جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے

 

جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے


کالم از: سر جاوید بشیر


میری زندگی میں، اور شاید آپ کی زندگی میں بھی، وہ لمحہ ضرور آیا ہو گا جب ہمارے سامنے ایک دروازہ بند ہوا اور لگا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ وہ لمحہ جب ہم اپنے خوابوں، اپنی امیدوں اور اپنی خواہشوں کے ساتھ ایک بند دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور لگا کہ اب کوئی راستہ نہیں۔

وہ ناکامی، وہ مایوسی اور وہ درد ہمیں اندر تک توڑ دیتا ہے۔ ہم آنسو بہاتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں اور پھر اس بند دروازے کو حسرت سے دیکھتے رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہی ہمارے مقدر کا آخری فیصلہ ہے۔

لیکن کیا یہ واقعی اختتام ہے؟ یا پھر یہ ایک نئے، روشن اور خوبصورت آغاز کا اشارہ ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ آئیے، اس سفر میں میرے ساتھ چلیں، جہاں ہم مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کریں گے۔


یہ دنیا، یہ زندگی، ایک ایسی دنیا ہے جہاں دروازے کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تو قانونِ فطرت ہے، یہ تو اللہ کا نظام ہے۔ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے، تو یقیناً کوئی اور دروازہ کھلتا ہے۔ یہ وہی کہاوت ہے جو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں، "جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔" لیکن میرا دعویٰ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ اس کہاوت کو صرف سنتے ہیں، سمجھتے نہیں ہیں۔ ہم اس بند دروازے کو اس قدر شدت سے، اس قدر دکھ سے، اس قدر مایوسی سے دیکھتے ہیں کہ ہمیں یہ نظر ہی نہیں آتا کہ ہمارے لیے کوئی نیا، خوبصورت دروازہ کھل چکا ہے۔

ہم اس بند دروازے پر ہی اٹک جاتے ہیں، اس پر ہاتھ مارتے رہتے ہیں، اسے کھولنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہماری ساری توانائی، ہمارا سارا وقت، ہماری ساری امیدیں اسی بند دروازے پر صرف ہو جاتی ہیں۔ 


حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہمارے لیے راستے پیدا کیے ہیں۔ وہ راستے جو ہماری سوچ سے بھی بالاتر ہیں۔ وہ راستے جو ہماری توقعات سے بھی بہتر ہیں۔ بس ہمیں توکل کرنا ہے۔ صبر کرنا ہے۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔



جب آپ کی زندگی میں کوئی دروازہ بند ہو جائے، تو تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے گا۔ اپنے آنسو پونچھ کر، اس بند دروازے کو الوداع کہیے۔ اس پر زور سے بند کرنے کا بٹن دبائیے اور پھر آپ حیران رہ جائیں گے کہ ایک روشن، کشادہ، اور شاید اس سے بھی زیادہ خوبصورت دروازہ آپ کا منتظر ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ اسے دیکھنے کی ہمت کریں۔


سوچیے، اللہ تعالیٰ کبھی، کسی بھی انسان کے لیے، پہلا دروازہ اس لیے بند نہیں کرتا کہ اسے دوسرا دروازہ کھولنا ہی نہ پڑے۔ وہ تو رحیم ہے، وہ تو کریم ہے۔ جب وہ کسی کو کسی آزمائش میں ڈالتا ہے، جب وہ کسی کے لیے کوئی راستہ بند کرتا ہے، تو وہ اس لیے نہیں کہ وہ اسے سزا دے رہا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اسے کسی بہتر راستے پر گامزن کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی نئی منزل کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہمارا ایمان ، یہ ہمارا یقین ہونا چاہیے۔


میرے ملک کے وہ نوجوان، جو آج بے روزگاری کے اس بند دروازے پر کھڑے ہیں۔ وہ جو ہر صبح نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو ناکام لوٹتے ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں، آپ کا بند دروازہ شاید آپ کو وہ نوکری نہیں دے رہا جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں، لیکن کیا وہ آپ کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع نہیں دے رہا؟ کیا وہ آپ کو کوئی نیا ہنر سیکھنے کی ترغیب نہیں دے رہا؟ شاید وہ بند دروازہ آپ کو اس قابل بنا رہا ہے کہ آپ کل خود کسی اور کے لیے نوکری کا دروازہ کھول سکیں۔


 مسائل کا سامنا کیجئے، ان کا حل تلاش کیجئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، اپنی امید کو کبھی مرنے نہ دیں۔ 


بس یہ یاد رکھیے، جب آپ کے سامنے کوئی دروازہ بند ہو تو اسے اس قدر افسوس سے مت دیکھیے کہ آپ کے سامنے کھلنے والا نیا دروازہ آپ کو نظر ہی نہ آئے۔ وہ جو اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہر بند دروازہ صرف ایک نئے، بہتر اور خوبصورت آغاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بس ضرورت ہے اس بات کی کہ آپ اپنے دل کی آنکھیں کھولیں، اپنے کانوں کو اللہ کی آواز کے لیے کھلا رکھیں، اور اپنے قدموں کو اس نئی راہ پر بڑھائیں جو شاید ابھی آپ کے لیے بنائی جا رہی ہے۔


ہماری زندگی ایک لمبا سفر ہے۔ اس سفر میں کبھی ہم خوشی کے میدانوں سے گزرتے ہیں تو کبھی غم کے صحراؤں سے۔ کبھی ہمارے قدم ہرے بھرے میدانوں پر اترتے ہیں تو کبھی پتھریلی راہوں پر۔ مگر یاد رکھیے، جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا دروازہ کھل جاتا ہے۔ دوسرا بند ہوتا ہے تو تیسرا۔ اور جب سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو اللہ کے فضل کا دروازہ کھلتا ہے۔ جو کبھی بند نہیں ہوتا۔


اللہ تعالیٰ آپ کے سب بند دروازوں کو کھولے اور آپ کے لیے وہ دروازے کھولے جو کبھی بند نہ ہوں۔ آمین۔


میں نے اپنا دل آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ میں نے آپ کو اس حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ ہر بند دروازہ ایک نئے آغاز کی نشانی ہے۔

لیکن کیا آپ یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے دل میں بھی اسی طرح کا درد چھپا ہے؟ کیا آپ نے بھی کبھی کسی بند دروازے پر اپنی ساری امیدیں کھو دی ؟

اگر ہاں، تو خاموش نہ رہیں۔ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں۔ بتائیے کہ آپ نے کس بند دروازے پر سب کچھ چھوڑ دیا تھا، اور پھر آپ کے لیے کون سا نیا دروازہ کھلا؟

آپ کی کہانی کسی اور کے لیے امید بن سکتی ہے۔

آئیے! آج ہم سب مل کر امید کے ان چراغوں کو روشن کریں۔ اپنی کہانی سنائیں تاکہ ہم سب مل کر ایک ایسی قوم بنیں جو صرف بند دروازوں پر روتی نہیں، بلکہ کھلے دروازوں سے نئی دنیاؤں میں قدم رکھتی ہے۔ آپ کا ایک لفظ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

اپنے دل کی بات لکھیں، تاکہ یہ صرف ایک کالم نہ رہے، بلکہ امید کی ایک تحریک بن جائے

تبصرے

  1. Sir same like this happened in my life
    Once i started my own work but unfortunately i couldn't gave time properly and didn't took this serious and perhaps that was not in my destiny
    But now I'm searching many things and doing patience Allah will give me What i want In sha Allah
    Or sach ma ik darwaza band ho to baki sb b band nai ho jaty humy Allah py yakeen rakhna chahiye or koshish jari rakhni chahiye

    جواب دیںحذف کریں
  2. If a person believes in Allah Almighty and never loses hope then he never loses heart because hope is a power which doesn't stop to a person for doing something

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes.i have a story of my own.when i newly start my teaching. I leaved my job because of some reason but i still need job.i was disappointed but after one or two weeks. Igot a good job with better environment snd good salary package. At that time I realized that when a door close in our life Allah Almighty gives best.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein