انسان صلہ نہیں دیتے
انسان صلہ نہیں دیتے
کالم از: سر جاوید بشیر
آپ نے یہ کہانی پہلے سنی ہو گی۔ ایک بزرگ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ دریا کے کنارے بیٹھے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک بچھو دریا میں گر گیا ہے۔ بزرگ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر بچھو کو پانی سے نکال لیا۔ مگر بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق بزرگ کے ہاتھ میں ڈنگ مار دیا۔ درد سے بزرگ کا ہاتھ لرز گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں گر گیا۔
پھر بزرگ نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا، پھر ڈنگ، پھر گرنا۔ یہ سلسلہ کئی بار دہرایا گیا۔ ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ بولا: "حضرت! آپ کیوں اس بچھو کو بچا رہے ہیں؟ یہ تو آپ کو ڈنگ مارتا جا رہا ہے۔"
بزرگ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "بیٹا، بچھو اپنی فطرت پر چل رہا ہے ، یعنی ڈنگ مارنا۔ اور میں اپنی فطرت پر چل رہا ہوں، یعنی بچانا۔"
یہ کہانی آج ہم سب کے لیے کتنی گہری معنویت رکھتی ہے۔ ہم سب اکثر اس بزرگ کی طرح کرتے ہیں بار بار دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جب ہمیں 'ڈنگ' لگتا ہے تو ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ ہماری حیرت کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سامنے والے نے ڈنگ کیوں مارا، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ ہم نے تو اسے بچایا تھا!
"انسان صلہ نہیں دیتے۔"
یہ جملہ پڑھتے ہی شاید آپ کے دل میں کئی یادیں تازہ ہو گئی ہوں۔ وہ رشتے دار جن کے لیے آپ نے سب کچھ قربان کر دیا، مگر آج وہ آپ کا نام تک نہیں لیتے۔ وہ دوست جس کے لیے آپ نے اپنی نیندیں قربان کیں، مگر آج وہ آپ کو پہچانتے تک نہیں۔ وہ بھائی جس کی تعلیم کے لیے آپ نے اپنے خواب بیچ ڈالے، مگر آج وہ آپ کو حقیر سمجھتا ہے۔
ذرا سوچیے، جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں، کسی کا خیال رکھتے ہیں، کسی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں، تو ہم اکثر، یہ امید باندھ لیتے ہیں کہ وہ شخص بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی کرے گا۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری قربانیوں کو یاد رکھے گا، وہ ہماری محبت کا پاس رکھے گا، اور جب ہمیں ضرورت پڑے گی، تو وہ ہمارے لیے کھڑا ہوگا۔
اور جب ایسا نہیں ہوتا؟ جب وہ شخص ہماری محبت کو، ہماری قربانیوں کو، بھلا دیتا ہے؟ یا جب وہ بدلے میں ہمیں وہ نہیں دیتا جس کی ہم نے توقع کی تھی؟ تب ہمیں گہرا دُکھ ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں، "میں نے اتنی محبت سے اس کا ساتھ دیا، اور اس نے مجھے کیا دیا؟ صرف دھوکہ!" یا "میں نے اس کے لیے سب کچھ قربان کر دیا، اور بدلے میں مجھے کیا ملا؟ صرف بے قدری!"
یہ سب کچھ ہمارے ساتھ کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے نہیں کہ دوسرے برے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم نے ان سے صلے کی توقع رکھی تھی۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ صلے کی یہ توقع ہمارے دلوں میں کب اور کیسے جنم لیتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، تو وہ یہ نہیں سوچتی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر مجھے کیا دے گا۔ جب باپ رات دن محنت کرتا ہے، تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ میرے بچے مجھے کیا لوٹائیں گے۔ یہ فطری محبت ہے، بے غرض محبت۔
مگر پھر کیا ہوتا ہے کہ جب یہی بچے بڑے ہو جاتے ہیں، تو ہم ان سے توقعات وابستہ کرنے لگتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری خدمت کریں، ہماری بات مانیں، ہمارا احترام کریں۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا، تو ہمارا دل ٹوٹ جاتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہمارا دل کیوں ٹوٹتا ہے؟ اس لیے نہیں کہ ہمارے بچے نے ہماری خدمت نہیں کی، بلکہ اس لیے کہ ہم نے خدمت کا صلہ چاہا تھا۔
اب آتے ہیں اس بنیادی نکتے کی طرف جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
"دکھ صلہ نہ ملنے کا ہوتا ہے، احسان کرنے کا نہیں۔
جب آپ کسی کے ساتھ کوئی اچھائی کرتے ہیں، تو درحقیقت آپ اپنے رب کو خوش کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کا احسان اس انسان پر نہیں ہوتا، بلکہ درحقیقت آپ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔
میں آپ کو ایک روحانی فارمولا بتاتا ہوں۔ آج سے جب بھی آپ کسی کے ساتھ کوئی اچھائی کریں، اپنے دل میں یہ دہرائیں:
"یا اللہ، میں یہ کام تیری رضا کے لیے کر رہا ہوں۔ تو ہی مجھے اس کا صلہ دے۔"
اس ایک جملے میں وہ طاقت ہے جو آپ کو ہر قسم کے دکھ اور مایوسی سے نجات دلا سکتی ہے۔
ذرا سوچیے، جب آپ کسی غریب کو کھانا کھلائیں، اور وہ شکریہ تک نہ کہے، تو آپ کو دکھ ہوتا ہے۔ مگر اگر آپ یہ سوچیں کہ "میں نے یہ کھانا اللہ کے لیے دیا ہے"، تو پھر دکھ کہاں رہے گا؟
جب آپ کسی کی مدد کریں، اور وہ آپ کا احسان بھلا دے، تو آپ کو صدمہ ہوتا ہے۔ مگر اگر آپ یہ یقین رکھیں کہ "میرا احسان تو اللہ کے پاس محفوظ ہو گیا"، تو پھر صدمہ کہاں رہے گا؟
اب میں آپ کو ایک اور پہلو سے آگاہ کرتا ہوں۔ جب آپ دوسروں سے صلے کی توقع رکھتے ہیں، تو درحقیقت آپ انہیں اپنا محتاج بنا رہے ہوتے ہیں۔ اور کوئی انسان کسی کا محتاج بننا پسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ہم پر احسان کرتے ہیں، ہم ان سے دور بھاگتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم ان لوگوں کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں جن پر ہم نے احسان کیا ہو، نہ کہ انہیں جنہوں نے ہم پر احسان کیا ہو؟ یہ انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اس اصول کو کیسے لاگو کریں؟
سب سے پہلے تو اپنے دل سے ہر قسم کی توقعات کو نکال دیں۔ جب آپ اپنے بچوں کی پرورش کریں، تو یہ سوچیں کہ یہ میرا فرض ہے، ان کا مجھ پر کوئی قرض نہیں۔ جب آپ اپنے والدین کی خدمت کریں، تو یہ سوچیں کہ یہ میرا اخروی سرمایہ ہے، ان کا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔
دوسرا، ہر نیک کام کو اللہ کی رضا کے لیے خاص کر دیں۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی، جیسے کسی کو راستہ دکھا دینا، کسی کے لیے دروازہ کھول دینا، یہ سب اللہ کے لیے ہو۔
تیسرا، جب کوئی آپ کا احسان بھلا دے، تو اسے معاف کر دیں۔ درحقیقت اسے thank you کہیں، کیونکہ اس نے آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ کا اجر صرف اللہ کے پاس رہے۔
آج سے جب بھی آپ کسی کے ساتھ اچھائی کریں، اپنے آپ سے تین سوال ضرور پوچھیں:
کیا میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں؟
کیا میں نے اس کام کا صلہ کسی انسان سے طلب کیا ہے؟
کیا میں تیار ہوں کہ اگر سامنے والا میری اچھائی کو بھلا بھی دے، تو مجھے کوئی دکھ نہیں ہوگا؟
اگر ان تینوں سوالوں کا جواب 'ہاں' میں ہے، تو پھر مبارک ہو، آپ نے زندگی کے سب سے بڑے راز کو سمجھ لیا ہے۔
میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب آپ دوسروں سے توقعات ختم کر دیتے ہیں، تو آپ کو ایک عجیب سی آزادی محسوس ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے رویوں کے غلام نہیں رہتے۔ آپ کا موڈ دوسروں کے رویوں پر منحصر نہیں رہتا۔
آپ ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔
جب کوئی آپ کی تعریف کرے، تو آپ کہتے ہیں: "سب اللہ کا شکر ہے۔"
جب کوئی آپ کی برائی کرے، تو آپ کہتے ہیں: "اللہ میرے لیے بہتر جانتا ہے۔"
جب کوئی آپ کا احسان بھلا دے، تو آپ کہتے ہیں: "میرا اجر تو اللہ کے پاس ہے۔"
کیا زندگی آسان نہیں ہو جاتی؟
اب میں آپ سے ایک انتہائی ذاتی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میری اپنی زندگی میں بھی ایسے لمحات آئے جب میں نے محسوس کیا کہ میں نے لوگوں کے لیے سب کچھ کیا، مگر مجھے بدلے میں کچھ نہیں ملا۔ میں نے راتوں کو جاگ کر دوستوں کے کام کیے، رشتے داروں کی مدد کی، مگر جب میری ضرورت پڑی، تو کوئی سامنے نہیں آیا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ میں شدید مایوسی کا شکار ہو گیا۔ میں نے سوچا: "کیا یہی ہے انسانوں کا صلہ؟"
پھر ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے صرف ایک جملہ کہا: "بیٹا، تم نے کام کس کے لیے کیا تھا؟"
یہ جملہ میری زندگی کا turning point ثابت ہوا۔ میں نے سوچا: "سچ تو یہ ہے کہ میں نے یہ سب کام لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا، انہیں اپنا گرویدہ بنانے کے لیے کیا تھا۔"
اسی دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب سے ہر کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کروں گا۔
اور پھر کیا ہوا؟ میری زندگی بدل گئی۔ اب جب کوئی میری مدد کا شکریہ ادا کرتا، تو میں کہتا: "اللہ کا شکر ادا کریں۔" جب کوئی میری مدد کو نظر انداز کرتا، تو میں کہتا: "اللہ میرا اجر بڑھائے۔"
اب مجھے کوئی دکھ نہیں ہوتا، کوئی مایوسی نہیں ہوتی۔
یہ کوئی مشکل فلسفہ نہیں ہے۔ یہ تو بہت سادہ سا اصول ہے۔ بس آپ کو اپنے دل کی سمت بدلنی ہے۔
آج ہی فیصلہ کر لیجیے کہ آپ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا اس لیے کریں گے کہ یہ اللہ کا حکم ہے آپ غریبوں کی مدد اس لیے کریں گے کہ یہ اللہ کو پسند ہے آپ لوگوں کو معاف اس لیے کریں گے کہ اللہ معاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔
جب آپ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں، تو آپ دنیا کے ہر غم سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ آپ کا دِل اب کسی خالی ہاتھ یا کڑوے لفظ سے ٹوٹے گا نہیں، بلکہ اور مضبوط ہو جائے گا۔ وہ شخص جس نے آپ کو ڈنگ مارا، وہ تو اپنی فطرت پر ہے مگر آپ اس بزرگ کی طرح مسکراتے رہیں گے، کیونکہ اب آپ کی ڈور اس رب کے ہاتھ میں ہے جو بدلہ بھی دیتا ہے اور بے لوث محبت بھی۔
اب آپ آپ کے تمام اچھے اعمال اور آپ کی تمام قربانیاں اللہ کے پاس محفوظ ہو چکی ہیں۔ آپ کی مزدوری کسی انسان کے ہاتھوں میں نہیں رہی، بلکہ عرش پر درج ہو چکی ہے۔
بس! یہیں سے سکون شروع ہوتا ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے جس کا اجر انسانوں کے پاس رہ گیا، وہ کھو گیا اور جس کا اجر اللہ کے پاس چلا گیا، اُسے کبھی کوئی چھین نہیں سکتا۔
آج سے، صلے کی اُمید چھوڑ دیں، اور بے فکر ہو جائیں۔ آپ کا اصل صلہ محفوظ ہو چکا ہے!
Wow great sir we Will implement on it In Sha Allah
جواب دیںحذف کریںMay Allah gives uh health wealth and what's you want from your life Amennn may Allah gives you soooo muchh sakoonn Ameenn
Sir g we excepy a lot but when they uncompleted we feel sadness we stop helping others,
جواب دیںحذف کریںYou are 💯 right we should help others but expect from Allah Almighty he is the best decision maker he can give us rewards not a human being
Your words are really powerful and motivated.
جواب دیںحذف کریںGreat job. You explain a very important issue of our society and give great solutions. Exactly,most of the time we expect more and more.but in return we got nothing. We should not expect the other.
جواب دیںحذف کریںGreat
جواب دیںحذف کریںJazak Allah
جواب دیںحذف کریں