Motivation, How to remain motivated all the time
A Column By: سر جاوید بشیر
ایک ویران سی پرانی دیوار پر، جہاں دھوپ کی کرنیں بھی بڑی مشکل سے پہنچتی تھیں، ایک ننھی سی مکڑی اپنی منزل کی طرف رینگ رہی تھی۔ اس کی منزل تھی اوپر چھت تک پہنچنا، جہاں شاید اس کا گھر تھا، یا شاید کوئی نئی دنیا۔ مگر وہ مکڑی عام نہیں تھی۔ کسی نامعلوم وجہ سے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی تھی، اور اب اس کا سفر اور بھی کٹھن ہو چکا تھا۔
وہ بیچاری کوشش کرت، اور پھر پھسل کر نیچے گر جاتی۔ بار بار ایسا ہی ہوتا رہا۔ ایک لمحے کو لگا کہ شاید اب وہ ہمت ہار دے گی، کہ ایک ٹانگ کے ساتھ اس اندھے سفر کو جاری رکھنا ناممکن ہے۔ مگر نہیں! اس ننھی سی جان میں ایک عجیب سی ضد تھی، ایک نہ ٹوٹنے والا عزم تھا۔ وہ ہر بار گرنے کے بعد، گرد جھاڑ کر پھر سے اوپر کی طرف دیکھتی، اور ایک نئی کوشش کا آغاز کرتی۔ اس کی یہ لگن دیکھ کر میں بھی دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کب تک یہ بے چاری اپنا سر پٹکتی رہے گی؟
کئی بار گرنے کے بعد، ایک کوشش ایسی ہوئی کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ اوپر تک پہنچ گئی۔ دل میں ایک امید جاگی کہ بس اب پہنچ ہی گئی، مگر پھر ایک جھٹکا لگا اور وہ مکڑی ایک بار پھر نیچے آ گری۔ مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف تھا۔ وہ جہاں گری، وہاں دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا پانی کا پیالہ رکھا تھا، اور مکڑی اس پانی میں جا گری۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ "بس! اب تو گئی یہ مکڑی۔" میں نے یہ سمجھا کہ پانی اس کے لیے زحمت بن گیا ہے، جو رہی سہی ہمت بھی توڑ دے گا۔ لیکن اگلا لمحہ میری سوچ سے بالکل برعکس تھا۔
مکڑی نے پانی سے باہر نکلنے کی کوشش کی، اور جب وہ باہر نکلی تو حیرت انگیز طور پر اس کی حرکت میں ایک غیر معمولی تیزی آ چکی تھی۔ جو مکڑی ایک ٹانگ کی کمی کی وجہ سے لڑکھڑا رہی تھی، وہ اب برق رفتاری سے دیوار پر اوپر چڑھنے لگی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے، وہ اپنی منزل تک، چھت پر، باآسانی پہنچ گئی۔
میں ہکا بکا رہ گیا! یہ کیا ہوا؟ وہ پانی، جسے میں نے اس کے لیے آخری ضرب سمجھا تھا، وہ کیسے اس کے لیے رحمت بن گیا؟ کیوں وہ پانی اس کے لیے آسانیاں پیدا کر گیا؟ اس سوال کا جواب میرے ذہن میں اگلے ہی لمحے بجلی کی طرح کوند گیا۔ وہ پانی اس کے لیے برکت اس لیے بنا، کیونکہ پانی نے اس کی ٹانگوں کو نم کر دیا تھا۔ گیلا ہونے کی وجہ سے ان کی گرفت بہتر ہو گئی تھی، اور اب وہ پھسل نہیں رہی تھی۔
یہی تو اصل موٹیویشن ہے! یہی تو زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے! ہم اکثر اپنی مشکلات کو، اپنی آزمائشوں کو، اپنی ناکامیوں کو زحمت سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کہ اب شاید منزل تک پہنچنا ناممکن ہے۔ مگر یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات وہی زحمت، وہی پریشانی، وہی رکاوٹ دراصل ہمارے لیے رحمت بن جاتی ہے۔ وہی مشکل ہمیں وہ چیز سکھا جاتی ہے جو ہم کبھی عام حالات میں سیکھ نہیں پاتے، وہی تجربہ ہمیں وہ طاقت دے جاتا ہے جس کا ہمیں ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندے کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ جب آپ اپنے اندر کی اس بجھتی ہوئی شمع کو روشن رکھتے ہیں، جب آپ ہمت نہیں ہارتے، جب آپ مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں، تو قدرت خود آپ کی مدد کو آتی ہے۔ وہ ایسے راستے کھولتی ہے جہاں آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ وہ آپ کی کمزوریوں کو ہی آپ کی طاقت بنا دیتی ہے۔ یہ آگے بڑھتے رہنے کا انعام ہے، یہ ثابت قدمی کا صلہ ہے کہ اللہ رب العزت خود مدد فرماتا ہے اور ایسے بند دروازے کھول دیتا ہے جنہیں دنیا نے ناممکن قرار دے دیا ہوتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ اس مکڑی کی طرح، اپنی ایک ٹانگ ٹوٹی ہونے کے باوجود، اپنی منزل کا رخ نہ چھوڑیں اور یہ یقین رکھیں کہ ہر رکاوٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت ضرور چھپی ہوتی ہے!
یہ ہے اصل موٹیویشن۔ یہ ہے اندر سے پیدا ہونے والی وہ طاقت جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی، بلکہ جوڑتی ہے، سنوارتی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا ہم بھی ہمیشہ پرامید اور پرجوش رہ سکتے ہیں؟ جواب ہے: بالکل رہ سکتے ہیں۔ مگر یہ کام محض باتوں یا نعروں سے نہیں ہوتا، بلکہ ایک طرزِ زندگی اپنانے سے ہوتا ہے۔
سب سے پہلے، انسان کو اپنی نیت صاف کرنی ہوتی ہے۔ اگر مقصد محض دنیاوی کامیابی ہو تو راستے میں تھکن ہو گی، دل شکستہ ہو گا، اور انسان گر جائے گا۔ مگر اگر نیت یہ ہو کہ میں اپنی زندگی کو اللہ کے سپرد کر کے، اپنی محنت کو عبادت سمجھ کر آگے بڑھوں گا، تو تھکن کا بھی ایک ذائقہ ہو گا، اور ناکامی بھی تربیت بن جائے گی۔
موٹیویشن زندہ رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ شکرگزاری ہے۔ ہم روز کچھ نہ کچھ کھو رہے ہوتے ہیں، اور روز کچھ نہ کچھ پا بھی رہے ہوتے ہیں۔ مگر ہم صرف کھونے پر روتے ہیں، پانے پر شکر نہیں کرتے۔ جب انسان روزانہ خود کو یہ یاد دلائے کہ میرے پاس جو ہے، وہ بہت سوں کے پاس نہیں، تو ایک نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔
پھر مقصد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ وہ لوگ جو زندگی کو محض گزار رہے ہوتے ہیں، وہ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ لیکن جن کے دل میں کوئی مشن ہو، کوئی بڑا خواب ہو، وہ ہر لمحہ جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ موٹیویشن ہمیشہ مقصد سے جڑی ہوتی ہے۔ جیسے ماں کو تھکن نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے دل میں بچوں کی محبت کا مقصد ہوتا ہے۔ ویسے ہی جو انسان کسی بڑے مقصد سے جُڑا ہو، وہ جلد ہارتا نہیں۔
اپنے ماحول کو بدلیے۔ اداس لوگ، منفی باتیں، شکوے شکایتیں — یہ سب موٹیویشن کے دشمن ہیں۔ آپ کو ایسے لوگوں کے قریب رہنا چاہیے جو آپ کو بہتر بنائیں، آپ کو یاد دلائیں کہ آپ کا وجود قیمتی ہے۔ اگر ایسے لوگ نہیں ملتے، تو تنہائی کو قبول کیجیے، مگر مایوسوں کی محفل میں مت جائیے۔
موٹیویشن کا ایک اور راز یہ ہے کہ خود کو دوسروں کی خدمت میں لگا دیا جائے۔ جب انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے، ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتا ہے، تو ایک عجیب سی خوشی دل میں جاگتی ہے۔ یہی خوشی آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
اور سب سے اہم بات: ہمیشہ اللہ پر یقین رکھیے۔ مشکلات آئیں گی، دل ٹوٹے گا، لوگ چھوڑ جائیں گے، لیکن جو شخص اپنے رب سے جُڑا ہو، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ اس کا ہر آنسو اُس کے درجات بڑھاتا ہے، اور ہر درد اُسے مضبوط بناتا ہے۔
یاد رکھیے، موٹیویشن کوئی جادو نہیں، یہ ایک مسلسل محنت، مسلسل شکرگزاری، مسلسل تعلقِ الٰہی، اور مسلسل بہتر بننے کی لگن کا نام ہے۔ اور یہ ہر اُس انسان کو حاصل ہو سکتی ہے جو دل سے چاہے، نیت صاف کرے، اور زندگی کو صرف جینے کے بجائے کچھ خاص کرنے کا ذریعہ سمجھے۔
جیسے اس ننھی مکڑی نے کیا، نہ رکی نہ تھکی۔ ہم بھی اپنے بکھرے دنوں میں چراغ جلا سکتے ہیں۔ ہم بھی دوسروں کے لیے روشنی بن سکتے ہیں۔ ہم بھی اپنی ہمت سے ایک نئی دنیا تخلیق کر سکتے ہیں۔ شرط صرف ایک ہے: ہمیشہ مثبت سوچیں، اور خود سے یہ وعدہ کریں: میں ٹوٹوں گا نہیں، جھکوں گا نہیں، رُکوں گا نہیں۔
یاد رکھیے، زندگی ایک سفر ہے، منزل نہیں، اور اس سفر میں ہمیں بارہا ٹھوکریں لگیں گی، گریں گے بھی، لیکن اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم ہر بار اٹھیں اور آگے بڑھیں۔ اور یہ اٹھنے کی قوت، یہ آگے بڑھنے کا جذبہ، یہی تو موٹیویشن ہے۔ یہ وہ ہوا ہے جو آپ کے خوابوں کی کشتی کو سمندر کی لہروں میں بھی ڈوبنے نہیں دیتی۔ بس اس ہوا کو ہمیشہ تازہ اور تروتازہ رکھنا ہے۔
اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنے اندر کی اس آواز پر کان دھریں جو مسلسل آپ کو
کہتی ہے
"تم کر سکتے ہو!"۔
So inspiring!
جواب دیںحذف کریںWow really Appreciated and a Good message for those who achieve something what he or she wants in the life
جواب دیںحذف کریںGreatest Motivation ⭐
Yes! everyone can do
جواب دیںحذف کریںTrials are the part of life
Heat touching story.Allah grants their blessing to absorb it.and act upon it.
جواب دیںحذف کریںYes! we should always continue making effort
جواب دیںحذف کریں