نیا نصاب یا چیٹ جی پی ٹی کاپی پیسٹ؟

 نیا نصاب یا چیٹ جی پی ٹی کاپی پیسٹ؟

کالم از: سر جاوید بشیر


کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب بچہ ایک نئی کتاب کھولتا ہے تو اس کے دل میں کیا امید ہوتی ہے؟ وہ علم کی پیاس لیے بیٹھا ہوتا ہے، مگر ہم اسے کیا دے رہے ہیں؟ ہم اسے ایسا بے روح اور خشک مواد دے رہے ہیں جو شاید کسی مشین نے بنایا ہو۔

یہ کالم صرف نصاب پر نہیں، یہ ہماری آنے والی نسل کے مستقبل پر ہے۔ یہ ان بچوں کے ذہنوں پر ہے جنہیں ہم مشینوں کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں۔ آج میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہم اپنے بچوں کو سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں صرف کاپی پیسٹ کرنے کی مشین بنانا چاہتے ہیں؟

آئیے، آج ہم یہ سمجھیں اور اس کی جڑ تک پہنچیں۔

 میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تدریس کے مقدس فریضے میں گزارا ہے۔ انگريزی پڑھاتے پڑھاتے برسوں بیت گئے۔آج ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر چیز کی رفتار برق رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ مگر اس برق رفتاری کے ساتھ ساتھ ہم کچھ ایسی چیزیں پیچھے چھوڑتے جا رہے ہیں جن کی قیمت شاید ہم نے ابھی تک پوری طرح سمجھی ہی نہیں۔

چند روز قبل جب میں نے کالج کے فرسٹ ایئر کے طلبہ کے لیے تیار کردہ انگریزی کی نئی کتاب اور 9th کلاس کے نئے نصاب پر ایک نظر ڈالی، تو میرا دل بیٹھ گیا۔ وہ کتابیں، وہ اسباق… ان میں وہ جذباتی گہرائی، وہ روح جو کسی تخلیق کو امر کر دیتی ہے، کہیں نظر نہیں آئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ سب کسی مشین نے، کسی مصنوعی ذہانت نے، صرف اور صرف معلومات کو جوڑ کر تیار کر دیا ہو۔ وہ ترتیب، وہ الفاظ کا چناؤ، وہ کہانیوں کا انداز… سب کچھ ایسا خشک اور بے جان کہ پڑھتے ہوئے ایسا لگا جیسے کوئی مشین انسانوں سے بات کر رہی ہو۔

 آج کا دور مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسے دیگر ٹولز نے ہماری زندگی کے ہر شعبے میں دخل دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک حیران کن پیشرفت ہے، مگر جب بات ہمارے بچوں کی تعلیم کی ہو، جب بات ان کی ذہنیت کی تعمیر کی ہو، تو ہمیں دو قدم پیچھے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ جب ہماری آئندہ نسل کو کچھ سکھایا جا رہا ہو، تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس کی تخلیق میں کوئی انسانی دماغ، کوئی انسانی جذبہ، کوئی انسانی تجربہ شامل نہ ہو؟

مجھے سخت حیرت ہوئی جب میں نے دیکھا کہ اس نصاب کو مرتب کرنے والوں نے اتنی محنت سے، اتنی گہرائی سے سوچنے کے بجائے، شاید یہ گمان کر لیا کہ کیوں اتنی مشقت کی جائے؟ بہتر یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد لی جائے اور چند کلکس پر کام ختم کر لیا جائے۔ مگر یہ قوم کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم نے کس چیز کا نصاب تیار کیا ہے؟ ہم نے دنیا کے بدلتے تقاضوں کے مطابق، جدید علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمارے بچوں کے لیے ایک ایسا نصاب بنانا تھا جو انہیں آنے والے کل کے لیے تیار کرے۔ ایک ایسا نصاب جو ان کے ذہن کو وسعت دے، ان کی سوچ کو پرواز دے، اور انہیں دنیا کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کے قابل بنائے۔

مگر یہاں کیا ہوا؟ ہم نے وہی پرانی لکیریں کھینچی ہیں، اور اس پر اپنی نااہلی کے رنگ بھر دیے ہیں۔ انگریزی کی بات کرتے ہیں۔ یہ ایک زبان ہے۔ ایک ایسی زبان جو آج کی دنیا میں رابطے کا، تجارت کا، علم کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ اس زبان کو سیکھنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا بچہ دنیا سے جڑ سکے، اسے سمجھ سکے، اور اپنی بات دنیا کو سمجھا سکے۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے انگریزی کو، جو خود میں ایک خوبصورت اور لچکدار زبان ہے، ہمارے بچوں کے لیے ایک پہاڑ بنا دیا ہے۔ کتابوں کو اس قدر مشکل، اس قدر غیر فطری بنا دیا ہے کہ وہ خود انگریزی زبان کے حسن اور اس کی افادیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ نصاب، یہ کتابیں… ان میں وہ جذبہ، وہ انسانی رنگ کہاں ہے جو کسی طالب علم کو اپنی طرف کھینچ لے۔ ہم نے ایسے اسباق شامل کر دیے ہیں جو کسی مشین نے ترتیب دیے ہوں، جن میں نہ کوئی کہانی کی دلکشی ہے، نہ کوئی فکری وسعت۔ وہ روایتی کہانیاں، وہ بامقصد کردار، وہ اخلاقی سبق جو کسی دور میں ہماری درسی کتب کا حصہ تھے، اب قصہ بن چکے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو سکھا رہے ہیں کہ کاپی پیسٹ کر کے کیسے اچھے نمبر حاصل کیے جاتے ہیں، مگر یہ نہیں بتا رہے کہ سوچنا کیسے ہے، تخلیق کیسے کرنی ہے، یا حقائق کو کیسے پرکھنا ہے۔

 یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں۔ یہ نصاب صرف تعلیمی مواد نہیں، یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا نقشہ ہے۔ اور اگر اس نقشے میں غلطیاں ہوں، اگر اس کا بنانے والا ہی بے حس ہو، تو پھر ہمارے بچے کہاں جائیں گے؟

 انسان کا سفر آج اس موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں علم اور ٹیکنالوجی کا امتزاج ہی بقا کی ضمانت ہے۔ مگر یہ امتزاج کس طرح کا ہو؟ کیا یہ ایسا ہو کہ ہم انسانیت کو ہی بھلا بیٹھیں؟ کیا یہ ایسا ہو کہ ہم تخلیق کی بجائے نقل پر اتر آئیں؟ وہ عظیم سائنسدان، وہ مفکر، وہ شعراء جو انسانی تاریخ کا سرمایہ ہیں، وہ سب جذبے، وہ سب تڑپ، وہ سب انسانی تجربات سے پیدا ہوئے تھے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے ذہنوں میں صرف مشینوں کا ڈالا ہوا خشک مواد بھر دیں گے، تو ان میں وہ چمک، وہ صلاحیت کیسے پیدا ہوگی؟

میں ان لوگوں سے سوال پوچھتا ہوں جنہوں نے یہ نصاب تیار کیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی خود ان اسباق کو پڑھ کر دیکھا؟ کیا آپ نے اپنے بچوں کو، یا اپنے ارد گرد کے بچوں کو ان کتابوں کے ساتھ وقت گزارتے دیکھا؟ کیا آپ کو ان کی آنکھوں وہ اکتاہٹ، وہ بے بسی نظر آئی جو ان کو اس نصاب کو دیکھ کر ہوتی ہے؟ یہ کوئی مذاق نہیں، یہ کوئی عام سی بات نہیں، یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

تاریخ انسانی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ علم کی بنیاد محبت پر، سمجھ پر، اور قربت پر ہوتی ہے۔ جب استاد طلبہ کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر دل کی بات سمجھ جاتا ہے، تب علم کی شمع روشن ہوتی ہے۔ مگر جب استاد خود اس نصاب سے ناخوش ہو، جب اسے معلوم ہو کہ وہ طلبہ کو کچھ ایسا پڑھا رہا ہے جو شاید ان کے لیے مفید ہی نہیں، تو پھر وہ استاد کہاں سے وہ جذبہ لائے گا جو بچے کے دل میں اتر جائے؟

یہ صرف انگریزی کی کتابوں کا معاملہ نہیں، یہ ہماری پوری تعلیمی سوچ کا مسئلہ ہے۔ ہم نے علم کو امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے، مگر اسے زندگی جینے کا سلیقہ نہیں بنایا۔ ہم نے اسے سوچنے کا ہنر نہیں سکھایا، بلکہ صرف حقائق یاد کرانے کا طریقہ بنا دیا ہے۔ اور اب جب مصنوعی ذہانت نے یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے، تو ہم نے اس کا غلط استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

میری حکومت سے، میری قوم کے تمام ذمہ داران سے، میرے تعلیمی بورڈز سے، اور میرے ان تمام اداروں سے جو علم کی شمع روشن کرنے کے دعویدار ہیں، یہ ہاتھ جوڑ کر التجا ہے۔ خدارا، اس قوم پر رحم کریں۔ ان معصوم بچوں پر رحم کریں۔ جن کے ہاتھ میں کتابیں ہیں، وہ کتابیں ان کے روشن مستقبل کا سبب بننی چاہئیں۔ وہ ان کے ذہنوں میں سوالات پیدا کریں، ان کے دلوں میں جرات پیدا کریں، اور انہیں دنیا کے رنگوں سے متعارف کروائیں۔

یہ جو نئی کتابیں آپ نے ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں تھما دی ہیں، انہیں دوبارہ دیکھیں۔ انہیں پرکھیں۔ کیا یہ واقعی ہمارے بچوں کو وہ علم دے رہی ہیں جو انہیں آج کی دنیا میں درکار ہے؟ کیا ان میں وہ انسانی اقدار ہیں جو ہمارے معاشرے کے لیے اہم ہیں؟ کیا ان میں وہ صلاحیتیں ہیں جو ہمارے بچوں کو کل کا لیڈر بنا سکیں؟

میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں، آپ کو وہ راستہ دکھاتا ہوں جو مجھے میرے تجربے نے سکھایا ہے۔ سب سے پہلے، ان تمام کتب کی ایک بار پھر سے جانچ پڑتال کی جائے۔ ان میں چوری شدہ مواد (Plagiarism) کی تحقیق کروائی جائے، کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کا نتیجہ ہے، تو اس میں یہ زیادہ ہوگا۔ اور اگر ایسا مواد پایا جائے، تو اسے فوراً خارج کیا جائے۔

پھر، ایک ماہر ٹیم بنائی جائے۔ اس ٹیم میں وہ نوجوان پروفیشنلز شامل ہوں جو آج کی دنیا کو سمجھتے ہیں، جو جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے، اور جن کے پاس انقلابی خیالات ہیں۔ ان کے ساتھ وہ پرانے اساتذہ، وہ بزرگ بھی شامل ہوں جن کے پاس سالوں کا تدریسی تجربہ ہے، جنہوں نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کی زندگیاں سنواری ہیں۔ ان دونوں نسلوں کا امتزاج ہی ایک بہترین نصاب تیار کر سکتا ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر، دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں، دنیا کے بہترین اساتذہ کے تجربات سے مدد لیں۔ آج ہم اتنی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں رہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو اپ ڈیٹ نہ کیا، تو ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمیں دنیا کے دیگر ممالک سے سیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے تیار کر رہے ہیں۔

علم کو آسان بنائیے۔ اسے جتنا آسان بنا سکتے ہیں، بنائیں۔ جب علم آسان ہوگا، جب وہ ہمارے بچوں کی سمجھ میں آئے گا، جب وہ انہیں اپنی زندگی سے جڑا ہوا محسوس ہوگا، تب ہی وہ بچہ دل سے پڑھے گا۔ تب ہی وہ علم حاصل کرے گا۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینا ہے۔ ہم نے انہیں وہ ہتھیار دینے ہیں جن سے وہ زندگی کے میدان میں کامیاب ہو سکیں۔ اور علم، صحیح علم، ہی وہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

جب میں یہ سوچتا ہوں، تو میرا دل بھر آتا ہے۔ کیا ہم نے یہی مستقبل سوچا تھا؟ کیا یہی وہ خواب تھا جو ہم نے اپنے بچوں کے لیے دیکھا تھا؟ وہ وقت جو ہمارے بچوں کے ہاتھ سے نکل رہا ہے، وہ ان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ ہم اسے اس طرح ضائع نہیں ہونے دے سکتے۔

خدا را، اس قوم پر، اس نسل پر، ہمارے بچوں پر رحم کریں۔ انہیں وہ علم دیں جو ان کی روح کو سیراب کرے، ان کے ذہن کو روشن کرے، اور انہیں ایک بہتر انسان بنائے۔ وہ وقت جب ایک استاد کا لفظ کسی بچے کے دل میں اتر جاتا تھا، وہ وقت جب کتابیں زندگی کا نقشہ بدل دیتی تھیں، وہ وقت واپس لائیں۔ آج میں آپ سب سے، ہر اس شخص سے جو پاکستان سے محبت کرتا ہے، جو اس کے بچوں کا بھلا چاہتا ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ اٹھیں، جاگیں، اور اپنے بچوں کے حق کے لیے آواز اٹھائیں۔


یہ صرف ایک کالم نہیں، یہ ایک فریاد ہے۔ ایک دل سے نکلنے والی فریاد جو سب تک پہنچنی چاہیے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ فریاد سن کر، سمجھ کر، اور پھر عمل کر کے، ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک روشن مستقبل دے سکیں گے۔


آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف کاپی پیسٹ کر کے امتحان پاس کرنے کی مشین بنانا چاہتے ہیں، یا ہم انہیں وہ باشعور، وہ تخلیقی، وہ باشعور انسان بنانا چاہتے ہیں جو دنیا میں اپنی شناخت بنا سکے؟

 

تبصرے

  1. You impressed me by this column sir g really because you have raised the voice for youth future
    It is a future of the country but regret

    جواب دیںحذف کریں
  2. .yes you are right... but generation is very fast now according to them i think syllabus is correct

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes.you are right. Our government and responsible Educationl department take special steps to check the curriculum and syllabus. Because its depends on county 's development. Thanks to indicate.

    جواب دیںحذف کریں
  4. جی سر جاوید صاحب اگر کاپی پیسٹ کرکے امتحان سے گزنا ھے تو ھم سیکھ کیا سکتے ھیں یہ ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم ھے اور یہ ظلم ھمارے ھی ادارے کر رھے ھیں اگر ھم روک نہ پاۓ تو وطن عزیز کا مستقبل کیا ھے ذمہ داروں کو فوری ایکشن لینا چاہئے ورنہ ہمارے یہ معمار کسی قابل نہیں رہیں گے اللہ رب العزت ان کو ہدائت دے جو وطن عزیز کے مستقبل کے پیچھے ہیں آپ کا مشورہ بالکل ٹھیک ہے ذمہ داروں کو فوری ان پر عمل کرنا چاہئے اللہ رب العزت وطن عزیز کی حفاظت کرے آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  5. Mind-blowing column sir g kuuuu har koi apki trah ni souchta kuuuuuu aj ma column k bary ni likho gi ma apko appreciate krogi sir g lafz e nai ha jin ma apki tareef ho kya kya kya kya kahoo apko k apko pta chaly k mery dil ma apki kya izzat ha ya kya mukaam ha sir g sach ma you're great sachiii great o tusii

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein