Humaira Asghar Case( Column)
خاموش چیخیں اور سڑتے ہوئے خواب
حمیرہ اصغر کیس اور پاکستانی معاشرے میں عورتوں کی بے بسی
A column By: سر جاوید بشیر
حمیرہ اصغر علی — یہ نام آج پورے پاکستان میں گونج رہا ہے، لیکن افسوس کہ اس کی زندگی میں نہیں بلکہ اس کی موت کے بعد۔ بتیس سالہ یہ اداکارہ اور ماڈل نو مہینے تک کراچی کے دفاعی علاقے میں اپنے فلیٹ میں مردہ پڑی رہی، اور کسی کو پتہ تک نہیں چلا۔ جب اس کی لاش ملی تو وہ اتنی سڑ چکی تھی کہ اس کے اعضاء کی شناخت بھی مشکل ہو گئی تھی۔
یہ صرف ایک انفرادی المیہ نہیں، بلکہ پاکستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی حالت کتنی نازک ہے۔ آج کے پاکستان میں عورت محفوظ نہیں — نہ گھر میں، نہ باہر، نہ تنہائی میں، اور نہ ہی بھیڑ میں۔
حمیرہ کی کہانی لاہور سے شروع ہوتی ہے، جہاں وہ 1992 میں پیدا ہوئی۔ وہ ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کے والد ڈاکٹر تھے۔ حمیرہ نے نیشنل کالج آف آرٹس سے ویژول اور پرفارمنگ آرٹس میں تعلیم حاصل کی تھی۔ 2015 میں اس نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا اور رافی پیر تھیٹر کے ساتھ 110 سے زیادہ ڈرامے کیے۔ بعد میں وہ کراچی آئی اور یہاں ماڈلنگ اور اداکاری کے ذریعے اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کرتی رہی۔
لیکن حمیرہ کی موت کے حالات بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کتنی بے بس اور لاچار ہے۔ پولیس کے مطابق حمیرہ کا آخری بار خاندان سے رابطہ ستمبر 2024 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد اس کا فون بند ہو گیا اور خاندان کو کوئی خبر نہیں ملی۔ یہ خود ایک المیہ ہے کہ ایک لڑکی نو مہینے تک لاپتہ رہی اور کسی نے اس کی تلاش نہیں کی۔
جب حمیرہ کی لاش ملی تو اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ لاش انتہائی خراب حالت میں تھی، اعضاء سیاہ ہو چکے تھے، اور جسم کے مختلف حصوں میں کیڑے موجود تھے۔ فرانزک ماہرین کا کہنا ہے کہ موت تقریباً آٹھ سے دس مہینے پہلے ہوئی تھی، یعنی اکتوبر 2024 کے آس پاس۔
اس کیس میں سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس نے کہا تھا کہ حمیرہ کا خاندان اس کی لاش لینے سے انکار کر رہا ہے۔ اس سے پورے شوبز انڈسٹری میں ہنگامہ مچ گیا اور کئی اداکاروں نے اس کی تدفین کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا۔ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت نے بھی اس کی تدفین کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا۔
بعد میں حمیرہ کے بھائی نوید اصغر نے میڈیا کو بتایا کہ خاندان نے لاش لینے سے انکار نہیں کیا بلکہ پولیس کی قانونی کارروائی کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ حمیرہ ایک آزاد خیال لڑکی تھی جو کبھی کبھی سالوں تک گھر نہیں آتی تھی۔ یہ بیان پاکستانی معاشرے کی ایک اور تصویر پیش کرتا ہے جہاں خاندان اور بچوں کے درمیان رشتے بہت کمزور ہو چکے ہیں۔
اب پولیس نے اس کیس کو قتل کے زاویے سے دیکھنا شروع کیا ہے۔ حمیرہ کے فلیٹ سے تین موبائل فون، ایک ٹیبلٹ، اور ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوئے ہیں، جن کے پاس ورڈ اس کی ڈائری میں لکھے ہوئے ملے ہیں۔ پولیس ان ڈیوائسز کا ڈیٹا چیک کر رہی ہے اور کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حمیرہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی منگوائی گئی ہیں۔
ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حمیرہ کی موت فطری نہیں بلکہ قتل کا نتیجہ ہے۔ پٹیشنر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے فطری موت قرار دے کر کیس کو دبانے کی کوشش کی۔
حمیرہ کا کیس اکیلا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 15 سے 49 سال کی 28 فیصد خواتین جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ 6 فیصد جنسی تشدد کا۔ شادی شدہ خواتین میں سے 34 فیصد گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ 2024 میں پاکستان بھر میں گھریلو تشدد کے 2,000، غیرت کے نام پر قتل کے 500، اور عصمت دری کے 5,000 کیسز رپورٹ ہوئے۔
یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ شدہ کیسز ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ خواتین کو ڈر ہوتا ہے، انصاف پر بھروسہ نہیں ہوتا، یا پھر معاشرتی دباؤ کی وجہ سے وہ خاموش رہ جاتی ہیں۔
حمیرہ کے کیس میں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ کراچی کے سب سے مہنگے اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے ڈی ایچ اے میں رہتی تھی، لیکن پھر بھی نو مہینے تک کسی کو اس کی موت کا پتہ نہیں چلا۔ یہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی لاپرواہی اور بے حسی کا ثبوت ہے۔ آج کل ہم اپنے پڑوسیوں سے اتنے کٹ گئے ہیں کہ اگلے گھر میں کوئی مر بھی جائے تو پتہ نہیں چلتا۔
یہ کیس ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ عورتوں کے لیے اتنا غیر محفوظ ہو گیا ہے؟ اس کی جڑیں ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردانہ بالادستی کا نظام ہے جو عورت کو کمزور اور قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین موجود نہیں ہیں، اور جو موجود ہیں ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کو آزاد انسان تسلیم نہیں کرتا۔ اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہے، اپنا کیریئر بنانا چاہے، یا آزادی سے رہنا چاہے تو اسے طعنے سننے پڑتے ہیں، مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کبھی کبھی جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
حمیرہ کے کیس میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ تھی۔ پاکستان میں اس انڈسٹری سے جڑی خواتین کو اکثر حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور معاشرہ انہیں 'عزت دار' نہیں سمجھتا۔ یہ رویہ ان خواتین کو اور زیادہ خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو عورتوں کے لیے محفوظ بنانے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ اس کے لیے پہلے تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ عورت بھی انسان ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ آزادی سے، عزت سے، اور محفوظ ماحول میں زندگی گزارے۔
دوسرے، ہمیں اپنے قانونی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنانے ہوں گے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ پولیس اور عدالتی نظام کو تربیت دینی ہوگی تاکہ وہ خواتین کے کیسز کو سنجیدگی سے لیں۔
تیسرے، ہمیں اپنے بچوں کی تربیت میں تبدیلی لانی ہوگی۔ بچوں کو بچپن سے یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کا احترام کریں، اس کے حقوق کو تسلیم کریں، اور کبھی کسی کے ساتھ تشدد نہ کریں۔
چوتھے، میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ خواتین کے کیسز کو صحیح انداز میں پیش کرنا ہوگا، متاثرہ خاندانوں کی عزت کا خیال رکھنا ہوگا، اور ایسے پروگرام بنانے ہوں گے جو معاشرے کی سوچ بدل سکیں۔
پانچویں، ہمیں اپنے آس پاس کا خیال رکھنا ہوگا۔ اگر کوئی خاتون مشکل میں ہے، کسی کو کوئی خطرہ ہے، یا کوئی مدد مانگ رہا ہے تو ہمیں آگے بڑھ کر مدد کرنی چاہیے۔ بے حسی اور لاپرواہی سے بچنا ہوگا۔
حمیرہ اصغر کا کیس ہمارے لیے ایک آئینہ ہے جو ہماری اجتماعی ناکامیوں کو دکھاتا ہے۔ یہ کیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے میں عورتوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کتنی بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ یہ کیس ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اگر ہم نے فوری طور پر اپنا رویہ نہیں بدلا تو آنے والے وقت میں اور بھی حمیرہ اصغر کے کیسز سامنے آئیں گے۔
آج جب حمیرہ کو قبر میں اتارا جا رہا ہے تو اس کے ساتھ ہماری اجتماعی ناکامی اور شرمندگی بھی دفن ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے سبق سیکھیں گے؟ کیا ہم اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے؟ یا پھر یہ کیس بھی وقت کے ساتھ بھلا دیا جائے گا اور ہم اگلے المیے کا انتظار کریں گے؟
حمیرہ کی موت ہمیں ایک واضح پیغام دیتی ہے — ہمارا معاشرہ عورتوں کے لیے محفوظ نہیں ہے اور اگر ہم نے فوری طور پر اصلاحات نہیں کیں تو یہ صورتحال اور بھی بگڑ سکتی ہے۔ حمیرہ کی روح کو سکون تب ملے گا جب ہم یقین دلائیں گے کہ اس کی موت بے کار نہیں گئی اور ہم نے اس سے سبق سیکھ کر اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کا عہد کیا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کی بجائے فعال کردار ادا کریں اور اپنے معاشرے سے عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور بھی کئی حمیرہ اصغر کی کہانیاں رقم ہوتی رہیں گی۔
This was a heart touching column I love it
جواب دیںحذف کریں