یہ سوالات کبھی مت پوچھیں

 یہ سوالات کبھی مت پوچھیں

کالم از: سر جاوید بشیر

میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہندوستان کے ایک بڑے شاعر کی ہے، جو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بیمار ہو گیا۔ ایک روز وہ اپنے ایک دوست کے ہاں بیٹھا تھا۔ دوست نے بڑے معصوم لہجے میں پوچھ لیا "حضرت آپ کی بیماری کتنی پرانی ہے؟" شاعر کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا، اُس نے آہستہ کہا: " بیماری کو پرانا مت کہو، یہ دکھ پرانا نہیں ہوتا، یہ روز تازہ ہوتا ہے۔" یہ جملہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا اور محفل پر ایک عجیب سا سکوت چھا گیا۔ اس کہانی کو سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے دوستوں، رشتہ داروں یا جاننے والوں سے ایسے سوال پوچھ لیتے ہیں جو اُن کے لیے کسی خنجر کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں، حالانکہ ہمارے لبوں پر وہ سوال محض تجسس یا مذاق کے طور پر آتے ہیں۔


جب آپ کسی سے ملتے ہیں تو اصل امتحان آپ کے لباس یا الفاظ کا نہیں ہوتا، اصل امتحان آپ کے سوالات کا ہوتا ہے۔ ایک عام سا سوال بھی دوسرے کے زخم کو کھول سکتا ہے، اور ایک خاموشی دوسرے کے دل کو سکون دے سکتی ہے۔ ہم پاکستانی معاشرے میں روزمرہ کی گفتگو میں ایسے سوال پھینک دیتے ہیں جیسے کنکر پانی پر پھینکا جاتا ہے، مگر ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ سوال کسی کے وجود کے پانی میں طوفان برپا کر دیتے ہیں۔


ایک ملازم سے پوچھ لیا جاتا ہے: "آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟" یہ سوال محض الفاظ نہیں،  آپ نہیں جانتے کہ اُس شخص نے کتنی راتیں جاگ کر اپنی بیٹی کی فیس کا انتظام کیا، یا کیسے اپنے والدین کی دوائیوں کے پیسے جوڑے۔ تنخواہ کا سوال اُس کی جیب نہیں، اُس کی عزت کھنگال دیتا ہے۔


کتنے لوگ ہیں جن سے بڑے آرام سے پوچھ لیا جاتا ہے "آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟" یہ سوال اکثر مذاق میں کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ کسی کے زخم پر نمک چھڑک دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ لڑکی برسوں سے رشتہ نہ آنے پر ماں باپ کی آنکھوں میں نمی دیکھتی ہو، ہو سکتا ہے وہ لڑکا غربت کے سبب اپنے خواب دفنا چکا ہو۔ مگر ہم ہیں کہ ہنستے مسکراتے ایک ایسا سوال کر دیتے ہیں جو اُنہیں رات بھر جاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔


پھر ایک اور سوال جو اکثر چھوٹے گھروں اور بڑی محفلوں میں کیا جاتا ہے: "آپ کے بچے کیوں نہیں ہیں؟"یہ سوال معصوم نہیں ہوتا، یہ کسی کے رونے والی راتوں کو یاد دلا دیتا ہے،  آپ کو کیا خبر کہ اُس عورت نے کتنی بار اپنے رب کے حضور آنکھوں کے آنسوؤں سے دعا مانگی ہو گی؟ آپ کو کیا خبر کہ اُس مرد نے کتنی بار ڈاکٹر کے کمرے میں بیوی کا سہارا بن کر آنسو پونچھے ہوں گے؟


ہمارے ہاں ایک اور شوق ہے کسی کے جسم پر تبصرہ کرنے کا۔ "آپ اتنے موٹے کیوں ہیں؟" یا "آپ اتنے دُبلا پتلا کیوں ہیں؟" یہ سوال کسی کے لیے کھیل تماشا نہیں، یہ اُس کی کمزوری یا بیماری کی نشاندہی ہے۔ ہر انسان کے جسم کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ کوئی ہارمونز کی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، کوئی دوائیوں کے زیر اثر ہوتا ہے، کوئی غموں سے دُبلا ہوتا ہے۔ مگر ہم سب ہنسی مذاق کے نام پر اُنہیں چوٹ مار دیتے ہیں۔


پھر وہ سوال آتا ہے جو سب سے خطرناک ہے "آپ کس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں؟" یا "آپ کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے؟" یہ سوال نہ صرف دلوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے بلکہ معاشرے کو بانٹ دیتا ہے۔ کسی کے سیاسی نظریے کا مذاق اُڑانا، اُس کی سوچ پر انگلی اٹھانا، یہ سب ہمارے اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔


اسی طرح مذہب پر سوالات ہیں۔ "آپ کس مسلک سے ہیں؟" یا "آپ فلاں فرقے کے ہو؟" یہ سوال کسی کے ایمان کی بے ادبی ہے۔ مذہب وہ رشتہ ہے جو بندے اور رب کے بیچ ہے، آپ کے سوالات اُس رشتے کو زخمی نہیں کرنے چاہئیں۔


ہمارے معاشرے میں ایک اور عام سوال ہے "آپ نے اپنی نوکری کیوں چھوڑی؟" بظاہر یہ ایک عام سا سوال ہے مگر حقیقت میں یہ کسی کے ٹوٹے خواب، کسی کی ناکام کوشش، کسی کے چھنے ہوئے وسائل کی داستان ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ اُس کے پیچھے کتنی ذلت یا دکھ چھپے ہیں۔


اور پھر آخر میں وہ سوال آتا ہے جو ہمیں ہنساتا ہے مگر دوسروں کو رُلاتا ہے: "یہ کپڑے کتنے کے لیے؟ یہ جوتے کتنے کے ہیں؟" یہ سوال کسی کی جیب کا نہیں بلکہ اُس کے دل کا زخم ہے۔ شاید وہ شخص کسی ضرورت کو چھوڑ کر اپنی عزت کے لیے یہ چیز خرید لایا ہو، اور آپ اُس کے خواب پر قیمت کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔

 زندگی سوال کرنے سے نہیں رکتی، لیکن عزت اور محبت سوال روکنے سے بڑھتی ہے۔ اگر آپ واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں، اگر آپ واقعی رشتوں میں سکون چاہتے ہیں تو دوسروں کے زخموں کو کریدنا چھوڑ دیں۔ ہر شخص مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک کتاب ہے جس کے ورق پر دکھ، آنسو اور قربانیاں لکھی ہیں۔ آپ اُس کتاب کو پڑھنے کے لیے مت مچلیں، اُس کتاب کا احترام کریں۔


یاد رکھیے، دنیا کے سب سے خوبصورت سوال وہ ہیں جو کبھی کیے ہی نہیں جاتے۔ کبھی کبھی خاموشی سب سے بڑی عزت ہوتی ہے۔ اور انسان وہی بڑا ہوتا ہے جو دوسروں کی عزت چھپائے، نہ کہ اُسے سرِبازار عیاں کرے۔


 میں دل کی گہرائی سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں دوسروں کے دلوں کی حرمت سمجھنے کی توفیق دے، اور ہمارے لبوں کو ایسے سوالات سے محفوظ رکھے جو کسی کی روح کو زخمی کر دیں۔ کیونکہ الفاظ کبھی مر نہیں جاتے، یہ دلوں میں زخم بن کر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔


یہ کہانی صرف میری نہیں، آپ کی بھی ہے۔ میں نے صرف وہ سوالات لکھے جو مجھے روزانہ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ کی آنکھوں نے، آپ کے کانوں نے، اور آپ کے دل نے بھی ایسے بہت سے سوالات کا سامنا کیا ہوگا جنہیں میں لکھ نہیں پایا۔

یہ کالم میرا نہیں، اب آپ کا ہے۔ میں نے تو صرف ایک آغاز کیا ہے، اب اس گفتگو کو مکمل کرنا آپ کا کام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی خاموشی کو توڑیں۔

مجھے بتائیے کہ آپ کو میرا یہ کالم کیسا لگا؟ کیا یہ الفاظ آپ کے دل تک پہنچے؟ اور سب سے اہم بات، وہ کون سے سوالات ہیں جو ہمارے معاشرے میں تکلیف دیتے ہیں اور میں اپنے کالم میں شامل کرنا بھول گیا؟

آپ کے الفاظ، آپ کی کہانی، اور آپ کا تجربہ اس کالم کو ایک نئی زندگی بخشے گا۔ 

آپ اپنے قیمتی خیالات اور وہ سوالات جو میں نے چھوڑ دیے، ہم سے ضرور شیئر کریں۔ آپ کا انتظار رہے گا۔

تبصرے

  1. Body shaming sb s bura lgta Jo koi b mun utha k kh deta

    جواب دیںحذف کریں
  2. Millions of people are facing this racism
    No matter if they are asians chinese blacks they face racism and hundreds of questions make them think
    It's leading to depression existential crisis and many mental problem.
    So it really matters what tou ask and what you say to others

    جواب دیںحذف کریں
  3. Sir g I really like this column and today i have gotten a new manner of life sir g sometimes I asked these type of questions from others I'm really ashamed 😔
    But from today I'll change myself thank you for teaching this important thing of life by which we make others sad 😢 and don't regret

    جواب دیںحذف کریں
  4. Wow sir g really we don't think before speak my habbit also to asked these type of questions but in the next I'll not do this In sha Allah

    جواب دیںحذف کریں
  5. Yes.sir .we should give respect to others. In My life their are too much painful questions that people ask from me.that 's really hearts me.I think its only the power of Allah Almighty who grants me.who hold me,help me and guides me.i thankful to Allah Almighty and my family who support me.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein