موبائل رنگ ٹون اور ڈسپلے تصویر
موبائل رنگ ٹون اور ڈسپلے تصویر
کالم از: سر جاوید بشیر
کیا کبھی آپ نے اپنے فون کی رنگ ٹون کو سُن کر محسوس کیا کہ اس میں بجنے والی مقدس آوازوں کے ساتھ ہم کس قدر بے ادبی کر رہے ہیں؟ کیا کبھی یہ خیال آیا کہ ہماری ڈی پی پر لگی مقدس تصویریں کہاں کہاں اور کن کن ہاتھوں میں دیکھی جا رہی ہیں؟
یہ کالم صرف موبائل کے بارے میں نہیں، یہ ہمارے ایمان اور ہمارے ادب کی داستان ہے۔ آج ہم اسی گمشدہ ادب کو تلاش کریں گے جو ہماری زندگی سے آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ آئیے، آج ہم یہ سفر شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہم اپنی اخلاقیات کی حفاظت کر سکتے ہیں؟
میں نے یہ بات اپنے استادِ محترم سے سیکھی تھی کہ ادب ہمیشہ علم سے پہلے آتا ہے۔ آج جب موبائل فون ہماری جیب میں، ہمارے ہاتھ میں، ہمارے تکیے کے نیچے، اور ہماری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس چھوٹی سی مشین کے استعمال میں بھی ادب داخل ہے؟ جواب ہاں میں ہے۔ کیونکہ یہ اب صرف آلہ نہیں رہا، یہ ہماری گفتگو، ہماری آواز، ہماری تصویریں، ہمارا لکھا ہوا، اور ہمارا وقت، سب کا محافظ بن چکا ہے۔ اور جہاں وقت، گفتگو اور الفاظ جمع ہو جائیں، وہاں اخلاق اور ادب فرض بن جاتا ہے۔
اب لوگ مقدس الفاظ کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔۔ مقدس لفظ دل کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، ہم انہیں لفٹ میں، ٹریفک کے شور میں، اور کبھی بیت الخلا کے اندر بجنے دیتے ہیں۔ اَدب تو یہ کہتا ہے کہ ایسے الفاظ کانوں کے راستے نہیں، دل کی راہداریوں سے گزریں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ نعت کی پکار جب درمیان سے کاٹ دی جاتی ہے تو دل کے کس حصے پر چھری چلتی ہے؟ کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ قرآن کی آیت کو کال رسیو کرتے ہی بے دردی سے منقطع کر دینا کیسا لگتا ہے؟ اَدب آہستہ آہستہ مرتا نہیں، اچانک گرتا بھی نہیں، یہ روز تھوڑا تھوڑا کم ہوتا ہے، اور پھر ایک دن ہم محسوس کرتے ہیں کہ آنکھیں نم نہیں ہوتیں، لفظ دل پر نہیں اترتے۔
اَدب وہی ہے جو آپ کی تنہائی میں بھی قائم رہے۔ اگر آپ نعت یا آیات کو رِنگ ٹون بناتے ہیں تو آپ نیت اچھا کرتے ہیں، مگر نتائج پر بھی نظر ڈالئے۔ فون ہر جگہ بجتا ہے۔ کبھی مسجد کے اندر، کبھی دعا کے وقت، کبھی استاد کے سامنے، کبھی مریض کے سرہانے، کبھی غسل خانے کے قریب۔ رِنگ ٹون شروع ہوتی ہے، ہم گھبرا کر کال اُٹھا لیتے ہیں، مقدس الفاظ بیچ میں کٹ جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ عام سی آواز رکھئے، سادہ سی بیل رکھئے، یا وائبریشن رکھئے۔ آپ کا احترام بڑھے گا، آپ کے اندر خاموشی کی وہ اخلاقی قوت پیدا ہوگی جس کے سامنے شور خود بیٹھ جاتا ہے۔
اب لوگ مقدس چیزوں کو ڈسپلے تصویر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے سوچا کہ آپ کی ڈی پی پر جو مقدس تصویر ہے، جو مقدس لفظ ہے، اس پر کب، کہاں، کس حالت میں ہاتھ لگ رہا ہے؟ کیا ہر ہاتھ پاکیزہ ہوتا ہے؟ کیا ہر جگہ پاک مقام ہوتا ہے؟ ہمیں اپنے دل کی طرف دیکھنا چاہئے۔ محبت کا راستہ دکھاوا نہیں مانگتا، ادب مانگتا ہے۔ آپ اپنی تصویر لگا لیجئے، کسی منظر کی تصویر لگا لیجئے، کسی درخت، آسمان کی تصویر لگا لیجئے۔ کلمہ، آیات، اللہ کا نام، نبی ﷺ کا نام، حرمین کی تصویریں، یہ سب ہمارے دل کے اندر کی دیواروں پر سجنے کے قابل ہیں، سکرین کی دیواریں کبھی کبھی بے ادبی کے مقام بن جاتی ہیں، اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔
آپ نے شاید دیکھا ہوگا کہ واٹس ایپ اسٹیٹس میں قرآن کی تلاوت لگ جاتی ہے۔ دس سیکنڈ، بیس سیکنڈ، پھر اگلا اسٹیٹس۔ آیت درمیان میں رک جاتی ہے۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا مگر یہ ہماری روح پر ایک خراش ہے۔ تلاوت ایک عبادت ہے۔ اس کے لیے بیٹھنا چاہئے۔ سننا چاہئے۔ رک کر سننا چاہئے۔
آج ہمارے ہاتھ میں فون ہے مگر ہماری زبان اور ہمارے دل پر اس کا حکم چل رہا ہے۔ ہم بغیر تحقیق کے فارورڈ کر دیتے ہیں۔ ہم خبر، تصویر، الزام، طنز، فقرہ، میم—سب کچھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ پھر وہی مواد کسی کی عزت کا خون کر دیتا ہے۔ کسی کی زندگی کا چین چھین لیتا ہے۔ کسی کی ماں کی آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ اور ہم کہتے ہیں، میں نے تو بس بھیج دیا تھا۔ بس بھیج دینا بھی عمل ہے۔ جھوٹ کو سفر میں سہولت دینا گناہ کے سفر میں سواری دینے جیسا ہے۔ آپ جب بھی آگے بھیجیں، ایک ہی سوال کیجئے: کیا یہ اللہ کو پسند آئے گا؟ کیا یہ بات میں والدین کے سامنے کہہ سکتا ہوں؟ اگر جواب نہیں ہے تو پھر انگلی روک لیجئے۔ انگلی رک جائے تو بہت سی آفتیں ٹل جاتی ہیں۔
آپ بازار، دفتر، عدالت، سکول، ہسپتال—کہیں بھی ہوں—فون بجے تو اپنے اردگرد دیکھ لیجئے۔ مریض سو رہا ہے تو آہستہ بات کیجئے۔ استاد پڑھا رہے ہوں تو خاموشی اختیار کیجئے۔ نماز کا وقت ہو تو سائلنٹ کر دیجئے۔ گھر میں ماں آواز دے تو فوراً جواب دیجئے۔ فون نے ہمیں ایک دوسرے کے نزدیک کرنا تھا، ہم نے اسے دوری کا ہتھیار بنا دیا۔ ہم ٹیبل پر ساتھ بیٹھتے ہیں مگر آنکھیں سکرین کے اندر قید ہیں۔ ہم گاڑی چلاتے ہیں تو ایک ہاتھ سٹیرنگ پر، دوسرا فون پر۔ ہم جانتے ہیں کہ حادثہ ایک سیکنڈ میں ہوتا ہے، مگر پھر بھی چیٹ کا جواب دیتے ہیں۔ زندگی، عزت، وقت—یہ سب اللہ کی امانتیں ہیں۔ امانت میں کوتاہی بڑی خطا ہے۔
میں نے کئی گھروں میں دیکھا کہ بچے رات بھر فون پر لگے رہتے ہیں۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، دل میں بے چینی، دماغ میں شور۔ کتاب بند رہتی ہے۔ ماں پکارتی ہے تو چڑچڑا پن۔ یہ وہ عمر ہے جب کردار بنتا ہے۔ آپ اپنے گھروں میں ایک قاعدہ بنا لیجئے۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے فون الگ۔ کھانے کی میز فون سے پاک۔ نماز سے پہلے فون سائلنٹ۔ قرآن کی تلاوت کے وقت فون دور۔ ماں باپ کے پاس بیٹھیں تو فون جیب میں۔ دیکھئے پھر گھر میں سکون کیسے اترتا ہے۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں بڑی برکتیں لاتی ہیں۔
ڈسپلے پکچر پر واپس آئیے۔ آپ کہیں گے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں کلمہ لکھوں، اللہ کا نام لکھوں، روضۂ رسول ﷺ کی تصویر لگاؤں۔ میں آپ کے دل کی قدر کرتا ہوں۔ مگر اس محبت کا ایک زیادہ باادب راستہ ہے۔ اپنے کمرے میں ایک صاف، خوبصورت فریم میں یہ نام لکھوائیے۔ اس کے پاس بیٹھ کر درود پڑھئے۔ یہ تصویریں دل کے اندر رکھیے۔ فون پر آپ اپنی مسکراہٹ لگا دیجئے، کسی درخت کی شاخ، کسی بادل کی صورت لگا دیجئے۔ محبت دکھانے کے ہزار طریقے ہیں، مگر ادب والی محبت کم ملتی ہے۔ ہمیں وہی محبت چاہیے جو اللہ کے ہاں قبول ہو۔
آپ فون کی عام بیل رکھئے۔ جب بھی بجے، بسم اللہ کہہ کر اٹھائیے۔ اگر مسجد میں ہیں تو بعد میں کال بیک کیجئے۔ اگر واش روم میں ہیں تو باہر آ کر کال کیجئے۔ اگر کوئی مقدس مجلس ہے تو فون بند کر دیجئے۔ آپ کا احترام بڑھے گا۔ آپ کے دوست سمجھیں گے کہ یہ شخص حدوں کو پہچانتا ہے۔ یہی پہچان ایمان کی علامت ہے۔آج، اسی لمحہ، آپ اپنی رِنگ ٹون چیک کیجئے۔ اگر وہ مقدس الفاظ پر ہے تو بدل دیجئے۔ یہ چھوٹا قدم آپ کے دل کو بڑا سکون دے گا۔
اور ایک اور بات۔ آپ جب فون پر کسی نعت یا قرآنِ کریم کی تلاوت سنتے ہیں تو ادب اختیار کیجئے۔ بیٹھ کر سنئے۔ اگر سفر میں ہیں تو آہستہ آواز میں، غور سے، اور بغیر کسی دوسری مصروفیت کے۔ یہ آوازیں پس منظر موسیقی نہیں ہیں۔ یہ دل کی غذا ہیں۔ غذا ہڑبڑی میں نہیں کھائی جاتی۔ اگر وقت نہیں تو دل پر بوجھ نہ ڈالیے۔ بعد میں کھول لیجئے۔ اور جب کھولئے تو پوری محبت اور احتیاط کے ساتھ۔
میں نے اپنی زندگی میں یہ راز دیکھا ہے کہ جس گھر میں ادب آتا ہے، وہاں رزق میں کشادگی آتی ہے۔ جس دل میں ادب آتا ہے، وہاں علم اترتا ہے۔ جس زبان میں ادب آتا ہے، وہاں الفاظ میں تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ آپ جب اپنے فون کو ادب سکھائیں گے تو آپ کی بات میں وزن آ جائے گا۔ آپ کے دوست آپ سے مشورہ لیں گے۔ آپ کے بچے آپ جیسا بننا چاہیں گے۔ آپ کے والدین آپ پر فخر کریں گے۔
اور آخر میں، ایک چھوٹی سی درخواست۔ سیٹنگز کھولیے۔ رِنگ ٹون بدلیے۔ نوٹیفکیشنز کو کم کیجئے۔ مقدس الفاظ کو رِنگ ٹون اور ڈی پی سے الگ کر کے دل کے قریب جگہ دیجئے۔
میں، دل سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں محبت دے مگر ادب کے ساتھ، جوش دے مگر ہوش کے ساتھ، جذبہ دے مگر حکمت کے ساتھ۔ اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم وہ مسلمان بنیں جن کا ایمان رِنگ ٹون اور ڈسپلے پکچر سے
نہیں، عمل سے پہچانا جائے۔
Koi shak Nahi he .
جواب دیںحذف کریںMashaAllah different column ha sb sy kafi asi baten ha jo mery ilm ma hi nahi thi Thank uh so much sir for made us understand and gave us knowledge ☺️
جواب دیںحذف کریںReally a heart touching column 💖
جواب دیںحذف کریںGolden words
جواب دیںحذف کریںماشااللہ بہت اچھا سبق ائسا ہی ھے ہم اپنی محبت جتا رھے ہوتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم بے ادب میں شامل ہو جاتے ہیں اادب ہی سب کچھ ھے اگر ادب نہیں تو تعلیم فضول ھے آپ نے ہر چیز کھول کر لکھی ہے میرے لئے کچھ بچا ہی نہیں بس یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ادب کے بغیر عبادت قبول ھی نہیں جب آذان ہو تو نہ کہ سننا چاہئے ساتھ ساتھ پڑھنا بھی چاہئے قرآن پاک کی تلاوت سننا فرض ھے اور پڑھنا سنت اگر اونچی آواز میں پڑھیں گے تو فرض اور سنت دونوں کا ثواب ملے گا یہ اس لئے تحریر کیا ہے کہ سر جاوید کی بات کو بڑا کیا ہے اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین
جواب دیںحذف کریںپیارے بھائی،
حذف کریںآپ کا تبصرہ پڑھ کر جو خوشی ہوئی، اسے بیان کرنا مشکل ہے۔
آپ جیسے بہترین ادیب اور شاعر کی طرف سے یہ تعریف میرے لیے ایک سند جیسی ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ میں نے کچھ نہیں چھوڑا، میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ آپ کی نظر زیادہ گہری ہے اور آپ بہتر جانتے ہیں کہ کون سی بات دل سے نکلی ہے۔
آپ کی محبت اور اس قیمتی تبصرے کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
محبت کا راستہ دکھاوا نہیں مانگتا، ادب مانگتا ہے....... Most beautiful lines ..
جواب دیںحذف کریںExactly. We are Muslim and we show on media we are true Muslims ,but its a bitter reality we have no respect. If someone says about our Massagers we rapidly aggressive. But our actions and way of talk show who we are.
جواب دیںحذف کریں