھو۔" ہمارے ہاں استاد کہتا ہے، "چپ کر کے کتاب رٹو۔" نتیجہ؟ ہمارا بچہ اپنی جڑیں کھو دیتا ہے۔ وہ صرف اچھے نمبروں کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔


 رٹا صرف علم کو نہیں مارتا، یہ بچوں کی شخصیت کو بھی مسخ کر دیتا ہے۔ وہ بچے جو سوال کرنے والے ہوتے ہیں، وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ جو سوچنے والے ہوتے ہیں، وہ ڈر جاتے ہیں۔ یہ سب ظلم ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں۔


اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ استاد کو بدلنا ہوگا۔ استاد کو علم کی محبت واپس لانی ہوگی۔ استاد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کتاب صرف رٹنے کے لئے نہیں، سمجھنے کے لئے ہے۔ استاد کو کہنا ہوگا، "بیٹا، سوال کرنا گناہ نہیں، سوال نہ کرنا گناہ ہے۔"


 نظام کو بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، چاہے ہم کیمبرج سسٹم ہی کیوں نہ لے آئیں۔ سارا دار و مدار تو استاد پر ہوتا ہے۔

اگر استاد قابل ہو تو وہ بغیر کسی کتاب کے، بغیر کسی نصاب کے، بچوں کو جہانوں کی سیر کرا دیتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں خود ایک پورا جہاں ہوتا ہے۔ اسے کسی کورس یا کسی نظام کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

یہی ہمارے سارے مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ جب تک ہم قابل اور باشعور استاد نہیں لائیں گے، تب تک کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔


 آج آپ سے دل کی گہرائی سے کہتا ہوں۔ اگر آپ استاد ہیں تو خود کو بدلیے۔ اگر آپ شاگرد ہیں تو سوال کرنا مت چھوڑیے۔اگر آپ والدین ہیں تو، اپنے بچے کے تجسس کو کبھی مرنے نہ دیں۔ اسے سوچنے دیں اور سوال کرنے دیں۔

یاد رکھیں، ہمارا رب خود قرآن میں بار بار فرماتا ہے کہ "تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟"

جو شخص غور کرتا ہے، وہی سوال پوچھتا ہے۔ اور جب استاد اور والدین اس کے سوالوں کا تسلی بخش جواب دیتے ہیں، تو وہ بچہ ایک اچھا، سمجھدار اور مکمل انسان بنتا ہے، جو کل کو قوم و ملت کے لیے بہترین کام کرے گا۔ اپنے بچے کی سوچ کو پروان چڑھنے دیں، یہی اس کی اور ہمارے ملک کی کامیابی کی بنیاد ہے۔

ورنہ یہ رٹے کا عفریت ہماری نسل کو کھا جائے گا۔ اور جب تاریخ ہمیں دیکھے گی تو کہے گی کہ یہ وہ قوم تھی جس نے اپنے بچوں کے ذہن مار ڈالے۔


آئیے! وعدہ کریں کہ رٹے کی اس لعنت سے نکلیں گے۔ اپنے بچوں کو زندہ رہنے کا، سوال کرنے کا، سوچنے کا، ہنسنے کا، کھیلنے کا اور سیکھنے کا حق دیں گے۔ کیونکہ قومیں نمبروں سے نہیں بنتیں، قومیں سمجھ  سے بنتی ہیں۔




کل آپ سب نے میری کوشش کو سراہا، آج میں نے آپ کے سامنے اپنے دل کا درد کھول کر رکھ دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ آپ بھی اپنے دل کھولیں۔ یہ صرف میرا درد نہیں، یہ آپ کا درد ہے، ہمارے بچوں کا درد ہے، اور ہماری قوم کا درد ہے۔

میں آپ سب سے پوچھتا ہوں: اس رَٹے کی لعنت کو کیسے ختم کریں؟ کیا ہم صرف استاد کو بدلیں، یا والدین کو بھی اپنا کردار سمجھانا ہوگا؟ ایک ایسی نسل کو کیسے پروان چڑھایا جائے جو رٹا نہیں، بلکہ سوچنا جانتی ہو؟

یہ کالم صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہے، یہ آپ کو عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آئیے، آج ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ ہم اپنی نسلوں کو رَٹے سے آزاد کریں گے۔ اپنی قیمتی آراء اور تجاویز ضرور شیئر کریں، تاکہ ہم سب مل کر اس قومی المیے کا حل تلاش کر سکیں۔ آپ کی ایک رائے بھی ایک چراغ جلا سکتی ہے۔

تبصرے

  1. Yes sir you are right we should to change our educational system
    our teachers and parents
    Bacho ko smjhaaana chahiye k swal pochna gunnah nai ha pocho
    Sir i want to tell you my story
    Once our math teacher was teaching us but some girls didn't understanding
    We friends told all this to miss but she said other students understood why you didn't
    We decided to go to principal office
    We went then talked to principal
    He said always empty utensil creates voice
    I thought it's 7-8 years old story
    And i remembered it till now
    But sir you're soo different from others teachers and principal you always teaches us ask something ask what's that happening in your mind

    جواب دیںحذف کریں
  2. We can change the system
    Make teachers aware
    And focus on libraries
    You are super sir g 💕

    جواب دیںحذف کریں
  3. Sir very good column sir change the system and state the library Thank you sir

    جواب دیںحذف کریں
  4. I think,everyone should participate. When ever anyone ask question,we answer. Its not only the responsibility of Parents or teachers. In our society all take part. We are all get knowledge from internet ,through books.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein