غلط راستے اور پچھتاوے
غلط راستے اور پچھتاوے
کالم از : سر جاوید بشیر
کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب آپ پہلی بار اڑنے کا خواب دیکھ رہے تھے؟ شاید بچپن میں، جب آسمان اور پرندے آپ کے دوست تھے۔ وہ معصومیت، وہ بے فکری، وہ امیدیں جو دل میں بستی تھیں۔ وقت گزرتا گیا، ہم بڑے ہوئے، اور زندگی کے ان بے شمار راستوں پر چل پڑے جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ کچھ راستے ہمیں کامیابیوں تک لے گئے، تو کچھ ہمیں اس قدر گہرے گڑھوں میں پھینک گئے کہ واپسی کا راستہ ہی بھول گئے۔
میں آج آپ کو ایک ایسے ہی مسافر کی کہانی سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہے شیر دل (فرضی نام)کی۔ ایک وقت تھا جب اس کا نام ہی کافی تھا، اس کی ایک آواز پر لوگ لبیک کہتے۔ یہ کوئی سیاستدان یا جرنیل نہیں تھا، بلکہ ایک عام سا کاریگر تھا جس کا ہنر ہاتھوں سے نہیں، دل سے نکلتا تھا۔ اس نے اپنی محنت سے اپنے خاندان کا مقدر بدل دیا، علاقے کا نام روشن کیا، اور جوانوں کے لیے ایک مثال بن گیا۔ اس کی زندگی جیسے ایک مکمل کہانی تھی، جس میں محنت، لگن، اصول اور سب سے بڑھ کر سچائی تھی۔
پھر وہ وقت آیا جب کچھ غلط راستوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا یا شاید کسی نے غلط مشورہ دیا، شاید مال و دولت کی ہوس نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی، یا شاید وہ سمجھا کہ اب تو وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہے، اب کسی اصول کی کیا ضرورت۔ وہ غلط راستوں پر چل پڑا، جہاں آسانی تھی، جہاں جھوٹ سے کام بنتا تھا، جہاں اصولوں کو روند کر منزلیں حاصل کی جا سکتی تھیں۔ آہستہ آہستہ، اس کی وہ شناخت، وہ عزت، وہ وقار سب کچھ دھندلا پڑنے لگا۔ وہ چمک جو اس کی آنکھوں میں تھی، وہ مدھم پڑ گئی۔ جو ہاتھ دوسروں کے لیے مدد کا سہارا بنتے تھے، وہی اب لالچ میں پھیلے نظر آنے لگے۔
ایک دن، جب وہ اکیلا بیٹھا اپنے ماضی کو سوچ رہا تھا، تو اسے احساس ہوا کہ وہ کہاں سے کہاں آ گیا ہے۔ جس آسمان کو وہ چھونا چاہتا تھا، اب وہ اس سے اتنا دور تھا جتنا ستاروں سے۔ اس کے دل میں جو پرندے اڑتے تھے، وہ اب پنجرے میں قید ہو چکے تھے۔ اسے اپنی غلطیوں کا احساس اس قدر شدت سے ہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ یہ پچھتاوے کے آنسو تھے، اس کھوئی ہوئی زندگی کے آنسو تھے، اس بدلتے ہوئے چہرے کے آنسو تھے جو اسے اب خود اجنبی لگ رہا تھا۔
آج ہم میں سے کتنے ہی شیر دل ہیں؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی موڑ پر غلط راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں؟ زندگی کے یہ سفر، یہ راستے، یہ موڑ، یہ سب کچھ ہمیں تجربات دینے کے لیے ہیں۔ ہم انسان ہیں، غلطی ہونا ہماری فطرت میں ہے۔ لیکن جو بات ہمیں باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے، وہ ہے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت، اور اگر ممکن ہو تو، ان غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش۔
یہاں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ غلط راستے پر چلنا عجیب نہیں، برا اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو احساس ہی نہ ہو کہ آپ غلط راستے پر ہیں، یا احساس ہونے کے باوجود آپ وہاں سے لوٹنے کی ہمت نہ کریں۔ ہمارے معاشرے میں، اور پوری دنیا میں، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو غلط راستوں پر چل رہے ہیں۔ کوئی لالچ کی وجہ سے، کوئی حسد کی وجہ سے، کوئی نا سمجھی کی وجہ سے، کوئی غلط صحبت کی وجہ سے، تو کوئی محض بے راہ روی کی وجہ سے۔ ان میں سے بہت سوں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
فکر کی بات یہ ہے کہ جب انسان غلط راستے پر چلتا ہے، تو وہ صرف خود کو ہی نہیں گراتا، بلکہ اس کے گرد و پیش کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ، ایک غلط قدم، نہ جانے کتنے گھروں کو اجاڑ دیتا ہے۔ ایک استاد جب غلط راستے پر چل پڑے، تو اس کی شاگردی کرنے والے بہت سے بچے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔ ایک تاجر جب غلط طریقے سے پیسہ کمانے لگے، تو اس کے ملازمین اور اس کے گاہک بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایک باپ یا ماں جب غلط راستے اپناتے ہیں تو پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔ ایک سیاستدان جب اصولوں کو بیچ دے، تو قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ اس غلطی، اس پچھتاوے کی دلدل سے کیسے نکلا جائے؟ کیسے اس کھوئی ہوئی زندگی کو دوبارہ بحال کیا جائے؟ یہ کوئی جادو کی چھڑی نہیں، بلکہ یہ ایک عمل ہے، ایک جدوجہد ہے، جس کے لیے بہت ہمت اور سچائی کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، اپنے آپ کو سچائی سے پہچانیے۔ جس دن آپ نے یہ مان لیا کہ ہاں، میں غلط تھا، میں غلط راستے پر چلا گیا، اس دن آدھی سے زیادہ جنگ جیت لی جاتی ہے۔ یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ہماری انا، ہمارا غرور ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم خود کو تسلیاں دیتے ہیں، ہم اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو جمع کر لیتے ہیں جو ہماری غلطیوں کو درست ثابت کریں، ہم وقت کو الزام دیتے ہیں، حالات کو الزام دیتے ہیں۔ لیکن جب تک آپ خود کو سچائی سے نہیں دیکھیں گے، آپ اس گڑھے سے باہر نہیں نکل سکتے۔
میرے مشاہدے کے مطابق، بہت سے لوگ اپنے پچھتائے ہوئے لمحوں میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ وہ آگے بڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس احساسِ جرم میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کا جینا مرنا برابر ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ درست نہیں۔ یاد رکھیے، غلطیاں پچھتانے کے لیے نہیں ہوتیں، وہ سبق سکھانے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں درد دینے کے لیے ہوتی ہیں جس سے ہم دوبارہ وہ غلطی نہ کریں یہ درد اس بات کی علامت ہے کہ آپ غلط راستے پر ہیں۔ یہ ایک انمول موقع ہے اپنی زندگی کو درست سمت میں لانے کا۔
دوسرا قدم ہے اصلاح کا عزم۔ صرف غلطی کا احساس کافی نہیں۔ آپ کو اس راستے سے واپس آنے کا پختہ ارادہ کرنا ہوگا۔ یہ ارادہ محض دل میں بس ایک خواہش نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ایک قسم کا عہد ہونا چاہیے، جو آپ اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ اس عہد میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کو اپنی پرانی غلطیوں کو دہرانا نہیں ہے۔ جن چیزوں نے آپ کو غلط راستے پر دھکیلا تھا، ان سے مکمل طور پر پرہیز کرنا ہوگا۔ اگر یہ لالچ تھا، تو آپ کو قناعت کا درس سیکھنا ہوگا۔ اگر یہ بری صحبت تھی، تو آپ کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی ہوگی۔ اگر یہ سستی اور کاہلی تھی، تو آپ کو محنت کا دامن تھامنا ہوگا۔
اس اصلاح کے عمل میں سب سے بڑی مشکل جو پیش آتی ہے، وہ ہے ماضی کا بوجھ۔ لوگ آپ کو آپ کی پرانی غلطیوں کی وجہ سے پہچانتے ہیں، آپ کے دوست، رشتے دار، معاشرہ آپ کو آسانی سے معاف نہیں کرتے۔ یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے، لیکن اسے عبور کرنا ناممکن نہیں۔ آپ کو صبر سے، سچائی سے، اور اپنی نیکی سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ بدل چکے ہیں۔ اکثر لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس دن وہ بدلنے کا فیصلہ کریں، اسی دن دنیا ان کے لیے پھول بچھا دے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کو اپنی زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ یہ ایک لمبا اور صبر آزما عمل ہے۔
یہاں میں ایک اور بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ غلط راستے سے واپس آئیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ گمنامی کی زندگی گزاریں۔ جو لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، وہ اکثر اور بھی مضبوط اور سمجھدار بن کر ابھرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں وہ گہرائی آ جاتی ہے، وہ ٹھہراؤ آ جاتا ہے جو محض سادگی اور سیدھے راستے پر چلنے والے کے پاس شاید نہ ہو۔ وہ دوسروں کے درد کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ خود اس سے گزرے ہوتے ہیں۔
تیسرا قدم، جو شاید سب سے مشکل ہے، وہ ہے معافی مانگنا اور تلافی کرنا۔ اگر آپ کی غلطیوں کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچا ہے، تو ان سے معافی مانگنا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔ اور اگر ممکن ہو، تو اس نقصان کی تلافی کی کوشش کریں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، خاص طور پر اگر وہ شخص آپ کو معاف کرنے کو تیار نہ ہو۔ لیکن پھر بھی، کوشش کرنا ہی وہ پہلا قدم ہے جو آپ کو گناہوں سے پاک کر سکتا ہے۔ جب آپ کسی کو دل سے معافی مانگتے ہیں، تو نہ صرف اسے سکون ملتا ہے، بلکہ آپ کے دل پر جو بوجھ ہوتا ہے، وہ بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔
اس تلافی کے عمل میں، آپ کو ایک اور چیز کا خیال رکھنا ہوگا۔ وہ ہے ہمت۔ لوگوں کے طعنے، ان کی باتیں، وہ سب کچھ آپ کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ وہ آپ کو یاد دلائیں گے کہ آپ کیسا کرتے تھے، آپ نے کیا غلط کیا تھا۔ یہ سب سن کر آپ کا دل ٹوٹ سکتا ہے، آپ مایوس ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کو اپنی ہمت کو مجتمع کرنا ہوتا ہے۔ آپ کو یاد دلانا ہوتا ہے کہ آپ یہ سب کچھ اپنے آپ کو سدھارنے کے لیے کر رہے ہیں، نہ کہ کسی اور کو خوش کرنے کے لیے۔
چوتھا قدم ہے اپنے ارد گرد کا ماحول درست کرنا۔ اگر آپ نے غلط راستہ اختیار کیا تھا تو بہت ممکن ہے کہ آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ہوں جو آپ کو اس راستے پر قائم رکھنا چاہتے ہوں، یا جو خود اسی راستے پر چل رہے ہوں۔ ان سے فاصلہ پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اکثر ہم انہی لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، اگر آپ نے اپنی زندگی کی گاڑی کو صحیح سمت میں چلانا ہے، تو آپ کو ان لوگوں سے دور ہونا پڑے گا جو اسے پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کیجیے، ایسے لوگ جو آپ کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک قول ہے کہ "انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے"، یعنی جس طرح کا آپ کا دوست ہوگا، ویسا ہی اثر آپ پر پڑے گا۔ تو اگر آپ نے زندگی کو سنوارنا ہے، تو ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کو بھلائی کی طرف راغب کریں، جو آپ کو اللہ کا خوف دلائیں، جو آپ کو صحیح راستے پر چلنے کی ترغیب دیں۔
پانچواں قدم ہے منفی سوچ کو مثبت میں بدلنا۔ اکثر جب آپ اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہیں، تو آپ خود کو بہت برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔اپنی ذات سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ درست نہیں۔ آپ نے غلطی کی، لیکن آپ کی ذات غلط نہیں تھی۔ انسان غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں موجود ہوتی ہیں۔ آپ کو اپنی نیکی پر توجہ دینی ہوگی، اپنی اچھائیوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔ خود کو یہ باور کروانا ہوگا کہ آپ میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ آپ سدھر سکتے ہیں۔
دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنی غلطیوں کے باوجود، اپنی زندگی میں کامیاب ہوئے، جنہوں نے تاریخ میں نام کمایا۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کو اپنے لیے ایندھن بنایا، نہ کہ اپنی شکست کا جواز۔ وہ مایوس نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے ہر ناکامی کو ایک سیڑھی بنایا۔
چھٹا قدم ہے اللہ پر بھروسہ اور دعا۔ جب آپ اپنی طرف سے پوری کوشش کر چکے ہوں، تو پھر اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیے۔ دعائیں مانگئے۔ اللہ سے رجوع کیجیے۔ انسان کی اپنی کوششیں کہاں تک جائیں گی؟ آخر کار، توفیق بھی اسی کی طرف سے ہے۔ اللہ سے مغفرت مانگیں، اللہ سے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق مانگیں۔ جب آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، تو آپ کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کسی چیز میں نہیں مل سکتا۔
پاکستانی معاشرے میں، ہم اکثر جلد بازی میں فیصلے کر لیتے ہیں۔ ہم جلد ہی کسی پر الزام لگا دیتے ہیں، اور خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی روح کو بلند کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود کو ان کمزوریوں سے آزاد کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیں پیچھے کھینچ رہی ہوتی ہیں۔
میں آپ کو آج یہ بتانا چاہتا ہوں کہ زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرتے ہیں۔ جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ صرف اپنی غلطیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ آپ میں وہ صلاحیت ہے کہ آپ ایک نئی، بہتر زندگی گزار سکیں۔
سوچیں، وہ پرندے جو پنجرے میں بند تھے، جب انہیں آزاد کر دیا جاتا ہے، تو وہ کس قدر خوشی سے اڑتے ہیں۔ ان کی وہ اڑان، وہ آزادی، وہ نئے آسمان کی تلاش، کیا وہ اس سے زیادہ خوبصورت کچھ اور ہو سکتا ہے؟ آپ بھی اسی طرح، اپنے پچھتائے ہوئے لمحوں کے قفس سے نکل کر، زندگی کے نئے آسمان کی طرف اڑ سکتے ہیں۔
آپ کی غلطیاں آپ کی شناخت نہیں ہیں۔ آپ کا وہ عزم، آپ کی وہ کوشش، آپ کا وہ سچا دل جو بدلنا چاہتا ہے، وہ آپ کی اصل شناخت ہے۔ اس شناخت کو پہچانیے، اسے نکھاریے، اور زندگی کے اس سفر کو ایک نئی روشنی سے منور کیجیے۔
یہ یاد رکھیے گا کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے۔ کبھی آپ صحیح راستے پر ہوں گے، کبھی آپ کو غلط راستے کا سامنا ہوگا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ ہمت نہ ہاریں، آپ اپنے آپ سے سچائی نہ چھپائیں۔ آپ اپنی غلطیوں سے سیکھیں، اور ہر روز ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کریں۔
وہ پچھتائے ہوئے لمحے، وہ اداسیاں، وہ احساسِ جرم، یہ سب گزر جائے گا۔ جب آپ سچائی، صبر، اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، تو آپ کو وہ سکون اور وہ اطمینان ملے گا جس کی آپ کو ہمیشہ تلاش تھی۔ آپ کی زندگی ایک نئی کہانی لکھے گی، ایک ایسی کہانی جو محض غلطیوں سے بھری ہوئی نہیں ہوگی، بلکہ ان غلطیوں سے سیکھ کر، بہتر بننے کی ایک شاندار مثال ہوگی۔
یہ کام آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ یہ آپ کی ہمت، آپ کے عزم، اور آپ کی سچائی کا امتحان ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس امتحان میں سرخرو ہوں گے۔ آپ کی زندگی کا نیا سورج طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو اندھیروں کو مٹا دے گا، اور آپ کو ایک نئی روشنی، ایک نئی امید، ایک نئی زندگی کی طرف لے جائے گا۔ بس قدم بڑھائیے، اور پیچھے مڑ کر مت دیکھیے، سوائے اس کے کہ آپ نے کیا سیکھا۔
Yes sir g we need to become resilient and learn from mistakes
جواب دیںحذف کریںAmazing..this column made my day .
جواب دیںحذف کریںجی ماشااللہ بہت اچھا کالم بندہ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ھے اللہ رب العزت کو معافی مانگنا بہت پسند ھے اور جلد معاف کرنے والا ھے معافیاں مانگتے رھو رحمتیں سمیٹتے رھو بس آپ کو شرک سے پاک ھونا چاہیے اللہ پاک خطاؤں کو معاف کرنے والا ھے آپ سے ایسی غلطی سرزد ھوئی ھے جو آپ کےلئے پچھتاوا بن رک رہ گئی ھے خدارا خالق کائنات کی رحمت سے مایوس نہ ھوں
جواب دیںحذف کریںرب تعالی سے سچے دل سے معافی مانگیں جب وہ معاف کرتا ھے تو وہی اپنے بندوں کے دلوں میں رحم ڈال دیتا ھے تو اس کے بندے بھی معاف کر دیتے ھیں ا ر آگے بڑھتے رہئے سر پر سوار کرنے سے آپکی زندگی رک سکتی ھے اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ مسلسل جان بوجھ کر غلطیاں
کرتے رہیں یہ سوچ کر کہ مالک معاف کردے گا یاد رکھیں جب ایسی پوزیشن آجاۓ تو اللہ رب العزت معافی مانگنے کی توفیق نہیں دیتا اللہ رب اكعزت آپکا حامی و ناصر ہو
والسلام
Yup we need to accept our mistakes
جواب دیںحذف کریںWhat a column sir g mind-blowing and unexpected things that's i never thought that happened from us but thank uh to told us what is right and what is wrong
جواب دیںحذف کریںYou are Apex♥️💫
Sir.we learn from our mistakes which done in past.A good person does not think their past mistakes,he or she stand in their life a good way.and thanks. You also gives us different ways how we correct our life.
جواب دیںحذف کریںNiyat saf ho to har rasta roshan ho sakta hai
جواب دیںحذف کریں