روحانیت کا سفر 9

 

   9 روحانیت کا سفر 


کالم از: سر جاوید بشیر


آج میرے روحانیت کے سفر کا یہ 9واں کالم ہے۔ یہ سفر، جو کبھی شروع ہوا تھا، اب ایک گہرے سمندر کی مانند پھیل گیا ہے، جس کی وسعتوں میں ہم نے بہت کچھ دریافت کیا ہے۔ ہم نے سیکھا کہ روحانیت محض کوئی فلسفہ نہیں، بلکہ یہ روح کی وہ پاکیزگی ہے جو ہر انسان، کسی بھی حال میں، کسی بھی ماحول میں، حاصل کر سکتا ہے۔ یہ کوئی پہاڑ سر کرنے جیسا مشکل کام نہیں، بلکہ یہ تو ہمارے اندر ہی موجود ہے، بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ ہر دکھ، ہر غم کا علاج اسی روحانیت میں پنہاں ہے۔


 ہم نے علامہ اقبال کے فلسفہِ خودی کو سمجھا۔ اقبال نے ہمیں سکھایا کہ اصل زندگی، اصل سکون تو اپنے اندر اتر جانے میں ہے۔ اپنے آپ کو پہچاننے میں، اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے میں ہے۔ جب خاموشی بولنے لگتی ہے، جب اندر کا شور تھم جاتا ہے، تب ہی روحانیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ اسی خاموشی میں، اسی سکون میں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہو جاتا ہے۔


آج، اس دسویں قدم پر، ہم روحانیت حاصل کرنے کے کچھ ایسے عملی پہلوؤں پر بات کریں گے جو اس سفر کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ وہ راستے ہیں جن کے بغیر یہ سفر شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ جڑیں ہیں جو آپ کی روحانیت کے پودے کو مضبوطی سے زمین میں گاڑ دیتی ہیں۔


ذرا سوچئے، ہم سارا دن کیوں پریشان رہتے ہیں؟ کیوں ہمارے دل میں ایک خلش سی محسوس ہوتی ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم کل کی قید میں ہیں، اور آنے والے کل کی فکر میں ہلکان ہیں۔ ہماری سانسیں تو آج میں چل رہی ہیں، مگر ہمارا دماغ ماضی کے گندے گندے کپڑے دھو رہا ہے، یا مستقبل کے اندیشوں کے انبار لگا رہا ہے۔


روحانیت کا سب سے پہلا سبق، یہی ہے جو ہو گیا، اسے دِل سے مان لو۔

یعنی، جو نقصان ہو گیا، جو غلطی ہو گئی، جو بے وفائی ہو گئی، اس پر سالوں روتے رہنا، یا دل میں جلتے رہنا، یہ آپ کی روح کو بیمار کر دیتا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا سکون چھین لیتا ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو اندر سے ختم کر دیتا ہے۔


ایک روحانی انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کو گلے لگا لیتا ہے، انہیں سبق سمجھ کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ گزرا ہوا لمحہ لوٹ کر نہیں آئے گا، مگر آنے والا لمحہ سنور ضرور سکتا ہے۔ ماضی کی تلخ باتیں یاد کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ ایسا کرنے سے آپ صرف اپنا آج برباد کر رہے ہیں۔ آپ کا آج، وہ خوبصورت لمحہ جو خدا نے آپ کو دیا ہے، وہ ضائع ہو رہا ہے۔


ہماری ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ہم دنیا کو، اپنے ارد گرد کے لوگوں کو، اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ دنیا میں کسی کو نہیں بدل سکتے، آپ صرف خود کو بدل سکتے ہیں۔ اور جب آپ دوسروں کو ویسا ہی قبول کر لیتے ہیں جیسے وہ ہیں، تو آپ کا اندرونی جھگڑا، آپ کا خود سے جنگ، ختم ہو جاتا ہے۔ یہی سب سے بڑی خودی ہے، اپنی حقیقت کو تسلیم کرنا۔ دوسروں کی خامیاں، ان کی کمزوریاں، ان کے ساتھ قبول کر لینا، یہ آپ کے دل کو وسیع کر دیتا ہے۔


یہ زندگی، کیا ہے؟ محض پھولوں کا بستر؟ ہرگز نہیں۔ یہ مشکلات کا ایک طویل سفر ہے۔ مگر ان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے، انہیں گلے لگانا سیکھیں۔ کیونکہ یہی مشکلات ہیں جو آپ کو روحانی طور پر بڑا کرتی ہیں۔ یہ وہ کسوٹی ہیں جن پر آپ کی روح کا سونا پرکھا جاتا ہے۔


اگر آپ کے سامنے کوئی پہاڑ ہے، تو آپ وہاں بیٹھ کر آسمان کی طرف منہ کر کے روتے رہیں گے کہ یہ اتنا اونچا کیوں ہے؟ یا آپ اس پر چڑھنا شروع کر دیں گے؟ روحانیت کا راستہ وہی ہے جو چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔چلتے رہنا ہی سب سے بڑی روحانی مشق ہے۔ قدم اٹھاتے رہنا، ہار نہ ماننا، یہی تو اللہ کی رضا ہے۔


جب آپ خوشی میں بھی شکر ادا کرتے ہیں، جب خدا آپ کو نوازتا ہے، تب آپ اس کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔ مگر جب تکلیف آتی ہے، جب دکھ کا پہاڑ سر پر آن پڑتا ہے، تب بھی اگر آپ شکر ادا کر سکیں، تو آپ کی روح کی طاقت، آپ کے حوصلے کی گہرائی، کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب سے مضبوطی سے جڑ جاتا ہے۔ "یا اللہ، تیرا لاکھ لاکھ شکر، جو دیا اس پر بھی، اور جو نہیں دیا اس پر بھی۔" یہی وہ صداقت ہے جو آپ کو خدا کے قریب لے جاتی ہے۔


روحانیت کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ اس کے لیے کسی بہت اونچی جگہ، یا کسی گُرو کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کا دل خلوص سے بھرا ہے، اور آپ کا عمل درست ہے، تو آپ خود بخود روحانیت کے قریب پہنچ جائیں گے۔



اگر آپ روحانیت کا سفر آج اور ابھی شروع کرنا چاہتے ہیں تو بانٹنا سیکھیں۔


روحانیت کا راستہ کسی بڑے مدرسے یا پہاڑ کی خلوت سے شروع نہیں ہوتا، یہ آپ کے اپنے دل سے شروع ہوتا ہے۔

اور دل کی پہلی سیڑھی ہے، بانٹنا۔


اگر آپ واقعی روحانی سکون چاہتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ دل سے بوجھ اتر جائے، آنکھوں میں روشنی آجائے، اور زندگی میں اطمینان اتر جائے…

تو بس بانٹنا سیکھ لیجیے۔


بانٹنا صرف دولت بانٹنے کا نام نہیں، یہ وقت، توجہ، مسکراہٹ، دعا، اور محبت بانٹنے کا بھی نام ہے۔

جب آپ کسی غریب کو کھانا دیتے ہیں تو صرف اُس کا پیٹ نہیں بھرتا، آپ کا دل بھی بھر جاتا ہے۔

جب آپ کسی پریشان انسان کی بات سنتے ہیں، تو آپ صرف اُس کی تکلیف کم نہیں کرتے، آپ اپنی روح کو بھی نرم بنا لیتے ہیں۔


روحانیت ہمیشہ لینے سے نہیں، دینے سے پروان چڑھتی ہے۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ پہلے ہمیں سب کچھ مل جائے، پیسہ، سکون، وقت، پھر ہم دوسروں کے لیے کچھ کریں گے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دینے والے کو ہی ہمیشہ ملتا ہے۔

دوسروں کے لیے روشنی جلانے والا خود کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔


اگر آپ چاہتے ہیں کہ روحانی سفر ابھی شروع ہو، تو کسی بھوکے کو کھانا دے دیجیے، کسی بیمار کے سر پر ہاتھ رکھ دیجیے، کسی غمگین انسان کو ایک پیار بھرا جملہ کہہ دیجیے،

کسی کے لیے دعا مانگ لیجیے۔


یہی وہ لمحہ ہوگا جب آپ کا دل پہلی بار روشنی چھو جائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ اندر کچھ بدلنے لگا ہے، جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو، جیسے دل کے اندر کوئی نرمی جاگی ہو۔


یاد رکھیے، بانٹنے والا کبھی خالی نہیں رہتا۔

رب اُس کے دامن میں ایسی برکتیں ڈال دیتا ہے جو گنی نہیں جا سکتیں۔

جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ اُس کے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔


پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں بے شمار لوگ مشکلوں میں ہیں، اگر ہر انسان روز تھوڑا سا بھی بانٹے، تو نہ صرف کسی کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ آپ کا دل بھی سکون سے بھر سکتا ہے۔

یہی اصل عبادت ہے، یہی روحانیت کا سبق ہے۔


تو اگر آپ آج سے، ابھی سے روحانیت کا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں تو بانٹنا شروع کیجیے۔

اپنی محبت، اپنی مسکراہٹ، اپنی دعائیں اور اپنی موجودگی بانٹیے۔

آپ دیکھیں گے کہ زندگی خود آپ کو واپس وہ سب دے گی، دس گنا زیادہ، پیار کے ساتھ، سکون کے ساتھ، روشنی کے ساتھ۔ 


میری بات یاد رکھیں! روحانیت کوئی ہوا میں لٹکی ہوئی چیز نہیں۔ یہ کوئی دور کا خواب نہیں۔ یہ تو آپ کی نیت میں، آپ کے سادے پن میں، آپ کے خلوص میں، اور آپ کے عمل میں چھپی ہے۔


آج ہی، اسی لمحے، اپنے ماضی کو قبول کریں۔ جو گزر گیا، اس کا شکریہ ادا کریں۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو، ان کی غلطیوں سمیت، معاف کر دیں۔ اپنے دل کو صاف کر لیں۔ اور سچائی، صداقت، اور ایمانداری پر ڈٹ جائیں۔


پھر دیکھیں، سکون، چین، اور اطمینان خود آپ کو ڈھونڈتا ہوا آئے گا۔ آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ بس اپنے دل کی آواز سنیں، اپنے رب کو یاد رکھیں، اور عمل کرتے رہیں۔ انشاءاللہ، آپ کی روح سرشار ہو جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دنیا کی لالچ سے آزاد ہو جاتا ہے اور بس خدا کی رضا میں خوش رہتا ہے۔


روحانیت کوئی منزل نہیں، یہ تو ایک ایسا سفر ہے جو آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

یہ سفر دل سے شروع ہوتا ہے اور روح کی گہرائیوں تک اُتر جاتا ہے۔

ہر قدم پر انسان کچھ کھو کر، کچھ پا کر، اپنے رب کے اور قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

ہم بھی یہ سفر جاری رکھیں گے، محبت، صبر، اور شکر کے رنگوں میں لپٹا ہوا یہ سفر، ہر جمعہ المبارک کو ایک نئے احساس، ایک نئی روشنی، اور ایک نئی سمجھ کے ساتھ آگے بڑھے گا۔


کیونکہ جو روحانیت کے راستے پر چل پڑتا ہے،

اس کے لیے رُک جانا 

ممکن نہیں ہوتا وہ ہر سانس کے ساتھ اپنے رب کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ 




تبصرے

  1. Great column sir g
    Sach ma hum dosro ko sunna shoro krdy onki tkleef smjhna shoro krdy onka dil skon ma aye ga hmara dil khud sakoon hasil kry ga
    Lkn aj kal asa ho rha ha k agar kisi ko khana khila dia to baten suna kr agly ka dil b tor dety or Allah pak b naraz hota ha
    Allah hum sb ko logo ka ahsas krny ki tofeeq dy or Allah sb insano ki zindgi asaan kr dy k Allah k ilava onhy kisi ki kabi zrorat e na pary
    Ameennn

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein