انکار کی طاقت

انکار کی طاقت

کالم از: سر جاوید بشیر


  ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ ان کا معمول تھا کہ ہر روز شام کو مسجد کے باہر بیٹھ کر لوگوں کی باتیں سنتے، ان کے مسائل سلجھاتے اور انہیں دینی رہنمائی عطا کرتے۔ ایک روز، ان کے پاس ایک نوجوان آیا، اس نے عرض کیا، "حضرت، لوگ مجھ سے بہت کام کہتے ہیں، ایسے کام بھی جنہیں میں کرنا نہیں چاہتا، یا جن کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہوتا۔ مگر جب میں انکار کرتا ہوں، تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ کیا کروں؟"


حضرت مسکرائے، اور فرمایا، "بیٹے، تم نے ایک بہت اہم بات پوچھی ہے۔ سنو، ہماری زندگی دو لفظوں کے گرد گھومتی ہے – 'ہاں' اور 'نہیں'۔ مگر ہم نے 'ہاں' کو اتنی اہمیت دے دی ہے کہ 'نہیں' کا مطلب گناہ بن گیا ہے۔"


پھر انہوں نے ایک قصہ سنایا کہ کیسے ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا، "تم نے میرا یہ کام کیوں نہیں کیا جو میں نے تمہیں کہا تھا؟" وزیر نے کہا، "حضور، میں کر تو سکتا تھا، مگر مجھے لگا کہ یہ آپ کی شان کے خلاف ہو گا۔" بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، "یعنی تم نے میرا حکم نہیں مانا؟" وزیر نے ادب سے کہا، "بادشاہ سلامت، میں نے آپ کا حکم اس لیے نہیں مانا کہ میں نے آپ کی شان کا خیال رکھا۔ 


حضرت نے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا، "سمجھے بیٹے؟ 'نہیں' کہنا بھی کبھی کبھی 'ہاں' کہنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ 'نہیں' کہنا خود کو، اپنی صحت کو، اپنے سکون کو، اور اپنی زندگی کو 'ہاں' کہنا ہے۔"


یہ قصہ آج کے دور میں بھی اتنا ہی سچ ہے، بلکہ شاید آج کے دور کی تیز رفتار زندگی میں اس کی ضرورت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہم سب، چاہے وہ شہر کا باشندہ ہو یا گاؤں کا، چاہے وہ طالب علم ہو یا صاحبِ کار، ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جہاں "ہاں" کہنا ہماری مجبوری اور "نہیں" کہنا ہمارا جرم بن گیا ہے۔


ہماری تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوئی ہے کہ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ "ہاں" کہنا تہذیب ہے، اخلاق ہے، محبت ہے۔ اگر کوئی بڑا کوئی بات کہے، تو فوراً سر ہلا دو۔ اگر کوئی دوست کسی غلط کام میں ساتھ مانگے، تو انکار کر کے اسے ناراض نہ کرو۔ اگر کوئی رشتہ دار کوئی عجیب و غریب مطالبہ کرے، تو اس کی تعظیم میں سر خم کر دو۔ اور اگر دفتر میں باس کوئی اضافی کام دے دے، یا ایسا کام جس کی آپ کی تنخواہ یا عہدے سے کوئی نسبت ہی نہ ہو، تو بھی چپ چاپ کر لو۔

ہم نے "ہاں" کہنا سیکھ لیا ہے، "نہیں" کہنا بھول گئے ہیں۔ ہماری ہاں ہمارے لیے زہر بن گئی ہے۔ ہم اپنے دوست کی غلط بات پر ہاں کر دیتے ہیں، رشتے دار کے بے جا مطالبے پر ہاں کر دیتے ہیں، دفتر میں اپنے حق سے زیادہ کام کے لیے ہاں کر دیتے ہیں۔ یہ ہاں ہمیں اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔


یہ "ہاں" کا ایک ایسا بوجھ ہے جو ہمارے کندھوں پر لاد دیا گیا ہے، اتنا بھاری کہ ہماری اپنی زندگی، ہماری اپنی خواہشیں، ہمارے اپنے خواب، سب اس بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ 


اس کی سب سے بڑی وجہ ہے خوف۔ تعلق ٹوٹنے کا خوف یہ شاید سب سے بڑا خوف ہے۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے کسی کو "نہیں" کہہ دیا، تو وہ ہم سے دور ہو جائے گا۔ وہ ہمارے ساتھ بات کرنا بند کر دے گا۔ یہ سوچ ہی ہمیں بے بس کر دیتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا وجود، ہماری اہمیت، دوسروں کی "ہاں" میں ہی ہے۔

 ہم سب چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں اچھا سمجھے۔ کوئی ہمیں خودغرض، بدتمیزنہ کہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ انکار کرنے سے ہماری شخصیت پر داغ لگ جائے گا۔ لوگ کہیں گے، "دیکھو، یہ تو مانتا ہی نہیں، بڑا عجیب ہے۔" یہ خواہش کہ ہر کوئی ہمیں پسند کرے، ہمیں "نہیں" کہنے سے باز رکھتی ہے۔

 ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے ہر کسی کی ہر بات پر "ہاں" کہنا چھوڑ دیا، تو وہ سب لوگ جو آج ہماری زندگی کا حصہ ہیں، وہ سب ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ 


یہ خوف، یہ وہ بیڑیاں ہیں جو ہمیں جکڑ لیتی ہیں۔ ہم اپنی خوشی، اپنا سکون، اپنی صحت تک کو قربان کر دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ کوئی برا نہ مانے۔ ہم دوسروں کی دنیا میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ اپنی دنیا بنانا ہی بھول جاتے ہیں۔

یقین جانیے، "نہیں" کہنا صرف ایک لفظ نہیں ہے۔ یہ آپ کی خود کی شناخت کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنی زندگی کے مالک ہیں۔

 جب آپ "نہیں" کہتے ہیں، تو آپ دراصل اپنی حدود متعین کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی برداشت کہاں تک ہے، آپ کا وقت کتنا قیمتی ہے، اور آپ کس چیز کو قبول کر سکتے ہیں اور کس کو نہیں۔ یہ آپ کی خودداری کا پہلا قدم ہے۔ آپ بتاتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں کون کتنا دخل دے گا، یہ فیصلہ آپ کا اپنا ہوگا۔

 ذرا سوچیں، جب آپ کسی کام کو دل سے نہیں کرنا چاہتے، مگر مجبوری میں کر لیتے ہیں، تو آپ کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے؟ ایک عجیب سی بے چینی، ایک ناگواری، ایک سر درد۔ جب آپ دل سے "نہیں" کہہ دیتے ہیں، تو آپ اس ناگواری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ آپ کو سکون ملتا ہے۔ آپ کا دماغ کہتا ہے، "شاباش! میں نے صحیح فیصلہ کیا۔" یہ ذہنی سکون کسی دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔

 ہمارا وقت، ہماری توانائی، ہماری خوشی، یہ سب انمول خزانے ہیں۔ جب ہم ہر کسی کی ہر بات پر "ہاں" کرتے ہیں، تو ہم ان خزانوں کو فضول کاموں پر لٹا دیتے ہیں۔ "نہیں" کہنا ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم سوچ سکیں کہ ہمارے لیے واقعی اہم کیا ہے۔ ہم اپنی ترجیحات کو سمجھ سکیں، اور ان پر اپنی توانائیاں صرف کر سکیں۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "نہیں" کہنا ہے کیسے؟ کیا اسے تلخ لہجے میں، غصے سے کہنا ہے؟ بالکل نہیں! "نہیں" کہنے کا بھی ایک فن ہے۔

 "نہیں" کو کبھی تلوار کی طرح استعمال نہ کریں۔ اسے محبت، مہذ ب اور نرم لہجے میں پیش کریں۔ جیسے، "میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں، اور آپ کی مشکل سے واقف ہوں۔ مگر بدقسمتی سے، اس وقت میرے لیے یہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔" یا "میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں، مگر میرا اپنا بھی کچھ کام ہے جو مجھے ابھی کرنا ہے۔" 

 آپ کو ہر "نہیں" کی لمبی چوڑی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔ اکثر اوقات، لوگ صرف یہ سننا چاہتے ہیں کہ آپ نے ان کی بات سنی۔ ایک مختصر، سچا اور مہذب جواب کافی ہوتا ہے۔ زیادہ وضاحت دینے سے وہ مزید اصرار کر سکتے ہیں یا آپ کی کمزوری ڈھونڈ سکتے ہیں۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کو خود پر اعتماد ہو۔ یہ آپ کی زندگی ہے۔ آپ کو اپنی مرضی، اپنی حدود، اور اپنی ترجیحات کا حق ہے۔ جب آپ اس بات کو دل سے مان لیں گے کہ آپ کو "نہیں" کہنے کا پورا حق ہے، تو یہ کہنا آسان ہو جائے گا۔ آپ کا ضمیر آپ کا ساتھ دے گا۔

آج ایک بات اپنے دل میں بٹھا لیجیے۔ وہ رشتہ جو صرف آپ کی "ہاں" پر قائم ہے، وہ سچا رشتہ نہیں ہے۔ وہ محض مفاد پر مبنی ایک مجبوری کا رشتہ ہے۔ حقیقی رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آپ سچ کہہ سکیں، جہاں آپ اپنی حدود بتا سکیں، اور جہاں دوسرا آپ کی مجبوری کو سمجھے۔


"نہیں" کہنا آپ کی خود اعتمادی کی بنیاد ہے۔ یہ آپ کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کی زندگی کی کمان آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جب آپ یہ کمان سنبھال لیتے ہیں، تو آپ اپنی زندگی کو اس سمت میں لے جا سکتے ہیں جس سمت میں آپ جانا چاہتے ہیں، نہ کہ اس سمت میں جس سمت میں دوسرے آپ کو دھکیلنا چاہتے ہیں۔


تو آج ہی اپنے دل کی سنیے۔ اپنے اندر کی آواز کو پہچانیں۔ اور جب ضرورت ہو، تو پورے اعتماد کے ساتھ، پورے پیار اور مہذ ب انداز میں "نہیں" کہیں۔ یاد رکھیے، آپ کی زندگی بہت قیمتی ہے۔ اسے دوسروں کی خواہشات کے لیے قربان نہ کریں۔ اپنی زندگی کے مالک بنیں، اور "نہیں" کہنے کی طاقت کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی بہت قیمتی ہے اور آپ ہی اس کے اصل مالک ہیں۔

"نہیں" کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو چھوڑ دیں۔ رشتے ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہیں۔ کچھ رشتوں میں "نہیں" کی بجائے، "ذرا رُکیں" کہنا سیکھیں۔ جب آپ کسی قریبی کو یہ کہتے ہیں کہ "مجھے تھوڑا وقت دو"، تو آپ تعلق کو کمزور نہیں، بلکہ اسے مضبوط بناتے ہیں۔ آپ اپنے لیے سکون اور دوسرے کے لیے احترام پیدا کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، "نہیں" کی طاقت خود

 کو بچانا ہے، دوسروں کو گنوانا نہیں۔


تبصرے

  1. A great column
    Really sir g we always hesitate for saying 'no' but it's not a good thing

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشاءاللہ سر جی بہت کمال لکھا ہے آپ نے یہ کالم، اللہ آپ کے علم میں اضافہ کرے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. Woww sir it's a different column from others and plz make more columns for our personalities
    And in this column you said that
    "No"
    We made it a brutal word if anyone says this then negative thoughts started and passage of time her or his image of our heart in the hate way
    But we should to understand k Yeh lafz bura nahi ha Hum Apni souch ko badly then we will become a strong person
    We should to understand others problem also but in our society if a person neglected you then ...... Bs

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein