ہم سب کو "شاباش" کی ضرورت ہے
ہم سب کو "شاباش" کی ضرورت ہے
کالم از: سر جاوید بشیر
ایک غیر ملکی یونیورسٹی میں وہ شام کے وقت کھڑے تھے۔ ایک کونے میں ایک پروفیسر سگریٹ پی رہا تھا جس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور اکیلا پن تھا۔ کچھ دیر بات کرنے کے بعد پروفیسر نے پوچھا:
“آپ پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟”
انہوں نے جواب دیا:
“میں کالم لکھتا ہوں۔”
یہ سنتے ہی پروفیسر رُک گیا۔ اس نے فوراً ہاتھ میں پکڑی ہوئی سگریٹ نیچے پھینکی، اور تالی بجانا شروع کی اور دیر تک تالی بجاتا رہا۔ وہ بار بار داد دیتا رہا۔ یہ لمحہ تعریف کا تھا، یہ وہ لمحہ تھا جس میں ایک انسان کو اپنی قدر محسوس ہوئی۔ اور یہ کالم نگار کوئی اور نہیں بلکہ میرے استادِ محترم جناب جاوید چوہدری تھے۔وہ کہتے ہیں کہ اس پروفیسر کی وہ داد ہمیشہ ان کے دل میں رہی، وہ لمحہ ان کی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش لمحہ بن گیا۔
یہ واقعہ خود انہی کی تحریر سے لیا گیا ہے۔ میں نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مثال ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ دنیا کے کچھ خطوں میں انسان کی محنت کی پہچان اور کھلے دل سے تعریف کرنے کا رواج ہے۔ لیکن بدقسمتی سے تصویر کا دوسرا رخ پاکستان ہے، جہاں تعریف کے بجائے حسد کیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں اگر کوئی تعریف بھی کرے تو ایسے کہ جیسے طعنہ مار رہا ہو۔ کبھی ہم کہتے ہیں:
“ہاں، اچھا ہے مگر…”
“ہاں، کر تو لیتا ہے لیکن…”
ہماری سوسائٹی میں یہ بیماری جڑ پکڑ چکی ہے کہ لوگ تعریف ہمیشہ غیر موجودگی میں کرتے ہیں۔ سامنے جب انسان بیٹھا ہو تو یا تو تنقید کرتے ہیں یا پھر چپ رہتے ہیں۔
یاد رکھیے، جس طرح انسان کے جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسان کی روح کو ’’تعریف‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سچا اور دل سے کہا گیا لفظ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا “شاباش” کسی کے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے۔ ایک مختصر سی حوصلہ افزائی ایک نوجوان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آتی ہے۔
کہتے ہیں:
گرانے والے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں،
اصل انسان وہ ہے جو اٹھانے والا بنے۔
طعنہ دینا سب کو آتا ہے، اصل ہنر یہ ہے کہ اپنے لفظوں سے کسی کو خوشی دی جائے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ہم تعریف کیوں نہیں کرتے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خود اندر سے مطمئن نہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی دوسرا اچھا کام کر رہا ہے تو ہمارے دل میں چبھن سی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے اس کی تعریف کی تو ہماری اپنی حیثیت کم ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی کامیابی ہمارے مقام کو کم نہیں کرتی بلکہ معاشرے کو مضبوط بناتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم کسی کو سراہ لیں گے تو لوگ ہمیں اس سے کمتر سمجھیں گے۔ ہم نے گھروں میں اور اداروں میں تعریف کی روایت ہی ختم کر دی ہے۔ والدین اگر بچوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر سراہنا شروع کر دیں تو وہی بچے بڑے ہو کر دوسروں کو بھی حوصلہ دینا سیکھ جائیں گے۔ لیکن اگر گھر ہر وقت تنقید اور ڈانٹ ڈپٹ سے بھرا رہے تو بچے بھی یہی رویہ اپنا لیتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جن کی آنکھیں صرف اس لیے بھر آئیں کہ کسی نے دل سے ان کی تعریف کر دی۔ میں نے وہ نوجوان دیکھا جو رات دن محنت کرتا رہا، اور جب وہ کامیاب ہوا تو اس کے دوستوں نے حسد بھرے جملے کہنا شروع کر دیے۔ یہی رویے انسان کی روح کو توڑ دیتے ہیں۔
اصل میں تعریف صرف عزت افزائی نہیں بلکہ روشنی ہے۔ یہ ایک ایسا چراغ ہے جو دوسرے کے راستے کو روشن کرتا ہے۔ ایک چھوٹا سا جملہ کئی بار انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ استاد اگر کسی بچے کو صرف “شاباش” کہہ دے تو وہ بچہ خود اعتمادی سے آگے بڑھتا ہے اور بڑے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ ایک ادارے کا سربراہ اگر اپنے ملازم کی محنت کو مان لے تو وہ ملازم دن رات مزید لگن سے کام کرتا ہے۔
کیا یہ مشکل ہے کہ ہم کسی کی تعریف کر دیں؟ نہیں۔ یہ سب سے آسان کام ہے۔ مگر اس کے اثرات بڑے ہیں۔ اگر آج سے ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم ہر ہفتے ایک شخص کی کھل کر تعریف کریں گے تو سوچئے یہ ملک کی فضا کتنی بدل سکتی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بچوں کو، بازار میں دکاندار کو، دفتر میں کولیگ کو، اور سڑک پر ایک عام مزدور کو بھی دل سے داد دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے نہ سرمایہ چاہیے نہ طاقت، صرف نیت چاہیے۔
لیکن یاد رکھیے، تعریف ہمیشہ سچی ہونی چاہیے۔ جھوٹی تعریف کا اثر لمحاتی ہوتا ہے، دل سے نکلے ہوئے لفظ کا اثر زندگی بھر رہتا ہے۔ تعریف صرف خوشامد نہیں ہونی چاہیے بلکہ محنت، اخلاص اور سچائی پر ہونی چاہیے۔
ہمارے ملک کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اسی رویے کی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں، اپنے اداروں میں، اپنی سڑکوں اور گلیوں میں تعریف کی روایت ڈالنی ہوگی۔ ہمیں دوسروں کو گرنے کے بجائے اٹھانا ہوگا۔ ہمیں حسد کے بجائے خلوص اپنانا ہوگا۔
یاد رکھیے، آپ کا ایک جملہ، آپ کا ایک “شاباش” کسی کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑ سکتا ہے۔ آپ کا ایک لفظ کسی کی راتوں کی نیند بحال کر سکتا ہے۔ آپ کا ایک مسکرا کر کیا گیا اعتراف کسی انسان کی زندگی کا رخ موڑ سکتا ہے۔
آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم گرانے والوں میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ اٹھانے والے بنیں گے۔ ہم زخم دینے والے نہیں بلکہ مرہم رکھنے والے بنیں گے۔ ہم تنقید کرنے والے نہیں بلکہ حوصلہ دینے والے بنیں گے۔ اور ہم وہ قوم بنیں گے جس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ دوسرے کے دل کو زندگی دے گا، مایوسی نہیں۔
جب تک ہم ایک دوسرے کو حوصلہ دینا نہیں سیکھیں گے، ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ایک لفظ، ایک جملہ، ایک چھوٹی سی مسکراہٹ کسی کی دنیا بدل سکتی ہے۔ آئیے، آج یہ وعدہ کریں کہ ہم اپنی زبانوں سے دوسروں کو طاقت دیں گے۔ ہم زخم دینے والے نہیں، مرہم رکھنے والے بنیں گے۔ تو پھر کیوں نہ آج سے ہم اپنی زبانوں کو دل جیتنے کے لیے استعمال کریں؟
آئیے، آج ہم گرانے والوں میں نہیں بلکہ اٹھانے والوں میں شامل ہوں۔ ہماری زبان میں وہ طاقت ہے جو کسی کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑ سکتی ہے۔
A praising can change the life of a person really sir g ☺️
جواب دیںحذف کریںGreat
جواب دیںحذف کریںSuch a greatest column sir g mujhy yakeen ha koi glt insaan apky pas aye ap osy sahi better perfect bna kr hi bhjy gyyy
جواب دیںحذف کریںSir g you are perfect really you're too different from others and your thinking power and side of ⭐✨positivity Hits different
ماشااللہ جاوید صاحب بہت اچھا کالم بات نیت کی ھوتی ھے اگر آپ نے اچھا لکھا ھے تو آپ کو شاباش دینا آپ کا حق ھے آپ پر کوئی احسان نہیں ھے اگر میرے شاباش دینے سے آپ کو مذید قوت ملی ھے تو مجھے رب تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے اللہ رب اعزت نے مجھے آپ کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنایا اور آپ کی وجہ سے میری بھی عزت میں اضافہ ہوا جاوید صاحب یہ جو آپ ئرے جواب کی تعریف کرتے ھیں یہ آپ کے اچھے کالم کی وجہ سے ھی اچھا جواب ھے پتانہیں لوگ کیوں نہیں سمجھتے
جواب دیںحذف کریںاصل میں چھوٹی ذہنیت کے لوگ ہیں وہ جو سوچتے ہیں کہ ہماری قدر گم ھوگی
قانون قدرت ھے کہ آپ کسی کو عزت دیں آپ کو عزت ملے گی وہ لوگ عزت لینے کی بجاۓ ذلت ھی لیتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کو دوسروں کیلئے اچھا سوچنے توفیق عطا فرماۓ آمین یارب العالمین
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریں