روحانیت کا سفر 12
روحانیت کا سفر 12
کالم از: سر جاوید بشیر
یہ کہانی ہے ایک بزرگ کی، جنہیں لوگ بابا جی کہتے تھے۔ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ ہر شام جب سورج ڈوبتا، تو بابا جی اپنی جھونپڑی کے سامنے ایک پرانی چارپائی بچھاتے اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتے۔ گاؤں کے بچے سمجھتے کہ بابا جی سو رہے ہیں۔ مگر ایک دن ایک بچے نے پوچھ ہی لیا، "بابا جی، آپ آنکھیں بند کر کے کیا کرتے ہیں؟"
بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا، "بیٹا، میں اپنے دن کا حساب لے رہا ہوں۔"
بچے نے حیران ہو کر پوچھا، "حساب؟ کیا حساب؟"
بابا جی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "میں اپنے آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آج میں نے کتنی بار سچ بولا، کتنی بار جھوٹ بولا۔ آج میری زبان سے کونسے الفاظ نکلے، کس کے دل کو چوٹ پہنچی۔ آج میں نے کتنی بار اللہ کا شکر ادا کیا، کتنی بار بھولا۔ یہ حساب کتاب تو ہر روز ہوتا ہے بیٹا۔"
آج جب میں روحانیت کے بارہویں سفر پر لکھ رہا ہوں، تو میرے ذہن میں یہی بات گونج رہی ہے۔ ہم سب روحانیت کی بات کرتے ہیں، اللہ سے قریب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، ہم مسجدوں میں روشنی تلاش کرتے ہیں، درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی اپنے اندر کے گھپ اندھیرے کو دیکھنے کی کوشش کی؟
ہم سب، انسان ہیں، اور انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ یہ فطرت ہے۔ مگر کیا ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کا اعتراف کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے، ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم ساری زندگی دوسروں کی غلطیاں ڈھونڈنے میں گزار دیتے ہیں۔ ہم کسی کے لباس، کسی کے کردار، کسی کی باتوں میں نقص نکالنے میں اپنی ساری توانائی صرف کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اپنے دامن پر کتنی گرد لگی ہوئی ہے، ہمارے اپنے دل میں کتنے کانٹے چبھے ہوئے ہیں۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں خود احتسابی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ روحانیت کا تعلق صرف ذکر و اذکار، عبادات اور دعاؤں سے نہیں ہے۔ اصل روحانیت تو وہ ہے جو ہمارے اندر کو بدلتی ہے۔ اور یہ تبدیلی تبھی آتی ہے جب ہم خود کو جانچتے ہیں، جب ہم خود سے سوال کرتے ہیں۔
آپ ذرا غور کریں، ہم سب سے زیادہ خوف کس سے کھاتے ہیں؟ کسی دشمن سے؟ کسی ناکامی سے؟ یا پھر کسی اور سے؟ نہیں! ہماری سب سے بڑی جنگ، ہمارا سب سے بڑا خوف، دراصل ہماری اپنی ذات سے ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ غلطیوں کا سامنا کرنا تکلیف دیتا ہے۔ یہ تکلیف، یہ اذیت، ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ ہم خود کو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانا بنا لیں۔ ہم اپنی کوتاہیوں کو، اپنے جھوٹ کو، اپنی زیادتیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
جب ہم اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں، اپنے بولے گئے جھوٹ، کی گئی زیادتیوں کا حساب نہیں رکھتے، تو وہ سب چیزیں ہمارے دل پر آہستہ آہستہ جمتی چلی جاتی ہیں۔ وہ گرد کی طرح ہوتی ہیں جو اگر وقت پر صاف نہ کی جائے تو دل کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی بوجھ پھر ہماری ساری روحانی طاقت، ہمارا سارا سکون، ہماری ساری خوشی چھین لیتا ہے۔ ہم سارا دن بھاگتے رہتے ہیں، دنیا کے کام کاج کرتے رہتے ہیں، مگر اندر سے ایک خلا محسوس کرتے ہیں۔ وہ خلا اسی بوجھ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ہم مسجدوں میں جاتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں۔ ہم خدا کو پکارتے ہیں، اس سے منتیں کرتے ہیں۔ مگر ہمیں وہ سکون نہیں ملتا جو ہمیں ملنا چاہیے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دل کا آئینہ گندہ ہے۔ اور جب تک وہ آئینہ صاف نہیں ہو گا، تب تک خدا کا نور اس میں کیسے جھلکے گا؟ تب تک ہمیں اس کی رحمت کا حقیقی احساس کیسے ہو گا؟
اس کے لیے ہمیں خود احتسابی کرنا ہوگی، خود احتسابی کوئی سخت سزا نہیں ہے۔ یہ تو محبت بھرا علاج ہے۔ یہ وہ روز کی عدالت ہے جو ہمیں اپنے اندر لگانی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دن بھر کی تھکان کے بعد ہم بستر پر لیٹتے ہیں۔ یہ وقت ہوتا ہے جب دنیا کا شور تھم جاتا ہے، جب ساری رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں خود سے بات کرنی ہوتی ہے۔
طریقہ بہت سادہ ہے۔ رات کو جب آپ بستر پر لیٹیں، تو ایک لمحے کے لیے ساری دنیا کو بھول جائیں۔ سب کام، سب فکریں، سب رشتے، سب باتیں ایک طرف رکھ دیں۔ اور پھر، اپنے دل سے، خود سے، صرف دو سوال پوچھیں۔
پہلا سوال: "آج میں نے کس کا دل دکھایا؟ کیا میں نے کسی کی حق تلفی کی؟"
یہ سوال آپ کے حقوق العباد کا حساب ہے۔ آپ نے کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ تو نہیں کیا؟ کسی کی جائز حق تلفی تو نہیں کی؟ کسی کے جذبات کو ٹھیس تو نہیں پہنچائی؟ کسی کی غیبت تو نہیں کی؟ آج دن بھر میں جو بھی آپ نے لوگوں کے ساتھ کیا، اس کا ایک ایماندارانہ حساب لیں۔
دوسرا سوال: "آج میں نے کہاں سستی کی؟ کیا میں نے اپنے وقت کو ضائع کیا؟ کیا میں نے اپنے وعدے توڑے؟"
یہ سوال آپ کے اپنے نفس کا حساب ہے۔ کیا آپ کو جو اللہ نے وقت دیا تھا، اسے فضول کاموں میں ضائع کیا؟ کیا آپ نے جو کام کرنے کا ارادہ کیا تھا، اسے ٹال مٹول کر کے چھوڑ دیا؟ کیا آپ نے کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا اور اسے پورا نہیں کیا؟ کیا آپ نے کوئی گناہ کیا؟ کوئی ایسی بات کی جو آپ کو نہیں کرنی چاہیے تھی؟
اگر آپ صرف ان دو سوالوں کا جواب، خلوصِ دل سے، ایمانداری سے دینا شروع کر دیں، تو یقین کریں، آپ کے روحانی سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ وہ قدم ہے جو آپ کو خدا کے قریب لے جائے گا۔
جب آپ خود اپنی غلطیاں دیکھنا شروع کریں گے، تو آپ کو احساس ہو گا کہ آپ بھی انسان ہیں، آپ بھی کمزور ہیں۔ آپ میں وہ تکبر، وہ غرور، جو آپ کو کامل سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔ آپ کو سمجھ آئے گی کہ آپ کو خدا کی مدد کی کتنی ضرورت ہے۔ یہی خود احتسابی ہے، خود احتسابی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے آپ سے سچ بولیں۔ یہ کوئی سزا نہیں ہے، یہ تو ایک محبت بھرا علاج ہے۔ جیسے ایک ماں اپنے بچے کے زخم کو صاف کرتی ہے، ویسے ہی ہمیں اپنے دل کے زخموں کو صاف کرنا ہے۔
یہ بات یاد رکھیں، آپ کبھی بھی کسی ایسے شخص سے سچی محبت نہیں کر سکتے، جس سے آپ جھوٹ بولتے ہوں۔ اگر آپ اپنے آپ سے، اپنے اندر کی آواز سے، اپنی روح سے جھوٹ بولیں گے، تو آپ کا خدا سے تعلق کیسے مضبوط ہو گا؟ اللہ سے محبت کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ خود سے سچی ایمانداری برتیں۔ خود کو دھوکہ دینا بند کر دیں۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو معافی کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ جیسے ہی آپ خود احتسابی کی روشنی میں اپنی غلطی کو پہچان لیتے ہیں، اور دل سے اس پر نادم ہوتے ہیں، اس کی معافی مانگتے ہیں، تو اللہ کی رحمت آپ کو اسی لمحے آزاد کر دیتی ہے۔ وہ آپ کو اسی وقت معاف کر دیتا ہے۔ آپ کو بس اس لمحے کو پہچاننا ہے۔ اس احساس کو سمجھنا ہے۔
یہی دلی پاکیزگی، یہی احساسِ ندامت، یہی خود احتسابی ہے جو روحانیت کا سب سے بڑا انعام ہے۔ یہ وہ سکون ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔
ہماری معاشرے میں آج کل جو انتشار ہے، جو بے چینی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم خود احتسابی سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کو توڑنے میں مصروف ہیں، مگر اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش نہیں کرتے۔
میں آپ سے ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں۔ خود احتسابی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو کوستے رہیں، اپنے آپ پر پچھتاتے رہیں۔ نہیں، خود احتسابی کا مطلب ہے اپنی غلطیوں کو پہچاننا، ان پر نادم ہونا، اور انہیں دہرانے سے بچنے کی کوشش کرنا۔
تو آج سے عہد کریں! آج رات جب آپ بستر پر لیٹیں گے، تو باہر کی دنیا کو نہیں، بلکہ اپنے دل کی عدالت کو کھولیں گے۔ بے خوف ہو کر، بغیر کسی جھجھک کے، اپنا حساب دیں۔ اور پھر، اس پاکیزہ احساس کے ساتھ، سکون کی نیند سو جائیں۔
یہ خود احتسابی کی عدالت، یہ آپ کی اپنی عدالت ہے۔ یہاں آپ جج بھی ہیں، وکیل بھی، اور ملزم بھی۔ مگر یہاں سزا نہیں، صرف معافی ہے۔ یہاں صرف پاکیزگی ہے۔ یہاں صرف نور ہے۔
میں جانتا ہوں، یہ آسان نہیں۔ انسان فطرت کے لحاظ سے خود کو بچانا چاہتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔ مگر کیا آپ اس راحت کے لیے، اس سکون کے لیے یہ تھوڑی سی تکلیف نہیں اٹھا سکتے؟
ذرا سوچیں، دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد، جب آپ اپنی آنکھیں بند کریں، اور آپ کے دل میں کوئی بوجھ نہ ہو، کوئی پچھتاوا نہ ہو، تو کیسی نیند آئے گی؟ وہ نیند جس میں کوئی پریشانی نہ ہو، کوئی خوف نہ ہو، صرف سکون ہو۔ یہ سکون تبھی ملے گا جب آپ خود کو صاف کر لیں گے۔
یہ خود احتسابی، یہ وہ جادوئی چھڑی ہے جو آپ کے دل کو صاف کر سکتی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو آپ کی زندگی میں روشنی لا سکتا ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جو آپ کو خدا کے قریب لے جا سکتا ہے۔
یہ صرف باتیں نہیں ہیں۔ یہ تجربات ہیں۔ یہ حقیقت ہے۔ آج رات، جب آپ بستر پر جائیں، تو اس کالم کو یاد کیجیے گا۔ اور خود سے وہ دو سوال ضرور پوچھیں۔ بس دو سوال۔ اور دیکھیے، کل صبح آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔
ہو سکتا ہے پہلے دن آپ کو مشکل محسوس ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنی بہت سی غلطیاں نظر آئیں۔ مگر ہمت نہ ہاریں گا۔ یہ سفر ہے، اور سفر میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ بس چلتے رہیں۔ ایمانداری سے چلتے رہیں۔ خود سے جھوٹ بولنا بند کر دیں۔ اور پھر دیکھیے، کیسے خدا آپ کی مدد فرماتا ہے۔ کیسے وہ آپ کے دل کو سکون سے بھر دیتا ہے۔
یاد رکھیے، روحانیت کا سفر کوئی منزل نہیں ہے، یہ تو ایک مسلسل سفر ہے جو زندگی کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ اور اس سفر کا پہلا قدم
خود احتسابی ہے۔
اللہ ہم سب کو خود احتسابی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںMashaAllah MashaAllah MashaAllah May Allah pak Gives uh mooorrreee strength to make this type of column for us for our nurture instructions
جواب دیںحذف کریںPeople say Allah always send a angel for give us instructions I'm thinking It's you My Super Daddy
You're reaaly like a Angel for us who taught us what's wrong and what's right
May Allah gibes uhh super health wealth happiness Ameennn😍😍✨✨♥️♥️
You always taught me Ajazi
Really beautiful written masha Allah
جواب دیںحذف کریںThank you sir g for teaching a new way of spirituality 🙂
جواب دیںحذف کریںSelf awareness is very necessary for making ourselves true with ourselves
These are steps by adopting them we can reach to the destination of spirituality may Allah Almighty give us grant us self awareness which is super or very necessary ❤️😊
ماشاءاللہ خود احتسابی کا یہ اچھا نسخہ ہے لیکن یہ کام لیٹ کر ہی کیوں ضروری ہے بیٹھے بیٹھے بھی تو ہو سکتا ہے
جواب دیںحذف کریںJazak Allah*
جواب دیںحذف کریںAllah Pak ham sab ko is py Amal karny ki bhi tofeeq ata farmayen ameen Suma ameen
جواب دیںحذف کریں