Law of Karma, Maqfat e Ammal

 

کرما ( مکافات عمل): ایک ان دیکھے انصاف کی حقیقت


A Column By: سر جاوید بشیر


کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو نہ کہی جاتی ہیں اور نہ ہی سمجھی جاتی ہیں۔ مگر وقت اُنہیں خود کہتا ہے، دکھاتا ہے اور سمجھاتا ہے۔ کرما بھی ایسی ہی ایک حقیقت ہے — ایک خاموش مگر طاقتور سچ۔


کرما کا مطلب ہے: جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔


یہ کوئی ہندو یا بدھ مت کا فلسفہ نہیں، بلکہ انسانی عمل کے نتائج کا آفاقی قانون ہے۔ قرآن میں بھی صاف لکھا ہے:

"انسان کو وہی ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہو" 


کرما کیا ہے؟


کرما یعنی ہمارے اعمال کا عکس۔

جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہی پلٹ کر کسی نہ کسی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔

کبھی آنسو بن کر، کبھی سکون چھین کر،کبھی نسلوں میں دکھ بن کر۔


کرما وہ خاموش آواز ہے جو مظلوم کی آہ میں، ماں کے کرب میں، یتیم کے سسکنے میں چھپی ہوتی ہے۔


کرما کیوں ضروری ہے؟


کیونکہ اگر کرما نہ ہو، تو ظالم ہنستے رہیں اور مظلوم روتے رہیں۔

اگر کرما نہ ہو، تو یہ دنیا کبھی بھی انصاف کا ذائقہ نہ چکھ سکے۔

کرما اس کائنات کا عدالتی نظام ہے — ایک ایسا نظام جو نہ سُستی کرتا ہے، نہ بھولتا ہے،نہ بخشتا ہے۔


کرما اولاد پر کیوں آتا ہے؟


یہ سوال ہر اُس دل کا درد ہے جو کسی بے گناہ بچے کو تڑپتا دیکھے۔

"کیوں وہ بچہ بیمار ہے؟ اس نے کیا گناہ کیا تھا؟"

"کیوں کسی کی بیٹی جوانی میں بیوہ ہو گئی؟"

"کیوں کسی کا بیٹا نشے میں ڈوبا ہوا ہے؟"


یہ صرف اُس بچے کا امتحان نہیں، اُس نسل کے اعمال کا اثر ہے۔

قرآن میں بھی آیا ہے:

"اور فتنے سے بچو، جو صرف اُن لوگوں کو نہیں پہنچے گا جو ظالم ہوں، بلکہ سب پر آئے گا" 

یعنی جب معاشرہ گناہ کو عام کر دیتا ہے، تو کرما صرف گناہگار کو نہیں، اُس کے اردگرد سب کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔


جس نے گناہ کیا ہی نہیں، اُس پر کرما کیوں؟


یہ تلخ سوال ہے، مگر حقیقت ہے۔

کبھی ہم خود گناہ نہیں کرتے، مگر خاموشی سے تماشائی بنے رہتے ہیں۔

کبھی ہم زبان سے روکتے نہیں، کبھی ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔


خاموشی بھی ایک عمل ہے۔

کبھی کبھی اللہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے، جگانے کے لیے۔ ہمیں احساس دلانے کے لیے کہ ہم نے کسی کے ساتھ کیا کیا۔


کیا کرما بدلا جا سکتا ہے؟


ہاں، یہ سب سے امید دینے والی حقیقت ہے۔

کرما صرف سزا نہیں، موقع بھی ہے — توبہ کا، تبدیلی کا، بہتری کا۔

اگر ہم اپنے اعمال بدل لیں

اگر ہم دوسروں کو معاف کر دیں

اگر ہم مظلوم کا ساتھ دیں

اگر ہم دل سے توبہ کریں

تو کرما نرم ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ٹل بھی جاتا ہے۔


کرما کیسے درست کیا جائے؟


ماں باپ کی دعائیں لو — کیونکہ اُن کی دعا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔


مظلوم سے معافی مانگو — چاہے وقت کتنا بھی گزر چکا ہو۔


 صدقہ دو، نیکی کرو، مخلوق کی مدد کرو — یہ سب کرما کی سزا کو نرم کرتے ہیں۔


رب سے لو لگا لو — کیونکہ وہی ہے جو کرما کا حساب رکھتا ہے اور وہی اسے معاف بھی کر سکتا ہے۔


کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے ہم سب کچھ کھو چکے ہیں۔ مگر اصل میں ہم وہ کاٹ رہے ہوتے ہیں جو ہم نے برسوں پہلے بویا تھا۔


اگر آج ہم دوسروں کو تکلیف دیں گے، تو کل ہماری اولاد روتی نظر آئے گی۔

اگر آج ہم کسی کی بیٹی کی عزت پامال کریں گے، تو کل ہماری نسلیں برباد ہوں گی۔

اگر آج ہم کسی یتیم کا مال کھائیں گے، تو کل ہمارے اپنے بچے ترسیں گے۔


کرما کہتا ہے:

مت بھولو، وقت تمہارا عمل نوٹ کر رہا ہے۔

ہر آنکھ کا آنسو، ہر دل کی آہ، ایک رسید ہے۔

جب وقت آئے گا، وہ رسید ضرور دکھائی جائے گی۔


تو کیوں نہ آج ہی اپنی اصلاح کریں

تاکہ کل کی نسلیں محفوظ ہوں،تاکہ سکون، خوشی اور رحمت ہماری زندگی کا حصہ بنے۔



تبصرے

  1. Deep message for everyone if they will think about it before doing anything else

    جواب دیںحذف کریں
  2. Beshak Toba moot k gargary se pehle sab gunah maff kar sakti....shart ye k un gunaho ko again na Kiya jaye

    جواب دیںحذف کریں
  3. Excellent. Its an informative column. Allah Almighty Grant's us the ability to right our things.

    جواب دیںحذف کریں
  4. Yes karma exists from begining ❤️

    جواب دیںحذف کریں
  5. Fate never breaks us, but our hasty thinking, silence on injustice, and not waiting for the .allah time hurt us
    Karma is not blind, it only speaks of what we .have put into the world

    جواب دیںحذف کریں
  6. آج آپ کا کالم مخلوق کی زندگی بدلنے کیلئے کافی ھے
    جاوید صاح آپ نے لکھا کہ غیر ضروری خواہشات
    میرے کہنا چاہتا ہوں کہ زندگی گزارنے کیلئے زندہ رہنے کیلئے
    خواہش ہونی چاہئے کیوں کہ انسان کو واپس جانا ھے آگ میں یا باغ میں پھر وہی رہنا ہے سب کو معلوم ہے کہ آخر مرنا ہے
    اس کے باوجود ہماری خواہشیں اختتام پزیر نہیں ہوتی
    آسائشیں سب عارضی ہیں لیکن کون سوچتا ہے دنیا کی لذتوں میں ہم محسور ہوکر رہ گئے ہیں
    اے میرے پرور دگار ہمیں دنیاوی لذتوں کی خواہشوں سے محفوظ رکھ
    آپ نے یو کالم لکھ کر ھم سب کی اصلاح کی ہے اللہ رب العزت آپ کو جزاۓ خیر عطا کرے آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein