Words make our World, The magic of Words
الفاظ کا جادو: ہم جو بولتے ہیں، وہی بن جاتے ہیں
A Column By: سر جاوید بشیر
دنیا کے ہر انسان کے پاس دو خزانے ہوتے ہیں: ایک اس کا دل اور دوسرا اس کی زبان۔ دل میں کیا ہے، زبان پر آجاتا ہے، اور زبان سے جو نکلتا ہے، وہی انسان کی قسمت بناتا یا بگاڑتا ہے۔ یہ محض جملے یا باتیں نہیں ہوتیں، یہ ہمارے اعمال، سوچ، خواب، اور حقیقت کا رخ متعین کرتی ہیں۔
ہم جو بولتے ہیں، وہ صرف آوازیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ توانائی ہوتی ہیں جو کائنات میں پھیلتی ہیں اور پھر ویسا ہی لوٹ آتی ہیں۔
اگر ہم بار بار کہیں:
"میرے پاس وقت نہیں ہے..."
تو وقت واقعی ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم کہیں:
"میں ناکام ہوں، میرے بس کا کام نہیں ہے..."
تو اللہ رب العزت کا نظام کہتا ہے:
"جیسا تو نے کہا، ویسا ہی ہوگا۔"
الفاظ ہی ہماری دنیا بناتے ہیں
زندگی میں ہم نے کئی بار سنا ہو گا:
"باتوں میں دم ہے"، "کسی کی زبان بڑی تیز ہے"، "اس کے منہ سے نکلا ہوا سچ ہو جاتا ہے"
یہ سب ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا۔
الفاظ ایک بیج کی مانند ہوتے ہیں۔
اگر آپ محبت، امید، اور شکر کے بیج بوئیں گے تو زندگی میں خوشی، سکون، اور کامیابی کے پھل آئیں گے۔
لیکن اگر آپ شکوے، نفرت، مایوسی، اور شک کے بیج بوئیں گے تو فصل بھی ویسی ہی اُگے گی — کانٹوں بھری، درد بھری، اور بےرنگ۔
بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ
"زبان کا زخم تلوار سے گہرا ہوتا ہے"۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا مرہم دل کے زخموں کو بھر دیتا ہے۔
ایک ماں جب اپنے بچے کو روز کہتی ہے:
"تم بہت ذہین ہو، تم کچھ بھی کر سکتے ہو"
تو وہی بچہ ایک دن دنیا کے سامنے اپنے خوابوں کو سچ کر کے کھڑا ہو جاتا ہے۔
ایک استاد جب اپنے شاگرد سے کہتا ہے:
"مجھے تم پر یقین ہے"
تو وہی شاگرد اپنی ہمت جمع کرتا ہے اور بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
کامیاب لوگ ہمیشہ اپنی زبان سے امید، یقین، اور دعا نکالتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
"میں کر سکتا ہوں"،
"یہ وقت بھی گزر جائے گا"،
"اللہ بہتر کرے گا"۔
اور یہی جملے ان کی کائنات میں ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ واقعی بہتری ہونے لگتی ہے۔
جب کوئی کہتا ہے:
"میرے لیے کچھ بھی ممکن ہے"
تو اللہ رب العزت کا نظام کہتا ہے:
"ہاں، تیرے لیے سب کچھ ممکن ہے"۔
کئی لوگ خود کو کمزور، بدنصیب، یا ناکام کہہ کر خود ہی اپنی زندگی اندھیر کر لیتے ہیں۔
وہ بار بار دہراتے ہیں:
"مجھے کچھ نہیں آتا"،"میری قسمت خراب ہے"،"میرے ساتھ ہمیشہ برا ہوتا ہے"
اور پھر واقعی ان کے ساتھ برا ہوتا ہے — کیونکہ وہ اپنی دنیا خود بگاڑ رہے ہوتے ہیں۔
یاد رکھیں، زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ یا تو دعا ہوتا ہے یا بددعا — اپنے لیے یا دوسروں کے لیے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ الفاظ کا استعمال کیسے کیا جائے۔
ہمیں اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ اور جملے شامل کرنے چاہئیں جیسے:
الحمدللہ — ہر حال میں شکر
ان شاء اللہ — امید کے ساتھ منصوبہ بندی
ماشاءاللہ — خوشی اور تعریف کے وقت
میں کر سکتا ہوں — خود اعتمادی
اللہ مدد کرے گا — یقین
روز صبح کہیں:
"میں قیمتی ہوں"،
"میری زندگی اہم ہے"،
"میں کامیاب ہوں"،
"میری دعائیں قبول ہوں گی"۔
یہ کوئی جادو نہیں، یہ الفاظ کی توانائی ہے،جو آپ کی زندگی کو بدل دے گی۔
زندگی میں وہی کچھ ہوتا ہے جو ہم بار بار اپنے دل اور زبان سے کہتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دنیا روشن،خوشحال، اور کامیاب ہو تو اپنی زبان کو محبت، شکر، اور امید سے بھر دیجئے۔
الفاظ کا جادو سچ ہے —
یہ ہمیں یا تو بلندیوں پر لے جاتا ہے یا اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔
فیصلہ آپ کا ہے:
آپ کیا بولنا چاہتے ہیں؟
اور کیا بننا چاہتے ہیں؟
کیونکہ ہم وہی بن جاتے ہیں جو ہم بولتے ہیں۔
آپ کی اس کالم کے متعلق کیا رائے ہے؟ اپنی قیمتی رائے دیں۔ جزاک اللہ۔"
We should utter good words
جواب دیںحذف کریںSir Javaid you are great No word as a compliment for you ☺️
جواب دیںحذف کریںJazak Allah
جواب دیںحذف کریںSir this is amazing columns
حذف کریں