روحانیت کا سفر 10
روحانیت کا سفر 10
کالم از: سر جاوید بشیر
الحمدللہ، آج میرا روحانیت کا سفر پر دسواں کالم ہے۔
اللہ کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔
کیونکہ روحانیت کوئی منزل نہیں، یہ تو روح کی پاکیزگی، دل کی روشنی، اور رب کی پہچان کا سفر ہے۔
یہ وہ سفر ہے جو خود سے خود تک جاتا ہے
جہاں انسان اپنے اندر کے اندھیروں سے لڑ کر
اپنے رب کے نور تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ سفر کسی ایک دن، کسی ایک لمحے میں مکمل نہیں ہوتا، یہ تو آخری سانس تک جاری رہنے والا سفر ہے ایک ایسا سفر جس کا ہر قدم انسان کو اپنے رب کے اور قریب کر دیتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اس روحانی سفر میں ثابت قدم رکھے، اور ہر جمعہ المبارک کو
ہماری روح میں ایک نیا سکون، ایک نیا نور، اور ایک نیا احساس عطا فرمائے۔
آج میں آپ کو وہ چابی دینے جا رہا ہوں، جو روحانیت کے اس خوبصورت اور نہ ختم ہونے والے محل کا دروازہ کھولتی ہے۔
وہ دروازہ، جس کے بغیر کوئی بھی اس سفر پر روانہ نہیں ہو سکتا۔
یہ وہ چابی ہے، جو اللہ عزوجل کے پاس نہیں، بلکہ صرف بندوں کو عطا کی گئی ہے۔
اور یہی وہ نعمت ہے، جو اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پیاری ہے۔
اس چابی کا نام ہے عاجزی۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں۔ جب کسی انسان کو ذرا سا عہدہ مل جائے، تھوڑا سا پیسہ ہاتھ آ جائے، یا کوئی بڑی سی ڈگری کندھے پر سجے، تو کیا ہوتا ہے؟ فوراً اس کی گردن اکڑ جاتی ہے۔ وہ اپنے سے کم تر نظر آنے والے کو دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جس مقام پر وہ آج کھڑا ہے، وہ کل کس کے قدموں میں تھا۔
کیوں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی عزت، اس کا مقام، اس کی سمجھ، یہ سب کچھ تو اس رب کی مہربانی سے ہے جو ایک پل میں کسی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے؟ مگر نہیں، وہ مغرور ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے، "میں بڑا ہوں، میں سب سے بہتر ہوں۔ میں کیوں جھکوں؟"
یاد رکھیے، ہماری روح، یہ ننھی سی، نازک سی روح، آسمان سے روشنی اور سکون تب ہی حاصل کر پاتی ہے جب وہ نیچے کی طرف جھکی ہو۔ جس برتن کا منہ آسمان کی طرف ہو، وہی بارش کا پانی جمع کر سکتا ہے۔ مگر جو برتن الٹا ہو، وہ بھلا کیسے بھر سکتا ہے؟ ہمارا تکبر، ہماری انا، ہمارا غرور، ہماری روح کو اس الٹے برتن کی طرح بنا دیتی ہے، جو سکون کی بارش سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔
روحانیت کا نور، وہ مقدس روشنی، کبھی بھی ایک مغرور اور اکڑے ہوئے دل میں داخل نہیں ہو سکتی۔ یہ پھول صرف وہیں کھلتا ہے جہاں عاجزی کی نرم مٹی ہو۔
اکثر لوگ عاجزی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جھکنے کا مطلب ہے ہار مان لینا۔ مگر یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ عاجزی، کمزوری نہیں، یہ تو طاقت کی انتہا ہے۔ یہ وہ گہرا یقین ہے جو آپ کے دل میں بس جاتا ہے کہ "میں کچھ بھی نہیں، اور جو کچھ بھی ہے، وہ میرے رب کا فضل ہے۔"
جب آپ عاجز ہوتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔ جب کسی سے اختلاف ہو تو مغرور انسان کہتا ہے، "تم غلط ہو۔" مگر عاجز انسان کہتا ہے، "شاید میری سمجھ میں کوئی غلطی ہوئی ہو، مجھے معاف کر دیجیے۔" بس، یہ ایک ننھا سا فقرہ، سالوں کی دوری کو ختم کر دیتا ہے۔ جب آپ دل سے جھکتے ہیں، تو سامنے والے کا دل خود بخود نرم پڑ جاتا ہے، اور وہ بھی آپ کے لیے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آپ کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، آپ کا پیار بڑھتا ہے۔
جس گھر میں تکبر کا سایہ پڑ جائے، وہاں سے برکت خود بخود اُٹھ جاتی ہے۔ مگر جہاں عاجزی کا دیا جلتا ہے، وہاں رحمتیں برسنے لگتی ہیں۔ آپ کا تھوڑا سا رزق بھی آپ کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ آپ کے دل میں حسد اور لالچ کی آگ نہیں بھڑکتی۔ آپ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ آپ کا دل صاف ہوتا ہے۔
جس دن آپ یہ مان لیں گے، یہ دل سے محسوس کریں گے کہ آپ کی عزت اور ذلت، آپ کا مقام، سب کچھ انسانوں کے ہاتھوں میں نہیں، بلکہ صرف اور صرف اس مالکِ کائنات کے ہاتھ میں ہے، اسی دن آپ کو سچی عاجزی حاصل ہو جائے گی۔ آپ کو کسی کی تعریف کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ کا سجدہ، سچا ہو جائے گا۔ آپ کے آنسو، وہ سجدے میں گرنے والے آنسو، آپ کی روح کو کندن بنا دیں گے۔
تو روحانیت کے اس دروازے کی وہ طلسماتی چابی کیسے حاصل کریں؟ کوئی لمبا اور مشکل طریقہ نہیں۔ بس دو چھوٹے سے، مگر نہایت طاقتور، عملی اقدامات ہیں۔
نماز کے بعد سجدے میں جائیے، اور ایک لمحے کو رُک کر محسوس کیجیے، آپ کے جسم کا سب سے عزت والا حصہ، آپ کا ماتھا، اس وقت زمین پر ہے، اپنے ربِ عظیم کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ اپنے دل میں کہیں، "یا اللہ! میری انا کو، میرے غرور کو ختم کر دے۔ مجھے عاجز بنا دے۔" اس وقت وہ گہرا احساس آپ کو آسمان سے جوڑ دے گا۔
اج ہی قدم اٹھائیں۔ کسی پرانے دوست کو فون کریں، کسی ایسے شخص کو جس سے کبھی کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، اور دل سے کہیں، "اگر میں نے کبھی آپ کا دل دکھایا ہو، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو، تو براہِ کرم مجھے معاف کر دیجیے گا۔" یقین کریں، جب آپ یہ کہیں گے، تو آپ کا دل اتنا ہلکا ہو جائے گا، جیسے صدیوں کا بوجھ اتر گیا۔ آپ کی روح پر پڑی گرد صاف ہو جائے گی۔
میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا! دنیا کا وہ درخت جو سب سے زیادہ پھل دیتا ہے، وہ وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ جھکا ہوا ہو۔ اگر آپ بھی اپنی زندگی کو محبت، سکون، اور اس نور سے بھرنا چاہتے ہیں، جو صرف رب کی طرف سے آتا ہے، تو اج ہی عاجزی کو اپنا لیں۔ یہ جھکنا، یہ خود کو کم تر سمجھنا، آپ کو دنیا اور آخرت میں سب سے اونچا بنا دے گا۔ یہ آپ کو اس مقام پر لے جائے گا جہاں فرشتے بھی رشک کریں گے۔
تو کیا آپ اج اپنی زندگی میں عاجزی کو داخل کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں؟ کیا آپ اس عظیم روحانی سفر کا دروازہ کھولنے کے لیے تیار ہیں؟ میرا یقین کیجیے، یہ فیصلہ آپ کی زندگی بدل دے گا۔
یاد رکھیے، عزت تو جھکنے میں ہے، زندگی ہمیشہ اُنہی کے قدموں میں مسکراتی ہے جو جھکنا جانتے ہیں۔
ابلیس بھی عبادت گزار تھا، علم رکھتا تھا،
مگر جب جھکنے کا وقت آیا تو اس نے انکار کیا
اور آج وہ لعنت کا نشان بن گیا۔ جھک جائیے، مگر مخلوق کے آگے نہیں، بلکہ اُس ربّ العزت کے آگے، جو جھکنے والوں کو اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یقین مانیے، جو دل سے جھکتا ہے،وہی اصل میں اپنے رب کو پا لیتا ہے۔
Sir g you are going at the peak mey Allah Almighty grant you a lot of happiness and peace,
جواب دیںحذف کریںSir g your this journey is too much good decision.
Thank you a lot 😊
Yes humbleness is very important in our life when a person becomes humble Allah Almighty starts to grant us a lot
When we do anything for the sake of Allah Almighty, because he is the best decision maker ❤️
When someone feels due to us Allah Almighty grants us more we should help others,we should respect others and the best is always use thank you or sorry these words being humbleness and force to become more humble 😌
Indeed Allah is greatest
جواب دیںحذف کریںJazak Allah
جواب دیںحذف کریںI am constantly inspired by your words 💓
جواب دیںحذف کریں