دل بڑا رکھیں: یہی زندگی کا اصل سکون ہے
دل بڑا رکھیں: یہی زندگی کا اصل سکون ہے
کالم از: سر جاوید بشیر
یہ کہانی بغداد کے ایک درویش کی ہے۔ ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص نے اس پر آواز کس دی۔ اس نے طنزیہ جملے کہے، اس کی شکل پر ہنسی اڑائی۔ لوگوں نے سوچا اب درویش غصے میں آئے گا، کوئی سخت جواب دے گا، یا شاید لڑائی ہو جائے گی۔ مگر درویش نے صرف اتنا کہا "یہ اس کی زبان کی کمزوری ہے، میری عزت رب کے ہاتھ میں ہے۔" اور پھر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ یہی فرق ہے بڑے دل والے اور چھوٹے دل والے انسان میں۔ بڑے دل والے انسان دوسروں کے لفظوں کو اپنے اوپر بوجھ نہیں بناتے، بلکہ ان کو دوسروں کے کردار کی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ ہم ہر بات کو اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں۔ اگر کوئی کچھ کہہ دے، ذرا سی تنقید کر دے، یا ذرا سا طنز کر دے تو ہم اندر ہی اندر جلنے لگتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کا کہا ہوا جملہ ہماری اصل عزت یا بے عزتی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ہماری عزت ہمارے کردار سے ہے، ہماری نیت سے ہے، ہمارے عمل سے ہے۔
لیکن ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ محفل میں کوئی ہمیں نظر انداز کر دے تو ہم رات بھر سوچتے رہتے ہیں۔ کوئی رشتے دار ہمیں "حسبِ توقع" عزت نہ دے تو ہم دل میں کینہ پال لیتے ہیں۔ کوئی ساتھی ہمارے بارے میں بات کر دے تو ہم مہینوں تک اس کا بدلہ لینے کے طریقے سوچتے ہیں۔ ہم نے دل چھوٹا کر لیا ہے، اسی لئے زندگی تنگ ہو گئی ہے۔
آپ سوچیں… اگر ہم ہر لفظ، ہر جملہ اور ہر طنز کو اپنا مسئلہ بنا لیں تو ہمارا دل سکون کہاں پائے گا؟ انسان دوسروں کے منہ بند نہیں کر سکتا، مگر اپنے دل کو بڑا ضرور کر سکتا ہے۔ اور جس دن دل بڑا ہو جائے، اس دن زندگی کا بوجھ آدھا ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں! اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی میں خوش رہیں تو دوسروں کے جملوں کو اپنی ذاتی توہین نہ سمجھیں۔ ہر جملہ بولنے والے کے کردار کا آئینہ ہے، آپ کے قد کا نہیں۔ کم ظرف انسان جب کسی انسان کو گالی دیتا ہے، طنز کرتا ہے یا اس پر تنقید کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی چھوٹی سوچ کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ بڑے انسان کبھی ایسے چھوٹے جملوں کو دل پر نہیں لیتے۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور عجیب بات ہے۔ ہم تعریف کو بھی طنز سمجھ لیتے ہیں۔ اگر کوئی کہے "آپ تو بہت اچھے لگ رہے ہیں" تو فوراً شک کرتے ہیں کہ شاید یہ مذاق اڑا رہا ہے۔ کوئی کہے "آپ تو بہت ذہین ہیں" تو ہم سوچتے ہیں کہ شاید یہ دل میں کچھ اور بات چھپا رہا ہے۔ ہم نے اتنا زیادہ منفی سوچ لیا ہے کہ ہمیں اچھے لفظوں میں بھی برائی نظر آنے لگتی ہے۔ یہ دل چھوٹے ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
دل بڑا رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حق کی بات نہ کریں یا ظلم پر خاموش رہیں۔ نہیں، دل بڑا رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنی انا کو پاؤں تلے روند دیں۔ دوسروں کے طنز، باتوں اور تنقید کو اپنی راتوں کی نیند خراب کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے دیہات اور شہروں میں کتنے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں کے رشتے توڑ دیتے ہیں۔ بھائی بھائی سے بات نہیں کرتا، بہن بہن سے دور ہو جاتی ہے، دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ اور جب وجہ دیکھی جائے تو صرف یہی نکلتی ہے کہ "اس نے فلاں محفل میں میری بے عزتی کر دی تھی" یا "اس نے فلاں جملہ بول دیا تھا"۔ سوچنے کی بات ہے… کیا ایک جملہ ہماری زندگی کے سارے رشتے توڑ دینے کے قابل ہے؟
دل بڑا رکھیں۔ زندگی بہت چھوٹی ہے۔ اگر ہر بات کو دل پر لگائیں گے تو یہ زندگی اور بھی چھوٹی لگے گی۔
یاد رکھیں! عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر دنیا کے سارے لوگ آپ کے خلاف بولیں، لیکن رب آپ سے راضی ہے، تو کوئی آپ کو ذلیل نہیں کر سکتا۔ اور اگر دنیا کے سارے لوگ آپ کی تعریف کریں، لیکن رب آپ سے ناراض ہے، تو وہ تعریف ایک لمحے کی بھی وقعت نہیں رکھتی۔
آپ کو خوش رہنا ہے تو ایک اصول اپنا لیں: "کسی بھی جملے کو ذاتی توہین نہ سمجھو۔" بولنے والے کی کم ظرفی پر ترس کھاؤ، اس کے لئے دعا کرو اور آگے بڑھ جاؤ۔ یہی بڑے دل کی پہچان ہے۔
یقین جانیے! جب آپ دل بڑا کر لیں گے تو دنیا چھوٹی لگنے لگے گی، دکھ ہلکے ہو جائیں گے اور زندگی آسان ہو جائے گی۔ پھر آپ کو طنز کرنے والے لوگ بھی آپ کی کامیابی دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔
دل بڑا رکھیں، کیونکہ بڑا دل رکھنے والے کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ آج سے یہ طے کر لیں کہ ہم دوسروں کے لفظوں کو اپنے دل کی زمین پر زہر نہیں بننے دیں گے۔ ہم ہر بات کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔ یہ زندگی بہت چھوٹی اور خوبصورت ہے، اسے چھوٹی سوچوں اور چھوٹے دلوں کی قید میں نہ رکھیں۔ جب آپ دل بڑا کر لیں گے، تو ہر نفرت محبت لگے گی، ہر طعنہ تعریف بن جائے گا، اور ہر دکھ خوشی میں بدل جائے گا۔ یاد رکھیں، بڑا دل رکھنا ہی زندگی کا اصل جادو ہے جو ہر
پریشانی کو ختم کر دیتا ہے۔
It's a good column forgive everyone by thinking it is his habit and pray to Allah Almighty for right path
جواب دیںحذف کریںA kind heart makes this column truly meaningful.
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںلمبی غیر حاضری کیلیۓ معزرت
اللہ تعالی معافی کو پسند کرتا ھے ھر انسان میں اللہ رب العزت کی خاصیت ھوتی ھے مدد میں شامل بھوکے کو کھانا کھلانا اور معاف کرنا سر فرست شامل ھے
پر امن معاشرہ کیلیۓ ضروری ھے کہ ہم ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کریں اگر ہم دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کریں گے ہم میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اشرفالمخلوقات بنایا ہے ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور پرامن معاشرہ بنائیں یہی بڑا دل ہونے کی دلیل ھے اللہ ھمارا حامی و ناصر ہو
والسلام
وعلیکم السلام
حذف کریںآپ کا پیغام پڑھ کر بہت خوشی ہوئی، اور شکر ہے کہ آپ نے وقت نکالا۔ مگر آئندہ اتنی لمبی غیر حاضری مت کیجیے گا۔ آپ کا ساتھ اور قیمتی خیالات ہی تو اصل اثاثہ ہیں۔
ماشاء اللہ! آپ نے بہت خوبصورت اور گہری بات کہی ہے۔ واقعی، بڑا دل رکھنا ہی اصل انسانیت ہے، اور معاف کرنا اللہ کی صفات میں سے ایک ہے۔ پرامن معاشرہ اسی وقت بن سکتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنا اور معاف کرنا سیکھیں۔ آپ کی بات سچ ہے، کیونکہ جو دل سب کو معاف کر دے، وہ خود ہی سب سے بڑا اور قیمتی بن جاتا ہے۔
Wow sirr such a mazydaar column everyone should to read this and implement on it
جواب دیںحذف کریںHere's Many siblings many relatives saperated because of this reason
But sir sometime we can't ignore some talks some deeds but May Allah gives us sense And Make us hearts big to tolerate the wrong things Ameen
Beautiful written ❤️
جواب دیںحذف کریںWe learn something new every day because of you ... Forgiveness is the biggest key for living life calmly
جواب دیںحذف کریںBeautiful column.in a great way you highlight the most important behavior of our society. Now a days ,if we look around we found everywhere these types of stories.we walk on the road or bazar every person discuss,that someone say bad words about me.someone insult me.we just ignore these little things,behavior and mood also.
جواب دیںحذف کریں