ججمنٹ

ججمنٹ

کالم از: سر جاوید بشیر

میں نے اپنی زندگی میں ایک بات بہت گہری محسوس کی ہے کہ ہم سب کے دلوں میں ایک چھوٹا سا جج بیٹھا ہے۔ یہ جج کمرہ عدالت کا نہیں ہوتا، یہ ہمارے دماغ کے کونے میں بیٹھا ہر وقت دوسروں پر فیصلہ سنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی کے لباس پر، کبھی کسی کی غربت پر، کبھی کسی کی زبان یا لہجے پر۔ ہم چند لمحوں میں پورے انسان کی کہانی لکھ دیتے ہیں، جیسے ہم سب کچھ جانتے ہوں۔ یہی ہے "ججمنٹ"، اور یہی ہے وہ خاموش زہر جو ہمارے معاشرے کو دن بہ دن کھوکھلا کر رہا ہے۔

 یہاں اگر کوئی اچھا لباس پہن لے تو کہا جاتا ہے، "ضرور حرام کے پیسے ہوں گے۔" اگر کوئی سادہ کپڑوں میں ہو تو طعنہ دیا جاتا ہے، "یہ تو بالکل بے وقوف لگ رہا ہے۔" اگر کوئی خاموش رہے تو کہا جاتا ہے، "یہ مغرور ہے۔" اگر زیادہ بات کرے تو کہہ دیا جاتا ہے، "یہ حد سے زیادہ بولتا ہے۔" یعنی جو بھی کرے، فیصلہ تیار ہے۔ اور یہ فیصلے اکثر تعریف کے لبادے میں لپٹے طنز ہوتے ہیں۔


لیکن اصل سچ یہ ہے کہ دوسروں کو جج کرنے سے ہم خود کو تباہ کر رہے ہیں۔ جب ہم دوسروں کو کم تر سمجھتے ہیں تو اپنے اندر ایک جھوٹی برتری پیدا کر لیتے ہیں۔ اس برتری کا نشہ ہمیں اپنی خامیوں سے اندھا کر دیتا ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے قصے لکھنے میں لگے رہتے ہیں، لیکن اپنی زندگی کی کتاب پڑھنے کا وقت نہیں نکالتے۔


ججمنٹ سب سے پہلے ہمدردی کو مارتا ہے۔ ہم انسان کو انسان نہیں دیکھتے بلکہ ایک لیبل لگا دیتے ہیں۔ "یہ غریب ہے"، "یہ نکما ہے"، "یہ دنیا دار ہے"، "یہ گنہگار ہے۔" اور یوں ہم اس کے دکھ، اس کے خواب اور اس کی جدوجہد کو سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔


پھر یہ رویہ ہمیں تنہا بھی کر دیتا ہے۔ لوگ ایسے شخص سے دور ہو جاتے ہیں جو ہر وقت دوسروں پر نظر رکھتا ہے۔ وہ چپ رہتے ہیں، لیکن دل میں سوچتے ہیں کہ "کل یہ ہمیں بھی پرکھے گا۔" اور یوں ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے رشتوں کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔


سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم دوسروں سے سیکھنے کے مواقع کھو دیتے ہیں۔ ہر انسان کے پاس کوئی نہ کوئی سبق ضرور ہوتا ہے، لیکن جب ہم اسے پہلے ہی "غلط" قرار دے دیتے ہیں تو اس کے تجربے کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں میں وہی خامیاں ڈھونڈتے ہیں جو ہمارے اندر چھپی ہوتی ہیں۔ جس چیز پر ہم سب سے زیادہ اعتراض کرتے ہیں، اصل میں وہی ہماری اپنی کمزوری ہوتی ہے۔


لیکن سوال یہ ہے کہ اس زہر سے نجات کیسے پائی جائے؟ اس کا جواب بھی سادہ ہے، مگر تھوڑا صبر مانگتا ہے۔


سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ جب بھی آپ خود کو دوسروں پر فیصلہ سناتے دیکھیں، اپنے دل سے پوچھیں: "کیا ہو اگر میں غلط ہوں؟" یہ ایک چھوٹا سا سوال آپ کے دماغ کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے جسے آپ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس کے پیچھے کوئی ایسی کہانی ہو جس کا آپ کو علم ہی نہ ہو۔


دوسرا قدم یہ ہے کہ اپنی توجہ دوسروں سے ہٹا کر خود پر ڈالیے۔ جب آپ محسوس کریں کہ آپ کسی کو جج کر رہے ہیں، تو اپنے دل سے پوچھیں: "میں نے یہ کیوں سوچا؟ یہ میرے بارے میں کیا بتاتا ہے؟" اکثر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا فیصلہ دوسرے کے بارے میں کم اور ہمارے اپنے زخموں کے بارے میں زیادہ ہے۔


تیسرا قدم یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں ججمنٹ کرنے کے بجائے تجسس پیدا کیجیے۔ ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کیجیے، سوال کیجیے، ان کی کہانی سننے کی ہمت پیدا کیجیے۔ انسانوں کو سمجھنے کی عادت ڈالیے، نہ کہ ان پر لیبل لگانے کی۔


یاد رکھیے، گرانے والے تو بہت ہیں، اٹھانے والے بن جائیے۔ طنز کرنے والے ہر طرف مل جائیں گے، لیکن وہ الفاظ جو کسی کے اندر زندگی بھرتے ہیں، وہ صرف بڑے دل والوں کے پاس ہوتے ہیں۔ انسان کے جسم کو کھانے کی ضرورت ہے، لیکن اس کی روح کو حوصلے اور تعریف کی۔ ایک نرم جملہ، ایک ہمدرد نظر، ایک پیار بھرا لمس… یہ سب کسی کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔


اگر ہم دوسروں کو جج کرنے کے بجائے سمجھنا شروع کر دیں تو معاشرہ بدل جائے گا۔ اگر ہم طنز کے بجائے حوصلہ دیں تو لوگ کھل کر سانس لیں گے۔ اور اگر ہم اپنے دل کو بڑا کر لیں تو ہمارا اپنا وجود بھی سکون سے بھر جائے گا۔

اصل بات یہی ہے کہ ججمنٹ چھوڑنا صرف دوسروں کے لیے نہیں، یہ ہماری اپنی روح کی شفا کے لیے بھی ہے۔ اور شاید یہی سب سے بڑی نیکی ہے کہ ہم کسی کو اس کی کمزوری سے نہ تولیں، بلکہ اس کے انسان ہونے کا حق دیں۔اصل بات تو یہی ہے، کہ دوسرے کو پرکھنا چھوڑنا صرف اُس کے لیے احسان نہیں، یہ ہماری اپنی روح کو آزاد کرنے جیسا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہمارے دل پر پڑی گندگی کی تہہ ہٹ جائے اور اس میں ٹھنڈی ہوا داخل ہو۔ جب ہم کسی کو اس کی کمزوریوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں، تو ہم ایک بڑی نیکی کا دروازہ کھولتے ہیں۔ یہ نیکی شاید نمازوں اور روزوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ یہ انسانیت کا اصل سبق ہے۔ یہ دراصل یہ سمجھ لینا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر ایک پوری کہانی چھپائے بیٹھا ہے، اور ہمیں اس کی کہانی کا ایک صفحہ پڑھ کر پوری کتاب کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حق دینا ہے کہ وہ انسان ہے، اور اسے غلطی کرنے کا، گرنے کا اور دوبارہ اٹھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ 

جب ہم یہ حق دیں گے تو نہ صرف دوسرا سکون میں آئے گا بلکہ ہماری روح کو بھی پرواز کا موقع ملے گا۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein