Imran Khan vs. Quaid e Azam, Kya Imran Khan Jinnah Sani hain?
جناح سے جناح ثانی تک کا سفر، ایک تصویر ایک کہانی
A Column By: سر جاوید بشیر
سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں محمد علی جناح کے ساتھ عمران خان کو کھڑا دکھایا گیا ہے۔ یہ کوئی تاریخی تصویر نہیں بلکہ جذباتی عقیدت سے بنی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر ہے۔ نیچے کیپشن میں لکھا ہے: ''قائدِاعظم ثانی''۔ کچھ لوگ اپنے جذبات میں عمران خان کو جناح ثانی کہنے لگے ہیں، اور کچھ تو باقاعدہ جناح سے موازنہ کرنے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ موازنہ درست ہے؟ کیا عمران خان کو محمد علی جناح کے برابر رکھا جا سکتا ہے؟
افسوس، ہم نے قوم کے معمار کو اور سیاسی ہیرو کو ایک تصویر میں لا کھڑا کیا، اور سمجھ بیٹھے کہ محض جملے، لباس، یا نعرے دونوں کو ایک جیسے بنا سکتے ہیں۔
چلیں ہم دونوں کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہیں، کیا عمران خان واقعی قائد ثانی ہیں؟
قائداعظم محمد علی جناح کا ہر لمحہ، ہر سانس، ہر لفظ، ہر خاموشی قوم کے لیے قربانی تھی۔ ایک ایسا شخص، جو لندن کی شاہانہ زندگی کو ٹھوکر مار کر واپس آیا، صرف اس لیے کہ اس کی قوم کو ایک الگ شناخت چاہیے تھی۔ جب وہ بولتا تھا، تو دشمن بھی سنتے تھے۔ جب وہ خاموش ہوتا تھا، تو ہندوستان کی فضا میں ہلچل مچ جاتی تھی۔ ایک ایسا قائد، جس نے زندگی کی آخری سانس تک اپنی بیماری چھپائی، تاکہ قوم کمزور نہ ہو، قوم کی امید باقی رہے۔ وہ کھانستے تھے، خون تھوکتے تھے، مگر ان کی زبان سے قوم کے لیے دعائیں اور حکمت کے فیصلے نکلتے تھے۔ کیا عمران خان نے اپنی انا کے سوا کچھ چھپایا؟
عمران خان بلاشبہ ایک بڑے کرکٹر، ایک عالمی چہرہ، اور سیاسی ہجوم کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے شخص ہیں۔ اُن کی جماعت نے نوجوانوں کو سیاست کی طرف راغب کیا، ان کی تقریروں نے ایک وقت میں بیداری پیدا کی، مگر سوال یہ ہے: کیا قائداعظم نے کبھی اپنے مخالفین کو یوں "چور"، "ڈاکو"، "نانی"، "پپو"، "فلانا"، "ڈھمکانا" کہا تھا؟ کیا جناح کی زبان کبھی عوام کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال ہوئی؟ نہیں۔ جناح تو اپنے بدترین سیاسی مخالف پنڈت نہرو کے لیے بھی مہذب الفاظ چنتے تھے۔
قائداعظم کی سادہ زندگی، ان کی خودداری، اور ان کا آئین پر ایمان بے مثال تھا۔ اُن کی تقریریں آج بھی آئینی کتابوں میں حوالہ بنتی ہیں۔ وہ کسی "پوپ" یا "شیخ" کے تابع نہیں تھے، بلکہ اپنی عقل، اصول، اور قانونی شعور پر ایمان رکھتے تھے۔ عمران خان نے بھی تبدیلی کے خواب دکھائے، مگر وقت گواہ ہے کہ خواب صرف وعدے ہوتے ہیں، جب تک حقیقت کی زمین پر قدم نہ رکھیں۔
قائداعظم نے کبھی اداروں کو للکارا نہیں۔ جب وہ عدلیہ کے سامنے پیش ہوتے تھے، تو گواہی، دلیل، اور قانون کی زبان بولتے تھے۔ اُنہوں نے کبھی اپنے کارکنوں کو ججوں کے خلاف اکسانے کی تلقین نہیں کی۔ عمران خان کا طرزِ سیاست آج کہاں لے آیا ہے؟ اداروں کو متنازعہ، سپریم کورٹ کو مشکوک، افواجِ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش۔ کیا یہ وہی کردار ہے جسے قائداعظم ثانی کہا جائے؟
قائداعظم نے نہ کبھی سڑکوں پر نعرے لگائے، نہ کسی ادارے سے ٹکراؤ کا راستہ اپنایا۔ اُن کی سیاست خاموشی سے، وقار سے، اور قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھی۔
عمران خان کی سیاست میں جذبات، عوامی ہجوم، میڈیا پر بیانیہ، اور اداروں سے تصادم ہے۔ عمران خان کا طریقہ کار، زبان،رویہ قائداعظم کے اُس شائستہ انداز سے بہت مختلف ہے جس نے دنیا کو متاثر کیا۔
قائداعظم نے کبھی بھی "خود کو لیڈر" کہلوانے پر اصرار نہیں کیا نہ وہ خود کو مسیحا کہتے تھے۔ ان کا سارا وقار ان کی خاموشی میں چھپا تھا، اور ان کی عظمت ان کی خود ساختہ شہرت میں نہیں، بلکہ قوم کی طرف سے دی گئی عزت میں تھی۔
جبکہ عمران خان کا سیاسی انداز مختلف ہے۔ ان کے چاہنے والے اکثر انہیں ولیوں سے بھی بڑا ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی وہ جذباتی رویہ ہے جو قوم کو ماضی میں بھی تباہ کرتا رہاہے۔
ہم جذباتی قوم ہیں۔ ہمیں ایک تصویر چاہیے، ایک نعرہ، اور ہم دیوانے ہو جاتے ہیں۔ ہم نے ایک وقت میں پرویز مشرف کو نجات دہندہ کہا، پھر زرداری کو مسیحا سمجھا، پھر نواز شریف کو عوامی لیڈر مانا، اور اب عمران خان کو جناح کا جانشین۔ کیا ہم اتنے سادہ لوح ہیں کہ ہر کرسی پر بیٹھنے والے کو بانیِ قوم سمجھ لیں؟
قائداعظم نے کبھی اپنے نظریے کو کسی سازش، کسی مداخلت، یا کسی خفیہ معاہدے کے سہارے کھڑا نہیں کیا۔ وہ تو تن تنہا کھڑے ہو کر پوری کانگریس، برطانوی راج اور عالمی طاقتوں کے خلاف دلیل کی تلوار سے لڑے۔ اُن کی آنکھوں میں عزم ہوتا تھا اور لبوں پر خاموش مسکراہٹ۔
جب عمران خان کی تصویریں قائداعظم کے ساتھ بنائی جاتی ہیں، تو یہ صرف جناح کی نہیں، بلکہ قوم کی توہین ہوتی ہے۔ قائداعظم کی تصویر کسی جذباتی عقیدت کا حصہ نہیں، بلکہ ایک تہذیبی، نظریاتی اور اخلاقی ورثہ ہے۔ یہ تصویر خون، قربانی، اور صبر کی گواہ ہے۔ اس تصویر کے ساتھ کسی کو بٹھانے سے پہلے، اُس شخص کی ہر سانس، کردار، زبان اور خاموشی کو پرکھنا ہو گا۔
عمران خان کا سیاسی سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اُن کی مقبولیت کا طوفان اور مصائب کی تیز آندھیاں جاری ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وقت اُنہیں سکھا دے،اور اُن کی سیاست جناح کی روشنی میں ڈھل جائے۔ مگر آج… آج کا سچ یہی ہے کہ عمران خان اور قائداعظم کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم چاندنی رات کے عکس کو سورج کا اصل سمجھ لیں۔
تصویر بنانا آسان ہے، اس میں دونوں چہرے ایک ساتھ فٹ کیے جا سکتے ہیں۔ مگر تاریخ ایسے فریمز سے نہیں بنتی، وہ کردار سے بنتی ہے۔ عمران خان کو عزت چاہیے، مقام چاہیے، تو وہ انہیں اصولوں سے ملے گا جنہوں نے جناح کو قائدِاعظم بنایا۔ یہ موازنہ تب ہی معتبر ہو گا جب عمران خان بھی اصول، آئین اور تہذیب کو اپنا ہتھیار بنائیں گے۔
قائداعظم ایک کردار کا نام ہے، جو صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ جو قوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔ عمران خان ایک سیاسی رہنما ہیں، جو عوامی محبت کا مرکز تو بن سکتے ہیں، مگر جناح کا عکس نہیں۔ کیونکہ جناح
صرف ایک تھے، اور ایک ہی رہیں گے۔
جواب دیںحذف کریںHar Insan ka Alag kirdar hota ha Zindagi ma Koi b kisi k jaisa nai hota humy sab ko alag alag
May Allah give the right path to our nation 🤲
جواب دیںحذف کریںThese people should think about the personality that "no one is like other"
جواب دیںحذف کریںعمران خان نے ایک نسل کے سیاسی جذبے کو بیدار کیا اور ان لاکھوں لوگوں کو آواز دی جو خود کو کبھی غیر اہم سمجھتے تھے۔
جواب دیںحذف کریںلیکن اصل قیادت صرف جوش سے نہیں بنتی — اس کے لیے وہ بے مثال وقار، اصول، اور صبر چاہیے جو قائداعظم کو لافانی بنا گیا