Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

 A column By: سر جاوید بشیر

سوال پوچھنا منع ہے۔

وہ ایک چھوٹا سا لڑکا تھا۔ گاؤں کے پرانے اسکول میں بیٹھا استاد کی باتیں سنتا تھا، لیکن ہر بات میں اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوتا۔ وہ ہاتھ اُٹھاتا، سوال کرتا، اور استاد کے چہرے پر ناگواری پھیل جاتی۔

"بہت سوال نہ کیا کرو!"

"چپ کر کے سنو!"

"ہم سے زیادہ جانتے ہو کیا؟"

رفتہ رفتہ وہ لڑکا سوال کرنا چھوڑ بیٹھا۔

اور یہی لمحہ اُس کی ذہنی موت کا آغاز تھا۔

کیونکہ جب کوئی انسان سوال کرنا چھوڑ دے، تو وہ سیکھنا بند کر دیتا ہے۔

اور جو سیکھنا بند کر دے، وہ جینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

سوال کرنا، اصل میں علم کی پہلی سانس ہے۔

پہلا سوال، انسان کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر شعور کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ ہم سوال سے دور ہو گئے؟

ہم نے اپنی تعلیمی درسگاہوں کو " رٹے کی فیکٹریاں" بنا دیا۔

ہم نے بچوں کو رٹے کا غلام بنا دیا، اور سوال کرنے والے کو گستاخ، بدتمیز، اور باغی کا نام دے دیا۔

ہمیں سوال کرنے سے کس نے روکا؟

شاید ہمارے وہ اساتذہ جنہیں خود کبھی سوال کی آزادی نصیب نہ ہوئی۔

شاید وہ نظامِ تعلیم، جو صرف نمبر دینے کے لیے ہے، عقل جگانے کے لیے نہیں۔

شاید وہ معاشرہ، جو خاموشی کو تمیز سمجھتا ہے، اور سوال کو بغاوت۔

حالانکہ سوال وہ شعلہ ہے جو دل میں لگتا ہے، اور علم کو جلنے پر مجبور کرتا ہے۔

سوال وہ کنجی ہے جو بند دماغ کے قفل کو توڑ کر نئی راہیں کھولتی ہے۔

سوال وہ دروازہ ہے جو ماضی کی زنجیروں کو توڑ کر مستقبل کا منظر دکھاتا ہے۔

لیکن سوال کیسے کیا جائے؟

سوال علم کی پیاس بجھانے کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا اسے احترام سے پوچھا جائے۔

پہلے سچائی سے دوستی کی جائے، پھر علم سے محبت کی جائے۔

جب دل میں کچھ سمجھنے کا اضطراب پیدا ہوتا ہے، تب لب پر سوال آتا ہے۔

سوال صرف علم حاصل کرنے کے لیے نہیں، اپنی پہچان تلاش کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔

اچھا سوال وہ ہوتا ہے جس کے پیچھے سیکھنے کی پیاس ہو، نہ کہ کسی کو نیچا دکھانے کا جذبہ۔

آج بھی اگر ہم نے سوال کی طرف لوٹنے کا حوصلہ کر لیا،

اگر ہم نے بچوں کو دوبارہ "کیوں؟" کہنے کی اجازت دے دی،

اگر ہم نے ہر "کیوں" کو دبانے کے بجائے سننے اور سمجھنے کی نیت کر لی،

تو یہ سوال ہی ہمیں دوبارہ دنیا کی عظیم ترین اقوام میں شامل کر سکتا ہے۔

کیونکہ قومیں ہتھیاروں سے نہیں، سوالوں سے بنتی ہیں۔

بند ذہن صرف حکم مانتے ہیں، کھلے ذہن سوال کرتے ہیں — اور پھر تاریخ بناتے ہیں۔

آؤ، ہم دوبارہ سوال کرنا سیکھیں
آؤ، ہم پھر سے جینا سیکھیں


تبصرے

  1. جزاک اللہ۔ اس column سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. I wish, today teachers force students to ask questions about their existence

    جواب دیںحذف کریں
  3. Exactly. You show the true picture of our education system. Students should have right to ask questions. Good job.sir

    جواب دیںحذف کریں
  4. You are the best teacher ever
    Mene swal krna apse seekha hy ya shyd Jo sawal thy un sb k jawab Apne hi diye hen ❤️

    جواب دیںحذف کریں
  5. That's why New generation mind has blanked due to this type of teachers 🙃

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein