روحانیت کا سفر 13

روحانیت کا سفر (13)


 اچھا گمان 


کالم از: سر جاوید بشیر


الحمدللہ! آج یہ ہمارے روحانیت کے خوبصورت سفر کا تیرہواں کالم ہے!

ہم نے ان گزرے ہوئے جمعوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہم سب کو یہ بڑا راز معلوم ہو چکا ہے کہ انسانیت کی ہر پریشانی، ہر ٹینشن، اور ہر دُکھ کا علاج روحانیت میں موجود ہے! اور سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ ایک عام آدمی، جو روٹی کمانے کی جنگ لڑتا ہے، وہ بھی یہ سفر شروع کر سکتا ہے۔

آج جمعۃ المبارک کا بابرکت دن ہے! اللہ پاک کی رحمت آج ہم پر برس رہی ہے۔ تو چلیں، آج ایک نئے، چمکتے ہوئے موتی کی تلاش میں نکلتے ہیں، جو ہمارے اس روحانی سفر کو اور زیادہ روشن کر دے گا!


آج میں آپ کے سامنے روحانیت کے سفر کا وہ مقام کھولنے جا رہا ہوں، جو دل کے اندھیروں میں سب سے زیادہ روشنی بھرتا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے صوفیاء "دل کا چراغ" کہتے تھے۔ وہ چراغ جو جل جائے تو انسان کے اندر سے شک، حسد، غصہ، اور خوف کے اندھیرے مٹنے لگتے ہیں۔ اور وہ چراغ ہے، اچھا گمان۔


 حسنِ ظن یعنی اچھا گمان رکھنا، صرف اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ روحانی طاقت ہے۔ یہ دل کی وہ روشنی ہے جو شک کے اندھیروں کو چیر دیتی ہے۔ انسان جب دوسروں کے لیے اچھا سوچنے لگتا ہے، تو وہ اپنے دل کو نفرت، حسد، اور مایوسی کے بوجھ سے آزاد کر لیتا ہے۔


اچھا گمان دراصل ایمان کا پھول ہے۔ اور بُرا گمان ایمان کے درخت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔


میں آپ سے سچ کہتا ہوں، اگر دل میں اللہ کے بارے میں اچھا گمان ہو، تو زندگی کے زخم بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ اور اگر دوسروں کے بارے میں اچھا گمان ہو، تو رشتے جنت کا سایہ محسوس ہوتے ہیں۔


آپ ذرا غور کیجیے، ہمارے گھروں میں، محلے میں، معاشرے میں کتنی بےچینیاں صرف بُرے گمان کی وجہ سے ہیں۔ بیوی سوچتی ہے شوہر بدل گیا ہے، شوہر سوچتا ہے بیوی کا دل کہیں اور ہے۔ بھائی بھائی پر شک کرتا ہے، دوست دوست کی نیت پر شک کرتا ہے۔ اور پھر یہی شک دل میں آگ کی طرح پھیل جاتا ہے، جو محبت کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔


روحانیت کا اصل دشمن بُرا گمان ہے۔ جب دل میں شک پیدا ہوتا ہے تو نور رک جاتا ہے۔ پھر ذکر بھی خالی لگتا ہے، نماز میں بھی مزہ نہیں آتا، اور دعائیں بھی بوجھ بن جاتی ہیں۔



حضرت علی سے منسوب ایک حکمت سے بھرا قول ہے، پوچھا گیا: "مومن کی سب سے بڑی علامت کیا ہے؟"

 آپ نے فرمایا: "وہ دوسروں کے لیے اچھا گمان رکھتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دلوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔"


یہی وہ بات ہے جو ہمارے ایمان کی جڑوں میں چھپی ہوئی ہے۔ جب آپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کا ہر فیصلہ خیر ہے، تو دل کبھی بوجھل نہیں ہوتا۔ جب آپ سمجھتے ہیں کہ انسان بھی غلطیاں کرتا ہے، مگر نیت شاید بری نہ ہو، تو آپ کا دل نرم ہو جاتا ہے۔


روحانیت میں حسنِ ظن وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرنا سیکھتا ہے۔ جہاں وہ یہ مان لیتا ہے کہ “اللہ جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔” یہ یقین انسان کو اندر سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں، وہ مسکراتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سختی بھی کسی بڑی خیر کی طرف لے جا رہی ہے۔

 میں نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے، سینکڑوں واقعات سنے۔ میں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھا، وہ کم بولتے تھے مگر زیادہ خوش رہتے تھے۔ اُن کے چہرے پر روشنی ہوتی تھی، جیسے دل کے اندر کوئی چراغ جل رہا ہو۔ اور جنہوں نے ہر بات پر شک کیا، وہ ہمیشہ تھکے ہوئے، ناراض، اور بےچین نظر آئے۔


اچھا گمان صرف دوسروں کے لیے نہیں، اپنے رب کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ فرماتا ہے:

"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، جو وہ مجھ سے رکھتا ہے۔"

اگر بندہ یہ گمان رکھے کہ اللہ معاف کرے گا، تو اللہ واقعی معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ سمجھے کہ میرا رب میری محنت قبول کرے گا، تو وہی ہوتا ہے۔ مگر اگر وہ سوچے کہ میں تو ناکام ہوں، میری دعا قبول نہیں ہوگی، تو اُس کا یہی گمان اُس کے راستے کا اندھیرا بن جاتا ہے۔


میں نے خود اپنی زندگی میں ایسے لمحے دیکھے ہیں جب میں مایوس ہوا، مگر پھر اللہ پر اچھا گمان رکھا، اور حیرت انگیز طور پر وہی کام آسان ہو گیا جو ناممکن لگ رہا تھا۔ بس یہی روحانیت ہے اللہ پر اچھا گمان رکھنا، اور انسانوں کے لیے نرمی سے سوچنا۔


روحانیت میں “اچھا گمان” وہ دروازہ ہے جو اللہ کے نور کی طرف کھلتا ہے۔ جو اس دروازے سے گزر گیا، اُس کے لیے زندگی کے دکھ بھی عبادت بن گئے۔ وہ دوسروں کے طعنوں پر بھی صبر کرتا ہے، آزمائشوں میں بھی خیر دیکھتا ہے۔


ہم سب کو ایک عہد کرنا چاہیے کہ آج کے بعد ہم اپنے دلوں کو شک سے پاک کریں گے۔ ہم دوسروں کی نیت نہیں پرکھیں گے، بلکہ اپنی نیت دیکھیں گے۔ اگر کسی نے بُرا کیا، تو ہم یہ سوچیں گے کہ شاید وہ کسی دکھ میں تھا۔ اگر کسی نے بات نہ کی، تو یہ سمجھیں گے کہ شاید اُس کا دل بھرا ہوا تھا۔


یقین کیجیے، جب آپ دوسروں کے لیے اچھا سوچتے ہیں تو سب سے پہلے سکون آپ کے دل میں اترتا ہے۔ اور جب آپ اللہ کے فیصلوں کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں، تو زندگی کا ہر موڑ آسان لگنے لگتا ہے۔


میں آپ سب سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ دل میں شک کے بجائے محبت کا چراغ جلائیے۔

جب آپ کا دل دوسروں کے لیے صاف ہو جائے گا، تو اللہ کا نور براہِ راست اُس میں اترے گا۔ یہی دلی پاکیزگی روحانیت کا اصل عروج ہے۔


یقین کریں! جب آپ کا دل دوسروں کے لیے بالکل صاف ہو جائے گا، تو اللہ کا نور سیدھا آپ کے دل میں اترے گا اور وہاں سکون بھر دے گا۔

پھر دیکھیے گا! آپ کو لگے گا کہ یہ دنیا بھی جنت کی طرح پرسکون ہو گئی ہے، اور آپ کا دل، اللہ کی سب سے قیمتی امانت، یعنی

 "سچے سکون" کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پا لے گا!



تبصرے

  1. Really sir g jasa hum souchy gy wasa humy.mily ga
    Jasy Allah ny kaha jasi niyat wasi muraad
    Kisi. K liye acha soucho gy apky sath b acha hoga kisi k liye bura soucho gy apny sath bura hoga yeh chez apny liye b ha think positive happens positive
    Think negative and then negative thing will do
    Isi liye Insan ko hmesha acha or positive souchna chahiye Allah jo krta behtareen krta ha

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein