In the search of inner peace, What is peace of mind
سکون کیا ہے؟ ہم ہمیشہ پُرسکون کیسے رہ سکتے ہیں؟
A Column By: سر جاوید بشیر
رات کا آخری پہر تھا۔ مدینہ کی خاموش گلیوں میں ایک چراغ جل رہا تھا، اور ایک شخص، اپنے گھر کے ایک کونے میں بیٹھا، آنکھوں سے آنسو بہا رہا تھا۔ وہ نہ کسی دکھ میں تھا، نہ کسی پریشانی میں۔ وہ صرف اپنے رب کے حضور بیٹھا تھا… تنہائی میں، خاموشی میں، سکون میں۔ وہ شخص حضرت علی تھے — وہ بہادر، وہ دانا، وہ فقیہ، جنہوں نے جنگوں میں دشمنوں کو پچھاڑا، لیکن رات کے اندھیرے میں اپنے رب کے سامنے روتے، کیونکہ سکون اُدھر تھا۔
آج ہم سب "سکون" ڈھونڈ رہے ہیں، جیسے وہ کوئی چیز ہو جو کسی دکان میں مل جائے، جیسے وہ کوئی مشین ہو جو بٹن دبانے سے چل پڑے۔ ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ اگر ہمارے پاس اچھا گھر، اچھا موبائل، اچھی گاڑی، اچھا بینک بیلنس ہوگا، تو ہمیں سکون مل جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون چیزوں میں نہیں، کیفیتوں میں ہوتا ہے۔
تو سکون کیا ہے؟
سکون وہ لمحہ ہے جب دل بولے، "سب کچھ اللہ کے حوالے ہے۔"
سکون وہ سانس ہے جو بغیر خوف کے اندر جائے اور بغیر پچھتاوے کے باہر نکلے۔
سکون وہ لمس ہے جو ماں کے ہاتھ کے ساتھ آتا ہے، وہ دعا ہے جو باپ کی آنکھوں میں چپ چاپ جھلک رہی ہوتی ہے، وہ نیند ہے جو کسی کی تکلیف دُور کرنے کے بعد آتی ہے۔
ہم ہمیشہ پُرسکون کیسے رہ سکتے ہیں؟
سوال آسان ہے، مگر اس کا جواب زندگی بدل دیتا ہے۔
پہلا راز: قبول کر لو جو تمہارے اختیار میں نہیں ہے۔
جب ہم بار بار اُن چیزوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری طاقت سے باہر ہیں، تو ذہن تھک جاتا ہے، دل بوجھل ہو جاتا ہے۔
جو مل گیا، اُس پر شکر، جو چھن گیا، اُس پر صبر، اور جو نہیں ملا، اُس پر یقین — کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
دوسرا راز: سادگی اختیار کرو۔
سکون شور میں نہیں، خاموشی میں ہوتا ہے۔
سکون فالتو چیزوں کو جمع کرنے میں نہیں، غیر ضروری چیزوں کو چھوڑنے میں ہے۔
جب ہم اپنے اردگرد سے بوجھ ہٹاتے ہیں، تواندر بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔
سادہ زندگی، سادہ بات، سادہ کھانا، سادہ خواب — یہی حقیقی شاہی ہے۔
تیسرا راز: معاف کرنا سیکھو۔
جو دل دوسروں کی نفرت سے بھر جائے، اُس میں سکون کی جگہ کہاں بچے گی؟
معاف کرنا بزدلی نہیں، خود کو آزاد کرنے کا عمل ہے۔
دل میں کسی کے لیے بغض، غصہ، حسد رکھنا ایسے ہے جیسے اپنے ہی اندر زہر پالنا۔
معاف کرو، چھوڑ دو، آگے بڑھو۔
چوتھا راز: رب سے جُڑ جاؤ۔
سب سے بڑا سکون وہ ہوتا ہے جو سجدے میں ملتا ہے۔
جب تم اپنی کمزوریوں، اپنی خواہشوں، اپنے دکھوں کو اللہ کے آگے رکھ دیتے ہو، تو وہ اندر جو شور مچاتا ہے، خاموش ہو جاتا ہے۔
سکون نہ موبائل دیتا ہے، نہ فلم، نہ میوزک…
وہ صرف رب کی یاد میں ہے۔
کیونکہ یہ قرآن کا فیصلہ ہے۔ دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
پانچواں راز: اپنے حال میں جیو۔
ہم یا تو ماضی کے پچھتاووں میں الجھے رہتے ہیں، یا مستقبل کے خوف میں۔
سکون "ابھی کے لمحے" میں ہے۔
اگر تم نے اس لمحے کو پوری محبت، توجہ، اور حمد کے ساتھ گزار لیا،
تو ہر لمحہ تمہیں پرسکون بنا دے گا۔
یاد رکھو، سکون کی تلاش میں بھاگتے رہنے سے سکون نہیں ملتا۔
سکون تب آتا ہے جب تم رُک جاؤ، گہرائی میں جاؤ، اور خود سے ملو۔
اپنے رب سے ملو۔
اپنے اصل سے ملو۔
سکون نہ خریدنے کی چیز ہے، نہ مانگنے کی —
یہ لوٹانے کی چیز ہے۔
جب تم دوسروں کو سکون دو گے، خود بھی پرسکون ہو جاؤ گے۔
آپ کی سکون کے بارے میں کیا رائے ہے؟
کیا اس موضوع پر اور لکھا جائے؟
اپنی قیمتی رائے دیں۔
Well done
جواب دیںحذف کریںPublish its second part, because it is really peaceful I really like it;I felt peace during reading 😌
جواب دیںحذف کریںExactly. If we accept,what Allah Almighty gave us and what not. We get peace. And when we accept and bound with Allah Almighty..we truly find and feel inner peace. Well done keep it up.
جواب دیںحذف کریںSir g Kiya LIKHA hai apne zabrdst
جواب دیںحذف کریں