بارہ ربیع الاول کا پیغام
بارہ ربیع الاول کا پیغام
کالم از: سر جاوید بشیر
یہ دن، 12 ربیع الاول، کوئی عام دن نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اندھیروں میں روشنی آئی۔ جب یتیموں کا سہارا پیدا ہوا۔ جب عورتوں کو عزت ملی۔ جب غلاموں کو آزادی کی نوید ملی۔ جب کمزوروں کو ہمت ملی۔ اور جب انسانیت کو اصل انسانیت ملی۔ یہ وہ دن ہے جب رحمت کا دریا بہا اور دنیا کو اُس ذات کا تحفہ ملا جس کے اخلاق کے بارے میں خدا نے خود کہا کہ "بیشک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔"
وہ مبارک دن جب مکہ کی وادیوں میں خوشبوئیں پھیل گئی تھیں، جب کائنات کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی، جب تاریکیوں میں روشنی کی کرن پھوٹی تھی۔ ہم مسلمان اس دن کو کیسے مناتے ہیں؟ ہم پہاڑیاں سجاتے ہیں، گلیوں میں رنگ برنگے قمقے لگاتے ہیں، نعت خوانی کے پروگرام کرتے ہیں، میلے لگاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم محبت میں کرتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ محبت کا تقاضا کیا ہے؟
ہماری گلیوں کی روشنیوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں، کیا اُس دن مدینہ کی گلیاں بھی اسی طرح قمقموں سے سجی تھیں؟ نہیں، وہاں دلوں کی روشنی تھی۔ وہاں آنکھوں کے آنسو تھے۔ وہاں زمین و آسمان جھوم اٹھے تھے۔ فرشتے خوشی سے نازل ہوئے تھے۔ درخت جھومے تھے۔ پرندے چہچے تھے۔ لیکن آج ہم نے اس دن کو ایک میلے کا دن بنا دیا ہے۔ کھانے پینے کے اسٹال، شور شرابہ، گانے بجانے کی آوازیں۔ یہ سب کچھ ہے، مگر اصل پیغام کہیں کھو گیا ہے۔
آج میرا ملک سیلاب زدہ ہے۔ یہ صرف پانی کا سیلاب نہیں جو گھروں کو بہا لے گیا، یہ نفرتوں کا سیلاب ہے جو دلوں کو بہا لے گیا ہے۔ یہ دوریوں کا سیلاب ہے جو رشتوں کو بہا لے گیا ہے۔ یہ سیلاب نظر تو نہیں آتا مگر پانی والے سیلاب سے زیادہ خطرناک ہے۔
اگر رسول اللہ ﷺ آج ہمارے بیچ ہوتے، کیا وہ یہ سب دیکھ کر خوش ہوتے؟ کیا وہ ان ڈانس مقابلوں پر مسکراتے؟ کیا وہ فوڈ اسٹریٹ کے شور کو جشن سمجھتے؟ نہیں، اُن کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے کہ میں اس لیے نہیں آیا تھا۔ میں تو اس لیے آیا تھا کہ دل نرم ہوں، کردار پاکیزہ ہوں، گھروں میں سکون ہو، چہروں پر سچائی ہو۔
آج گلیوں کو سجانے کی نہیں، دلوں کو سجانے کی ضرورت ہے۔
گلیوں کو سجانے سے انقلاب نہیں آئے گا، یہ انقلاب اس وقت بھی علم سے آیا تھا، آج بھی علم سے آئے گا۔
آج کھانے نہیں، کتابیں بانٹیں۔
آج نفرتیں نہیں، محبتیں بانٹیں ۔
آج ہم نے محفلِ میلاد تو سجا رکھی ہے مگر اپنے اخلاق کو برباد کر رکھا ہے۔
آج ہم نے راستوں پر قالین بچھا دیے ہیں مگر اپنے دلوں میں کانٹے بو دیے ہیں۔
آج ہم نے چراغاں تو کر دیا ہے مگر اپنے گھروں کے اندر اندھیرا کر دیا ہے۔
آج جب ہم بارہ ربیع الاول کا دن منا رہے ہیں، تو ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو علم کے نور سے روشن کریں گے۔ ہم اپنی سوچ کو مثبت بنائیں گے۔ ہم نفرتوں کو ختم کر کے محبتیں بانٹیں گے۔ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں گے۔ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں گے۔ اور سب سے اہم، ہم اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بارہ ربیع الاول کا پیغام یہ نہیں کہ ہم پہاڑیاں سجائیں اور پھر انہیں مٹا دیں۔ 12 ربیع الاول کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو سجائیں اور پھر انہیں ہمیشہ کے لیے روشن کر دیں۔
آج ہمارے ملک کا حال دیکھیے۔ ہر طرف جہالت کا سیلاب ہے۔ ہر طرف نفرت کی آگ ہے۔ ہر طرف خود غرضی کا زہر ہے۔ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کی تعلیم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی؟ کیا یہی وہ امت ہے جسے "خیر امت" کہا گیا تھا؟
بارہ ربیع الاول کا پیغام یہ ہے کہ ہم جہالت سے نکلیں۔ ہم تاریکی سے نکلیں۔ ہم نفرتوں سے نکلیں۔ ہم خود غرضی سے نکلیں۔ ہم وہ امت بنیں جس کی مثال ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی تھی۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ قائم کیا وہ علم پر مبنی تھا۔ وہ عدل پر مبنی تھا۔ وہ رحمت پر مبنی تھا۔ وہ محبت پر مبنی تھا۔ کیا ہم نے یہ معاشرہ قائم کیا؟ ہم نے تو اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ ہم نے نعتیں پڑھیں، درود بھیجا، مگر عمل سے محروم رہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا: کیا ہم واقعی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں؟ کیا ہمارے اخلاق وہ ہیں جو آپ نے سکھائے؟ کیا ہمارا معاشرہ وہ ہے جو آپ نے بنایا؟ اگر نہیں، تو پھر ہماری محبت کا کیا مطلب؟
بارہ ربیع الاول کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں۔ ہم اپنے گھروں کو بدلیں۔ ہم اپنے معاشرے کو بدلیں۔ ہم وہ روشنی بنیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔
آئیے، آج ہم عہد کریں کہ ہم صرف زبانی محبت تک محدود نہیں رہیں گے۔ ہم عمل سے ثابت کریں گے کہ ہم سچے عاشقِ رسول ہیں۔ ہم علم سیکھیں گے، علم سکھائیں گے۔ ہم محبت پھیلائیں گے، نفرت نہیں۔ ہم اتحاد قائم کریں گے، اختلاف نہیں۔ ہم رحمت بنیں گے، زحمت نہیں۔
بارہ ربیع الاول کا پیغام یہی ہے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جو علم کا، محبت کا، اور امن کا پاکستان ہو۔ جہاں ہر کوئی خوش ہو، جہاں ہر کوئی محفوظ ہو، جہاں ہر کوئی عزت کی زندگی جی سکے۔ یہی اس عظیم ہستی کا پیغام ہے، جس نے دنیا کو امن کا، محبت کا، اور علم کا راستہ دکھایا۔ آئیے، آج اس پیغام کو صرف منائیں نہیں، بلکہ اپنی زندگیوں میں اپنائیں۔ تبھی ہمارا آج اور ہمارا کل سنورے گا۔
یہی 12 ربیع الاول کا پیغام ہے۔ یہی محبت کا تقاضا ہے۔ یہی انسانیت کی فلاح ہے۔ یہی ہمارے ملک اور قوم کی نجات ہے۔
اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںنبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ھے اپنے ماں باپ اولاد اور اپنی جان سے زیادہ محبت ہی ایمان مکمل کی علامت ھے آج ھم اپنے بیوی بچوں اور اپنی سالگرہ منانے ہیں مگر رحمت اللعالمین کی آمد پر خوشیاں منانے پر اعتراض ہاں اعتراض ھے فحاشی پر میوزک ڈانس لچھر پن پر ثنا خوانی کھانا وغیرہ یہ سب خوشی کا اظہار ھے جب سرکار دو عالم ص تشریف لاۓ اس وقت دور جہالت تھا لوگ کیوں مناتے خالق کائنات نے منایا اس انداز سے کہ اس جتنی ولادت ہوئی سب کو بیٹے عطا کئے اب آپ کہیں گے کہ اس کامطلب ھے بیٹی رحمت نہیں جناب بیٹی بالکل رحمت ھے رب کائنات نے تحفہ دیا اور تحفہ ہمیشہ اگلے کی پسند کا ہوتا ھے میلاد کی خوشیاں منانے سے نفرت نہیں بڑھتی نفرت ختم ہوتی ھے اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنانے
بنبنے کیلئے پختہ ایمان کی ضرورت ھے اتحاد اور بھائی چارے کی ضرورت ھے
سب کو اپنی اپنی ڈیوٹی کرنی چاہئے تبھی ملک ترقی کرے گا تبھی ہماری آنکھوں کا سیلاب تھمے گا اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اس آنکھوں کے سیلاب میں ڈوب ہی جائیں گے اللہ رب العزت ہمیں اپنی پنا مینف رکھے آمین یارب العالمین
Jnab jab shabah e rasool ny Rasool e khuda ke hayat e mubarkh mainhe nhi mani khusian to kya huym un sy zyadah rasool allah sy izahar e mohabat kart hain ?
حذف کریںBilkul sir humy smjhna chahiye k dance shor songs yeh sb sy khushi ka izhaar nai hota balky humy dil ma khushi rakhni chahiye Namaz prho Quran parho
جواب دیںحذف کریںLarky bazaro ma larkiyo ka getup kr k ghom rhy ha or kehty ha Rabi Ul Awal islam ma manana farz ha hmary Aaqa Aye thy is din
Yes sir g we have made it a celebration day instead of we come towards the rules of Islam
جواب دیںحذف کریںActually Ramada me siwae tajiro ke hr koi amal krne ki puri koshish krta hai
حذف کریںLakin Kya hum in batoon pr amal kar sakty bhe hain ???
جواب دیںحذف کریںI just think why everyone starts saying things against the celebrations regarding 12th rabi ul awwal
جواب دیںحذف کریںOr yhi kehte ke hme ye sb krne ki bjae unki taleemat pr amal krna chaiye to ye taleemat hm rabi ul awwal se zyada Ramadan me observe krte hein. I mean to say krte hein. Lekin iska celebration se taluq nhi hai
Jisne celebrate krna kre, nhi krna to mt kre but both the things shouldn't be compared and they can't be
I just want to say the best way to observe this day is going to Mehfils do zikr there and share meals
Yhi is din ki ronaq hai isko mrne mt dein
You are absolutely right. May Allah gives us capacity for aching upon Ameen
جواب دیںحذف کریں