روحانیت کا سفر 14
روحانیت کا سفر (14)
کالم از: سر جاوید بشیر
الحمدللہ! آج میں ایک بار پھر آپ سب کے درمیاں حاضر ہوں، اپنے روحانیت کے سفر کے چودھویں کالم کے ساتھ۔ یہ سفر اللہ رب العزت کے کرم سے جاری ہے، اور میرا دل یہ چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ آج کا موضوع ایک ایسا موضوع ہےجو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، مگر ہم اس پر شاید ہی کبھی گہرائی سے سوچتے ہوں۔ آج ہم بات کریں گے اپنی شخصیت کے اس دوہرے پن پر، اس نقاب پر جو ہم سب نے اوڑھ رکھا ہے، اور یہ نقاب کیسے ہمیں سچے روحانی سکون سے محروم کر رہا ہے۔
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آپ گھر میں کون ہوتے ہیں؟ بازار میں آپ کی شخصیت کیسی ہوتی ہے؟ اور جب آپ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، تو آپ کے دل میں کیا چل رہا ہوتا ہے؟ کیا یہ سب ایک ہی انسان کے مختلف روپ ہیں، یا ہم مختلف اوقات میں مختلف انسان بن جاتے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے، اور اس کا جواب ہمارے روحانی سفر کی سمت طے کرے گا۔ جب تک ہمارا اندر کا انسان اور باہر کا انسان ایک نہیں ہو گا، جب تک ہماری نیت اور ہمارا عمل ایک نہیں ہو گا، تب تک ہمارا یہ سفر محض ایک رسم، ایک دکھاوا بن کر رہ جائے۔
یہ جو شخصیت کا دوہرا پن ہے، یہ کوئی معمولی خامی نہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہمارے اندر پل رہی ہے، جو ہمارے رشتوں کو، ہمارے ایمان کو، اور سب سے بڑھ کر، ہماری روح کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ آج ایک بہت بڑے تھیٹر کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں ہر شخص ایک کردار ادا کر رہا ہے، مگر کوئی بھی اپنا اصل چہرہ دکھانے کی جرات نہیں رکھتا۔
ذرا سوچیں! جب ہم کسی محفل میں، کسی شادی بیاہ میں، یا کسی ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں ہمیں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، تو ہم کیسے انسان بن جاتے ہیں؟ ہم انتہائی مہذب، دھیمے، اور ہر وقت دوسروں کے لیے فکر مند نظر آتے ہیں۔ ہماری زبان سے میٹھی باتیں جھڑتی ہیں، ہمارا اخلاق مثالی ہوتا ہے، اور ہم دوسروں کو یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ ہم کتنے نیک، کتنے پرہیزگار اور کتنے نرم دل انسان ہیں۔ مگر جیسے ہی ہم اس محفل سے باہر نکلتے ہیں، یا تنہائی کا لمحہ آتا ہے، تو ہمارا وہ نقاب اتر جاتا ہے، اور ہمارا دوسرا، اصلی روپ سامنے آ جاتا ہے۔
مسجد میں ہم آنسو بہاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم اللہ سے بہت ڈرتے ہیں۔ مگر بازار میں، جب کاروبار کی بات آتی ہے، تو ہم گاہک کو دھوکہ دینے میں، ملاوٹ کرنے میں، یا سود لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم منافع کمانے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمارا دوہرا پن سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
یہ دو انسان ہیں! ایک وہ ہے جو اللہ کے سامنے جھکتا ہے، اس سے ڈرتا ہے، اور اس کی رضا کا طالب ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جو دنیا سے ڈرتا ہے، دنیا کی نظروں سے ڈرتا ہے، اور دنیا کی داد و تحسین کا بھوکا ہے۔ جب آپ کا دل، آپ کی روح دو حصوں میں بٹ جائے، تو کیا وہ کبھی اس واحد رب سے جڑ سکتی ہے، جو صرف سچےاور صاف دل کو دیکھتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو وہ دل چاہتا ہے جو ظاہر میں بھی وہی ہو جو باطن میں ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ دوہرا پن اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ہم نے اسے "خاندانی عزت" کا نام دے دیا ہے۔ ہم خاندان کی محفلوں میں، اپنے بڑوں، بہن بھائیوں، اور رشتہ داروں کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ الامان! ہم ان کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، اور ایسی محبت اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ مگر جیسے ہی وہ محفل ختم ہوتی ہے، یا جب ان کی عدم موجودگی ہوتی ہے، تو ہم انہی لوگوں کے عیب بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں، ان کی برائیاں کرتے ہیں، ان کی نیتوں پر شک کرتے ہیں، اور اگر کوئی ان کی تعریف کر رہا ہو تو ہمیں وہ شخص بھی برا لگنے لگتا ہے۔
یہ ہے ہمارا دوہرا پن! ہمارا منہ ایک بات کہتا ہے اور ہمارا دل، ہماری نیت کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہوتی ہے۔ یہ منافقت، یہ اندرونی جھوٹ ہمیں اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔ یہ ہمیں کسی کے ساتھ بھی سچا اور پائیدار تعلق بنانے سے روکتا ہے۔ ہم ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا شخص بھی ہمارے جیسا ہی نقاب پہنے ہوئے ہے۔ اور جب آپ ہر انسان پر شک کرنا شروع کر دیتے ہیں، جب آپ کو ہر چہرہ نقلی نظر آتا ہے، تو آپ کی اپنی روحانی طاقت، آپ کا اپنا سکون، سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ آپ خود کو اکیلا، تنہا اور بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ہم سب روحانی ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تہجد بھی پڑھتے ہیں، ذکر و اذکار بھی کرتے ہیں، اور دوسروں کی مدد کے لیے خیرات بھی دیتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے دل میں وہ سچا سکون، وہ نورانیت، وہ قلبی اطمینان کیوں نہیں آتا جس کی ہمیں تلاش ہے۔ ہم کیوں یوں ہی بے چین اور اداس رہتے ہیں؟
اس کی واحد، اور سب سے بڑی وجہ یہی دوہرا پن ہے!
روحانیت کا اصل مرکز ہمارا دل ہے، ہمارا باطن ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے ظاہری اعمال سے کہیں زیادہ ہماری نیّت اور ہمارے اخلاص کو دیکھتے ہیں۔ آپ کا سجدہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو، آپ کی دعائیں کتنی ہی گہرائی سے کیوں نہ نکل رہی ہوں، اگر ان کے پیچھے کی نیت خالص اللہ کی رضا نہ ہو، تو وہ عمل محض ایک خالی خول کی مانند ہے۔
باہر سے آپ کا سجدہ بہت لمبا، بہت خشوع و خضوع سے بھرا ہوتا ہے۔ آپ کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں۔ مگر اندر آپ کے دل میں یہ خیال چل رہا ہوتا ہے کہ "کاش لوگ مجھے نیک سمجھیں"، یا "میری دُعا قبول ہو جائے تاکہ میرا کاروبار چل پڑے"، یا "میرا نام ہو جائے، لوگ مجھے پہچانیں!" جب آپ کا عمل اللہ کے لیے ہو، مگر آپ کی نیت میں دنیا کا دکھاوا، دنیاوی شہرت، یا کوئی ذاتی غرض شامل ہو جائے، تو آپ کی عبادت، آپ کا عمل ایک بے جان جسم کی طرح رہ جاتا ہے جس میں روح نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری روحانیت ناکام ہو جاتی ہے۔ ہم دنیا میں تو شاید کامیاب ہو جائیں، مگر اللہ کی نگاہ میں ہم اسی دوہرے پن کی بیماری کا شکار رہتے ہیں۔
جو انسان اندر اور باہر سے یکساں نہیں ہوتا، جو نقابوں میں زندگی گزارتا ہے، وہ کبھی بھی سچے، پائیدار سکون کو نہیں پا سکتا۔
جب آپ دو زندگیاں جیتے ہیں، ایک اپنی اصلی، اور دوسری وہ جو آپ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں، تو آپ کی زندگی ایک بہت بڑا بوجھ بن جاتی ہے۔ آپ ہمیشہ تھکے تھکے، پریشان اور گھبرائے ہوئے رہتے ہیں۔ آپ کو مسلسل یہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ آپ نے کس کے سامنے کون سا نقاب پہنا ہے، کس سے کیا کہا ہے، کس سے جھوٹ بولا ہے، اور کس کے سامنے کیا دکھاوا کیا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ، یہ مسلسل سوچ بچار آپ کے دماغ اور دل کو کبھی آرام نہیں کرنے دیتا۔ آپ کی زندگی کسی ناختم ہونے والے، انتہائی سنجیدہ ڈرامے کی طرح بن جاتی ہے، جہاں ہر لمحہ ایک نیا مکالمہ، ایک نیا ردعمل دکھانا پڑتا ہے۔
سب سے بڑی بیماری جو اس دوہرے پن سے پیدا ہوتی ہے، وہ ہے خوفِ رسوائی۔ آپ کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں آپ کا اصلی چہرہ، آپ کا وہ روپ جو آپ دنیا سے چھپاتے ہیں، وہ اچانک لوگوں کے سامنے نہ آ جائے۔ آپ کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں لوگ آپ کو پہچان نہ لیں، کہیں آپ کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ یہ خوف ہی تمام روحانی بیماریوں کی جڑ ہے۔ جو شخص دل میں صرف اللہ کا خوف رکھتا ہے، اسے دنیا کی رسوائی کا ذرا بھی خوف نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کے سامنے سچا، بے باک اور پرسکون رہتا ہے۔ مگر ہم تو دنیا کے خوف سے اپنا اصل اندر چھپاتے پھرتے ہیں، اور اسی خوف میں جیتے ہیں۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب ہم خود اپنے آپ سے سچے نہیں ہوتے، تو ہم اللہ رب العزت سے بھی سچا اور پختہ تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ ہم اللہ کے سامنے دُعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، مگر ہمارا دل، ہماری روح جانتی ہے کہ ہم نے آج بھی کس طرح کسی کو دھوکہ دیا، کس طرح جھوٹ بولا، اور کس طرح غلط نیت سے کوئی کام کیا۔ یہ اندرونی بے ایمانی، یہ دوہرا پن ہماری دعا اور اللہ کے درمیان ایک موٹی، ناقابلِ عبور دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ اللہ ہماری دعائیں سنتا تو ہے، مگر ہماری نیتوں کی خرابی کی وجہ سے وہ ہمارے دلوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔
اس دوہرے پن کے جال سے نکلنا ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے ہمت اور سچائی کی ضرورت ہے۔ یہ سفر کوئی لمبی، دشوار گزار منزل نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک چھوٹا سا، مگر انتہائی اہم قدم ہے جو آپ کو آج ہی، اسی لمحہ اٹھانا ہو گا۔ یہ سفر ہے یکسانیت کا۔ یہ سفر ہے اپنے ظاہر اور باطن کو ایک کرنے کا۔
سب سے پہلا کام جو ہمیں کرنا ہے، وہ ہے خود کو، اپنی حقیقت کو تسلیم کرنا۔ ہمیں یہ ماننا ہے کہ ہم انسان ہیں۔ ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں، ہم سے خامیاں سرزد ہوتی ہیں۔ ہمیں کمال کا، بے عیب ہونے کا دکھاوا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اللہ، جو ہمیں ہماری ماں سے بھی ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے، وہ ہماری کمزوریوں، ہماری مجبوریوں سے واقف ہے۔ ہمیں اسے دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
اپنے آپ سے یہ سچا وعدہ کریں: "میں ہر وقت، ہر لمحہ نیک اور کامل انسان نہیں ہو سکتا۔ میں غلطیاں کرتا ہوں، میں انسان ہوں، مگر میں آج سے نقاب نہیں پہنوں گا۔ میں جو ہوں، وہی دکھاؤں گا۔"
اگر آپ کو غصہ آ رہا ہے، تو اسے چھپانے کی بجائے، اس کا برملا اظہار کریں۔ کہیں کہ "مجھے آج غصہ آ رہا ہے، میں اس وقت خاموش رہنا چاہتا ہوں تاکہ میں غصے میں کوئی غلط بات نہ کر دوں۔"
اگر آپ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے، تو فوراً اور سچائی سے معافی مانگیں۔ یہ سوچ کر شرمندہ نہ ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے! جب آپ اللہ کے سامنے سچے ہو جائیں گے، تو آپ کو لوگوں کا خوف خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اللہ آپ کی سچائی کو دیکھ کر آپ کو قبول کر لے گا، اور پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شرمندہ نہیں کر سکے گی۔
روحانی سفر کا سب سے اہم، سب سے نازک اور سب سے طاقتور سِرہ نیت کی صفائی ہے۔ اپنے ہر کام، ہر عمل، ہر سوچ کے پیچھے کی نیت کو پرکھیں۔ سوال کریں کہ "میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟"
جب آپ کسی کی مدد کر رہے ہوں، تو خود سے پوچھیں کہ کیا آپ کو اس مدد کا بدلہ دنیا میں چاہیے؟ کیا آپ یہ اس لیے کر رہے ہیں تاکہ لوگ آپ کو بڑا، مہان، ہمدرد سمجھیں؟ اگر آپ کا جواب "ہاں" ہے، تو رک جائیں! اس نیت کو اللہ کے لیے خالص کریں۔
جب آپ کوئی عبادت کر رہے ہوں، نماز پڑھ رہے ہوں، ذکر کر رہے ہوں، تو دِل سے یہ عہد کریں کہ "اے اللہ! میں یہ سب صرف اور صرف تیرے لیے کر رہا ہوں۔ مجھے دنیا کی تعریف، دنیا کی شہرت، یا دنیاوی فائدے کی کوئی خواہش نہیں۔"
جب آپ کی نیت صاف اور خالص ہو جاتی ہے، جب وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہوتی ہے، تو آپ کا اندر اور باہر خود بخود یکساں ہو جاتا ہے۔ اس وقت نقاب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ آپ جو ہیں، وہی اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کے دل میں سچا، گہرا سکون اترتا ہے۔ یہی وہ سکون ہے جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ صرف باہر سے اچھے بننے کی کوشش کافی نہیں۔ اصل چیز ہے اندر سے اچھا بننا۔ اپنے دل کو نرم بنائیں، اسے خوبصورت بنائیں۔ دوسروں کے لیے محبت، معافی اور ہمدردی پیدا کریں۔
جس انسان نے آپ کو تکلیف دی ہے، جس نے آپ کا دل دکھایا ہے، اُسے صرف زبان سے معاف نہ کریں، بلکہ دِل سے اُس کے لیے تمام کدورتیں، تمام بوجھ اتار پھینکیں۔
حسد، بغض، کینہ اور نفرت کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں۔ کیونکہ یہ وہ اندھیرا ہے جو آپ کے اندر کی روشنی کو، آپ کی روح کی خوبصورتی کو ختم کر دیتا ہے۔
جب آپ کا دل نرم، صاف اور خوبصورت ہو جائے گا، تو آپ کو باہر سے سخت بننے، یا جھوٹا دکھاوا کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ آپ کا سچا، خوبصورت اخلاق خود بخود آپ کی زبان سے، آپ کے عمل سے، اور آپ کے چہرے سے جھلکے گا۔ اور یہی ہے روحانیت کا سچا انعام، یہی ہے وہ سکون جس کی ہم سب کو تلاش ہے۔
میں آج آپ سب سے ایک چھوٹا سا، مگر بہت اہم وعدہ چاہتا ہوں کہ ہم سب مل کر، آج سے ہی، اس دوہرے پن کو، اس نقاب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ ہم اپنے اندر کے سچے، مگر شاید نامکمل انسان کو باہر آنے کی ہمت دیں گے۔ ہم وہ بنیں گے جو ہم واقعی ہیں، نہ کہ وہ جو دنیا ہمیں بنانا چاہتی ہے۔
یاد رکھیں! ہماری زندگی کا سب سے بڑا، سب سے اہم مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس دکھاوے کی دنیا میں، اس نقلی معاشرے میں، اصلی اور سچے رہیں۔ آپ کی نماز، آپ کا ذکر، آپ کا سجدہ، آپ کی ہر عبادت تبھی قیمتی اور اللہ کے نزدیک قابلِ قبول بنے گی جب آپ کا باطن، آپ کے ظاہر کے مطابق ہو گا۔ جب آپ کی نیت اور آپ کا عمل ایک ہو گا۔
میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو یہ عظیم ہمت، یہ سچائی کا جذبہ، اور یہ یکسانیت کی طاقت عطا فرمائے کہ ہم اپنے اندر اور باہر کو ایک کر سکیں۔ تاکہ ہم اس دنیا میں بھی سچا، پائیدار سکون پائیں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔ یہی ہے روحانیت کا وہ سچا سفر جس کی منزل صرف سکون ہے، ابدی سکون۔
Jazak Allah*
جواب دیںحذف کریںThank you sir g fro writing about spirituality ☺️
جواب دیںحذف کریںIt's a super topic for writing and making others understand about spirituality.
A two face person never becomes happy he always try to make happy other that I am good from all and spend the whole life fake.
A person should make himself comfortable when we are comfortable innerly we feel peaceful and it's the greatest blessing of Allah Almighty.
We should try to make happy Allah Almighty by helping others not try to make happy people if Allah Almighty is happy from us,so we are super lucky person
It happens when we do works for Allah Almighty blessings not for making people happy.
بہت خوب انتخاب کیا ہے آ پ نے اور یہ سچ ہے کہ دکھاوا بہت ہو چکا ہے ہمارے ہاں اور ہم لوگ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ اللہ تو دلوں کے بھید اور نیت خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارا اندر باہر ایک جیسا ہو جائے آ مین
جواب دیںحذف کریںReally same like this happening in our society
جواب دیںحذف کریںShowofff even in everything
When a person consider that Allah is seeing us in every situation then everything is end
Sometimes a person who's offering prayer and see that a person looking at me then he or she long their prostrate for showing that we offer prayer with our heart
May Allah do clean the hearts of everyone
And my super sweet sir May Allah gives you health wealth and strength for making more articles like this for us thank you so much