Ba Adab Ba Murad, Respect of Teachers
A Column By: سر جاوید بشیر
وہ ایک سرد اور خاموش شام تھی، دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں در و دیوار کو چھو رہی تھیں۔ وہ تنہا کلاس میں بیٹھا تھا۔ باہر دھند تھی، اندر خاموشی۔ اس کی بیوی اور چھوٹی سی بیٹی گھر پر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اس نے گھڑی دیکھی، ساڑھے سات بج چکے تھے۔ دل بےچین ہوا، قدم اٹھانے ہی والا تھا کہ اچانک استاد کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ فوراً اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا، جیسے ادب خود اس کی سانسوں میں رچا بسا ہو۔
استاد نے پوچھا، "کام مکمل کر لیا؟"
اس نے دھیرے سے کہا، "نہیں، بس تھوڑا سا باقی ہے۔"
استاد نے کہا، "پھر بیٹھو، پورا کرو۔"
اس لمحے اس نے دل میں کچھ طے کر لیا۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی خود سے جانے کا نہیں کہا۔ وہ ہر بار استاد کے اشارے کا منتظر رہتا۔ اسے سمجھ آ چکی تھی — باادب با مراد، بےادب بےمراد۔
وہی طالب علم آج ایک کامیاب شخص ہے۔ لوگ اس کی کامیابی کے پیچھے قسمت، محنت یا قابلیت کو دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے ادب کو اپنی زندگی کا دستور بنا لیا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ ادب علم کا دروازہ ہے، اور استاد اس دروازے کی کنجی۔
وہ جانتا تھا:
اُستاد کا ادب، علم کا ادب ہے… اور علم، اللہ کا پہلا حکم۔
آج جب ہم اپنی نوجوان نسل کو دیکھتے ہیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ بچے موبائل کے آگے جھکے ہیں، مگر اُستاد کے آگے سر اٹھائے پھرتے ہیں۔ کیونکہ اُنہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ادب دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جاپان میں بچے اسکول کے صفائی کے فرائض خود سرانجام دیتے ہیں؟ کیوں؟ تاکہ انہیں احساس ہو، ادب آئے، جھکنے کی عادت ہو۔
ادب کوئی رسم نہیں — یہ ایک روحانی عمل ہے، ایک عاجزی کا اظہار ہے، ایک تعلق کا راز ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جو روح کو تسکین دیتا ہے، زبان کو شیرینی بخشتا ہے، اور عمل کو برکت عطا کرتا ہے۔
اشفاق احمد صاحب کا وہ تاریخی قصہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جب وہ روم کی عدالت میں کھڑے تھے۔اشفاق احمد سے پوچھا گیا وہ کون ہیں، تو انہوں نے بتایا میں استاد ہوں، تو فوراً جج سمیت سب کھڑے ہو گئے۔یہ ہوتا ہے ادب، قومیں ایسے ترقی کرتی ہیں، کیونکہ علم ادب کے بغیر ناممکن ہے۔
کیا ہمارے معاشرے میں اُستاد اب صرف ایک ضرورت ہے؟ صرف تنخواہ لینے والا؟ کیا شاگرد صرف رٹا مارنے والا اور رزلٹ کی بھوک میں مبتلا ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر ہم دراصل اپنی نسل کو صرف ڈگریاں دے رہے ہیں، علم نہیں۔
ادب کا مطلب یہ نہیں کہ استاد کی جوتیاں سیدھی کرو۔ ادب کا مطلب ہےکہ اُسے اُس درجے پر بٹھاؤ جہاں دل جھک جائے، زبان خاموش ہو جائے، اور آنکھیں سیکھنے کے لیے روشن ہو جائیں۔
ادب وہ چراغ ہے جو اُستاد کی صحبت سے جلتا ہے اور شاگرد کے راستے کو منور کرتا ہے۔
اور بےادبی وہ اندھیری رات ہے، جس میں سب کچھ سامنے ہو، مگر آنکھ دیکھنے سے قاصر ہو۔
آج ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہو گا کہ علم کی اصل روح، ادب ہے۔
اُستاد کی بات میں برکت ہے، اُس کی دعا میں طاقت ہے، اُس کی ناراضی میں اللہ کی ناپسندیدگی چھپی ہو سکتی ہے۔
اگر چاہتے ہو کہ تمہارا علم تمہیں عزت دے، تمہارا قلم تمہیں طاقت دے، تمہارا خواب حقیقت بن جائے —
تو اُستاد کے سامنے بیٹھنے کا سلیقہ سیکھو، اُس کی بات کو دل میں اتارو، اور اُس کے ہر جملے کو دعا سمجھ کر لو۔
کیونکہ باادب، بامراد… اور بےادب، بےمراد — یہ محاورہ نہیں، یہ قانونِ قدرت ہے۔ یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ صدیوں کی آزمودہ حقیقت ہے۔ ادب کے بغیر علم بےروح ہے۔ جب یہ دونوں مل جاتے ہیں، تو طالب علم کا مقدر ستاروں سے بھی اونچا ہو جاتا ہے۔
اگر آج کے نوجوان کو کامیاب ہونا ہے، دل کا سکون چاہیے، ماں باپ کی دعا چاہیے، اور معاشرے میں عزت، تو ایک راز یاد رکھے:
جتنا جھکے گا، اتنا ہی اُبھرے گا۔ جتنا ادب کرے گا، اتنی ہی مراد پائے گا۔
باادب با مراد، بےادب بےمراد۔
ادب کرو، توقیر دو، اور دیکھو کہ زندگی کیسے مسکرا کر تمہیں گلے لگاتی ہے۔
Woww Great message for everyone
جواب دیںحذف کریںYes it's a reality. We have to need observe it. It's column is giving us opportunity for success. May Allah give us capacity for acting upon. In Sha Allah 🤲💯😊
جواب دیںحذف کریںYes it's a reality. But, we have to need observe it. It column is giving us opportunity for success. May Allah give us capacity for acting upon. In Sha Allah 🤲💯😊
جواب دیںحذف کریںright............
جواب دیںحذف کریںYes it's a reality. But we have to need observe it. It's column is giving us opportunity for success. May Allah give us capacity for acting upon. In Sha Allah 😊🤲💯
جواب دیںحذف کریںIt really heart touching,I got a top list good manner by this column 😌✨
جواب دیںحذف کریںحقیقت تو یہ ہے کہ جب انسان بات کرے تو لوگ سمجھ جائے اس میں اس کا استاد بول رہا ہے ۔
جواب دیںحذف کریںجب انسان میں استاد ذندہ اور شاگرد مر جائے اس وقت کامیابی آتی ھے پھر دنیا کہتی ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا
شکریہ استاد جی 🥺🙏
امتیاز معراج
In the shadow of respect lies the light of greatness — bow with humility, and life will rise to honor you
جواب دیںحذف کریں