روحانیت کا سفر، حصہ سوم

 روحانیت کا سفر، حصہ سوم


کالم از: سر جاوید بشیر

الحمدللہ! آج یہ میرا 50واں کالم ہے، اور روحانیت کے موضوع پر یہ میرا تیسرا کالم ہے۔ یہ سب اللہ پاک کے فضل و کرم سے ممکن ہوا، جس نے مجھے یہ استقامت عطا فرمائی۔ آپ سب کی حوصلہ افزائی کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ یہ سفر آپ کی محبت اور دعاؤں کے بغیر ادھورا تھا۔

 آج جب میں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں، یا پھر اس نت نئی رنگین اور چمکتی دمکتی انٹرنیٹ کی دنیا میں جھانکتا ہوں، تو مجھے اپنی نوجوان نسل ایک مختلف راہ پر رواں دواں نظر آتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل، جو آج کل کی دنیا کی تیز رفتاری میں گم ہے، خدا کی ذات پر سوال اٹھاتی ہے۔ 

آپ نے دیکھا ہوگا، آج کا نوجوان موبائل فون میں مصروف ہے، سوشل میڈیا پر وقت گزار رہا ہے، مگر اس کی روح پیاسی ہے۔ وہ مادی طور پر تو مالا مال ہے، مگر روحانی طور پر مفلس ہے۔ وہ دنیا کی ہر چیز کو چھو رہا ہے مگر اپنے رب کو محسوس نہیں کر پا رہا۔

یہ دورِ جدید کا المیہ ہے۔ ہم نے ترقی کی، ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت کچھ حاصل کیا، مگر ہم نے اپنی روح کو بھلا دیا۔ ہماری نوجوان نسل روحانی طور پر بیمار ہے۔ اس کی سوچیں، اس کے خیالات، اس کے خواب سب مادیت میں گھر گئے ہیں۔

 کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم نے روحانیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم نے اپنے رب کو بھلا دیا ہے۔

آج کی نوجوان نسل ظاہری دنیا کی چمک دمک میں اس قدر الجھ گئی ہے کہ اندر کی آواز، روح کی پکار، ان کو سنائی ہی نہیں دیتی۔ وہ خدا کے وجود پر سوال اٹھاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے کبھی خدا سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ خدا بس ایک افسانہ ہے، یا پھر ایک دور کی شے جس کا ان کی روزمرہ کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ روحانیت سے دوری ہے، یہی آج کی نسل کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

روحانیت کیا ہے؟ روحانیت وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر کے اندھیرے کو مٹا دیتی ہے۔ روحانیت وہ پانی ہے جو روح کی پیاس بجھاتی ہے۔ روحانیت وہ دوا ہے جو بیمار روح کو شفا دیتی ہے۔ یہ وہ دوا ہے جو اس بیمار ذہنیت کا علاج کر سکتی ہے۔ جیسے ایک بیمار انسان کو صحت مند کرنے کے لیے ڈاکٹر دوا دیتا ہے، جیسے ایک زخمی کو مرہم لگاتا ہے، بالکل اسی طرح، روحانیت بیمار روح کا علاج ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جو آج کی نسل کو اس خوفناک تباہی سے بچا سکتا ہے۔ یہ تباہی صرف دنیاوی نہیں، یہ اخلاقی بھی ہے، یہ معاشرتی بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ روحانی بھی ہے۔

روحانیت کا سفر ہی دراصل خدا تک کا سفر ہے۔ جب تک انسان اس سفر پر نہیں نکلتا، وہ ان حقائق کو کبھی نہیں جان پاتا جو اسے محض انسان سے خدا کا بندہ بنا سکتے ہیں۔ یہ روح کا سفر ہے، اور یہ ایک ایسا سفر ہے جس پر چل کر انسان نامعلوم سے معلوم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ جو چیزیں پہلے صرف سنی سنائی تھیں، وہ خود پر تجربہ ہونے لگتی ہیں۔ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آنا، یہی تو ہے روح کا سفر۔

یاد ہے بچپن میں ہم رات کو گھر کے باہر چارپائی پر لیٹتے تھے اور آسمان کے تاروں کو دیکھتے تھے۔ وہ تاروں بھرا آسمان، وہ چاند، وہ سب کتنا پراسرار اور پرکشش لگتا تھا۔ دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی تھی، ایک سوال: یہ سب کچھ کس نے بنایا؟ کس کی قدرت ہے یہ سب؟ یہی وہ جھلک تھی،روح کی بیداری کی، خدا کی طرف اشارہ۔

جب انسان اس روحانی سفر پر گامزن ہوتا ہے، تو اسے اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترنے کا موقع ملتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک جسمانی وجود نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک روح ہے، ایک ایسی چیز جو ابدی ہے، جو خدا کی طرف سے ہے، اور خدا کی طرف ہی لوٹ کر جانے والی ہے۔ یہ سفر انسان کو دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر، حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ سفر اسے خود کی پہچان کرواتا ہے۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی اصل شناخت کیا ہے، اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟

ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کو ہماری ضرورت ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خدا کو ہماری نہیں، ہمیں خدا کی ضرورت ہے۔ ہم گناہ کرتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، اور پھر خدا سے دور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ خدا تو رحیم ہے، کریم ہے۔ وہ تو ہر وقت ہمیں اپنی طرف بلاتا رہتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کی پکار سنیں۔ اور اس پکار کو سننے کا سب سے بہترین ذریعہ روحانیت ہے۔

یہ صرف مولویوں اور پیروں کا کام نہیں، یہ ہر اس انسان کا کام ہے جو اپنے دل کی آواز سننا چاہتا ہے۔ جو دنیا کی شور و غل سے نکل کر، اپنے اندر جھانکنا چاہتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل اگر دنیا میں سکون اور اطمینان چاہتی ہے، اگر وہ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنا چاہتی ہے، تو اسے روحانیت کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اسے اپنے دل کی گہرائیوں میں اترنا ہوگا۔


یاد رکھیے، روحانیت کا سفر خدا تک پہنچنے کا سفر ہے۔ یہ کوئی مشکل سفر نہیں ہے۔ یہ تو اپنے آپ کو پہچاننے کا سفر ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے، تو وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

جب آپ اپنی کمزوریوں، اپنی طاقتوں، اپنے خوف اور اپنی محبت کو پہچان لیتے ہیں، تو آپ کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی عظیم ہستی کی حکمت کا حصہ ہے۔ آپ کا دل، جو دھڑک رہا ہے، آپ کی سوچ، جو کام کر رہی ہے، اور آپ کی آنکھیں، جو اس کائنات کے رنگ دیکھ رہی ہیں—یہ سب کسی ایک ذات کا کرشمہ ہے۔

اور اسی لمحے، جب آپ خود کو پہچان لیتے ہیں، تو آپ کو اپنے رب کی پہچان بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا وجود، اس کی محبت، اس کی طاقت اور اس کی رحمت آپ کو اپنے اندر محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ پہچان کسی کتاب سے نہیں ملتی، یہ کسی تقریر سے نہیں آتی، بلکہ یہ دل کی گہرائی سے آتی ہے۔

یہ خود شناسی کا سفر دراصل خدا شناسی کا سفر ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جو ہمیں اپنے رب کی طرف لے جاتا ہے۔

 روحانیت ایک ایسا نشہ ہے جو دنیا کے کسی نشے سے زیادہ پرسکون اور اطمینان بخش ہے۔

 کیونکہ روح کی صحت جسمانی صحت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اور روح کی صحت صرف اور صرف خدا سے تعلق سے ہی ممکن ہے۔ یہ ہمیں وہ طاقت دیتی ہے جس سے ہم دنیا کی آزمائشوں کا سامنا کر سکیں۔ یہ ہمیں صبر سکھاتی ہے، شکر سکھاتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، اور ہماری مدد کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

یہ روحانیت ہی ہے جو آپ کے دل کا سکون واپس لا سکتی ہے۔ یہ روحانیت ہی ہے جو آپ کی زندگی میں برکت لا سکتی ہے۔ یہ روحانیت ہی ہے جو آپ کو ڈپریشن اور پریشانی سے نکال سکتی ہے۔

خدا غنی ہے، وہ بے نیاز ہے۔ ہم محتاج ہیں۔ ہم فقیر ہیں۔ ہماری ہر سانس اس کی مرضی سے چل رہی ہے۔ ہمارا دل اس کے حکم سے دھڑک رہا ہے۔ ہماری زندگی اس کے ہاتھ میں ہے۔


پھر کیوں نہ ہم اس سے جڑیں؟ کیوں نہ ہم اسے مان لیں؟ کیوں نہ ہم اس کی بات مانیں؟

میں نے اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں کو دیکھا۔ کچھ دنیا کے بڑے بڑے نام، بڑے بڑے عہدے والے، سب کے سب آخر میں سکون کی تلاش میں روحانیت کی طرف ہی رجوع کرتے نظر آئے۔ کیونکہ وہ جان چکے ہوتے ہیں کہ دنیا کی دولت، دنیا کی شہرت، یہ سب عارضی ہیں۔ اصل سکون تو خدا کی یاد میں ہے۔ اصل اطمینان تو اس کی ذات سے جڑنے میں ہے۔

روحانیت کا سفر کوئی پراسرار سفر نہیں ہے۔ یہ تو اپنے آپ کو پہچاننے کا سفر ہے۔ یہ سفر آپ کو نامعلوم سے معلوم کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ سفر آپ کو اندھیرے سے روشنی میں لے آتا ہے۔ یہ سفر آپ کو خود کی پہچان کرا دیتا ہے۔


یہ روحانیت کا سفر انشااللہ جاری رہے گا۔ اگلے جمعہ المبارک کو ہم روحانیت پر مزید بات کریں گے۔ تب تک کے لیے، اپنے دل کی آواز سنیں۔ اپنے اندر جھانکیں۔ اور اس خدا کو یاد رکھیں جس نے ہمیں بنایا، جس نے ہمیں زندگی دی۔ یاد رکھیے، آپ اس کی مخلوق ہیں، اور وہ آپ سے محبت کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ جتنا آپ خود کا خیال رکھتے ہیں۔ اس کی طرف لوٹ آئیں، اور آپ پائیں گے کہ آپ کی تمام پریشانیاں، آپ کے تمام دکھ، سب ختم ہو جائیں گے۔ 

تبصرے

  1. Thank you sir g for providing us knowledge about spirituality
    A great column

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشااللہ جی بہت اچھی جانکاری مولا علی کی حدیث کہ خود کو پہچاننا ہی اپنے رب کو پہچاننا ھے ایک چھوٹی سی مثال سچ کڑوا ہوتا ہے آپ کو معلوم ھے کہ بات ہمیشہ کثیرالتعداد کی ہوتی ہے کم لوگوں کی نہیں مطلب زیادہ تر لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جو جھوٹ بولتا ہے وہ سچ بولے گا تو جھوٹا ثابت ہوگا اس لیے کہتے ہیں سچ کڑوا ہوتا ہے جو سچ بولتے ہیں ان کیلۓ نہیں
    یہ حدیث سچے لوگوں کے لئے ہے
    ایویں لبناایں لوکاں وچوں جہیڑا اندر بیٹھا اے اونہوں پھڑیا نئیں
    مطلب کہ نیکی کا ہر عمل مشکل بنا دیا جاتا ہے اور ہم شیطان کے جلدی پیچھے لگ جاتے ہیں اس لیے نیکی کا عمل مشکل لگتا ہے لہذا روحانیت حاصل کرنا ان کے لیے مشکل نہیں جو سچ بولتے ہیں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ میری قدرت کا مطالعہ کرو مختصر کہ روحانیت حاصل ہوتی ہے کوئی حاصل کرنا چاہے تو اللہ رب العزت ہمیں روحانیت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یارب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. Great column sir g Ap apny har column ma humy koi na koi ilam dety ha Thank uh our Apex hero⭐💫♥️

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein