خود سے جنگ


خود سے جنگ

کالم از: سر جاوید بشیر

میں اکثر سوچتا ہوں کہ زندگی کو اگر ایک میدانِ جنگ کہا جائے تو یہ بات غلط نہ ہوگی۔ لیکن اس میدان میں ہمارا اصل مقابلہ کسی اور سے نہیں ہوتا۔ نہ وہ ہمارے دوستوں سے ہوتا ہے، نہ رشتے داروں سے، نہ ہمسایوں سے اور نہ ہی کسی اجنبی انسان سے۔ اصل مقابلہ تو ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے,اور یہ خود اپنے آپ سے ہوتا ہے۔ اور یہی سب سے سخت، سب سے کٹھن اور سب سے تھکا دینے والا مقابلہ ہے۔


ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دوسرے بچوں سے بہتر پڑھنا ہے، امتحان میں ان سے آگے نکلنا ہے، کسی دوست سے زیادہ نمبر لینا ہیں۔ کھیل میں جیتنے کے لیے دوسروں کو ہرانا ہے، نوکری میں کامیاب ہونے کے لیے دوسروں کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ گویا ہمیں ساری عمر یہ بتایا گیا کہ کامیابی دوسروں کو ہرانے کا نام ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان خود کو ہرا سکے۔ اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکے۔ اپنے اندر چھپے دشمن کو شکست دے سکے۔


یہ جنگ باہر کی دنیا کی جنگ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ باہر کا دشمن تو کبھی سامنے آ بھی جاتا ہے، اس کا ہتھیار نظر آتا ہے، اس کا وار محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اندر کا دشمن، وہ خاموش، وہ چھپا ہوا، وہ ہمیں لمحہ بہ لمحہ کمزور کرتا رہتا ہے اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔ کبھی یہ دشمن منفی خیالات کی صورت میں آتا ہے، کبھی شک کی صورت میں، کبھی سستی اور کاہلی کے پردے میں، اور کبھی عیش و آرام کے میٹھے زہر کی شکل میں۔


منفی خیالات کا حملہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی دل کہتا ہے: "کچھ نہیں ہوسکتا۔ آج کا دن بھی ویسا ہی ہوگا۔ میں ناکام ہوں، میری قسمت خراب ہے۔" یہ خیالات دیمک کی طرح ہیں۔ یہ آپ کی ہمت، آپ کی سوچ، آپ کی روح سب کچھ چاٹ جاتے ہیں۔ اور اگر آپ نے ان خیالات کو شکست نہ دی تو یقین جانیے، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیاب نہیں بنا سکتی۔ اصل مقابلہ یہی ہے کہ آپ ان خیالات کو آنے کے ساتھ ہی جھٹک دیں، ان کے سامنے ڈٹ جائیں، اور اپنے دل کو امید کے پانی سے بھر دیں۔


پھر آتا ہے دوسرا دشمن: خود پر شک۔ یہ سب سے بڑا قاتل ہے۔ کتنے ہی خواب، کتنے ہی منصوبے، کتنی ہی خوبصورت خواہشیں صرف اس لیے دفن ہو جاتی ہیں کہ انسان نے خود پر یقین نہیں کیا۔ وہ سوچتا ہے: "کیا میں کر پاؤں گا؟ اگر ناکام ہوگیا تو؟ لوگ ہنسیں گے تو؟" یہ "اگر" اور "مگر" کے لفظ وہ زنجیریں ہیں جو انسان کے پاؤں میں باندھ دی جاتی ہیں۔ کامیاب انسان وہ ہے جو ان زنجیروں کو توڑ کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ اپنے دل کو کہتا ہے: "اگر سب کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟ اگر دنیا بدل سکتی ہے تو میری دنیا کیوں نہیں بدل سکتی؟"


تیسرا دشمن ہے عادات۔ وہ عادات جو وقت کو ضائع کرتی ہیں۔ موبائل پر گھنٹوں سکرول کرنا، فضول باتوں میں وقت گنوانا، ٹال مٹول کرنا، کام کو کل پر ڈال دینا۔ یہ سب وہ چھوٹے چھوٹے کانٹے ہیں جو انسان کے سفر کو روک دیتے ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ یہ چھوٹی باتیں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی انہی چھوٹی باتوں کا مجموعہ ہے۔ جو انسان اپنے وقت کو قابو میں کر لیتا ہے، وہ دنیا کو قابو میں کر لیتا ہے۔ اصل مقابلہ یہ ہے کہ آپ اپنی ان عادات کو بدل سکیں، اپنے وقت کی حفاظت کر سکیں، اور اپنی توانائی کو صحیح راستے پر لگا سکیں۔


چوتھا دشمن ہے کمفرٹ زون(Comfort Zone)۔ یہ سب سے میٹھا زہر ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، جو مل گیا ہے وہ کافی ہے۔ نئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ خطرہ مول لینے کی ہمت نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترقی ہمیشہ کمفرٹ زون کے باہر ہوتی ہے۔ جیسے پودا زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتا ہے، جیسے پرندہ گھونسلے سے باہر نکل کر اڑان سیکھتا ہے، ویسے ہی انسان کو بھی اپنےکمفرٹ زون کو توڑنا پڑتا ہے۔ ورنہ زندگی وہی رہتی ہے، اور خواب صرف خواب ہی رہ جاتے ہیں۔


اصل کامیابی تب ہے جب آپ ان سب دشمنوں کو شکست دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے دل کو یقین سے بھرتے ہیں، اپنے دماغ کو مثبت سوچوں سے بھر دیتے ہیں، اپنے وقت کو قیمتی سمجھ کر اس کی حفاظت کرتے ہیں، اور اپنے کمفرٹ زون کو توڑ کر نئے راستوں پر چلتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ اپنی اصل طاقت کو دریافت کرتے ہیں۔


یاد رکھیں، اللہ نے ہر انسان کو انمول صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کے پاس ہنر ہے، کسی کے پاس علم ہے، کسی کے پاس قوتِ فیصلہ ہے، کسی کے پاس محبت اور خدمت کا جذبہ ہے۔ لیکن یہ سب تب کھلتا ہے جب انسان اپنے اندر کے دشمن کو شکست دیتا ہے۔


میں نے زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا۔ کچھ ایسے جو دوسروں سے آگے نکلنے کے چکر میں اپنی ہی ذات کو ہار گئے۔ اور کچھ ایسے بھی جو دوسروں سے پیچھے رہے، لیکن اپنے اندر کی جنگ جیت گئے۔ اور یہی اصل فاتح تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی ذات کو سنوارا، اپنے کردار کو بہتر بنایا، اپنی روح کو مضبوط کیا۔ دنیا کے مقابلے میں نہیں، خود کے مقابلے میں جیتنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔


یاد رکھیں، یہ جنگ روز کی ہے۔ آج بھی، کل بھی، اور آنے والے ہر دن بھی۔ ہر صبح جب آپ اٹھتے ہیں تو آپ کے سامنے یہی سوال ہوتا ہے: "کیا آج میں اپنے اندر کے دشمن کو شکست دوں گا یا ہار مان لوں گا؟" اور جس دن آپ نے اپنے آپ کو ہرا دیا، اپنے خوف، اپنی سستی، اپنے منفی خیالات کو دبا دیا، وہی دن آپ کی اصل کامیابی کا دن ہوگا۔لہٰذا، اپنی اصل جنگ دوسروں سے نہیں، بلکہ خود اپنے آپ سے لڑیں۔ جو شخص یہ جنگ جیت لیتا ہے، وہ حقیقت میں دنیا کی

 ہر جنگ جیت لیتا ہے۔



تبصرے

  1. MashaAllah MashaAllah sir g today's different things you taught us Thank uh so much

    جواب دیںحذف کریں
  2. A good column sir g this way gives us new courage
    Sir g please write a column: how we can rid of unnecessary wishes please

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes today column is very interesting and informative May Allah give you more blessings Ameen! ❤️‍🔥

    جواب دیںحذف کریں
  4. Today's column is very interesting and informative. May Allah gives us more blessings.It is also blessing you write informative column. for us..Thanks alot Sir ggg write more columns for us. We are with you!!!!, ❤️‍🔥😊💖

    جواب دیںحذف کریں
  5. Excellent. You give us an informative column. It's a bitter reality that you explain in a different manner. Allah grant us the power to act upon.

    جواب دیںحذف کریں
  6. Ya column hama asal kamyabi ka bara ma guide kr raha isa prh kr hama khud pr kam krna ka muqa mila ga ma sir javed ka Shukriya ada krna chaho ga kiyoka inho na mujha zandgi ki asal kamyabi khud sa jung ka bara ma bataya .columnist sir javed sa razi ho .

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein