Spoon-feeding
کالم از: سر جاوید بشیر
آج میں ایک ایسا زہر آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں، جو شہد کے پیالے میں گھلا ہوا ہے۔ ایک ایسا زہر جسے ہم “محبت” کا نام دیتے ہیں، مگر دراصل یہ وہ محبت ہے جو ہماری نسل کے ہاتھ پاؤں باندھ رہی ہے، ان کے دماغ کو قفل لگا رہی ہے، اور ان کے دلوں سے ہمت چھین رہی ہے۔
جی ہاں، وہی محبت جو ماں کے دوپٹے میں لپٹی ہوتی ہے، باپ کے فقرے “بیٹا تم فکر نہ کرو، سب میں سنبھال لوں گا” میں چھپی ہوتی ہے۔
یہ وہ محبت ہے جو ہمارے گھروں کو ظاہری سکون دیتی ہے مگر ہماری اولاد کو اندر سے مفلوج کر رہی ہے۔
میں اسے “Spoon-feeding” یعنی محبت کے نام پر اپاہج کرنا، کہتا ہوں۔
میں نے دانستہ طور پر انگریزی کے اس لفظ "Spoon-feeding" کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ یہ لفظ اس پوری تصویر کو لمحوں میں ہمارے سامنے کھینچ دیتا ہے۔
یہ وہ طرزِ محبت ہے جس نے ہمارے گھروں میں شہزادے پیدا کیے، مگر مرد نہیں۔
شہزادیاں پیدا کیں، مگر خوددار عورتیں نہیں۔
یہ کہانی کسی اور کی نہیں، ہماری اپنی نسل کی ہے وہ نسل جو موبائل کے نوٹیفکیشن پر جاگتی ہے اور حقیقت کے تھپڑ سے کانپ جاتی ہے۔
یاد ہے نا وہ جملہ جو ہم اکثر فخر سے کہتے ہیں؟
“میں اپنے بچے کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔”
سننے میں کتنا خوبصورت لگتا ہے نا؟
لیکن یہی جملہ ہماری نسل کے لیے زہر بن گیا ہے۔
والدین یہ سمجھتے ہیں کہ محبت کا مطلب بچانا ہے۔
حالانکہ محبت کا اصل مطلب ہے تیار کرنا۔
یہ “سہولتوں” والی محبت دراصل ہمارے ماضی کے دکھوں کا علاج بن کر نہیں آئی، بلکہ نئے زخم دینے لگی ہے۔
ہم نے خود سے کہا، “ہم نے بھوک دیکھی ہے، ہمارا بچہ نہیں دیکھے گا۔”
پھر ہم نے ان کے سامنے ہر رکاوٹ ہٹا دی۔
راستے ہموار کیے، دھوپ روکی، سایہ بڑھایا، مگر بھول گئے کہ درخت صرف دھوپ میں جڑ پکڑتا ہے۔
مگر ہم ایک کائناتی سچائی بھول گئے!
کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ قدرت کا قانون کتنا ظالم مگر ایماندار ہوتا ہے؟
جب ایک نئی کونپل پھوٹتی ہے، تو فطرت اُسے تیز ہواؤں، تپتی دھوپ، اور سخت زمین سے گزارتی ہے۔ یہ سختی کیوں ہے؟ تاکہ کونپل کی جڑیں گہرائی تک مضبوط ہو جائیں، اور وہ آنے والے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بن جائے۔ درخت صرف دھوپ میں جڑ پکڑتا ہے!
ذرا تتلی کے بچے (لاروا) کو دیکھیے! جب وہ کوکون (Cocoon) کے سخت خول سے باہر نکلنے کے لیے جان توڑ کوشش کرتا ہے، تو یہی جدوجہد اس کے پروں میں اُڑان کی اصل طاقت بھرتی ہے۔ اگر کوئی مہربان ہاتھ آ کر اس کا خول کاٹ دے، تو وہ تتلی کبھی اُڑ نہیں پائے گی، وہ ساری عمر زمین پر رینگتی رہے گی!
اور ہم نے کیا کیا؟
ہم نے اپنے بچوں سے زندگی کی دھوپ چھین لی! ہم نے ان کے خول خود ہی کاٹ دیے! ہم نے اپنے بچوں کو طاقت کے بیج کے بجائے، نازک پھول بنا دیا اور اب حیران ہیں کہ ہوا کا ایک جھونکا بھی انہیں کیوں گرا دیتا ہے!
یاد رکھیں! محبت کا مطلب ہمیشہ بچانا نہیں ہوتا کبھی کبھی، محبت کا مطلب ہوتا ہے پیچھے ہٹ جانا اور اولاد کو فطرت کی سخت مگر دیانت دار تربیت کے لیے چھوڑ دینا!
ہم نے بچوں سے زندگی کی دھوپ چھین لی،
اور سمجھ بیٹھے کہ ہم نے ان کے لیے زندگی آسان بنا دی۔
واہ، کیا محبت ہے!
ایسی محبت جو سکھانے کے بجائے کمال مہارت سے لولے پن کی تربیت دیتی ہے۔
پھر ہم نے اس زہر میں “مقابلے کا مصالحہ” ڈال دیا۔
“میرا بچہ سب سے اچھا ہو!”
ایسی خواہشیں جنہوں نے ہمارے گھروں کو محل تو بنا دیا، مگر ان محلوں میں رہنے والے بچوں کو نہ ہاتھوں کی طاقت دی، نہ عقل کی حرارت۔
ہمارے بچے اب “میں یہ نہیں کر سکتا” کہہ کر بچ جاتے ہیں، کیونکہ گھر میں تو ہر کام کوئی اور کر دیتا ہے۔
گلاس بھی کوئی دے دیتا ہے، کپڑے بھی کوئی نکال دیتا ہے، فیصلے بھی کوئی اور کر دیتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارا بیٹا تیس سال کا ہو کر بھی بچہ کیوں ہے؟
بیٹی شادی کے بعد ہر بات میں ماں کو فون کیوں کرتی ہے؟
بھئی کیوں نہ کرے؟
اسے تو کبھی خود فیصلہ کرنے ہی نہیں دیا گیا۔
یہی وہ سپون فیڈنگ ہے، جہاں محبت کے نام پر اختیار چھین لیا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں ہمارے تعلیمی نظام کی طرف۔
وہاں تو سپون فیڈنگ نے باقاعدہ تخت جمایا ہوا ہے۔
بچے کا ہوم ورک ماں کر رہی ہے، پراجیکٹ باپ تیار کر رہا ہے، اور بچہ؟ وہ "گڈ مارننگ" کے کارڈ پر اسٹار اسٹکر لگا رہا ہے۔
یہ ہے ہماری تعلیمی تربیت! ایک ایسی تربیت، جس نے ہماری اگلی نسل کو سوچنے کی آزادی ہی نہیں دی!
ہم نے بچوں کو ذہین بنانے کے بجائے، انہیں آرام طلب بنا دیا۔ ہم نے بچوں کو خود سے کھانا سکھانے کے بجائے، ہر وقت ان کا منہ زبردستی چمچے سے بھر دیا!
یعنی، بچے کے سامنے جب کوئی مشکل سوال یا مسئلہ آیا، تو ہم نے اسے خود سوچنے کا ٹائم ہی نہیں دیا! ہم فوراً بچاؤ کے لیے بھاگے،
سوال کرنے سے پہلے ہی، ہم نے جواب لکھ کر دے دیا!
پراجیکٹ خود بنا دیا!
مشکل حل خود نکال دیا!
نتیجہ؟
جب زندگی نے واقعی کوئی بڑا امتحان لیا، کوئی مشکل وقت آیا، تو بچے کے پاس صرف ایک عادت باقی بچی، "امی! یہ کیسے ہوتا ہے؟ مجھے یہ کرنا نہیں آتا!"
یہ جملہ دراصل ان کے بند ہوئے دماغ سے نکلتا ہے، جو خود سے جدوجہد کرنا بھول چکا ہے! ہمارا یہ عمل ان کی مسئلہ حل کرنے کی ساری صلاحیت ختم کر چکا ہے۔
مجھے کہنے دیجیے، جس دن آپ نے اپنے بچے کا ہوم ورک خود کیا، اسی دن آپ نے اس کے دماغ پر “Off” کا بٹن دبا دیا۔
پھر آتی ہے کیریئر کی سپون فیڈنگ۔
والدین کا خواب، “بیٹا انجینئر بنے گا، بیٹی ڈاکٹر بنے گی۔”
بچے کی مرضی؟
“بیٹا! تمہیں کیا پتہ تمہارے لیے کیا بہتر ہے!”
ارے واہ!
محبت کے نام پر اختیار کی لاش بھی دفنا دی گئی۔
نتیجہ؟
ایک انجینئر جو کیلکولیٹر سے نفرت کرتا ہے،
ایک ڈاکٹر جو مریض سے گھبراتا ہے،
اور ایک والدین جو خود سے فخر سے کہتے ہیں:
“دیکھو! ہمارا بچہ سیٹل ہو گیا!”
سیٹل؟
نہیں صاحب!
وہ تو صرف بیہوش ہو گیا ہے۔
زندہ مگر بے مقصد، تعلیم یافتہ مگر بے جان۔
پھر سب سے خطرناک زہر، جذباتی سپون فیڈنگ۔
ہمارے بچوں کے دل اتنے نازک کر دیے گئے ہیں
کہ وہ اب شکست کو برداشت نہیں کر پاتے۔
ہم نے اپنے بچوں کے دلوں کو مضبوط بنانے کے بجائے، انہیں شیشے کے برتن کی طرح نازک بنا دیا ہے! وہ برتن، جو چھوٹی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کر پاتا اور بکھر جاتا ہے۔
یہ ہے وہ محبت، جو ہماری نسل کو جذباتی طور پر مفلوج کر چکی ہے!
یہی وجہ ہے کہ وہ اب شکست کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔
ذرا سا نمبر کم آئے تو وہ گہرے ڈپریشن کی دلدل میں اتر جاتے ہیں!
نوکری نہ ملے، یا کاروبار میں نقصان ہو جائے تو انہیں دنیا کا خاتمہ نظر آتا ہے!
ایک رشتہ ٹوٹے تو وہ خودکشی کی تاریک راہ پر چل پڑتے ہیں!
کیوں؟ آخر کیوں؟
کیونکہ ہم نے انہیں دکھ اور تکلیف برداشت کرنا نہیں سکھایا! ہم نے ہر زخم پر پٹی باندھ دی، ہر آنسو پونچھ دیا، اور یہ بھول گئے کہ کچھ آنسو، کچھ ہار، اور کچھ درد دل کو فولاد بناتے ہیں!
محبت کا اصل امتحان تو یہ تھا کہ ہم انہیں یہ تلخ سچائی سکھاتے کہ زندگی ہر وقت منصف نہیں ہوتی! یہ آپ کو بغیر قصور کے ہار دے گی، اور آپ کو گرنا پڑے گا!
مگر ہم نے انہیں اُلٹا سبق دیا: "تم کبھی غلط نہیں ہو! قصور ہمیشہ دنیا کا ہے!" اور یوں ہم نے اپنے بچوں کو طاقت دینے کے بجائے، انہیں ایک ایسا شیشے کا مجسمہ بنا دیا جو زندگی کی ذرا سی سختی سے پاش پاش ہو جاتا ہے۔
یہ ڈپریشن اور خودکشی صرف ان کا فیصلہ نہیں ہے، یہ ان جذباتی پروں کا کٹ جانا ہے، جو ہم نے محبت کے نام پر کاٹے تھے!
اور یوں ہم نے اپنے بچے کو ایک ایسا شہزادہ بنا دیا
جو ہر بار شکست پر دنیا کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اور پھر آتا ہے وہ منظر جو سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔
ایک تیس سالہ نوجوان جو ہر فیصلہ والد سے پوچھے بغیر نہیں کرتا۔
ایک شادی شدہ بیٹی جو شوہر کے بجائے ماں سے ہر بات پوچھتی ہے۔
یہ وہ نسل ہے جسے ہم نے ہر موقع پر “چمچہ” دیا،
اب حیران ہیں کہ وہ خود سے کیوں نہیں چلتی۔
ہم نے انہیں پر نہیں دیے، ہم نے ان کے پر کاٹ کر کہا، “اڑ جا بیٹا، آسمان تمہارا ہے!”
یہ محبت نہیں، یہ روح کی قید ہے۔
یہ “عشق” نہیں، یہ احسان کی ہتھکڑی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ آپ کا دل نیت میں مخلص ہے۔
آپ یہ سب اولاد کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں۔
مگر یاد رکھیے، اولاد کو بچانے والا باپ عارضی سکون دیتا ہے، اور اولاد کو تیار کرنے والا باپ ہمیشہ کا سکون۔
بچوں کو نہ بچائیے، انہیں بنائیے۔
انہیں “نہیں” سننے کی عادت ڈالیے۔
انہیں تھوڑا گرنے دیجیے تاکہ وہ اٹھنا سیکھیں۔
انہیں ذمہ داری دیجیے تاکہ انہیں اپنی طاقت کا اندازہ ہو۔
انہیں ناکامی دیجیے تاکہ وہ کامیابی کا ذائقہ جان سکیں۔ یہی اصل محبت ہے۔ محبت کا مطلب سہارا دینا نہیں، بلکہ مضبوطی دینا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب آپ کا بچہ کسی فیصلے پر اکیلا کھڑا ہو گا۔
تب وہ یاد کرے گا کہ میرا باپ مجھے خود پر یقین سکھاتا تھا، میری ماں میری مشکل آسان نہیں کرتی تھی، بلکہ میرا حوصلہ بڑھاتی تھی۔
بس وہی لمحہ ہو گا جب آپ کی تربیت کامیاب ہو گی۔
تب آپ کا بچہ آپ کا شکریہ ادا نہیں کرے گا،
بلکہ اپنے عمل سے آپ کو فخر دے گا۔
تو خدارا! اپنے بچوں کو محبت کے نام پر مزید مفلوج نہ کیجیے! یہ محبت نہیں، یہ روح کی قید ہے۔
انہیں چمچہ نہ دیجیے، انہیں پر دیجیے!
کیونکہ یہ دنیا ان کے لیے گرم بستر نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان میدان ہے! اور اس میدان میں فتح وہی حاصل کرتا ہے جو ہمت، خود اعتمادی اور جدوجہد کے ہتھیار سے لیس ہو۔ جو بھوکا بھی لڑنا جانتا ہو!
میرا یہ کالم محبت کے خلاف نہیں، بلکہ اس محبت کے غلط طریقے کے خلاف ہے جو ہماری نسل کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ اپنی اولاد کو زندگی کی دھوپ میں نکلنے دیں گے، تاکہ وہ تپ کر سونا بن سکیں!
انہیں ہتھیلی پر مت اٹھائیے کہ وہ صرف آپ کی اُنگلی دیکھ سکیں، بلکہ انہیں کندھے پر بٹھائیے، تاکہ وہ دور آسمان دیکھ سکیں، اور اپنا راستہ خود تلاش کر سکیں!
محبت کے نام پر انہیں بچانا چھوڑ دیجیے، انہیں جینا سکھا دیجیے!
یہی وہ سچی،
بہادر اور ابدی محبت ہے جو نسلوں کو زندہ رکھتی ہے، نہ کہ مفلوج! اور یہی وہ سکون ہے جو زندگی کی آخری سانس تک آپ کے ساتھ رہے گا!
Jazak Allah*
جواب دیںحذف کریںYes sir g spoon feeding is a poison,it is giving by the parents but after that they blame on the offsprings why our offsprings are like cotton but they don't think first we treated badly with the cotton then it becomes soft and without any sign
جواب دیںحذف کریںParents should make them strong mentally so that they can face all the colours of life
It is possible by parenting which can make them good parents.
Where everyone can take their own decisions ☺️
Sach ma sir duniya ma yehi horha ha same to same
جواب دیںحذف کریںShadi shuda beta maa k kehny py bivi ko treat kr rha ha beti ko zra c tkleef ho ghr call kr rhi ha ma kabi khud apny bhai ka homework kr deti ho kam kr deti ho
Bacho ko mazboot bnana chahiye onhy sikhana chahiye onhy apny kam khud krny deny chahiye or sahi glt sikhana chahiye onhy takleef ho to bardasht karna sikhana chahiye agy Zindagi hmari kanto sy bhari ha
Lkn maa baap b bacho ko pholo ki tarah palty ha acha souchty ha lkn ulad kamzor hoti ja rhi ha depended hoti ja rhi ha kisi na kisi pr