روحانیت کا سفر، حصہ 4

 

روحانیت کا سفر، حصہ 4


کالم از: سر جاوید بشیر


آج میرا یہ چوتھا کالم ہے روحانیت پر۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ آج ہم روحانیت کو ایک عام پاکستانی کی آنکھوں سے دیکھیں, میں آج کے نوجوانوں میں جو سوال دیکھتا ہوں، وہ مجھے پریشان کر دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمارے رب کے وجود پر اٹھتے ہیں، وہ بے یقینی جو کسی دکھ یا پریشانی کے بعد دل میں گھر کر لیتی ہے۔

آج کا نوجوان پوچھتا ہے، "اگر اللہ ہے تو میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟ اگر وہ رحیم ہے تو مجھے اس آزمائش میں کیوں ڈالا گیا؟" اور ان سوالوں کا جواب نہ ملنے پر وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ اس کی روح پیاسی ہے، لیکن وہ اس پیاس کو سمجھ نہیں پاتا، اور اسی لیے وہ اندر سے خالی ہے۔

یہ کالم ان سوالوں پر ہے جو آج کا نوجوان اپنے دل میں لیے پھرتا ہے، اور اس دوری پر ہے جو ہمیں اپنے خالق سے دور کر رہی ہے۔ آئیے، آج ہم اسی خالی پن کی وجہ تلاش کرتے ہیں، اور اس روحانی سفر کا آغاز کرتے ہیں جو ہمیں اپنی اصل سے جوڑے گا۔


 یہ دنیا ایک میلہ ہے۔ یہاں روشنی بھی ہے، اندھیرے بھی ہیں۔ ہم جسم کی بھوک تو سمجھ لیتے ہیں، پیٹ بھوکا ہو تو کھانے کے پیچھے بھاگتے ہیں، جسم کو درد ہو تو ڈاکٹر کے پاس دوڑتے ہیں، لیکن روح کو جب زخم لگتا ہے تو ہم بے خبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری آنکھیں خوش ہیں لیکن دل ویران ہے، چہرے ہنستے ہیں مگر دل رو رہے ہیں۔ ہم نے اپنی روح کو بیمار کر دیا ہے۔


روح کی بیماری کیا ہے؟ یہ شیطانی وسوسے ہیں۔ یہ بار بار اُٹھنے والے سوالات ہیں کہ "کیا واقعی خدا ہے؟ اگر ہے تو میرے ساتھ یہ ظلم کیوں ہو رہا ہے؟" یہ غصہ، حسد، کینہ اور حرام کی کمائی ہیں۔ یہ سب روح کی بیماریاں ہیں۔ جیسے جگر خراب ہو جائے تو خون زہر آلود ہو جاتا ہے، ویسے ہی روح کی بیماری پوری زندگی کو زہر آلود کر دیتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کوئی شخص بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا ہے، بنگلے رکھتا ہے، عہدے رکھتا ہے، لیکن اُس کی آنکھوں میں سکون نہیں ہوتا۔ وہ نیند کی گولی کے بغیر سو نہیں سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ اُس کی روح بیمار ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں، اگر ہمارا جسم صاف نہ ہو، دنوں تک نہانے نہ جائیں، تو ہمارے جسم سے بدبو آنے لگتی ہے۔ بالکل ویسے ہی روح کو جب صاف نہ کیا جائے تو اُس سے بھی ایک بدبو نکلتی ہے۔ یہ بدبو ہمارے رویّوں میں، ہمارے رشتوں میں اور ہمارے فیصلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔


روحانیت صرف نماز اور روزے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دل کی صفائی ہے۔ یہ اپنے رب کے ساتھ ایسا تعلق ہے جو دنیا کے ہجوم میں بھی تنہائی کو خوشگوار بنا دے۔ ایک عام انسان کے لیے روحانیت اس لیے ضروری ہے کہ یہ اُسے دنیا کے شور سے بچاتی ہے۔ جب مہنگائی کا طوفان اُس کی جیب خالی کر دے، جب دوست دھوکہ دے جائیں، جب رشتہ دار طعنے ماریں، تو صرف روحانیت ہی ہے جو اُسے سہارا دیتی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی ضرورت ہے۔ اللہ کو ہماری کوئی ضرورت نہیں۔ ہم اپنی روح کی پاکیزگی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ جسم تو ایک دن مٹی میں دفن ہو جائے گا، لیکن روح ہی ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ سب سے بڑی ضرورت روحانیت ہے۔


ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جسم کی بھوک پوری کرتے کرتے روح کی بھوک بھول گئے۔ ہم نے اپنے بچوں کو سب کچھ دیا: اچھے سکول، اچھے کپڑے، اچھے کھلونے، لیکن اُنہیں اللہ کا نام دینا بھول گئے۔ اسی لیے ہماری نئی نسل کے دل خالی ہیں، اُن کے چہروں پر مسکراہٹ ہے مگر اُن کی آنکھوں میں روشنی نہیں۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ بھی محسوس کرتے ہیں کہ روح کی یہ بیماری ہمیں اندر سے ختم کر رہی ہے؟ کیا ہم اپنی اگلی نسل کو صرف پیسہ کمانا سکھا کر انہیں روحانی طور پر مفلس چھوڑ دیں گے؟

 اپنی قیمتی آراء ضرور شیئر کریں اور مجھے بتائیں کہ آپ کس طرح روحانیت کو اپنی زندگی میں شامل کر سکتے ہیں۔ آپ کی رائے کسی اور کے لیے روشنی بن سکتی ہے۔

یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اگلے جمعہ ہم روحانیت پر مزید بات کریں گے۔ اللہ ہمیں اپنی روح کو پاک کرنے کی توفیق

 عطا فرمائے۔ آمین۔



تبصرے

  1. بہت ذبردست سلسلہ ہے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ھے انشااللہ ملتا رہے گا اللہ رب العزت مذید استقامت عطا فرمائے آمین مثبت عمل ہی روح کو پاک کرنے کا طریقہ ہے اگر ہم شیطانی راستوں پر چلیں گے تو روح کبھی پاک نہیں ہوگی مثبت راستوں میں علم حاصل کرنا وہ بھی مثبت ہاں شیطانی علم بھی ہوتے ہیں
    بہترین عمل ہے خالق کائنات فرماتا ھے کہ تم میں بتر وہ ھے جو علم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے جن کی واقعی میں روح پاک ہوتی ھے ان کا جسم موٹا نہیں ھوتا مطلب یہ کہ ان کو اپنے جسم سے زیادہ اپنی روح کی فکر ھوتی ھے روح کو پاک رکھنے کےلیے قرآنکی تعلیم سحر فرصت ھے اس کا شوق اپنے اندر پیدا کریں کھنا کم کھانے سے روح تندرست رہتی ھے صبح کے وقت باہر نکلیں اللہ کی قدرت دیکھیں غور کریں ایسے عمل آپ کی رہح کو انشااللہ پاک کریں گے اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو

    جواب دیںحذف کریں
  2. جی بلکل روح کی بیماری آج کے دور میں ہر انسان کو ہے اور اس کا ایک ہی حل ہے باقاعدگی سے نماز اور قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes sir g today everywhere is Money noise and parents are making the youth greedy for the sake of money 💰

    جواب دیںحذف کریں
  4. Excellent. You start a good step to find spirituality in our soul. I think we examine our self. Because when we do something wrong our inner voice say don't do this.so,if we listen our inner voice we recognize what we are.Because our Creator give a very beautiful nature.

    جواب دیںحذف کریں
  5. Yes sir g today everywhere is Money noise and parents making
    the youth greedy e

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein