امتحان پاس، زندگی فیل

 

امتحان پاس، زندگی فیل

کالم از: سر جاوید بشیر

آپ تصور کیجیے، ایک طالب علم ہے، اس کے سامنے ایک کتاب کھلی ہے۔ وہ الفاظ کو، جملوں کو، پیراگراف کو، بس اپنی زبان پر دہرائے جا رہا ہے۔ اس کی آنکھیں خالی ہیں، اس کا دماغ خالی ہے، بس زبان چل رہی ہے۔ وہ رَٹ رہا ہے۔ کیوں؟ تاکہ امتحان میں پاس ہو سکے۔ پاس ہو کر کیا کرے گا؟ شاید وہی نوکری، وہی کام، جو اس نے رَٹا ہے، اسے ویسے ہی دہرانا پڑے گا۔ وہ خود کیا سوچ سکتا ہے؟ وہ خود کیا پیدا کر سکتا ہے؟ جب اس کی بنیاد ہی رَٹے پر رکھی گئی ہو، تو وہ کیسے تعمیر کرے گا؟


یہ صرف چند الفاظ کا کھیل نہیں، یہ ہمارے ملک کی بنیادوں کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جب ہمارے بچے، ہماری وہ نسل جو کل کی معمار بنے گی، وہ رَٹے کے جال میں پھنسی ہوگی، تو سوچیں، ہمارا ملک کس طرف جائے گا۔ کیا وہ دنیا کے ساتھ قدم ملا سکے گا؟ کیا وہ خود انحصاری کی طرف بڑھ سکے گا؟ یا وہ بس دوسروں کی نقل کرتا رہے گا، دوسروں کا رَٹا ہوا علم دوسروں پر تھوپتا رہے گا؟


یہ رَٹا، جو استاد کے لیے ایک آسان راستہ ہے، وہ بچے کے لیے تباہی کا راستہ ہے۔ استاد اگر محنت کرے، بچے کو سمجھائے، اس کے ذہن میں علم کا بیج بوئے، اسے سیراب کرے، تو وہ بچہ ایک دن درخت بنے گا۔ لیکن اگر استاد صرف رَٹا دے دے، تو وہ بیج کبھی اگ ہی نہیں پائے گا۔ وہ بس مرجھا ہوا، بے جان لفظوں کا ڈھیر بن کر رہ جائے گا۔



آج میں اسی درد کو، اسی تلخی کو، آپ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہمارا قومی المیہ صرف غربت، مہنگائی یا بے روزگاری نہیں، ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ رَٹا ہے، یہ وہ تعلیمی نظام ہے جو علم کو تفہیم کے بجائے حفظ کا نام دیتا ہے۔


ذرا تصور کیجیے، ایک استاد ہے، وہ امتحان کے قریب ہے۔ بچے پریشان ہیں۔ وہ کلاس میں آتا ہے، اور کہتا ہے، "کوئی بات نہیں، یہ سوال جواب میں خود لکھوا دیتا ہوں۔ آپ بس اسے یاد کر لیں۔" وہ سوال جواب لکھوا دیتا ہے۔ بچے اسے یاد کر لیتے ہیں۔ پاس ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا وہ کچھ سیکھ پائے؟ کیا وہ اس موضوع کو سمجھ پائے؟ بالکل نہیں۔ بس امتحان پاس کرنے کی ایک مشین بن گئے۔


اور یہ صرف سکولوں، کالجوں تک محدود نہیں، یہ تو ہمارے معاشرے کا مزاج بن گیا ہے۔ ہم ہر جگہ آسان حل تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں اگر کوئی چیز مشکل لگے، تو ہم اسے رَٹ لیتے ہیں۔ ہم اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ یہ کیوں ہے، کیسے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ ہم بس اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ اسے کیسے قبول کرنا ہے۔


ہمارے ملک میں، آج، سب سے زیادہ کس چیز کی کمی ہے؟ میرے خیال میں، وہ سمجھ ہے۔ وہ علم ہے جو تحقیق سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم رَٹے ہوئے علم کے انبار تو لگا سکتے ہیں، لیکن جب تک ہم خود سوچنا، خود سمجھنا، خود سوال کرنا نہیں سیکھیں گے، تب تک ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔


یہ رَٹا، یہ ہمارے بچوں کی صلاحیتوں کا قاتل ہے۔ یہ ہمارے ملک کی ترقی کا دشمن ہے۔ ہم اپنے بچوں کو وہ سب کچھ سکھا رہے ہیں جو وہ اسکول کے باہر بھی سیکھ سکتے ہیں، لیکن وہ چیزیں نہیں سکھا رہے جو انہیں خود سے سیکھنی چاہئیں۔ وہ چیزیں جو انہیں سوچنے پر مجبور کریں۔ وہ چیزیں جو انہیں سوال پوچھنے پر مجبور کریں۔


کیا ہم کبھی سوچیں گے کہ جب ایک بچہ رَٹا ہوا سبق سناتا ہے، تو وہ دراصل کیا کر رہا ہوتا ہے؟ وہ اپنی شخصیت کو، اپنی انفرادیت کو، اپنی سوچ کو، سب کو مار رہا ہوتا ہے۔ وہ بس ایک طوطے کی طرح الفاظ دہرا رہا ہوتا ہے۔


میں چاہتا ہوں کہ ہمارے استاد، وہ ہمارے ملک کے معمار، وہ اپنے فرض کو سمجھیں۔ وہ صرف نصابی کتب ختم کروانے والے نہ بنیں۔ وہ علم بانٹنے والے بنیں۔ وہ سوچ پیدا کرنے والے بنیں۔ وہ سوال پوچھنے کی ترغیب دینے والے بنیں۔ جب بچہ سوال پوچھے، تو اسے ڈانٹ کر چپ کروانے کے بجائے، اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اسے سمجھائیں، اسے بتائیں کہ علم کی دنیا کتنی وسیع ہے۔

یہ رَٹا، یہ وہ سانپ ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کو ڈس رہا ہے۔ اور ہم اس سانپ کو دیکھتے ہوئے بھی، بے حس بنے ہوئے ہیں۔ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اس سانپ کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا ہم کبھی اس رَٹے کی لت سے باہر نکل پائیں گے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو علم کی روشنی دکھا پائیں گے، یا بس رَٹے کی تاریکی میں ان کا مستقبل اندھا کر دیں گے؟

یہ میرا درد ہے۔ یہ آپ کا درد ہے۔ یہ ہمارے ملک کا درد ہے۔ جب تک ہم علم کو سمجھنا شروع نہیں کریں گے، جب تک ہم خود سوچنا شروع نہیں کریں گے، تب تک ہم اپنے ملک کو آگے نہیں لے جا سکتے۔

رَٹا، یہ ایک آسان راستہ ہے۔ لیکن یاد رکھیے، آسان راستے منزل تک نہیں پہنچاتے۔ وہ صرف راستہ دکھاتے ہیں۔ منزل تو وہیں ملتی ہے، جہاں محنت ہوتی ہے، جہاں سمجھ ہوتی ہے، جہاں قربانی ہوتی ہے۔

میں آج آپ سے کوئی جذباتی نعرہ نہیں لگا رہا۔ میں آپ سے بس اتنی گزارش کر رہا ہوں کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں۔ ہم دیکھیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔


کیا ہم واقعی ایک قوم بننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو ہمیں علم کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں رَٹے کے اس جال سے خود کو آزاد کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سوچنا ہوگا، خود سمجھنا ہوگا، اور پھر اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا۔


یہ رَٹا، یہ ایک لعنت ہے۔ اور اس لعنت سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ، وہ ہے علم، وہ علم جو سمجھ سے آتا ہے۔ جو تحقیق سے آتا ہے۔ جو سوال کرنے سے آتا ہے۔


 آئیے، مل کر ایک نئی شروعات کریں

اٹھئیے، جاگئیے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر، اپنے ملک کے روشن کل کی خاطر، اس رَٹے کے بے مقصد نظام کے خلاف ایک عظیم جنگ کا آغاز کیجیے۔ یہ وہ جنگ ہے جو صرف علم کی روشنی سے لڑی جائے گی اور سچی سمجھ بوجھ سے جیتی جائے گی۔



یاد رکھیے! یہ کالم محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ ہمارے دردِ دل کی ایک پکار ہے۔ یہ ہمارے ان بچوں کی بے زبان چیخ ہے جو رَٹے کی قید میں اپنا مستقبل گنوا رہے ہیں۔ اب بس! کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

میں نے اپنا درد آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ آپ بھی اس پر سوچیں۔ آپ کی رائے، آپ کی تجاویز، اور آپ کا جذبہ اس تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

آئیے، آج اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر، اپنے وطن کی حقیقی ترقی کی خاطر، اس لعنت کا خاتمہ کرنے کا عہد کریں۔

کیا آپ کے دل میں بھی یہ درد ہے؟ اگر ہاں، تو مجھے بتائیے، اس رَٹے کے عفریت کو کیسے ختم کیا جائے؟ آپ کی نظر میں وہ کون سے عملی اقدامات ہیں جو ہمارے تعلیمی نظام میں ایک حقیقی انقلاب برپا کر سکتے ہیں؟ اپنی قیمتی آراء ضرور شیئر کیجیے، تاکہ ہم سب مل کر اس تاریکی کو علم کی روشنی سے منور کر سکیں۔

تبصرے

  1. Informative material Mashaallah
    Allah Pak apni Rahmat in rkhay ameeen

    جواب دیںحذف کریں
  2. You are right hamay apni Zindagi ko change Karna ho ga Thank you sir very good information

    جواب دیںحذف کریں
  3. A super duper topic sir sach ma hmari society ma asy school ha jaha na well educated teachers ha or agar onsy poch b ley koi sawal to thk sy jawab nai dy gy olta bacho ko dant kr chup krwa dy gy even the spread fear in the heart of the students they didn't ask any questions just because of this
    fear
    Even my little sister she's reading in 8 calss she asked me about science subject
    I asked from her you teacher didn't made you understand what is this and how it creats
    She said no only teacher mark this answer and said leaen and tomorrow I'll listen and gere cramming started
    Our government should take step here 1 hired well educated teachers like minimum bachelor
    And he or she properly speak English and talk with students in English that's can make habbit in student to speak some words daily in English
    Thank uhh and sir you always make articles on different and informative topics ✨

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. That's an excellent point, Mihahil Beta.
      Thank you so much for your heartfelt message. It truly shows how much you care about this issue. You're completely right—the fear you mentioned, the fear of asking questions, is a huge problem. It stops students from learning and thinking for themselves.
      Your ideas are completely right. We need to hire better teachers who are passionate about their work. Teachers who can explain things, not just tell students to memorize them. And yes, speaking English in class is a great way to help students become more comfortable with it.
      Let's share this idea with everyone. It's time we change our education system from one that makes "cramming machines" into one that makes great thinkers.
      Thank you again for your amazing words. Let's make a real difference together.

      حذف کریں
    2. Yes sir that's my actual point

      حذف کریں
  4. We can change roting system by self writing, book reading, and having an aim in every student life

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein