Book Reading, Kitab Kyun Zrori


کتاب کہانی

A column By: سر جاوید بشیر

یہ زیادہ پرانی بات نہیں۔

لاہور میں ایک چھوٹا سا کتب خانہ تھا۔

گرمیوں کی دوپہر میں، ایک نوجوان پسینے میں شرابور، پیدل چل کر وہاں آتا، گھنٹوں کتابیں پڑھتا۔

کتابیں پرانی تھیں، کاغذ پیلا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔

دوست پوچھتے، "کیا ملے گا ان کتابوں سے؟"

وہ کہتا :

"سوچ ملے گی۔ راستہ ملے گا۔"

وہ نوجوان بعد میں نامور استاد بنا، کئی شاگرد پیدا کیے۔

کتاب کیا ہے؟

“کتاب انسان کو وہ بناتی ہے جو دولت، طاقت، شہرت نہیں بنا سکتی — کتاب انسان کو بناتی ہے، رب کا بندہ، اصل انسان۔۔”

 آج کتاب کہاں ہے؟؟

کتاب دکان میں ہو تو کوئی نہیں خریدتا۔

لائبریری ہو تو خالی رہتی ہے۔

پہلے بچے کتابیں مانگتے تھے، اب بچے موبائل مانگتے ہیں۔

ہم نے کتاب کو بوجھ سمجھ لیا۔

ہم نے سوچنا چھوڑ دیا۔

اور جب قوم سوچنا چھوڑ دے — تو برباد ہو جاتی ہے۔

کتاب پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

کیونکہ کتاب آئینہ ہے — جو ہمیں اپنا آپ دکھاتی ہے۔

کتاب درخت ہے — جو ہمارے دماغ میں علم کا پھل اگاتی ہے۔

کتاب چراغ ہے — جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔

کتاب وہ استاد ہے — جو کبھی تھکتا نہیں، کبھی چھوڑ کر نہیں جاتا۔

کتاب انسان کو عام سے خاص بناتی ہے۔

کیسے؟

کیونکہ کتاب ہمیں سوچنا سکھاتی ہے۔

سوال کرنا سکھاتی ہے۔

حق کو پہچاننا سکھاتی ہے۔

دوسروں کی بات سننا سکھاتی ہے۔

خود کو بدلنا سکھاتی ہے۔

جو کتاب پڑھتا ہے، اس کی زبان نرم ہوتی ہے، بات میں وزن ہوتا ہے، آنکھ میں روشنی ہوتی ہے، اور دماغ میں دلیل ہوتی ہے۔

وہ لڑتا ہے تو دلیل سے، جیتتا ہے تو عزت سے۔

وہ جھوٹ کو پہچان لیتا ہے، سچ کو تھام لیتا ہے۔

مگر آج کے پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ لائبریریاں ختم ہو گئیں۔

حکومتوں نے اسکول بنائے، مگر لائبریری بھول گئیں۔

نوجوانوں نے فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک کو کتاب سمجھ لیا۔

ماں باپ نے کہا:

“بیٹا ڈاکٹر، انجینئر بنو — مگر کتاب پڑھنے کا شعور نہیں دیا۔

 جس سے سوچ جاگے، سوال نکلے، انقلاب آئے۔”

سیاستدانوں نے بھی چاہا کہ قوم کتاب چھوڑ دے — کیونکہ کتاب پڑھنے والا سوال کرتا ہے، 

شخصیت پرستی نہیں کرتا، غلام نہیں بنتا۔

استاد بھی کتاب سے غافل رہے۔ بس کورس کی کتاب پڑھا کر فارغ ہو گئے۔

کتابیں گرد میں دفن ہو گئیں، الماریوں میں قید ہو گئیں۔

اور قوم سوچنا چھوڑ کر صرف ماننے لگی — جو بھی اسے بتایا جائے، بغیر سمجھے مان لیتی ہے۔

اب حل کیا ہے؟

حل بہت سادہ ہے — مگر محنت مانگتا ہے۔

گھر میں بچوں کو موبائل سے پہلے کتاب دیں ۔

گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے بچوں کو کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔

اساتذہ صرف نصاب نہ پڑھائیں، نصاب کے باہر کی کتابیں بھی بچوں کے ہاتھ میں دیں۔

حکومتیں اسکولوں میں لائبریریوں کو زندہ کریں۔

ہر محلے میں لائبریری ہو۔

نوجوان دوستوں میں بیٹھ کر فضول گپیں نہ ہانکیں — کتابوں پر بات کریں۔

کتاب کو فیشن نہیں، عادت بنائیں۔

یاد رکھیں— ملک سڑکوں سے نہیں بنتے، پلوں سے نہیں بنتے، میٹروز سے نہیں بنتے۔

ملک بنتے ہیں سوچ سے۔

سوچ بنتی ہے کتاب سے۔

اور کتاب زندہ تب رہتی ہے، جب قوم زندہ ہو۔

اگر ہمیں پاکستان زندہ چاہیے — تو کتاب کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

 کیونکہ کتاب نہیں ہوگی تو نہ سوچ ہوگی اور نہ قوم ہوگی، بس ہجوم ہوگا، عقل سے عاری ہجوم، جس کی کوئی منزل نہیں ہوگی۔

اگر آپ نے اپنی زندگی میں کوئی ایسی کتاب پڑھی ہے جس سے آپ کی سوچ بدلی ہے، تو براہ مہربانی اس کتاب کا نام بتائیں، یا کتابیں پڑھنے کے متعلق اپنی قیمتی رائے دیں۔ جزاک اللہ۔

تبصرے

  1. I'll recommend "such ka Himalaya"

    جواب دیںحذف کریں
  2. اگر ہم اج سے کتابیں پڑھیں گے تو کل یقینا بہترین ہو گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. Reading books can be life-changing experience, broadening our perspectives and enriching our lives.

    جواب دیںحذف کریں
  4. Excellent. You express

    The importance of book reading that is much more important than other things. If we look around we found that other countries people loke book reading.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein