کالی بلی

 


 کالی بلی 

کالم از: سر جاوید بشیر


 آج بھی ہمارے گھروں میں یہ جملے گونجتے ہیں:

"کالی بلی رستہ کاٹ گئی تو کام خراب ہو گا۔"

"شام کے وقت جھاڑو لگاؤ گے تو رزق کم ہو جائے گا۔"

"آنکھ پھڑک رہی ہے، ضرور کوئی بری خبر ملنے والی ہے۔"

"منڈیر پر کوا بول رہا ہے، مہمان آنے والے ہیں۔"

ہم اکیسویں صدی کے مسلمان، جنہیں قرآن ملا، جنہیں سائنس کی کتابیں ملی، جو چاند پر اُترنے والوں کے دور میں پیدا ہوئے، ہم آج بھی بلیوں، کوؤں اور جھاڑوؤں کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔

یہ سب کچھ کیوں ہے؟ کیونکہ ہم نے علم کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے سوال پوچھنے چھوڑ دیے ہیں۔ ہم نے تحقیق کرنا گناہ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اپنی عقل کو استعمال کرنے کے بجائے عاملوں، جعلی پیروں اور توہمات کے حوالے کر دیا ہے۔

یاد کیجیے! جب مسلمان نے علم کو گلے لگایا تھا، تو اندلس میں چراغ روشن تھے۔ قرطبہ کی لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں تھیں۔ یورپ کے بادشاہ ہمارے درباروں میں بھیجے جاتے، تاکہ حکمت اور سائنس سیکھیں۔ مگر جب ہم نے علم کی بجائے وہموں کو اپنایا، تو ہم غلام بن گئے۔ ہم نے بلیوں اور کوؤں کے پیچھے تقدیر تلاش کی، اور دنیا والوں نے ستاروں اور سمندروں کو فتح کر لیا۔

آج بھی آپ لاہور کی کسی گلی میں نکلیں، یا کراچی کے کسی محلے میں جائیں، آپ کو عاملوں کے بورڈ نظر آئیں گے۔ "محبوب قدموں میں۔" "کاروبار میں ترقی۔" اور افسوس کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ان کے جال میں پھنستے ہیں۔

ایک عامل آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی قسمت کسی نے باندھ دی ہے، کسی نے جادو کر دیا ہے۔ دوسرا آپ سے ہزاروں روپے لیتا ہے تاکہ "جن" سے بات کرے۔ آپ اپنی صحت، اپنا سکون، اپنا رزق ان جعلی پیروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیتے ہیں۔ 


علم کی کمی ہی ہمیں اس حال تک لے آئی ہے۔ ہم نے سائنس کو کفر کہہ دیا۔ ہم نے کتاب کو بند کر دیا۔ ہم نے سوچنے والے دماغ کو خاموش کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنی تقدیر کالی بلی کے قدموں میں ڈھونڈنے لگے۔


کبھی سوچا ہے؟ یہ بلیاں تو ہر گلی میں پھرتی ہیں، اگر واقعی ان کے راستہ کاٹنے سے نصیب بدلتے تو پھر پوری دنیا کے کام رک جاتے۔ اگر جھاڑو لگانے سے دولت کم ہوتی تو یورپ کے فیکٹریوں میں دن رات صفائی کرنے والے کبھی امیر نہ ہوتے۔ اگر کوؤں کے بولنے سے مہمان آتے تو پرندوں کے شور سے ہمارے گھروں میں روزانہ دیگیں پک رہیں ہوتیں۔


لیکن افسوس! ہم نے یہ سوال کبھی خود سے نہیں کیا، کیونکہ ہمارے اندر سوال کرنے کی جرات ختم کر دی گئی ہے۔ ہمیں ڈرایا گیا ہے، کہ سوال کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔

یاد رکھیے! اللہ نے قرآن میں بار بار فرمایا: "کیا تم عقل نہیں استعمال کرتے؟" "کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟" یہ الفاظ کسی پیر کے لیے نہیں، یہ ہمارے لیے ہیں۔ یہ حکم ہے کہ ہم ہر بات کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھیں۔

آج پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری عام ہے، بچے تعلیم سے دور ہیں۔ لیکن ہمارے لوگ اب بھی عاملوں کے پاس جا کر تعویذ خریدتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کاغذ ان کے خواب پورے کر دے گا۔ کیا یہ ظلم نہیں؟ کہ ایک باپ اپنی مزدوری کی کمائی تعویذ پر خرچ کرے اور اس کے بچے بھوکے سو جائیں؟


 علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالتی ہے۔ جب تک آپ پڑھیں گے نہیں، سمجھیں گے نہیں، تحقیق نہیں کریں گے، تب تک بلی آپ کا راستہ کاٹے گی اور آپ کی سانس رک جائے گی۔ تب تک آپ کے گھروں کے فیصلے عاملوں کے کچے کمرے میں ہوں گے۔


ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اپنی تقدیر کو بلیوں اور کوؤں کے ہاتھ دینا ہے یا کتاب اور قلم کے ہاتھ۔ ہمیں چننا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو عامل کے پاس لے جانا ہے یا استاد کے پاس۔ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم نے اپنی دولت جعلی تعویذ پر خرچ کرنی ہے یا کسی اچھی کتاب پر۔


یاد رکھیے! جو قوم علم چھوڑ دیتی ہے، وہ قوم مٹی میں دب جاتی ہے۔ اور جو قوم سوال کرتی ہے، تحقیق کرتی ہے، وہی قوم دنیا کی رہنما بنتی ہے۔


آئیے! آج دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں: کیا ہم نے کبھی اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ بلی کا راستہ کاٹنا محض اتفاق ہے، نصیب نہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنی بیٹی کو بتایا کہ جھاڑو شام کو بھی لگائی جا سکتی ہے، اس سے دولت کم نہیں ہو گی بلکہ گھر صاف اور صحت مند ہو گا؟ کیا ہم نے کبھی خود کو یہ سمجھایا کہ کوا محض پرندہ ہے، تقدیر کا پیامبر نہیں؟


 آنکھ پھڑکنے سے کوئی خبر نہیں آتی، خبر آپ کے اعمال سے بنتی ہے۔ مہمان کو کوا نہیں لاتا، آپ کے اخلاق اور تعلقات لاتے ہیں۔ جھاڑو سے تو صفائی ہوتی ہے، اور اسلام میں صفائی آدھا ایمان ہے۔ اب آپ ہی بتائیں، کیا صفائی سے رزق کم ہونا چاہیے یا بڑھنا چاہیے؟


آئیے عہد کریں کہ اب ہم اپنے بچوں کے کانوں میں وہم نہیں ڈالیں گے، بلکہ علم ڈالیں گے۔ ہم اب ان کو کوؤں اور بلیوں کے قصے نہیں سنائیں گے، بلکہ سائنس اور قرآن کی حقیقتیں سنائیں گے۔ 

 



اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

ہم نے اپنی تقدیر کو بلیوں اور کوؤں کے ہاتھ دینا ہے یا کتاب اور قلم کے ہاتھ؟ ہمیں چننا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو عامل کے پاس لے جانا ہے یا استاد کے پاس؟ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم نے اپنی دولت جعلی تعویذ پر خرچ کرنی ہے یا کسی اچھی کتاب پر؟

میں نے اپنی فکر اور اپنا پیغام آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب آپ اپنی رائے دیں۔ اس وہم اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو کیا کرنا چاہیے؟ اپنی قیمتی آراء ضرور لکھیں، تاکہ یہ صرف ایک کالم نہ رہے، بلکہ ایک ایسی تحریک بنے جو ہمارے معاشرے سے توہمات کا خاتمہ کر سکے۔

تبصرے

  1. Wow sir very informative column many time mama interrupted me to don't do cleaning at the night After Maghrib should not to do cleaning
    Haha sir maza agya aj column ka or hmy in chezo sy dor rehna chahiye Sach ma ilam ki kami ha

    جواب دیںحذف کریں
  2. Fate becomes with our actions sk we need to get knowledge not amulet in every matter

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein