روحانیت کا سفر 15
روحانیت کا سفر 15
کالم از: سر جاوید بشیر
میں آج اپنے دل کی سب سے گہری بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ بات ہے جو میں نے برسوں کی خاموشی میں، سجدوں میں، راتوں کی تنہائی میں اور اپنے اندر کے شور میں سنی ہے۔ یہ بات کسی کتاب کا حوالہ نہیں، کسی فلسفی کا قول نہیں، بلکہ میری اپنی روح کی پکار ہے۔ وہ پکار جو اکثر ہم سب کے اندر کسی کونے میں سسکتی رہتی ہے مگر ہم سننے سے کتراتے ہیں۔ وہ پکار ہے
مجھے کیوں نہیں ملا؟
یہ جملہ اکثر زبان پر نہیں آتا مگر دل میں بار بار گونجتا رہتا ہے۔ جب کسی کو نئی نوکری ملتی ہے، جب کسی کے گھر خوشی کی روشنی اترتی ہے، جب کسی کی زندگی میں آسائش آتی ہے تو ہمارا دل بھی ساتھ خوش ہونے کے بجائے عجیب سی اداسی میں ڈوب جاتا ہے۔ دل کے کسی کونے سے آواز آتی ہے کہ اس کے نصیب میں یہ سب کیوں آیا اور میرے حصے میں کیوں نہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان کا روحانی راستہ یا تو روشن ہوتا ہے یا تاریک۔
یہ شکایت صرف الفاظ نہیں، یہ دل کی بیماری ہے۔ یہ بیمار سوچ انسان کو اپنے رب سے دور لے جاتی ہے۔ جب انسان یہ کہتا ہے کہ مجھے کیوں نہیں ملا تو وہ اصل میں شکوہ کر رہا ہوتا ہے، اور شکوہ کرنے والا دل کبھی سکون نہیں پا سکتا۔ سکون صرف اس دل کو ملتا ہے جو راضی ہو، جو شکر گزار ہو، جو یقین رکھتا ہو۔
روحانیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر انسان کا رزق، اس کی آزمائش اور اس کی نعمت اس کے لیے خاص لکھی گئی ہے۔ کسی کو دولت دے کر آزمایا جاتا ہے، کسی کو تنگی دے کر۔ اصل کامیابی دولت میں نہیں بلکہ صبر اور شکر میں ہے۔ جو انسان دوسروں کی خوشی دیکھ کر دل سے دعا دے، وہی اصل امیر ہوتا ہے۔
پاکستانی معاشرہ موازنے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے کی زندگی سے خود کی قیمت لگاتا ہے۔ محلے میں کسی کا بیٹا باہر چلا جائے تو دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اپنا کیوں نہ جا سکا۔ کسی کے گھر شادی کی خوشی ہو تو سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ہمارے مقدر میں کیوں رکاوٹیں ہیں۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ دل کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
روحانیت کہتی ہے کہ دکھی وہ نہیں جس کے پاس کم ہے، دکھی وہ ہے جو دل کا قناعت والا دروازہ بند رکھتا ہے۔ جب انسان ہر چیز کو موازنہ کے پیمانے سے تولنے لگے تو پھر خوشی بھی زہر بن جاتی ہے۔ دوسروں کی مسکراہٹ بھی بوجھ لگنے لگتی ہے۔
یہی سے انسان کو خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سوال بدلنا ہوگا۔ مجھے کیوں نہیں ملا کے بجائے یہ کہنا سیکھنا ہوگا کہ جو ملا وہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ جو نہیں ملا اس میں بھی کوئی حکمت ضرور ہے۔
اللہ کا نظام بہت گہرا ہے۔ وہ صرف دیتا نہیں، بچاتا بھی ہے۔ کئی بار وہ چیز انسان کو نہیں دی جاتی جس کے پیچھے تکلیف چھپی ہوتی ہے۔ کئی بار تاخیر دراصل رحمت ہوتی ہے۔ انسان جلدی میں ہوتا ہے مگر رب کا فیصلہ ہمیشہ وقت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
روحانیت کا راستہ یہ ہے کہ دل کو حسد سے پاک کیا جائے۔ حسد وہ زہر ہے جو ایمان کی روشنی کو دھندلا دیتا ہے۔ جو دل حسد سے خالی ہو وہی دل سکون کا گھر بنتا ہے۔ جب کسی کے نصیب پر خوشی ظاہر کی جاتی ہے تو دل بھی ہلکا ہو جاتا ہے، روح بھی پرسکون ہو جاتی ہے۔
جو شخص دل سے کہتا ہے کہ اللہ آپ کو اور دے، اللہ آپ کی خوشی کو سلامت رکھے، دراصل وہ اپنے لیے بھی دروازے کھول رہا ہوتا ہے۔ یہ کائنات کا اصول ہے۔ جو خوشی بانٹتا ہے وہ خوشی پاتا ہے۔ جو دعا دیتا ہے وہ دعا سمیٹتا ہے۔
روحانیت کا اصل سبق یہی ہے کہ دل کی زمین کو صاف رکھا جائے۔ شکایت کے کانٹے نکالے جائیں۔ شکر کے پھول اگائے جائیں۔ جب دل شکر سے بھر جاتا ہے تو آنکھوں میں روشنی آ جاتی ہے۔ پھر انسان کو اپنی زندگی کم نہیں لگتی بلکہ نعمتوں سے بھری لگتی ہے۔
آپ کے پاس جو ہے وہ کسی اور کا خواب ہو سکتا ہے۔ آپ کی سانس کسی کی حسرت ہو سکتی ہے۔ آپ کی چھت کسی کی دعا ہو سکتی ہے۔ یہ سب سوچ کر دل نرم ہو جاتا ہے۔
سکون کا راستہ دولت میں نہیں، رتبے میں نہیں، لوگوں کی واہ واہ میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ جو کچھ ہے وہ رب کی دین ہے اور جو نہیں ہے وہ بھی اسی کی مصلحت ہے۔
جب انسان دوسروں کی خوشی میں سچے دل سے خوش ہوتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کو روشنی سے بھر دیتا ہے۔ یہی روشنی روح کو طاقت دیتی ہے۔ یہی طاقت انسان کو شکر گزار بناتی ہے۔
یہ سفر آسان نہیں مگر ممکن ضرور ہے۔ اس سفر میں خاموشی بھی لگتی ہے، آنسو بھی بہتے ہیں، مگر آخرکار دل کو سکون نصیب ہو جاتا ہے۔
جس دن دل یہ بات مان لیتا ہے کہ رب کا ہر فیصلہ بہتر ہے، اسی دن روح کی زنجیریں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اسی دن شکایت دم توڑنے لگتی ہے اور شکر جنم لینے لگتا ہے۔
روحانیت کی یہی اصل ہے کہ انسان اپنے دل کو حسد کے کانٹوں سے بچا کر محبت کے پھولوں سے بھر دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں روح سکون پاتی ہے اور زندگی بوجھ کے بجائے نعمت بن جاتی ہے۔
جب دل دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھ لیتا ہے تو وہ شکایت کی قبر پر سکون کی چادر ڈال دیتا ہے۔ پھر اندر ایک خاموش دعا جنم لیتی ہے کہ یا اللہ جو تو نے دیا ہے اس پر شکر اور جو نہیں دیا اس پر صبر عطا فرما۔
یہی وہ دعا ہے جو انسان کو حقیقی روحانیت کے راستے پر لے جاتی ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آنکھوں کو نم اور دل کو نرم کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان دنیا کی دوڑ سے نکل کر سکون کے راستے پر چل پڑتا ہے۔
شکایت چھوڑ دی جائے تو سکون خود راستہ بنا لیتا ہے۔ حسد سے کنارہ کر لیا جائے تو محبت خود گھر بنا لیتی ہے۔ یقین کے چراغ جل جائیں تو اندھیرا خود ختم ہو جاتا ہے۔
یہی روحانیت کا سفر ہے۔ یہی اصل زندگی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل راضی ہو جاتا ہے اور روح آزاد ہو جاتی ہے۔
Jazak Allah*
جواب دیںحذف کریںIn short kuch log hasad karna start kr dety ha or Allah ka shukr ada nai krty jo mila ha
جواب دیںحذف کریںOlta hasad kar k jal kr apna sb b gawa lety ha or Allah ko b naraz karty ha