Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology
A column By: سر جاوید بشیر
جناح کے پاکستان سے ولاگرز کے پاکستان تک کا سفر
یہ 1947 کا دن تھا۔ لاہور کی گلیوں میں ایک ہجوم جناح کی گاڑی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
کسی بچے نے پوچھا: “ابا، یہ کون ہے؟”
باپ نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا:
"بیٹا، یہ وہ شخص ہے جس نے ہمیں آزاد ملک دیا — تاکہ تم علم حاصل کرو، خوددار بنو، اچھے مسلمان بنو، اچھےانسان بنو۔"
آج اسی لاہور کی گلیوں میں کوئی بچہ پوچھے: “ابا، یہ کون ہے؟”
تو جواب آتا ہے:
"بیٹا، یہ رجب بٹ ہے، سسٹرولوجی ہے، یہ ڈکی بھائی ہے — ان کے وی لاگ دیکھو، بڑے مزے کے ہوتے ہیں۔"
یہ کیسا سفر ہے؟
جناح سے ڈکی بھائی تک؟
خودی سے جگت تک؟
قوم سازی سے سبسکرائبر سازی تک؟
کب ہم نے یہ سودا کر لیا؟
یہ تحریر اُن سب والدین، اساتذہ اور نوجوانوں کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یوٹیوب صرف تفریح ہے — اور یہ نہ دیکھ سکے کہ اسکرین نے ان کے بچوں کے خواب چوری کر لیے ہیں۔
یہ کہانی اُس نسل کی ہے جس کے ہاتھ میں کبھی کتاب تھی، اور آج موبائل ہے۔
یہ ماتم اُس علم کا ہے جسے ہم نے قہقہوں، جگتوں، اور جھوٹے ڈراموں کی نذر کر دیا۔
یہ سوال اُن سب سے ہے جو کل قائداعظم کے وارث تھے — اور آج رجب بٹ،سسٹرولوجی، اور ڈکی بھائی کے سبسکرائبر بن کر خوش ہیں۔
کیوں؟
صرف اتنا سوچ لیجیے — کیا ہم یہی قوم بنانا چاہتے تھے؟
ہم ایک خاموش بربادی کے سفر پر ہیں — اور یہ بربادی شور سے نہیں، سکرول کرنے سے آ رہی ہے۔ جس ہاتھ میں کبھی قلم ہوتا تھا، آج اس میں موبائل ہے۔ جس آنکھ میں کبھی خواب ہوتے تھے، آج اس میں یوٹیوب کا "سبسکرائب" بٹن چمک رہا ہے۔ ہمارے بچے، جو کبھی مستقبل کے معمار کہلاتے تھے، آج طنز، جگت، جھوٹے پرانکس، اور ذاتیات سے بھرے وی لاگز کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ رجب بٹ اگر کسی دن دانت صاف کرنے کی ویڈیو ڈال دے، تو بچےاُس کے ٹوتھ برش کا برانڈ پوچھتے ہیں۔
یہ صرف تفریح نہیں — یہ ایک زہریلا زوال ہے۔
آپ شاید سوچیں، "کیا غلط ہے اگر بچہ ہنس رہا ہے؟"
غلط یہ ہے کہ اب ہنسی علم پر غالب آ گئی ہے۔
غلط یہ ہے کہ اب کردار سازی کے ادارے بند ہو رہے ہیں، اور جگت سازی کے چینل کھل رہے ہیں۔
غلط یہ ہے کہ بچہ جو سیکھتا ہے، وہ ادب، اخلاق، تاریخ، سائنس نہیں — بلکہ کسی یوٹیوبر کی ذاتی زندگی کے جھگڑے، فیک پرانک، یا جھوٹے ڈرامے ہوتے ہیں۔
جب 10 سال کا بچہ آپ سے کہے کہ "ابو، میں بڑا ہوکر رجب بٹ بنوں گا" — تو یہ صرف ایک خواب نہیں، ایک المیہ ہے۔
کہاں گیا وہ باپ جو جناح اور اقبال کی عظمت کے قصے سناتا تھا؟
کہاں گئے وہ استاد جو اقبال کا تصورِ خودی سناتے تھے؟
کہاں گیا وہ بچہ جو فیض کا شعر یاد کر کے فخر کرتا تھا؟
یہ صرف تفریح کا سوال نہیں — یہ شناخت کا سوال ہے۔
پاکستان کی اصل لڑائی اب سرحدوں پر نہیں، اسکرین پر ہے۔
اسکرین جیت جائے، تو دماغ ہار جاتا ہے۔
اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کا دماغ خود اسکرین کے حوالے کیا۔
سسٹرولوجی کے ولایتی لہجوں، مصنوعی آنسوؤں، اور مہنگی شاپنگ کے منظرنامے میں وہ بچی کہاں جائے جس کا باپ رکشہ چلاتا ہے؟
ڈکی بھائی کے طنزیہ تبصروں اور جگت بازی میں وہ بچے اور بچیاں کہیں کھو گئے جنہیں سی ایس ایس آفیسر بننا چاہیے تھا۔
رجب بٹ کے شو آف میں وہ معصوم کہاں سنبھلے گا جسے صرف روٹی پوری ملتی ہے؟
ہم ایک ایسی نسل بنا رہے ہیں جسے ان تمام ولاگرز کی فیملی کے نام یاد ہوں گے لیکن نہیں۔
جسے اپنے پسندیدہ یوٹیوبر کی بیوی کا نک نیم تک معلوم ہوگا، لیکن غسل کا طریقہ نہیں۔
ہماری نئی نسل، جسے ہم "ڈیجیٹل نسل" کہہ کر فخر کرتے ہیں، درحقیقت ڈیجیٹل جاہلیت کا شکار ہے۔
ہم نے بچوں سے کتاب چھینی، اور یوٹیوب دے دیا۔
ہم نے ان کے ذہن سے سوال چھینے، اور جگت دی۔
ہم نے ان کے دل سے خواب چھینے، اور سبسکرائبر کا ہدف دیا۔
یہ سب معمولی نہیں۔ یہ وہ زوال ہے جسے قومیں محسوس تب کرتی ہیں جب ان کی قبریں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔
ابھی وقت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ سائنسدان بنے، لیڈر بنے، استاد بنے، شاعر بنے، باوقار انسان بنے — تو ہمیں اس کے "واچ ہسٹری" پر نظر رکھنی ہوگی۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ قوم دوبارہ بنے، تو پہلے فالوورز کی گنتی نہیں، فہم کی گہرائی سکھانی ہوگی۔
ورنہ وہ دن دور نہیں، جب تاریخ کا سب سے دردناک وی لاگ، ہمارے بچوں کی تباہی کا ہوگا — اور اسے لائیک اور سبسکرائب کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
یاد رکھیں، اگر قوم کے معمار جگت باز بن جائیں، تو قوم کبھی تعمیر نہیں ہوتی — صرف زوال پذیر ہوتی ہے ۔
اگر آپ کو یہ کالم پسند آیا,یا آپ اپنی رائے دینا چاہتے ہیں، تو برائے مہربانی نیچے کمنٹ کریں! جزاک اللہ!
سر جاوید بشیر
well said Javaid bhai, I totally agree with you
جواب دیںحذف کریںWell said.
جواب دیںحذف کریںWell done. You truly capture the present condition and also guide. Thanks
جواب دیںحذف کریںWell done. You truly capture the present condition of our society. And also guide. Thanks
جواب دیںحذف کریںThis is the reality of our so-called vloggers
جواب دیںحذف کریںUstad e muhtram ap bja Hain. Lakin ksi AK K thik hone ka mamla Nahi he. Sab ko mil K society ko maintain krna ho ga.
جواب دیںحذف کریںبلکل درست ، پتہ نہیں یہ کیسے شوق ہے کہ یہ جانے کہ دوسروں کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے ۔اور یہ ولاگرز بھی عجیب ہی مخلوق ہیں اپنی پرائیویسی کے خود دشمن بن گئے ہیں ۔
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم سر میں اپ کی باتوں سے سہمت ہوں مگر ڈیجیٹل میڈیا جیسے یوٹیوب گوگل اے ائی یہ ہمیں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں مگر شرط یہ ہے ہم سیکھنے کے لیے سہمت ہوں ہم تیار ہوں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کا مائنڈ سیٹ کرنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اس ٹیکنالوجی کا صحیح طریقے سے سمجھائیں بتائیں اگر والدین اس سے روشناز نہیں ہیں تو وہ وہ استاد جس سے وہ پڑھنے جاتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اس چیز کے بارے میں سمجھائے اور میری اپ سے گزارش بھی یہی ہے کہ قصور ٹیکنالوجی کا نہیں قصور لوگوں کا ہے اپ بھی بچوں کو اس چیز سے فیمیلیئر کریں تاکہ وہ ٹیکنالوجی کا اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کر سکیں فی امان اللہ
جواب دیںحذف کریںI agree with it
جواب دیںحذف کریںWell done sir true words
جواب دیںحذف کریںReally its amazing and this is also the reality
جواب دیںحذف کریں💓👍
جواب دیںحذف کریںVery deep lines that's great❤️🔥
حذف کریں