اللہ ہے نا
اللہ ہے نا
کالم از: سر جاوید بشیر
یہ ایک اسپتال کا سرد کمرہ تھا۔ دیواریں سفید مگر اس پر پڑنے والی زرد روشنی، پورے ماحول کو اور زیادہ سنسان اور بھاری بنا رہی تھی۔ کمرے میں ایک مشین رکھی تھی، جس کی ہلکی سی بیپ بیپ کی آواز خاموشی کو توڑنے کے بجائے مزید بھیانک بنا رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے موت خود سانس لے رہی ہو، اور ہر پل اپنے قدموں کی چاپ سے ہمیں یہ احساس دلا رہی ہو کہ وہ قریب ہے۔
اسی کمرے میں ایک شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سوجن اور چہرے پر تھکن صاف بتا رہی تھی کہ وہ کئی راتوں سے جاگ رہا ہے۔ مگر اس کی گرفت مضبوط تھی، جیسے وہ اپنی بیوی کو یقین دلا رہا ہو کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔
یہ عورت چند دن پہلے تک ہنسی خوشی سب کو حوصلہ دے رہی تھی۔ اس کی باتوں میں زندگی کی خوشبو تھی، اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ کینسر کے چوتھے اسٹیج کی مریضہ نہیں بلکہ ہسپتال میں تفریح کے لیے آئی ہو۔ وہ سب کو دعائیں دیتی، کہانیاں سناتی، اور اپنی تکلیف کو ہنسی میں چھپا لیتی۔ مگر آج… آج اس کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ گئی تھی۔ وہ چہرہ جو امید کی کرن تھا، اب تکلیف اور تھکن سے بجھا ہوا لگ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ شوہر سے بار بار اپنے بچوں کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ "وہ کیسے ہیں؟ کئی دنوں سے ڈاکٹرز نے بچوں کو اس سے ملنے سے روک رکھا تھا۔ کیموتھراپی نے پہلے ہی اس کے جسم کو توڑ دیا تھا، اور اب ڈینگی نے باقی کسر پوری کر دی تھی۔ اس کے لبوں پر سوال تھے، دل میں خدشے تھے، اور آنکھوں میں ایک ہی خوف جھلک رہا تھا: "میرے بعد بچوں کا کیا ہوگا؟" "دنیا بہت ظالم ہے، میرا سہارا نہ رہا تو میرے بچوں کے ساتھ کیا ہوگا؟"
شوہر خاموشی سے بیوی کی باتیں سن رہا تھا، مگر اس کی خاموشی کے پیچھے ایک طوفان چھپا تھا۔ وہ بھی ٹوٹ رہا تھا، بکھر رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ہمت تھی۔ اچانک اس نے بیوی کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھاما اور دھیمی مگر پُرسکون آواز میں کہا:
"اللہ ہے نا۔"
وہ تین لفظ تھے، مگر ان کی گونج نے پورے کمرے کو بدل ڈالا۔ جیسے وقت رک سا گیا ہو۔ جیسے اس سرد کمرے میں ایک روشنی اتر آئی ہو۔ عورت نے آنکھیں بند کیں، پھر کھولیں، اور ایک دم اس کے چہرے پر زندگی کی روشنی واپس آ گئی۔ اس نے کانپتی آواز میں جواب دیا:
"ہاں… اللہ ہے نا۔"
یہ لمحہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ دونوں کے آنسو ایک ساتھ بہے، مگر اب ان آنسوؤں میں خوف نہیں، یقین تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، جیسے انہیں دنیا کی ہر طاقت شکست دے سکتی ہے مگر یہ یقین کبھی نہیں۔
سالوں بعد جب میں نے اس منظر کو یاد کیا، تو میرے دل نے گہرائیوں سے کہا: اس ایک جملے میں کتنا سحر چھپا ہے! کتنا سکون ہے! کتنا یقین ہے! "اللہ ہے نا" صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا ہے، اندھیروں میں روشنی ہے، اور مایوسی میں سب سے بڑی امید ہے۔
وہ اللہ جو ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ "اللہ ہے نا" - کیا خوبصورت اور دل کو امید اور خوشی سے بھر دینے والا جملہ ہے۔
جب دنیا کی ہر امید ٹوٹ جائے، اور ہر سہارا ٹوٹ جائے، تب ایک ہی آواز دل سے نکلتی ہے: "اللہ ہے نا۔"
جب کوئی ساتھ نہ دے، اور راستے میں اندھیرا چھا جائے۔ جب اپنی آنکھوں سے اپنا ہی خواب ٹوٹتا دیکھیں۔ جب دل کا سکون چھن جائے، اور روح بوجھل ہو جائے۔ جب ہر دعا بے اثر لگے، اور ہر کوشش بے کار ہو جائے۔ جب ہنسی لبوں سے روٹھ جائے، اور آنکھیں بے سبب نم رہیں۔ جب اپنے بھی اجنبی لگیں، اور دنیا کی محفلیں سونی لگیں۔ جب کوئی درد سمجھنے والا نہ ہو، اور کوئی کندھا میسر نہ ہو۔ جب تھک کر چور ہو جائیں، اور منزل کہیں نظر نہ آئے۔ جب ہر تعلق ٹوٹ جائے، اور ہر رشتہ ٹوٹ جائے۔
تب دل کی گہرائیوں سے ایک یقین ابھرتا ہے: "اللہ ہے نا۔"
یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب سب کچھ ناکام ہو جائے، جب انسان کی اپنی کوششیں ختم ہو جائیں، تب بھی ایک امید باقی ہے۔ وہ امید اللہ کی رحمت کی امید ہے۔ اس جملے میں صبر ہے، شکر ہے، تسلیم و رضا ہے۔ اس جملے میں یہ یقین ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، مگر اس کے پیچھے کوئی حکمت ضرور ہے۔
اللہ کی محبت، ستر ماؤں کی محبت سے بھی زیادہ ہے۔ کون ہے جو اتنی محبت کر سکتا ہے؟ کون ہے جو ہمیں اس طرح دیکھ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے؟ وہ اللہ ہے۔ وہ ہمارا خالق ہے، وہ ہمارا رازق ہے، وہ ہمارا مالک ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا، اس سے امید رکھنا، یہی تو زندگی کا اصل مفہوم ہے۔
سوچیں، اگر زندگی میں صرف خوشیاں ہی ہوتیں، تو ہم اللہ کو یاد ہی کب کرتے؟ مصائب، تکالیف، دکھ، یہ سب ہمیں اللہ کی طرف پلٹاتے ہیں۔ یہ ہمیں اپنی اوقات یاد دلاتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم کتنے مجبور ہیں، اور اللہ کتنا قادر ہے۔
وہ جو کبھی نہیں چھوڑتا۔ وہ جو ہر حال میں دیکھتا ہے۔ وہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ وہ جو ہر تکلیف کا مداوا کرتا ہے۔ وہ جو بند دروازوں کو کھولتا ہے۔ وہ جو ناممکن کو ممکن بناتا ہے۔
اس یقین سے دل کو سکون ملتا ہے، اور روح کو روشنی۔ کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ہماری پکار سنتا ہے۔ وہ ہماری خاموشی کو سمجھتا ہے۔ وہ جو ہماری ہر مشکل کو جانتا ہے، اور ہر غم کو دور کرتا ہے۔
یہی وہ یقین ہے جو ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑتا ہے۔ یہی وہ آس ہے جو مایوسی کو ختم کرتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی نہیں ہوتا، تب بھی وہ ہوتا ہے۔
وہ اللہ جس نے ہمیں بنایا اور اس دنیا میں بھیجا۔ وہ اللہ جو ہماری رگ رگ سے واقف ہے۔ کیسے ہمیں بھول سکتا؟ ہم ہی اسے بھول جاتے ہیں۔ اپنی خوشیوں میں اسے بھول جاتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں میں اسے بھول جاتے ہیں۔ ہر اس لمحے میں ہم اسے بھول جاتے ہیں جب ہم کچھ پاتے ہیں۔
مگر وہ ہمیں یاد رکھتا۔ کیونکہ ہم اس کی تخلیق ہیں۔ وہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ چاہتا ہے جتنا ہم اسے چاہتے ہیں۔ وہ ہمارے ہر درد کو جانتا ہے، ہر آنسو کو گنتا ہے، ہر خواہش کو سمجھتا ہے۔
آج میں آپ سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیشہ یاد رکھیں: "اللہ ہے نا۔"
جب آپ صبح اٹھیں تو یہ کہیں۔ جب آپ کام پر جائیں تو یہ کہیں۔ جب آپ کسی مشکل میں پڑیں تو یہ کہیں۔ جب آپ خوش ہوں تو یہ کہیں۔ جب آپ غمگین ہوں تو یہ کہیں۔
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو آپ کے دل میں امید کی شمع روشن کر دے گا۔ یہ ایک ایسا یقین ہے جو آپ کو ہر طوفان میں ڈٹے رہنے کی طاقت دے گا۔
آپ نے بہت دعائیں کیں، رو رو کر آنسو بہائے، ہر ممکن کوشش کی، مگر نتیجہ نہیں نکلا۔ اب آپ سوچنے لگے ہیں کہ کیا اللہ آپ کو سنتا ہی نہیں؟ کیا آپ کی دعائیں قبول ہی نہیں ہوتیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اللہ ہماری ہر دعا سنتا ہے۔ مگر وہ دعا کو اس وقت قبول کرتا ہے جب وہ ہمارے لیے سب سے بہتر ہو۔ وہ کہتا ہے: "تم نے صبر کیا، اب دیکھو میں تمہیں کیا دیتا ہوں!"
جب آپ مسکرانا بھول جاتے ہیں۔ ہنسی لبوں پر نہیں آتی، مگر آنکھوں سے آنسو بے سبب بہتے رہتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں ہوتی مگر دل اداس ہوتا ہے۔ یہ دل کی پکار ہوتی ہے، جو اللہ تک پہنچتی ہے۔ اور اسی لمحے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ کوئی ہے جو آپ کے دل کا حال جانتا ہے اور وہ کہتا ہے: "تمہارے آنسو بے معنی نہیں ہیں، میں تمہارے ہر آنسو کا حساب رکھوں گا!"
زندگی میں کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ اور جب ان دردوں کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا، جب آپ کو رونے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں ہوتا، تو آپ کا دل اندر سے پھٹ جاتا ہے۔ اس لمحے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی تنہائی کا صرف ایک ہی ساتھی ہے۔ وہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ وہ جو آپ کے ہر درد کو سمجھتا ہے۔ وہ جو آپ سے کہتا ہے: "تمہارے آنسو بہت قیمتی ہیں، انہیں ضائع نہ کرو، میرے لیے رکھو!"
آپ دن رات محنت کرتے رہے، مگر منزل ابھی بھی دور ہے۔ اب آپ تھک چکے ہیں، آپ کے پاؤں میں جان نہیں رہی۔ اب آپ سوچتے ہیں کہ بس یہاں سے سب کچھ ختم کر دوں۔ مگر اسی لمحے آپ کو ایک آواز سنائی دیتی ہے: "رُکنا نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہاری محنت کو میں دیکھ رہا ہوں۔" یہ آواز آپ میں دوبارہ ہمت بھر دیتی ہے۔
زندگی میں رشتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر جب ہر تعلق ٹوٹ جائے، جب ہر رشتہ ختم ہو جائے، تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا۔ مگر اسی لمحے آپ کو یاد آتا ہے کہ ایک تعلق ایسا ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ وہ تعلق اللہ سے ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "تم نے لوگوں پر بھروسہ کیا، اب مجھ پر بھروسہ کرو، میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا!"
جب دنیا کی ساری امیدیں ٹوٹ جائیں، جب سارے سہارے ٹوٹ جائیں، جب ہر تعلق ختم ہو جائے، تب آپ کے دل کی گہرائیوں سے ایک یقین ابھرتا ہے جو آپ کو مایوسی کی دلدل سے نکال دیتا ہے۔ یہ یقین آپ کو حوصلہ دیتا ہے کہ اگر کوئی نہیں ہے، تو اللہ تو ہے نا!
وہ جو کبھی نہیں چھوڑتا، وہ جو ہر حال میں دیکھتا ہے، دنیا میں لوگ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، مگر اللہ کبھی نہیں چھوڑتا۔ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں، جب آپ مایوس ہوتے ہیں، جب آپ روتے ہیں، تب بھی وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ آپ کے آنسو گنتا ہے، وہ آپ کی بے بسی کو محسوس کرتا ہے۔ وہ آپ سے کہتا ہے: "تمہاری ہر مشکل کا میں حل ہوں، تم مجھے پکارو، میں تمہارے پاس ہوں۔"
آج میں آپ سے ایک وعدہ چاہتا ہوں۔ آج سے آپ ہر دن کا آغاز ان الفاظ سے کریں گے: "اللہ ہے نا۔" اور ہر دن کا اختام انہی الفاظ سے کریں گے۔
میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ آپ کو ایک ایسا سکون ملے گا جو آپ نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا ہوگا۔ آپ کی مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ آپ کے دلوں کو تسلی ملے گی۔ کیونکہ جب اللہ ہو تو پھر کوئی کمی نہیں رہتی۔ جب اللہ ہو تو پھر ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ جب اللہ ہو تو پھر ہر اندھیرے میں
روشنی ہوتی ہے۔
اللہ ہم سب کو اپنا یقین رکھنے والا بنائے۔ آمین۔
Woww sir Mind-blowing
جواب دیںحذف کریںSach ma jab ma Allah pak py tawakkal rakh ley hmara koi b bura nai kr skta Or Yakeen rakhy k wo zaat jo krti ha wo hmary liye behtar hoti ha
Hr mushkil py hum sabar kar ley to Allah pak oska asa silah deta ha k hum apna purana nuksaan bhol jaty ha or satisfied hojaty ha
Yehi 3 lafz
Allah hai Naw
Reaaly its magical words ha hum ma ik takat mehsoos hoti ha
Allah hum sb ko sabar karny ki toufeeq dy Ameenn or Yakeen rakhny ki Ameenn
Now talking about the first story
جواب دیںحذف کریںMy eyes fulled with tears
May Allah gives Patience to this person Ameenn
These words give us strength and courage Allah Almighty will never leave us
جواب دیںحذف کریںBeshak Allah har cheez per qadir hai
جواب دیںحذف کریںالسلام عیکم
جواب دیںحذف کریںسر جاوید کیا لمحات یاد کرا دیۓ آپ نے
دانش مند کہتے ہیں جب تک دل زخمی نہ ھو وہ لکھاری یا شاعر نہیں بنتا اب آپ سوچیں گے کہ میرے لیۓ ہی کہاوت غلط ھوگئی ھے ایسا نہیں ھے میں ایسا شاعر نہیں ھوں کہ ان کو نصاب میں شامل کیا جاۓ یا کوئی مثال ہی دی جاۓ
ماشااللہ آپ ایسے لکھاری بن گۓ ہیں کہ آپ کا نام دانش وروں میں آ سکتا ھے
ماشااللہ بہت ذبردست انداز میں تصویر کشی کی ہے بندہ سکتے میں اجاتا ھے
اور جس کو حقیقت کا پتا ھو اس کی طبیت کا کیا عالم ھوگا بہت ھی ذیادہ دل کو ہلا کے رکھ دیا ھے آپ کی تحریر نے
اللہ ھے نا
اللہ رب العزت قرآن الحکیم میں فرماتا ھے
ان اللہ مع الصابرین
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اور جس کے ساتھ خالق کائنات ھو اس کو کیا چاہئے
ہر لمحہ یہی دعا ھے کہ اللہ رب العزت ہمیں سکون دے
اور دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ھے
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ھو
وعلیکم السلام
حذف کریںبھائی! آپ کے محبت بھرے اور قیمتی الفاظ پڑھ کر میرا دل بھیگ گیا۔ آپ نے جو کچھ لکھا، وہ کالم کی کامیابی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ کا اور بھابھی کا میرے لکھے ہوئے الفاظ کو محسوس کرنا، آپ کی آواز کا رُک جانا اور آنکھوں کا نم ہو جانا، یہ میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں۔
آپ ماشاء اللہ خود اتنے خوبصورت شاعر اور مصنف ہیں، اور آپ کی جانب سے ایسی حوصلہ افزائی میرے لیے میرا اصل سرمایہ ہے۔ یہ میرے رب کا کرم ہے کہ اس نے مجھے ایسے الفاظ کی توفیق دی جو آپ کے دلوں کو چھو گئے۔ آپ کا یہ کہنا کہ میں نے بلندی کی سیڑھی عبور کر لی ہے، میرے لیے بہت بڑا انعام ہے۔ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ میں اسی طرح اللہ کی محبت پر لکھتا رہوں اور پڑھنے والوں کو اس سے جوڑتا رہوں ۔
یقین جانیے! جب آپ نے لکھا کہ "اللہ ہے نا" دل میں اترا، تو مجھے لگا کہ میری محنت وصول ہو گئی۔ جزاک اللہ کہ آپ نے اس احساس کو لفظوں میں بیان کیا۔ اللہ ہم سب کو اپنے ذکر سے اور اپنے یقین سے کبھی دور نہ کرے۔ آمین۔
جاوید صاحب ایک تو وہ لمحات تھے ھی کرب کے دوسرا آپ کے لفظوں کے چناؤ نے اس قدر منظر کو تکلیف دہ بنا دیا ھے کہ بندہ اس تکلیف دہ لمحات سے باہر آھی نہیں سکتا میں نے آپکی تحریر اپنے ہمسفر کو سنانے کی کوشش کی میری آواز بند ھوگئ اور اسے کہا آپ خود پڑھ لو تو جواب نفی میں ملا کیونکہ ان کی بھی آنکھیں تر ہو چکی تھی
جواب دیںحذف کریںجاوید صاحب آپ بلندی کی سیڑھی عبور کر چکے ھیں اللہ رب العزت آپ کو آئندہ بھی لکھنے کی طاقت عطا فرماۓ اور پڑھنے والے اللہ کے قریب ھوتے جائیں اللہ کرے ہر پڑھنے والے کے دل میں آپکی تحریر اترے اور وہ اللہ کی یاد میں رھے اور کہتا پھرے
اللہ ھے نا
اللہ ھے نا
اللہ ھے نا
Bisma Iqbal
جواب دیںحذف کریںI felt that this writing based on true story
Beshak ye ek jumla Zindagi ki thakan khatam krny k liye Kafi hy
Bayshak is me koi shak Nahi. Wo guman se bahar hmaray sath he. Bayshak wo hi he Jo Har Shay pe Qadir he. Allah Pak sab Ki madad kray. Ameeeen
جواب دیںحذف کریںReally beautifully written Mashallah
جواب دیںحذف کریں