پھول، سبزہ اور کچرا

کالم از: سر جاوید بشیر


پھول، سبزہ اور کچرا


میں اکثر اپنی فیملی کے ساتھ لاہور کے پارکس جایا کرتا ہوں۔ بچوں کی ضد بھی ہوتی ہے اور خود بھی دل چاہتا ہے کہ تھوڑی دیر ہریالی میں بیٹھا جائے، ذرا سانس سکون سے لی جائے۔ لاہور واقعی خوش نصیب ہے کہ یہاں گلشنِ اقبال پارک ہے، جلو پارک ہے، جیلانی پارک ہے، اور نہ جانے کتنے باغ ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کو لگتا ہے کہ یہ شہر اب بھی سانس لیتا ہے۔


مگر جب میں ان پارکس میں قدم رکھتا ہوں تو ایک خوشی کے ساتھ ساتھ ایک دکھ بھی ساتھ چلنے لگتا ہے۔ خوشی اس لیے کہ بچے ہنستے کھیلتے ہیں، لوگ گھومتے پھرتے ہیں، سب کو سکون ملتا ہے۔ دکھ اس لیے کہ ہم یہاں بھی اپنے اصل چہرے کو چھپا نہیں پاتے۔ میرے سامنے ہی لوگ ریپر زمین پر پھینک دیتے ہیں، پانی کی بوتل خالی کر کے گھاس پر چھوڑ جاتے ہیں، بچے جھولے سے اترتے ہیں تو جوتوں سے گھاس کچلتے ہیں، اور والدین ہنستے ہوئے کہتے ہیں "چھوڑو یار، کیا فرق پڑتا ہے۔" یہی "کیا فرق پڑتا ہے" ہمارا اصل مسئلہ ہے۔


 گھاس پر بیٹھنے کے بعد جانے والے ایسے اُٹھتے ہیں جیسے یہاں سے گزرنے والی آندھی ہو، پیچھے کچرے کے ڈھیر چھوڑ جاتے ہیں۔ جھولوں اور بینچوں پر نام کندہ کرنا ہمیں کوئی بڑا کارنامہ لگتا ہے، جیسے اپنا نام لکھ دینے سے تاریخ ہمیں یاد رکھے گی۔ 


جب میں مغربی دنیا کے بارے میں سنتا ہوں یا ویڈیوز دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ وہاں بھی پارکس ہیں، وہاں بھی ہزاروں لوگ آتے ہیں، مگر زمین پر ایک کاغذ بھی نہیں ملتا۔ وہاں لوگ اپنے کچرے کو تھیلوں میں ڈال کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، بینچ پر بیٹھتے ہیں تو اُسے صاف کر کے اُٹھتے ہیں۔ وہاں کا بچہ اگر کوڑا زمین پر پھینک دے تو والدین شرمندہ ہوتے ہیں، اور ہمارے ہاں اگر بچہ پھینک دے تو والدین مسکرا کر کہتے ہیں "بچپن ہے، کھیلنے دو۔" فرق یہ ہے کہ وہاں تہذیب بچپن سے سکھائی جاتی ہے اور ہمارے ہاں لاپرواہی بچپن سے پروان چڑھتی ہے۔


ہم سمجھتے ہی نہیں کہ یہ پارکس ہماری اپنی دولت ہیں۔ یہ صرف سرکاری جگہیں نہیں بلکہ ہماری نسلوں کا ورثہ ہیں۔ مگر ہم انہیں ایسے لوٹتے ہیں جیسے دشمن کی زمین ہو۔ شور شرابہ مچانا، بلند آواز میں میوزک بجانا، دوسروں کے سکون کو پامال کرنا ہمیں عادت بن چکی ہے۔ حالانکہ پارکس سکون کی جگہ ہوتے ہیں، لیکن ہم وہاں سکون لینے کے بجائے شور پھیلانے لگتے ہیں۔ سگریٹ سلگاتے ہوئے ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے ساتھ والے بینچ پر ایک بچہ بیٹھا ہے جو یہ منظر دیکھ کر خود بھی یہی سیکھے گا۔ 


یہ سب رویے صرف پارکس کے اصول نہیں توڑتے بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اصل بیماری یہ ہے کہ ہم اپنی زمین کو اپنا گھر نہیں سمجھتے۔ ہم اپنے ڈرائنگ روم میں تو مہمان کے سامنے ایک کاغذ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے، لیکن پارک میں یہی ہاتھ ریپر زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ ہم اپنی دیوار پر تو کوئی نام نہیں لکھنے دیتے مگر پارک کے بینچ پر اپنا نام کندہ کر کے خوش ہوتے ہیں۔ یہ تضاد ہماری تربیت کی کمزوری ہے۔


اس بیماری کا علاج صرف ایک ہے، اور وہ ہے احساس۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پارک بھی ہمارے گھر کی طرح ہے تو سب کچھ بدل جائے گا۔ جیسے ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ویسے ہی پارک کو صاف رکھیں۔ جیسے ہم اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ ٹیبل پر کھانے کے ٹکڑے نہ چھوڑیں، ویسے ہی انہیں سکھائیں کہ گھاس پر کچرا نہ پھینکیں۔ جیسے ہم اپنی چیزوں کو توڑنے نہیں دیتے، ویسے ہی جھولوں اور بینچوں کو محفوظ رکھیں۔


اصل علاج یہ ہے کہ ہم سکون کو سکون رہنے دیں۔ بلند آوازوں کے بغیر بیٹھنے کا مزہ لیں۔ سبزے کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھیں، نہ کہ جوتوں کی ٹھوکر۔ پھول کو خوشبو کی علامت سمجھیں، نہ کہ کھیلنے کی چیز۔ اپنے بچوں کو یہ ورثہ دیں کہ کچرا ڈبے میں ڈالنا ہی تہذیب ہے اور صاف ماحول ہی اصل آزادی ہے۔


یاد رکھیں، اگر ہم نے پارکس کو بچایا تو دراصل ہم نے اپنی نسلوں کو بچایا۔ اگر ہم نے یہ ذمہ داری نہ نبھائی تو کل ہمارے بچے ان پارکس میں کھیلنے کے بجائے گندگی کے ڈھیر سے دور رہیں گے۔


ہمیں مغرب کی مثالوں سے جلنے کے بجائے سیکھنا چاہیے۔ وہاں کے لوگ کوئی فرشتہ نہیں، وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار مان لیا اور ہم آج بھی ذمہ داری سے بھاگتے ہیں۔


آئیے یہ سوچ بدلیں۔ جب بھی کسی پارک جائیں، یہ عہد کریں کہ پیچھے کچھ نہیں چھوڑیں گے سوائے خوشبو اور یادوں کے۔ اپنے بچوں کو سکون، صفائی اور تہذیب کا سبق دیں۔ یہی سبز گھاس، یہی جھولے، یہی روشنی آنے والی نسلوں کے خواب ہیں۔ ان خوابوں کو ہم نے ہی محفوظ رکھنا ہے۔


میں اکثر گلشنِ اقبال پارک جاتا ہوں۔ وہاں حکومت نے بہت محبت اور عقیدت کے ساتھ علامہ اقبال کا ایک خوبصورت مجسمہ نصب کیا ساتھ ہی ایک شاندار شاہین بھی، تا کہ قوم کے بچے اور نوجوان یہ دیکھ کر اپنی پرواز کو بلند کریں اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر یاد رکھیں۔ لیکن کچھ دن بعد میں نے جو منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا، اُس نے دل کو کاٹ کر رکھ دیا۔ قوم کے وہی "شاہین صفت" بچے اور نوجوان، جنہیں اقبال نے پرواز کا پیغام دیا تھا، انہوں نے اُس شاہین کے پر ہی توڑ دیے۔ یوں لگا جیسے ہم نے صرف شاہین کا پر ہی نہیں توڑا بلکہ اپنے خوابوں کا پر بھی کتر دیا۔ اقبال کے شاہینوں نے شاہین کا پر توڑ کر اعلان کیا کہ ہمیں اُڑان کی ضرورت ہی نہیں، ہمیں تو صرف زمین پر رینگنا ہے۔


پھر انتظامیہ نے سمجھا کہ شاید اب سدھر جائیں گےاور اُس شاہین کے پر مرمت کروائے اور دوبارہ اسے وہیں نصب کر دیا۔ اقبال کے مجسمےاورشاہین کے مجسمے کے گرد ایک جنگلا بنا دیا تاکہ کوئی اُس پر چڑھ نہ سکے۔ انتظامیہ کو لگا کہ اب سب کچھ محفوظ ہے، اب قوم اپنے محسن کی عزت کرے گی، اب یہ شاہین اپنے پروں کے ساتھ سلامت رہے گا۔


مگر چند دن بعد ہی پھر وہی تماشہ۔ اقبال کے شاہینوں نے دوبارہ اُس شاہین کے پر توڑ دیے۔ جیسے یہ کوئی کمال ہو، جیسے یہ کوئی کھیل ہو، جیسے یہ اپنی بہادری کا ثبوت ہو۔ اور علامہ اقبال کے مجسمے پر نوجوان ایسے چڑھ کر تصویریں بنا رہے تھے جیسے یہ کوئی پہاڑ ہو جسے فتح کرنا ہے۔ کیا اقبال نے یہی خواب دیکھا تھا؟ کیا اُن کی شاعری کا حاصل یہی تھا کہ اُن کے خوابوں کے وارث اُن کے مجسمے پر چڑھ کر سیلفیاں بنائیں؟


یہ منظر دیکھ کر دل چاہتا تھا کہ ہنسوں یا روؤں۔ ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ ہم نے اقبال کو کتابوں میں تو چھوڑ ہی دیا تھا، اب اُن کے مجسمے کو بھی چین نہیں لینے دیتے۔ رونا اس بات پر آتا ہے کہ ہم کس حد تک اپنی تہذیب کو خود روندنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں لوگ اپنے ہیروز کے مجسمے کے قریب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، وہاں پھول رکھتے ہیں، وہاں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ اقبال کے مجسمے کو جھولا بنا کر اُس پر چڑھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔


یقین کریں، یہ صرف ایک شاہین کا پر نہیں ٹوٹا، یہ ہماری سوچ کے پر ٹوٹے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی پرواز کا جنازہ نکلا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ ہم نے اقبال کی شاعری کو یاد تو رکھا مگر اُس کے فلسفے کو دفنا دیا۔ ہم نے اُن کی تصویر کو زندہ رکھا مگر اُن کے خواب کو مار دیا۔


انتظامیہ کی مجبوری ہے کہ وہ ہر بار مرمت کرے، ہر بار لگائے، مگر کون اُن کے ہاتھ مرمت کرے جو یہ سب توڑتے ہیں؟ کون اُس ذہن کو جنگلا لگائے جو سوچتا ہے کہ ہیرو کے مجسمے پر چڑھنا کوئی بہادری ہے؟

اقبال نے تو کہا تھا کہ "شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا" مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے ہی شاہین کے پر کاٹ دیے، اُسے زمین پر گرا دیا اور پھر اس کے مجسمے کو روند ڈالا۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم اقبال کے شاہین نہیں، ہم تو صرف اُن کے اشعار کے تماشائی ہیں، اُن کے خوابوں کے قاتل ہیں۔


تبصرے

  1. Exactly. Sir .parks are our source of relaxation. We feel comfortable snd calm.so its our biggest responsibility to clean our parks and slso our surrounding. Its rhe responsibility of our Parents,teachers and elders to instruct children.

    جواب دیںحذف کریں
  2. Sir g Allama Iqbal wanted to make youth hawk but it has become far from the flight of hawk,

    جواب دیںحذف کریں
  3. Really our surrounding its happening
    But we should to raise voice against them but first we should to keep cleaning then we can say it to others
    May Allah gives this type of thinking everyone Ameenn😩♥️🤲

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein