Chacha, aur Chacha ka Pakistan!
A column By: سر جاوید بشیر
جناح کے پاکستان سے 'چاچا' کے پاکستان تک کا سفر
محبتوں سے گالیوں تک
یہ قصہ نیا نہیں۔
لاہور کی ایک روڈ پر ایک بوڑھا مزدور بارش میں بھیگا ہوا، اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا رو رہا تھا۔
پوچھنے پر بولا:
"سائیں! میں غریب ہوں، میری چھت ٹپک رہی ہے، حکمرانوں تک میری فریاد کیسے پہنچے؟"
تب اس کے پاس کوئی یوٹیوب نہیں تھا، نہ سوشل میڈیا۔
تب گالیاں نہیں تھیں۔
لوگ احتجاج کرتے تھے مگر گالیوں کے بغیر۔
آج وہی بارش ہے، وہی گلیاں ہیں — لیکن اب مزدور کی جگہ ایک “چاچا” موبائل کیمرے کے سامنے کھڑا گالیاں نکالتا ہے۔
شور مچاتا ہے، پولیس آتی ہے، گرفتار کر لیتی ہے، معافی منگوا لیتی ہے۔
پھر ایک نیا تماشہ — سوشل میڈیا پر شور۔
"چاچا ہیرو ہے!"
" چاچا باغی ہے!"
" چاچا سچ بول رہا ہے!"
خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو صرف اس لیے اس کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ مریم نواز کو گالیاں دے رہا تھا، وہ حکومت کو برا بھلا کہہ رہا تھا، کہ وہ (ان کے بقول) "ہمارا بدلہ لے رہا تھا۔"
یہ کہاں کی تہذیب ہے؟
یہ کون سی آزادی ہے؟
یہ کون سی جمہوریت ہے؟
کیا ہم نے پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ اپنی زبان پر قابو نہ رہے؟
کیا قائداعظم نے یہ کہا تھا کہ “تم اختلاف کرو مگر گالی کے ساتھ”؟
کیا اقبال نے یہ کہا تھا کہ “اپنے بزرگوں، عورتوں، حکمرانوں کو گالیاں دے کر
انقلاب لانا”؟
یہ کیسا سفر ہے — احترام سے گالی تک؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے: ہم اس حال کو کیسے پہنچے؟
ذمہ دار کون ہے؟
ذمہ دار وہ سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اپنے ورکرز کو سبق دیا کہ سیاست مخالفت نہیں، دشمنی ہے۔
ذمہ دار وہ لیڈر ہیں جو خود جلسوں میں بدزبانی کرتے رہے، اور اپنی قوم کو یہی عادت دے گئے۔
ذمہ دار وہ میڈیا ہے جس نے گالی کو ریٹنگ دی، جگت کو سیاست بنایا، اور اختلاف کو دشمنی میں بدلا۔
ذمہ دار وہ سوشل میڈیا "انقلابی" ہیں جنہوں نے عوام کو سکھایا کہ “گالی دو، وائرل ہو جاؤ، ہیرو بن جاؤ”۔
ذمہ دار ہم سب ہیں جو ان ویڈیوز کو دیکھ کر ہنستے رہے، شیئر کرتے رہے، اور تالیاں بجاتے رہے۔
ہمارے بزرگ تو کہتے تھے:
"بیٹا، زبان سنبھال کے بولا کرو، یہ عزت کی علامت ہے۔"
آج ہم اپنے بچوں کو سکھا رہے ہیں:
"گالی دے کر ویوز لو، ہیرو بنو، لیڈر کی آنکھوں کا تارا بنو۔"
ہم نے اپنی اقدار کا قتل خود کیا ہے۔
آج حکومتیں برا کر رہی ہیں، مان لیتے ہیں۔
بارش میں لوگوں کے گھر ڈوب رہے ہیں، مان لیتے ہیں۔
لیکن کیا اس کا جواب گالی ہے؟
کیا مسائل کا حل بدزبانی ہے؟
کیا جمہوریت میں اظہار کا یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں پر زبان دراز کریں؟
سچ یہ ہے کہ ہم نے اپنی سیاسی نفرت کو اتنا پال لیا ہے کہ اب ہمیں اخلاق کی پروا نہیں رہی۔
اگر کسی اور صوبے کی وزیر اعلیٰ عورت ہوتی، اور اسے ایسے گالیاں دی جاتیں، تو شاید یہی لوگ مخالفت کرتے۔
لیکن یہاں نفرت اندھی ہے۔
یہ نفرت یہ نہیں دیکھتی کہ مخاطب عورت ہے، وزیراعلیٰ ہے، ماں ہے، بہن ہے۔
بس "میرا لیڈر ٹھیک، تمہارا لیڈر چور، اور تم پر ہر قسم کی گالی جائز!"
یہ قوم کی اجتماعی ناکامی ہے۔
جب تک ہم اپنی زبان، اپنے الفاظ، اپنے اظہار پر قابو نہیں سیکھیں گے، ہم ترقی نہیں کر سکتے۔
حکومتیں بدلیں گی، پارٹیاں بدلیں گی، لیڈر بدلیں گے — مگر زبان کی گندگی وہی رہے گی، نفرت وہی رہے گی۔
اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ہماری آنے والی نسل یہی سیکھے گی۔
وہ کتاب چھوڑ کر سوشل میڈیا پر گالی کا ہنر سیکھے گی۔
وہ دلیل کے بجائےگالی کو طاقت سمجھے گی۔
وہ انصاف کے بجائے بدلہ مانگے گی۔
اور جب قوم بدلہ مانگنے پر اتر آتی ہے — تو انصاف کہیں مر جاتا ہے۔
وقت ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔
کیا ہمیں اپنی سیاسی نفرت اتنی پیاری ہے کہ ہم اپنی عزت، اپنی تہذیب، اپنا اخلاق بیچ دیں؟
کیا ہم اپنے بچوں کو یہ ورثہ دینا چاہتے ہیں؟
اگر نہیں — تو ہمیں اختلاف کا حق پہچاننا ہوگا، مگر احترام کے ساتھ۔
احتجاج کرنا ہوگا، مگر شرافت کے ساتھ۔
سچ بولنا ہوگا، مگر دلیل کے ساتھ۔
اور سب سے بڑھ کر — گالی کو مسترد کرنا ہوگا، چاہے وہ ہمارے مخالف کو دی جا رہی ہو، یا ہمارے لیڈر کو۔
کیونکہ جو قوم گالی میں انصاف ڈھونڈتی ہے — وہ آخر میں اپنی عزت بھی کھو دیتی ہے۔
اگر آپ کو یہ کالم پسند آیا,یا آپ اپنی رائے دینا چاہتے ہیں، تو برائے مہربانی نیچے کمنٹ کریں! جزاک اللہ!
ایک عورت آپ کو اس دنیا میں لائی، اس لیے آپ کو کسی کی بے عزتی کرنے کا کوئی حق نہیں۔
جواب دیںحذف کریںI agree with you. Being a Muslim we respect each other. If we have any issue ,convey in a good way .
جواب دیںحذف کریںIt's true vloggers are damaging our generation at this time we need to take step against family vloggers
جواب دیںحذف کریںThe people like this chacha need to be executed from country
جواب دیںحذف کریںAbusing is taboo in islam
جواب دیںحذف کریںAllah Pak hadayat dein Ameen Sumameen
جواب دیںحذف کریںYou are always right sir 💓
جواب دیںحذف کریں