روحانیت کا سفر 6
روحانیت کا سفر 6
کالم از: سر جاوید بشیر
اللہ کا شکر ہے کہ آج میں روحانیت کے سفر پر چھٹا کالم آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ میرا دل رب کی اس نعمت پر جھک جاتا ہے کہ اس نے مجھے یہ توفیق دی کہ میں اس سفر کو آپ کے ساتھ بانٹ سکوں۔ پچھلے کالم میں، ہم نے علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی پر بات کی تھی اور یہ جانا تھا کہ اصل روحانیت کیا ہے، اور یہ کس طرح انسان کی زندگی کو روشنی اور قوت عطا کرتی ہے۔ آج میں اسی موضوع کو مزید آگے بڑھاؤں گا تاکہ یہ بات دل کی گہرائیوں تک اتر جائے۔
اقبال نے جو فلسفہ دیا ہے، وہ محض اشعار نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ اقبال ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ روحانیت خانقاہوں میں بیٹھنے کا نام نہیں، یہ تسبیح کے دانے گننے کا نام نہیں، یہ دنیا سے منہ موڑ لینے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ تو دنیا کے بیچ میں رہ کر، اس کے مسائل سے نبرد آزما ہو کر، اپنی ذات کو مضبوط کرنے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا نام ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ اشعار بظاہر بہت آسان لگتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ پوری ایک کائنات ہیں۔ اقبال ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اصل روحانیت یہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو اس قدر بلند کرے کہ وہ تقدیر کا غلام نہ رہے، بلکہ تقدیر اس کی غلام بن جائے۔ مگر یہ مقام ایک دن میں نہیں ملتا۔ یہ برسوں کی محنت، صبر، قربانی اور مسلسل جدوجہد سے ملتا ہے۔
خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی پہچان کرے۔ وہ جانے کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ وہ سمجھے کہ اللہ نے اسے کیوں پیدا کیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ زمین کے ذرے سے آفتاب بن جاتا ہے۔ ایک عام سا انسان جب اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ دنیا کے بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
ہم سب کے دل میں کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر میری پہچان کیا ہے؟ میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ میرا مقصد کیا ہے؟ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب روحانیت کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ اقبال ہمیں یہی سمجھاتے ہیں کہ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر سوال جواب میں بدلنے لگتا ہے۔ اس کے قدم منزل کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، اور اس کے دل میں ہمت، یقین اور روشنی بھر جاتی ہے۔
میں جب زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے اپنی خودی کو بھلا دیا ہے۔ ہم دوسروں کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم دوسروں کی آنکھوں سے اپنی پہچان ڈھونڈتے ہیں۔ ہم اپنی عزت کو دوسروں کے رویوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ بے سکونی اور بے اعتمادی کا شکار رہتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل سکون اور اصل طاقت تب آتی ہے جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے اور اپنی عزت کو اللہ کے ساتھ جوڑ لیتا ہے، نہ کہ دنیا کے ساتھ۔
روحانیت کا سفر دراصل خود کو سنوارنے کا سفر ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باغبان بیج بوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ بیج کل درخت بنے گا، مگر آج اسے پانی دینا ہوگا، اس کی حفاظت کرنی ہوگی، اس کے ارد گرد کی مٹی کو نرم رکھنا ہوگا۔ بالکل ایسے ہی انسان کو اپنی روح کی آبیاری کرنی پڑتی ہے۔ نیکیاں پانی کی طرح ہیں، دعا کھاد کی طرح ہے، اور صبر وہ زمین ہے جو اس بیج کو مضبوطی دیتی ہے۔ اگر ہم یہ سب کرتے رہیں تو ایک دن یہ بیج تناور درخت میں بدل جاتا ہے۔
اقبال کا پیغام ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ روحانیت فرار نہیں بلکہ جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ آج کے معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مشکلات سے بھاگتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور آسان راستہ تلاش کرتے ہیں۔ لیکن اقبال کے نزدیک روحانی انسان وہ ہے جو مشکلات کا مقابلہ کرے، اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے اور زندگی کی کڑی دھوپ میں بھی سایہ بن جائے۔
روحانیت کا یہ سفر صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی روشنی بن جاتا ہے۔ وہ اپنے عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے دوسروں کو امید دیتا ہے۔ یہی اصل روحانیت ہے، اور یہی اقبال کا فلسفہ ہے۔
میں نے جب اس بات کو سمجھا تو محسوس کیا کہ واقعی روحانیت کوئی دور دراز کی چیز نہیں، یہ تو میرے اندر ہی موجود ہے۔ ہر نیکی، ہر سچائی، ہر قربانی، ہر خدمت، یہی سب وہ چراغ ہیں جو میرے اندر جلتے ہیں اور مجھے اللہ کی طرف لے جاتے ہیں۔
اللہ کرے کہ ہم سب اپنی خودی کو پہچان سکیں۔ ہم اپنی روح کی آبیاری کر سکیں۔ ہم اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدل سکیں۔ اور ہم ایسے انسان بن سکیں جو نہ صرف اپنی زندگی کو سنواریں بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی پھیلائیں۔
اقبال کے نزدیک خودی کا سفر دراصل اللہ تک کا سفر ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنی پہچان کو جان لیتا ہے تو وہ یہ بھی سمجھ لیتا ہے کہ اصل طاقت کہاں سے آتی ہے۔ اور جب وہ اپنی روح کو اس طاقت سے جوڑ لیتا ہے تو پھر اس پر دنیا کی کوئی مشکل غالب نہیں آ سکتی۔
یہی وہ بات ہے جو میں نے پچھلے دنوں اور زیادہ شدت سے محسوس کی۔ جب بھی زندگی میں تھکن آتی ہے، اندھیرے محسوس ہوتے ہیں، تو دل کے اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ اصل طاقت تمہارے اپنے اندر ہے۔ اگر تم اپنی خودی کو بلند کرو گے تو اندھیروں کو شکست دینا آسان ہو جائے گا۔
روحانیت کا یہ سفر کوئی ایک دن کا نہیں بلکہ یہ زندگی بھر کا سفر ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ ہم اپنی خودی کو سنوار سکتے ہیں۔ کبھی دعا کے ذریعے، کبھی خدمت کے ذریعے، کبھی اپنے نفس پر قابو پا کر، کبھی کسی کے لیے آسانی پیدا کر کے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں سکون، طاقت اور اللہ کی قربت عطا کرتا ہے۔
انشاءاللہ، روحانیت کا یہ سفر ہم اگلے جمعہ کو پھر شروع کریں گے اور کسی اور اسلامی مفکر
کے خیالات روحانیت پر جانیں گے۔
MashaAllah MashaAllah sir g We should to connect strongest connection with Allah Almighty ♥️ Then we will find anything what's us want
جواب دیںحذف کریںBisma
جواب دیںحذف کریںBohat hi behtreen ilm ki baten thi is column me...
A good column 😊
حذف کریں