مسترد کیے جانے کا خوف
مسترد کیے جانے کا خوف
کالم از: سر جاوید بشیر
آج میں ایک ایسے خوف کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو ہمارے بہت سے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ وہ خوف ہے جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکتا ہے، نئے قدم اٹھانے سے ڈراتا ہے، اور ہمارے راستوں پر ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے جو نظر نہیں آتیں۔ یہ خوف ہمیں ایک ایسے پنجرے میں قید کر دیتا ہے جس کا نام ہے مسترد کیے جانے کا خوف۔
مسترد کیے جانے کا خوف ہمیں اس طرح گھیر چکا ہے جیسے کسی معصوم پرندے کو پنجرا قید کر لیتا ہے۔ پرندہ چاہے آسمان کی وسعتوں کا خواب دیکھے، مگر پنجرا اسے کبھی پرواز نہیں کرنے دیتا۔ ہم سب اپنے اپنے پنجروں میں قید ہیں، وہ پنجرہ جس کا نام ہے رد کیے جانے کا خوف۔
لیکن آپ ایک بات یاد رکھیں, رد ہونا دنیا کا سب سے عام تجربہ ہے۔ کوئی بھی انسان بغیر انکار سنے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آپ کے اردگرد ہر بڑے نام کی کہانی یہی ہے۔یاد کیجیے، کتنے ہی بڑے لوگ مسترد ہوئے تھے۔ والٹ ڈزنی کو کہا گیا کہ تم میں تخیل نہیں۔ آئن سٹائن کو بچپن میں نالائق کہا گیا۔ تھامس ایڈیسن کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ ابراہم لنکن نے درجنوں انتخابات ہارے۔ لیکن کیا وہ ٹوٹ گئے؟ نہیں! وہ آگے بڑھے، اور دنیا نے ان کے سامنے سر جھکا دیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ عظیم لوگ "رد کیے جانے" کے خوف کے آگے ہتھیار ڈال دیتے تو آج ہم ان کے نام تک نہ جانتے۔ تو پھر آپ کیوں ڈرتے ہیں؟ کیا آپ ان سے کم ہیں؟ نہیں! آپ کے اندر بھی وہی روشنی ہے، وہی طاقت ہے۔
مسترد ہونا ناکامی نہیں ہے۔ یہ صرف یہ بتاتا ہے کہ دوسرا انسان آپ کو پہچاننے سے قاصر رہا۔ آپ کی اصل قدر اس کے "ہاں" یا "نہ" سے نہیں جانی جاتی۔ آپ کی اصل قدر آپ کے دل کے عزم اور آپ کے خواب کی سچائی سے جانی جاتی ہے۔
سوچ کر دیکھیے، کیا رد ہونا اتنا بڑا مسئلہ ہے؟ کل آپ سے کسی نے "نہیں" کہہ دیا تو کیا ہوا؟ کل کسی نے آپ کو نالائق کہہ دیا تو کیا بگڑ گیا؟ اصل میں نقصان تب ہوتا ہے جب آپ اس "نہیں" کو اپنی روح پر لکھ لیتے ہیں، جب آپ خود کو ناکام مان لیتے ہیں۔
اس خوف کو شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے: اس کا سامنا کیجیے۔ جیسے بچہ چلنا سیکھتے وقت بار بار گرتا ہے، ویسے ہی آپ کو بھی بار بار مسترد ہونا سیکھنا ہے۔ آج سے عہد کیجیے، آپ رد ہونے کی پریکٹس کریں گے۔ لوگوں سے مطالبے کیجیے، چھوٹے چھوٹے سوالات کیجیے، انکار سنیے، اور مسکرائیے۔ ہر انکار کے ساتھ آپ کا دل اور مضبوط ہو گا۔ ہر نہ کے ساتھ آپ کی روح میں ہمت بڑھتی جائے گی۔اور ایک دن آئے گا جب آپ کو انکار سننے کا خوف ختم ہو جائے گا۔ آپ کی زبان پر روانی آ جائے گی۔ آپ کے قدموں میں استقامت آ جائے گی۔ آپ کا دل کسی کے "نہ" سے لرزے گا نہیں، بلکہ مزید جرات مند ہو گا۔
یاد رکھیے، جو انسان رد ہونے کو برداشت کر لیتا ہے، وہ کبھی زندگی سے نہیں ہارتا۔ وہی انسان آگے بڑھتا ہے، وہی اپنی منزل پاتا ہے۔
یہ زندگی بہت چھوٹی ہے آپ اپنی قدر خود جانیے، اپنے خوابوں پر یقین رکھیے، اور آگے بڑھتے رہیے۔ نہ کے خوف کو توڑ دیجیے۔ کیونکہ اس کے آگے ہی آپ کی اصل جیت ہے۔
جب کوئی آپ کو مسترد کرتا ہے تو حقیقت میں وہ آپ کی صلاحیتوں کو پہچاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ یہ اس کا نقصان ہے، آپ کا نہیں۔ آپ کو اپنے آپ کو کم تر نہیں سمجھنا، بلکہ یہ جاننا ہے کہ آپ کے اندر ایک ایسا خزانہ ہے جسے سب نہیں پہچان سکتے۔
یہ زندگی بہت چھوٹی ہے۔ آپ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ دوسروں کے فیصلوں کے ڈر میں اپنی سانسیں برباد کر دیں۔ آپ کو جینا ہے، آگے بڑھنا ہے، لڑنا ہے۔ اور یاد رکھیے، ڈر کے آگے جیت ہے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ کالم چھوٹا ہے، مگر یہ میرے دل کی آواز ہے۔ میں نے آپ کے سامنے ایک سچائی رکھی ہے، جو شاید آپ کی زندگی بدل دے۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ بھی اسی خوف کے پنجرے میں قید ہیں؟
اپنے دل کی بات لکھیں، اپنی کہانی سنائیں کہ آپ نے کس طرح "رد کیے جانے" کے خوف کو شکست دی ہے۔ آپ کی کہانی کسی اور کی زندگی میں امید کی ایک نئی کرن بن سکتی ہے۔
If we have strong believe in ourselves then nothing can change us or make us fail
جواب دیںحذف کریںFailure is a part of life it's not end of success
Really sir that's happening in our life many people gave up because of this reason
جواب دیںحذف کریںThey thought we can't do this now and then they left
Butttttt we should to face failure bcoz it's the key of success if u failed try again then again again and in the end you will achieve what you want
In your every column sir g you always gave us a hope motivation power courage to do something thanks for all your efforts And Amay Allah gives you Everythings Ameenn Our Apex Hero♥️💫
A good column
جواب دیںحذف کریںYes. I feel the pain of rejection. Its tooooo much .its breaks your heart,your feeling and everything. You think everything ends ,finish. But when you contact Allah Almighty. Allah holds you ,heals you and helps in sush a good way wou can't imagine. So you absolutely say right that we don't bother. And move on in life.Our life is a gift of Allah Almighty don't waste it ,don't bother. Thanks for a good column.
جواب دیںحذف کریںماشااللہ سر جاوید صاحب بہت ھی اچھا کالم میرے اپنے تجربے کی بات دیر سے لکھنے پر معزرت کچھ انسان ہوتے ہیں جن کو نہ سے چڑ ہوتی ھے اور ہونی بھی چاہئے اگر آپ نے رد کئے جانے کو مان لیا تو آپ ہار گئے اور ایک ہارے ہوئے کی کیا وقت ہوتی ھے سب کو پتا ھے سر جاوید صاحب میرے استاد نے مجھے ۲۰ منٹ ڈرائیونگ سکھائی ۳ گئر تک اس کے بعد وہ مجھے ٹائم نہیں دے سکے بات لمبی ہو جائے گی مختصر کہ واپسی کا راستہ نہ ہونے کے باوجود بیک گاڑی نکالی یہ اس لیے ہوا کسی نے کہا تھا آپ واپس نہیں جاسکتے مطلب آپ دوسروں کی نہ کو اپنا مقصد بنائیں گے تو ہی آگے بڑھ پائیں گے کچھ مشکل نہیں ہے کوئی اگر رد کرے تو کہو نہیں بلکہ اسے کر کے دکھاؤ قدرت قانون ھے کہ جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں خدا ان کی مدد کرتا ھے اس جزبے کے ساتھ آگے بڑھیں رب تعالی آپ کے ساتھ ھے اللہ رب العزت ھم سب کو آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
جواب دیںحذف کریںیا رب العالمین