وہ دن جب نتائج آتے ہیں، اور دل ٹوٹ جاتے ہیں
وہ دن جب نتائج آتے ہیں، اور دل ٹوٹ جاتے ہیں
کالم از: سر جاوید بشیر
وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ شدید سردی کا ایک دن تھا، میرے سامنے میرا شاگرد، احمد، بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر ایک سسکی۔ اس کے ہاتھ میں رزلٹ کارڈ تھا، جس پر لکھا تھا "فیل"۔ احمد، جو ایک اچھا طالب علم تھا۔، جو ہمیشہ کلاس میں سب سے پہلے آتا تھا، آج مجھ سے نظریں چرارہا تھا۔
میں نے احمد کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا، کیا یہ رزلٹ کارڈ تم ہو؟ کیا یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا تمہاری ساری صلاحیتوں، تمہاری ساری محنت، تمہارے سارے خوابوں کا فیصلہ کر سکتا ہے؟" احمد نے بس اتنا کہا، "سر، میں نے بہت کوشش کی، پر میں پھر بھی فیل ہوگیا۔" اس کی آواز میں مایوسی تھی۔ میں نے سوچا، یہ صرف احمد کی کہانی نہیں، یہ ہمارے ملک کے ہزاروں، لاکھوں بچوں کی کہانی ہے۔ وہ تمام بچے جو جان توڑ کر محنت کرتے ہیں، جن کے والدین اپنے خون پسینے کی کمائی ان کی تعلیم پر لگاتے ہیں، اور جب نتائج آتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں ناکامی کا داغ آ جاتا ہے۔
میں گذشتہ بیس سال سے تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ اس دوران میں نے ہزاروں چہرے دیکھے، کچھ کامیاب، کچھ ناکام، کچھ اداس، کچھ خوش۔ میں نے ہر طالب علم کو یہی سکھایا ہے کہ کبھی ہمت نہ ہارو۔ مگر آج، احمد کی آنکھوں کے آنسو دیکھ کر، مجھے لگا کہ شاید میں نے انہیں صرف لفظ سکھائے ہیں، دل کا حال سننا نہیں سکھایا۔ میں نے انہیں یہ تو بتایا کہ "کبھی ہمت مت ہارو"، مگر یہ نہیں بتایا کہ اگر ہار جاؤ تو اس دل کے بوجھ کو کیسے ہلکا کرو۔
یہی وجہ ہے کہ آج میں آپ کے سامنے ایک استاد کے روپ میں نہیں، بلکہ ایک بڑے بھائی، ایک دوست، اور اس معاشرے کے ایک حصے کے طور پر، اپنے دل کی بات کہنے آیا ہوں۔ یہ بات ان سب کے لیے ہے جو آج نتیجہ دیکھ کر اداس ہیں، جو فیل ہو گئے ہیں، جن کی سپلی آئی ہے، یا جن کے نمبر کم آئے ہیں۔
سنو! اس وقت تمہارے دل پر کیا گزر رہی ہوگی، میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔ وہ بے چینی، وہ مایوسی، وہ خود پر غصہ، اور وہ احساس کہ جیسے دنیا ختم ہو گئی۔ وہ سب کچھ جو تم نے سال بھر سوچا، جو خواب دیکھے، جو امیدیں باندھیں، سب جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئیں۔
یاد ہے، وہ شام جب تم نے اپنے والدین سے وعدہ کیا تھا کہ اس بار بس دکھا دوں گا؟ وہ راتیں جب نیند کو چھوڑ کر تم کتابوں میں غرق رہے؟ وہ وقت جب دوستوں کے ساتھ تفریح چھوڑ کر تم نے قلم اٹھایا؟ وہ سب کچھ یاد ہے؟
آج جب وہ رزلٹ کارڈ ہاتھ میں آیا، تو وہ ساری محنت، وہ ساری قربانیاں، سب جیسے بے معنی لگنے لگیں۔ دل چاہا کہ وہ رزلٹ کارڈ پھاڑ کر پھینک دوں، یا شاید خود کو ہی اس دنیا سے مٹا دوں۔ پر کیا یہ حل ہے؟ کیا یہ وہ راستہ ہے جو تمہارے والدین نے تمہیں دکھایا تھا؟
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لو۔ وہ رزلٹ کارڈ، وہ نمبر، یا وہ "فیل" کا لفظ، یہ تمہاری پوری زندگی کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ صرف ایک پرچے کا نتیجہ ہے۔ یہ تمہارے اس سال کی محنت کا ایک عکس ہے، تمہاری صلاحیت کا نہیں۔
سوچو، اگر تم ایک بلڈنگ بنانے والے انجینئر ہوتے، اور تمہارے ہاتھ سے کوئی نقشہ غلط بن جاتا، تو کیا تم بلڈنگ بنانا چھوڑ دیتے؟ نہیں نا! تم اس غلطی سے سیکھتے، نقشہ درست کرتے، اور دوبارہ کام شروع کرتے۔ یہی تو زندگی ہے!
یہ صرف ایک مضمون تھا، ایک امتحان تھا۔ یہ تمہارے ہنر، تمہاری قابلیت، تمہاری ذہانت کی مکمل پیمائش نہیں کر سکتا۔ تمہاری اندر کی طاقت، تمہارے خواب، تمہارے وہ جذبے جو تم نے سیکھنے کے لیے رکھے ہیں، وہ تو ابھی بھی وہیں ہیں۔ بس آج ذرا اداس ہیں، ذرا رو رہے ہیں۔ ہارنا برا نہیں ہے۔ اگر تم ہارے ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے کوشش کی ہے۔ وہ جو کھیلتا ہی نہیں، وہ تو کبھی ہارتا بھی نہیں۔ پر کیا وہ کبھی جیتتا ہے؟ نہیں!
تم نے کوشش کی، اور یہ سب سے بڑی بات ہے۔ ناکامی تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ کہاں غلطی ہوئی، کہاں کمی رہ گئی۔ یہ تمہاری کمزوری نہیں، بلکہ تمہاری سب سے بڑی طاقت بننے کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب تمہیں اپنی کمزوری معلوم ہو جاتی ہے، تو تم اس پر قابو پا سکتے ہو۔
یہ رزلٹ، یہ ناکامی، تمہیں بتاتی ہے کہ اب تمہیں کہاں محنت کرنی ہے۔ اب تمہیں اپنی پڑھائی کے طریقے کو بدلنا ہے یا پڑھائی کا وقت۔ شاید تمہیں کچھ خاص مضامین پر زیادہ توجہ دینی پڑے۔ یہ سب علم ہے، جو تمہیں خود کے بارے میں ملا ہے۔
یہ بات سنتے سنتے ہم بڑے ہوئے ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ نے جب کائنات بنائی، تو اس میں کچھ اصول رکھ دیے۔ ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ محنت کا پھل ملتا ہے۔ مگر کب، کیسے، اور کس شکل میں، یہ اللہ کی مرضی ہے۔
تم نے محنت کی، پورے دل سے کی۔ تم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تو اب اس بات کی فکر کیوں؟ تمہاری ذمہ داری تھی محنت کرنا، اور تم نے وہ ادا کر دی۔ اب جو نتیجہ آیا ہے، اسے قبول کرو۔
تم نے جو کچھ کھویا، اُس سے زیادہ پا لیا ہے۔ تم نے اپنی کمزوریوں کو پہچانا ہے، جو اب تمہاری سب سے بڑی طاقت بنے گی۔ کیونکہ سیکھنا اور بہتر ہونا یہی تو انسان کی اصل کامیابی ہے۔ کامیابی دیر سے نہیں، سیکھ کر ملتی ہے۔ کچھ پھل وقت سے پہلے پک جاتے ہیں، اور کچھ کو بہتر بننے کے لیے زیادہ دھوپ درکار ہوتی ہے۔ سکون صرف محنت میں ہے تم نے اپنی محنت کا حق ادا کر دیا ہے۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں تھا، اور وہی جانتا ہے کہ ہم کو کب، کہاں، اور کیا دینا
شاید اللہ نے تمہارے لیے کچھ اور بہتر سوچا ہو۔ شاید اگر آج تم پاس ہو جاتے، تو کہیں اور غلط راستے پر چلے جاتے، یا زندگی کا وہ سبق نہ سیکھ پاتے جو آج تمہیں ملا ہے۔
آج کا یہ غم، یہ آنسو، یہ اداسی، یہ تمہاری زندگی کا ایک بہت چھوٹا سا صفحہ ہے۔ جب تم اس کتاب کو پلٹ کر دیکھو گے، تو یہ دن تمہیں ایک یاد کی طرح نظر آئے گا۔ ایک ایسی یاد، جو تمہیں مضبوط بنا کر گئی۔
کل کی صبح ایک نئی صبح ہوگی۔ اگر تم نے اس رات کو روتے ہوئے گزار دیا، تو تمہارا کل بھی اداس ہوگا۔ مگر اگر تم نے اپنے آنسو پونچھ کر، ایک گہری سانس لے کر، یہ فیصلہ کیا کہ "میں کل پھر کوشش کروں گا"، تو تمہاری زندگی کا رخ بدل جائے گا۔
یہ وقت، یہ لمحات، یہ اداسی، یہ سب گزر جائے گا۔ تمہیں اس کے ساتھ بہہ جانا ہے۔ زندگی ایک دریا کی طرح ہے۔ اگر تم کنارے پر بیٹھ کر غم مناتے رہے، تو دریا تم سے آگے نکل جائے گا۔ تمہیں اس دریا میں کودنا ہوگا، اس کی لہروں سے لڑنا ہوگا، اور آگے بڑھنا ہوگا۔
آج تمہیں شاید ایسا لگ رہا ہو کہ تم اس دنیا میں سب سے اکیلے ہو۔ سب تمہارے دشمن ہیں، سب تمہیں طعنے دے رہے ہیں۔ پر ایسا نہیں ہے۔
دنیا کے وہ تمام عظیم لوگ، جن کے نام تم آج سنتے ہو، وہ سب اسی راستے سے گزرے ہیں۔ جنہوں نے آج دنیا کو کچھ دیا ہے، وہ سب کسی نہ کسی وقت ناکام ہوئے ہیں۔ کسی نے کاروبار میں نقصان اٹھایا، امتحان میں فیل ہوئے۔ مگر وہ وہیں رکے نہیں، انہوں نے دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ دکھایا۔
اپنے آس پاس دیکھو۔ تمہارے والدین، تمہارے بھائی بہن، تمہارے حقیقی دوست، وہ سب تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کی محبت، ان کی دعائیں، وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ جب تمہیں کمزور محسوس ہو، تو ان کے چہروں کو دیکھو۔ ان کی محبت سے طاقت حاصل کرو۔
تمہیں کس نے بتایا کہ زندگی کا مقصد صرف نمبر لے کر آنا ہے؟ تمہیں کس نے یہ سکھایا کہ پاس ہونا ہی سب کچھ ہے؟
تم اس دنیا میں صرف نمبروں کے لیے نہیں آئے ہو۔ تم ایک اچھا انسان بننے آئے ہو۔ تم نے علم حاصل کرنا ہے، اپنے ارد گرد کی دنیا کو سمجھنا ہے۔ تم نے دوسروں کی مدد کرنی ہے، معاشرے میں اپنی مثبت جگہ بنانی ہے۔
یہ نمبر، یہ گریڈ، یہ سب تو راستے کے سنگ میل ہیں۔ منزل تو وہ ہے جب تم ایک بہترین انسان بن کر ابھرو۔ جب تمہاری ذات سے کسی کو فائدہ پہنچے۔
آج اگر نمبر کم آئے ہیں، تو کوئی بات نہیں۔ مگر تمہارا وہ مقصد، جو اچھا انسان بننے کا تھا، وہ آج بھی وہیں ہے۔ اسے زندہ رکھو۔
جانتے ہو؟ جب دل بہت بھر جاتا ہے، تو آنسو بہہ نکلتے ہیں۔ یہ آنسو کمزوری کی نشانی نہیں، بلکہ پاکیزگی کی علامت ہیں۔ یہ دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔
اگر آج تمہاری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، تو انہیں روکو نہیں۔ انہیں بہنے دو۔ جب وہ خشک ہوں گے، تو تمہیں ایک نئی طاقت محسوس ہوگی۔ یہ آنسو تمہیں احساس دلائیں گے کہ تم زندہ ہو، تم محسوس کر سکتے ہو۔
میں یہ بات بارہا کہہ چکا ہوں، اور آج پھر کہہ رہا ہوں۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔ وہ رحیم ہے، وہ کریم ہے۔ اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔
اگر آج تمہارے لیے ایک دروازہ بند ہوا ہے، تو یقین رکھو، اللہ نے تمہارے لیے کئی اور بہتر دروازے کھولے ہیں۔ بس تمہیں انہیں ڈھونڈنا ہے۔ تمہیں صبر کا دامن تھامے رکھنا ہے۔
تقدیر پر بھروسہ رکھو، مگر کوشش کرنا مت چھوڑو۔ اللہ تمہاری محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔ تمہارا دل بہت قیمتی ہے۔ اسے آج اس مایوسی، اس پچھتاوے، اس غصے اور اس خود پر تنقید میں ضائع مت کرو۔ اسے سکون دو۔ اسے یاد دلاؤ کہ تم کتنے مضبوط ہو۔ اسے نئی امیدوں سے بھر دو۔ اسے بتاؤ کہ یہ صرف ایک رکاوٹ ہے، جو تمہیں مزید مضبوط بنانے آئی ہے۔
جب تمہارا دل سکون میں ہوگا، تو تم بہتر سوچ پاؤ گے۔ تم اپنی غلطیوں کو بہتر طریقے سے سمجھ پاؤ گے۔ اور تم نئے سرے سے آغاز کر پاؤ گے۔
یاد رکھو، کامیابی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں پہنچ کر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ کامیابی تو ایک مسلسل سفر ہے۔
تم اس سفر کے مسافر ہو۔ آج اگر تمہیں راستہ تھوڑا مشکل لگ رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیں رک جانا ہے۔ مسافر کبھی تھک کر بیٹھتا نہیں، وہ آرام کرتا ہے، اور پھر چل پڑتا ہے۔
تم بھی تھکے ہو، پر رکو گے نہیں۔ اٹھو، ایک گہرا سانس لو، اور قدم آگے بڑھاؤ۔
جو ہو گیا، وہ گزر گیا۔ اب اسے بدلنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ تمہارے پاس صرف آج ہے، اور تمہارا آنے والا کل ہے۔
اپنے ذہن کو اس ماضی کی قید سے آزاد کر دو۔ ان ناکامیوں، ان غلطیوں، ان طعنوں کو بھلا دو۔ انہیں اپنے دماغ میں جگہ مت دو۔
تمہارا مستقبل تمہارا منتظر ہے۔ وہاں خوبصورت مناظر ہیں، خوبصورت مواقع ہیں۔ بس تمہیں انہیں دیکھنے کے لیے اپنے ذہن کو صاف رکھنا ہوگا۔
اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم بہت پیچھے رہ گئے ہو، تو مایوس مت ہو۔ آج سے، ابھی سے، ایک چھوٹا سا قدم اٹھاؤ۔ آج بس ایک سبق دہراؤ۔ کل دو سبق۔ یوں کرتے کرتے، تم ایک دن اتنی مضبوطی سے کھڑے ہو گے کہ تمہیں خود پر یقین نہیں آئے گا۔
ہم ہمیشہ دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ کسی کے نمبر اچھے آئے، کسی کو زیادہ داد ملی، کسی کی نوکری لگ گئی۔ اور ہم خود کو ان سے کم تر سمجھنے لگتے ہیں۔
یاد رکھو، تمہارا راستہ، تمہاری منزل، تمہاری زندگی، سب منفرد ہے۔ تمہیں کسی سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم جو ہو، وہ بہترین ہو۔ بس تمہیں خود کو بہتر بنانا ہے۔
دوسرے کی کامیابی دیکھ کر خوش ہو جاؤ، مگر خود کو ان کے برابر رکھ کر اداس مت ہو۔ تمہارا وقت آئے گا۔
یہ رزلٹ، یہ نمبر، یہ تمہاری ناکامی، یہ سب تو وقتی ہیں۔ تمہارے والدین کی محبت، وہ تو شرط کے بغیر ہے۔ وہ تم سے تمہارے گریڈز کی وجہ سے نہیں، بلکہ تمہاری ذات سے محبت کرتے ہیں۔ وہ تمہیں اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ تم ان کے ہو، ان کے جگر کے ٹکڑے ہو۔
اگر تم فیل بھی ہو جاؤ، تو ان کی محبت میں کمی نہیں آئے گی۔ البتہ، اگر تم ان کی دعائیں لیتے رہو، ان کا خیال رکھو، تو وہ تمہیں دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
آج لوگ تمہیں کہیں گے، "تم کچھ نہیں کر سکتے"، "تم سے نہیں ہوگا"، "تمہیں وہی ہونا چاہیے تھا جو ہم کہتے ہیں۔"
پر ان سب شوروں میں، اپنے دل کی آواز سنو۔ تمہارا دل کیا کہہ رہا ہے؟ کیا وہ کہہ رہا ہے، "ہار مان لو؟" یا وہ کہہ رہا ہے، "اٹھو، اور پھر کوشش کرو!"
یقیناً تمہارا دل کہہ رہا ہے، "میں پھر کوشش کروں گا، اور اس بار پہلے سے زیادہ بہتر کروں گا۔" اس آواز پر یقین رکھو۔
ان سب کو معاف کر دو جنہوں نے تمہیں طعنے دیے، جنہوں نے تمہیں تکلیف دی، جنہوں نے تمہیں ناکام سمجھا۔ ان سب کو معاف کر دو۔
اور سب سے بڑھ کر، خود کو معاف کر دو۔ خود کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا کر، مسلسل خود کو کوستے رہنا، یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ تم انسان ہو، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں۔ خود کو معاف کرو، اور آگے بڑھو۔
یہ تمہاری آخری سانس نہیں، یہ صرف ایک تجربہ تھا، دنیا ختم نہیں ہوئی۔ یہ تمہاری زندگی کا اختتام نہیں۔ یہ صرف ایک تجربہ تھا۔ ایک سبق۔ کچھ لوگ اسی تجربے سے سیکھ کر، اگلے ہی موڑ پر کامیابی کی منزلیں طے کر جاتے ہیں۔ تمہیں بس ہمت رکھنی ہے۔ دوبارہ کتاب اٹھاؤ۔ مسکراؤ۔ اور ایک نئے عزم کے ساتھ آغاز کرو۔
جانتے ہو، تمہارا اس دنیا میں ہونا، سانس لینا، سوچنا، محسوس کرنا، یہ سب اپنے آپ میں ایک معجزہ ہے۔ تم ایک انمول تخلیق ہو۔ تمہارے اندر وہ طاقت ہے جو تم خود بھی نہیں جانتے۔
اٹھو! اپنی قدر پہچانو۔ تمہیں کسی کے طعنے، اور یہ ناکامی توڑ نہیں سکتی۔
آخر میں، میں بس اتنا ہی کہوں گا۔ تم بہت مضبوط انسان ہو۔ تم وہ ہو جو حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
اب ان پرانی باتوں کو، ان ناکامیوں کو، ان اداسیوں کو پیچھے چھوڑ دو۔ ایک گہرا سانس لو۔ اور مسکرا کر آگے بڑھو۔
یاد رکھو، اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہے۔ تمہارے والدین کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ اور تمہارے اندر وہ جذبہ ہے جو تمہیں ضرور کامیاب کرے گا۔
جاؤ، اور دنیا کو بتا دو کہ تم کون ہو۔
Failure is not end of any thing sometimes it comes for making us understand and giving the new Ideas and experience of life, when we suffer from Fever we always consult with the doctor,we always believe that I will be recovered
جواب دیںحذف کریںSame when we face failures we should take new steps with the strong courage
I good human being always get lesson from failure because it is not the name of end 🤗✨
We learn from these types of mistakes,not to disappoint. These mistakes learn us many things. We don't blame not to ourselves or others.
جواب دیںحذف کریں