وہ ستارہ جو اندھیروں میں چمکا: عاصمہ کی لازوال کہانی

  وہ ستارہ جو اندھیروں میں چمکا: عاصمہ کی لازوال کہانی


کالم از: سر جاوید بشیر


 شاعر مشرق، علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا، "وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ..." شاعر مشرق، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ مصرعہ، عورت کے مقام کو صرف بیان نہیں کرتا بلکہ اسے کائنات کی مرکزی قوت قرار دیتا ہے۔

اقبال نے فرمایا کہ:

خالق نے کائنات کو وجود بخشا، مگر اس میں اصل خوبصورتی، رونق اور توازن عورت کے دم سے آیا۔ وہ محض تخلیق کا ایک حصہ نہیں، بلکہ زندگی کے ہر رنگ کی اصل ہے۔ اگر عورت کو کائنات سے ہٹا دیا جائے تو یہ دنیا ایک بے رنگ، بے جان اور ادھوری تصویر بن کر رہ جائے۔ اس لیے، عورت کو زندگی کا بنیادی ستون اور مرد کی ترقی کا اولین زینہ ماننا ہی اس کی اصل عظمت ہے۔

 مگر کیا ہم یہ عظمت صرف شاعری کے لیے رکھتے ہیں؟ کیا ہم اس بات کو دِل سے سمجھتے ہیں؟ وہ بہن ہے، بیٹی ہے، بیوی ہے، اور سب سے بڑھ کر، وہ ماں ہے۔ خدا کے بعد، کائنات میں سب سے مقدس رشتہ!

لیکن ہم مرد... ! ہم تو زندگی کو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح دیکھتے ہیں: مرد اور عورت۔ مگر مجال ہے کہ ہم نے دوسرے پہیے کو کبھی پیار یا عزت کی ہوا دی ہو؟ نہیں! ہم نے ہمیشہ اسے پنکچر ہی پایا۔ ہمیشہ اسے دبائے رکھا اور اسے غلامی کی زنجیر میں جکڑے رکھا۔


تو پھر، سلام ہے! میری طرف سے سو سلام ہے ان خواتین کو، جو اس مردانہ معاشرے کی سخت زمین پر جینے کا ہنر سیکھ لیتی ہیں۔ جو اس دنیا کے میدان میں مقابلہ کرنا جان لیتی ہیں۔ جو طوفانوں کا سامنا کر کے بھی مسکرانا سیکھ لیتی ہیں۔


آج میں آپ کے سامنے ان خواتین کی زندگی کے وہ چمکتے لمحے لا رہا ہوں، جو دوسری خواتین کے لیے روشنی بن سکتی ہے۔ یہ خواتین ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں، جنہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے، زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سیکھا۔ جنہوں نے تمام تر کمزوریوں اور مردانہ رکاوٹوں کے باوجود یہ ثابت کیا کہ اگر عورت چاہے، تو وہ اس معاشرے میں بھی اپنا حقیقی مقام اور مرتبہ حاصل کر سکتی ہے۔ یہ خواتین ہماری قوم کی پیشانی کا جھومر ہیں، ان کی کہانیاں ہمارے ارد گرد امید کی کرنوں کی طرح بکھری ہوئی ہیں۔


آئیے، آج اس دھرتی کی ایک بیٹی کی کہانی سنتے ہیں۔ ایک ایسی بیٹی جس کے آنے پر پورے گھر میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ وہ لاہور کے ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی، جہاں پہلے سے ایک بڑی بیٹی اور ایک بیٹا موجود تھا۔ مگر اس ننھی پری کے آنے پر ایسی خوشیاں منائی گئیں، جیسے کوئی بیٹا پیدا ہوا ہو۔ مٹھائی تقسیم کی گئی، لوگ حیران تھے کہ آخر اس بچی کے لیے اتنی خوشی کیوں؟ اس ننھی جان کا نام عاصمہ رکھا گیا۔ یہ بیٹی جلد ہی سب کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ باپ کی لاڈلی، اور ماں کی آنکھوں کا نور۔ باپ نے اسے بیٹے کی طرح پالا، اور اس لاڈلی نے جلد ہی ایک اچھے طالب علم کی صورت اختیار کر لی۔ وہ بلا کی ذہین اور معاملہ فہم تھی۔ ہر وقت مسکراتا ہوا چہرہ، ماں باپ کے لیے جینے کی وجہ۔ مگر کسے معلوم تھا، یہ مسکراتا چہرہ کیسے کیسے غم برداشت کرے گا؟


عاصمہ نے والدین کے گھر رہتے ہوئے اپنی گریجویشن مکمل کی۔ اور جیسا کہ ہمارے معاشرے کا رواج ہے، شادی کے لیے سوچا جانے لگا۔ اس کی بڑی بہن اور بھائی کی پہلے ہی شادیاں ہو چکی تھیں۔ والدین کو گھر کے قریب ایک رشتہ معلوم ہوا۔ لڑکے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پڑھا لکھا اور ذمہ دار ہے۔ اور بھی بہت کچھ بتایا گیا جس سے والدین مطمئن ہو گئے۔ مگر انہوں نے تحقیق نہیں کی۔ یہاں میں تمام والدین کو کہوں گا کہ خدا کا واسطہ، اپنی بیٹی کو بیاہنے میں اتنی جلدی مت کیا کریں، خوب تحقیق کر لیا کریں۔ اکثر دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔


قصہ مختصر، عاصمہ نئے گھر، نئی دنیا میں آ گئی۔ جیسے ہر لڑکی ہزاروں خواب آنکھوں میں سجا کر آتی ہے۔ مگر جلد ہی اس کے سارے خواب جھوٹے ثابت ہوئے۔ شوہر کی تعلیم اور دیگر باتیں سب جھوٹ ثابت ہوئیں۔ سچ کہتے ہیں، سب سے لاڈلے کے ہی سب سے زیادہ امتحان ہوتے ہیں۔ مگر عاصمہ نے اچانک ایک فیصلہ کیا۔ اس نے سب کچھ اپنے تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے ماں باپ کو دکھ نہ دینے کا فیصلہ کیا، اور حالات کے سامنے ڈٹ گئی۔

شادی کو ابھی کچھ ہی موسم نصیب ہوئے تھے کہ قسمت کی آندھی چلی، اور شوہر شدید بیماری میں گرفتار ہو گئے۔ بیماری لمبی، بہت لمبی ہو گئی۔ مگر عاصمہ نے میکے کی طرف مُنہ نہیں کیا۔ اس نے ماں باپ کا سہارا ڈھونڈنے کے بجائے، خود حالات کے سامنے سینہ تاننے کی ٹھان لی۔

مگراب! اس کے سینے میں ایک ایسا زخم لگا جو شاید کبھی نہیں بھرے گا، وہ باپ کی موت کی خبرتھی! وہی شفیق باپ، جس کی ایک مسکراہٹ اس کا سارا خوف دھو دیتی تھی۔ وہ باپ، جو اس دنیا کے لق و دق صحرا میں اس کے لیے ٹھنڈا نخلستان تھا، اب ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔

عاصمہ کا دل زور زور سے چیخ رہا تھا، لیکن اسے معلوم تھا کہ اس صدمے کو اب اسے اکیلے جھیلنا ہو گا، اور اسی بوجھ کے ساتھ جینا ہو گا! وہ باپ، جس کے پیار بھرے سائے میں اس نے زندگی کے سارے سکھ دیکھے تھے، اب اس کے ساتھ نہیں تھا۔ مگر یہ ظالم زندگی کیسی تھی، کہ اب اسے اُس سائبان کے بغیر ہی یہ طویل سفر گزارنا تھا۔

مگر وہ اُٹھی! اپنے آنسو پونچھ کر! کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!


اس نے نوکری کی تلاش شروع کی، اور جلد ہی اسے اسٹیٹ لائف انشورنس میں کام مل گیا۔ وہ ہمت کی پکی تھی۔ بات کرنے کا ڈھنگ جلد ہی سیکھ گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ کامیابی صرف محنت کی زبان سمجھتی ہے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی کو نہ صرف بہت سا منافع دینے لگی، بلکہ اپنے شوہر کا بازو بھی بن گئی۔ اسی کی حوصلہ افزائی اور مالی مدد سے، اس کے شوہر نے اپنا کاروبار شروع کیا تاکہ دونوں مل کر زندگی کو آگے لے جا سکیں۔

اسی دوران، اللہ رب العزت نے اس کی جھولی میں چار خوبصورت بیٹیاں ڈالیں۔ اس نے ہر بار اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ایک نیا گھر خریدا جس میں زندگی کی تمام ضروریات تھیں۔ اس سفر میں وہ شدید بیمار بھی ہوئی، تھکی بھی، اور اسے شوہر کی طرف سے بھی وہ خاص مدد حاصل نہ ہو سکی جس کی وہ حقدار تھی۔ مگر عاصمہ نے ہمت نہیں ہاری! کہتے ہیں ناں، جو اپنی مدد آپ کرتا ہے، خدا بھی صرف اُسی کی مدد کرتا ہے۔

اس کی زندگی کا سب سے عظیم فیصلہ یہ تھا کہ اس نے اپنی بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا! وہ جانتی تھی کہ زندگی میں جو کچھ اس نے محنت سے حاصل کیا ہے، وہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہوا ہے! جب شوہر اکثر انہیں گھر بٹھانے یا تعلیم کو کم کرنے کا کہتے، تو وہ ایک ڈھال بن کر اپنی بیٹیوں کے سامنے ڈٹ جاتی۔

آج بھی اس کا سفر جاری ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور گہرا سکون رہتا ہے، جیسے وہ جینے کا سب سے بڑا راز جان گئی ہو۔ یہ راز صرف حوصلے، اپنی ذات پر یقین، اور تعلیم کے چراغ کا ہے!

عاصمہ جیسی خواتین ہمارے معاشرے کا وہ روشن ستارہ ہیں، جو اندھیرے میں بھی ہزاروں راستے دکھاتی ہیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ حالات چاہے جتنے بھی مشکل ہوں، کبھی ہمت نہ ہاریں۔

یہ صرف عاصمہ کی کہانی نہیں، یہ ان ہزاروں، لاکھوں خواتین کی کہانی ہے جو خاموشی سے اپنے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جو اپنی تقدیر خود لکھ رہی ہیں۔ یہ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عورت کمزور نہیں، وہ تو وہ سمندر ہے جس میں بے شمار طوفان چھپے ہوتے ہیں۔ جب وہ فیصلہ کر لیتی ہے، تو پھر کوئی اسے روک نہیں سکتا۔


آپ، جو یہ پڑھ رہے ہیں، کبھی ان خواتین کی طرف دیکھیے گا۔ ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیے گا۔ آپ کو وہاں ہمت، حوصلہ، اور زندگی سے لڑنے کا جذبہ نظر آئے گا۔ اور اگر آپ مرد ہیں، تو شاید آپ کو اندازہ ہو کہ ہم نے ان کی ہمت کو کبھی سراہا ہی نہیں۔ ہم نے انہیں صرف سہارا بننے کا کہا، مگر خود ان کا سہارا کبھی نہ بنے۔


یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی، یہ سفر جاری رہے گا! یہ زندگی کا وہ خوبصورت سلسلہ ہے جو سانس کے ٹوٹنے تک چلتا ہے۔ میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ آپ تک ہمت، استقامت اور سچی اُمید کی ایسی مزید روشن کہانیاں پہنچاتا رہوں گا، جو آپ کے بجھتے ہوئے دِل میں بھی جینے کا ایک نیا اور ابدی حوصلہ بھر دیں۔

یہ کہانیاں محض لفظ نہیں، یہ آپ کی روح کو چمکانے کا سامان ہیں۔ یہ ہمیں ایک گہرا اور انمول راز سکھاتی ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی، مشکلات سے بھاگنے میں نہیں، بلکہ اپنے ایمان اور مسکراہٹ کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرنے میں ہے۔ یہی اصل زندگی کی طاقت ہے!

اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عورت جب ایک بار اپنے دل میں عزم کر لے، تو وہ صرف گھر یا خاندان نہیں، بلکہ وہ پوری کائنات کو اپنے ہمت اور کردار سے بدل سکتی ہے! اُسے کسی سند کی ضرورت نہیں، بس اسے اپنے اندر چھپے ہوئے یقین کو آواز دینے کی دیر ہے۔

اُٹھیں! ایک گہرا سانس لیں، اور خود سے یہ عہد کریں کہ اب کوئی بے چینی نہیں! کوئی گھبراہٹ نہیں! آپ کی حقیقی ہمت اور آپ کا سکون ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اپنے آنسوؤں کو پونچھیں، اپنے صبر پر فخر کریں، اور یقین رکھیں!

آپ کا پرسکون دِل ہی وہ منزل ہے، جسے پانے کے لیے 

یہ ساری محنت کی جا رہی ہے!




تبصرے

  1. بہت خوب صورت تحریر ، بے شک اللہ تعالٰی نے عورت کو مرد کی نسبت برداشت کرنے کی طاقت زیادہ دی ہے لیکن پھر بھی عورت فطری طور پر نازک ہی ہوتی ہے حالات اور ماشعرے کی سختی برداشت کرتے کرتے عورت کے اپنے شوق خواہشات اور جذبات سب ختم ہو جا تے ہیں پھر بھی بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی عورت کی ہمت کے معترف ہوتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ تعالیٰ سر جاوید کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اپنے قلم کو عورتوں کے حق میں استعمال کیا امید ہے کہ آ گے بھی وہ ایسے موضوع پر لکھتے رہیں گے

    جواب دیںحذف کریں
  3. I'm inspired by this woman whose fought with the family relatives for herself and for her daughters
    Indeed daughters are the greatest blessing of Allah Almighty
    And how she supported to her husband and did job for her family
    This story gives us lesson of patience and never lose heart because Allah Almighty never gives us this trial which we can't bear may Allah Almighty give us courage to support ourselves and others ✨

    جواب دیںحذف کریں
  4. ماشااللہ جاوید صاحب عورت کی عظمت پر آپ کے الفاظ قابل ستائش ہیں اللہ تعالی آپ کے قلم میں مذید طاقت عطا فرماۓ
    ہمارے ارد گرد ایسی خواتین ہیں جو معاشرے میں بے مثال ہیں عورت جب حالات کا مقابلہ کرتی ہے تو بڑے سے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑ دیتی ہے عورت کی ہمت لازوال عورت کی محبت لازوال عورت کا صبر لازوال عورت اگر ماں ہے تو گر جنت بیٹی ہے تو رحمت بیویہے تو محبت عورت کے وجود کے بغر کچھ بھی نہیں جاوید صاحب معزرت کے ساتھ میری اپنی بھابھی جس کے سامنے موت کھڑی ہے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہ رہی ہی تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ باقی حالات میں کیا حال ہو گا
    میں اس کی بےخوف آنکھیں کبھی نہیں بھول سکتا پر امید مایوسی کا نام و نشان تک نہیں بہرحال عورت کی عظمت کو سلام
    اللہ رب العزت آپ کو جزاۓ خیر عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  5. Wow suxh a nice lesson you gave us first patience 2nd trust on yourself 3rd not giveup
    And first we set our mind that a girl a woman can do anything by the help of Allah and strong mindset

    When a person set their mind and start work on it then never body distract him or her

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein