روحانیت کا سفر 5
روحانیت کا سفر 5
کالم از: سر جاوید بشیر
اللہ کا شکر ہے کہ آج میرا روحانیت کے سفر پر پانچواں کالم ہے۔ اس سفر میں ہم نے اب تک یہ سمجھا کہ روحانیت کیا ہے، اور یہ ہماری زندگی کے لیے کتنی ضروری ہے۔
جیسے ہمارا جسم روز خوراک مانگتا ہے، ویسے ہی ہماری روح بھی روز خوراک چاہتی ہے۔ جسم کی خوراک روٹی ہے، پانی ہے، مگر روح کی خوراک نیکیاں ہیں، اچھے اعمال ہیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ اگر جسم کو کھانا نہ ملے تو وہ کمزور پڑ جاتا ہے، اگر روح کو نیکیاں نہ ملیں تو وہ بجھ سی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اکثر بے سکونی، بے چینی اور اندھیروں میں ڈوبا محسوس کرتا ہے۔
آج سے میں اس سفر کو ایک نئے موڑ پر لے جانا چاہتا ہوں۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ دنیا کے بڑے مفکرین، علما اور مشاہیر نے روحانیت کے بارے میں کیا کہا۔ اور اس سلسلے کا آغاز میں کروں گا اس عظیم شخصیت سے جنہیں ہم سب "شاعرِ مشرق" کے نام سے جانتے ہیں—ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ۔
اقبال کی شاعری اور فکر صرف الفاظ کا کھیل نہیں ہے، یہ دراصل ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو اس کے اصل راستے تک لے جاتا ہے۔ اقبال نے ہمیں ایک فلسفہ دیا—فلسفۂ خودی۔ اور یہی فلسفہ روحانیت کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی۔
اقبال کہتے ہیں:
"خودی کو کر بلند اتنا، کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے"
یہ اشعار ہم سب نے کئی بار سنے ہیں، مگر کبھی رک کر یہ سوچا کہ اس کے اندر کتنی بڑی دنیا چھپی ہے؟
اقبال ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ روحانیت کا سفر خود سے شروع ہوتا ہے۔ اپنے اندر کی طاقت کو پہچاننا، اپنی کمزوریوں کو بدلنا، اپنی ذات کو سنوارنا—یہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو خدا تک لے جاتا ہے۔ جب بندہ اپنی "خودی" کو پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر ایک روشنی جلتی ہے، اور یہ روشنی اسے اندھیروں سے نکال کر یقین، ہمت اور عظمت کے راستے پر لے جاتی ہے۔
روحانیت کا مطلب ہے خود کو اس مقام تک پہنچانا جہاں انسان اپنی خواہشات کا غلام نہ رہے بلکہ اپنے ارادے اور نیت سے دوسروں کے لیے روشنی بنے۔ اور یہی اقبال کا فلسفہ ہے۔
میں نے جب اس بات کو سمجھا تو یوں لگا جیسے میرے اندر کوئی نیا دروازہ کھل گیا ہو۔ وہ دروازہ جو براہِ راست خدا تک جاتا ہے۔
اقبال کے مطابق روحانیت تسبیح پڑھنے یا خانقاہوں میں بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ تو ایک عملی سفر ہے، جدوجہد ہے، اپنے نفس کو قابو میں لانے کا سفر ہے۔ انسان جب اپنی "خودی" پہچان لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ روحانیت کی بنیاد صرف یہ ہے کہ ہم خود کو پہچانیں۔ اپنی روح کو خوراک دیں، اپنی نیتوں کو صاف کریں، اپنی عادتوں کو بدلیں اور اپنی "خودی" کو بلند کریں۔ یہی وہ سفر ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔یہی اقبال کا پیغام ہے۔ یہی روحانیت کا اصل فلسفہ ہے۔یہ صرف ایک پیغام نہیں، یہ ایک روشن حقیقت ہے جو اقبال نے ہمیں دی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس کی اپنی ذات سے ملا کر اس
کے رب سے جوڑ دیتا ہے۔
A good column
جواب دیںحذف کریںBilkul sir g lakin hum insan agly ko hmesha glt kehty ha khud ko ni dekhty
جواب دیںحذف کریںDekha jae hum kisi py ik ungli uthaty ha to baki 4 hmari traf uthti ha
Humy chahiye k khud ko behtar kary agly insan ko b galt sai btye lkn khud ko thk krny ki koshish kry jab tk hum khid kisi k sath sai nai chaly gy koi b hmara bura nai kar skta
In your every column you teach us a new lesson thank uh so much sir for given us these articles for shine us more
The Apex Man✨💫♥️
سر جی بہت کمال لکھا ہے آپ نے لیکن اس موضوع کو تھوڑا اور بڑھا سکتے ہیں آپ ،کم لفظ ہیں ۔
جواب دیںحذف کریںpure
جواب دیںحذف کریںBohat khoob ustad e muharam
جواب دیںحذف کریںMe khushqismat hunk ap merey ustad e muharam Hain.